মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৬৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٦) حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زبید (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ (رض) نے قاصد بھیج کر حضرت عمر (رض) کو بلایا تاکہ ان کو خلیفہ بنادیں۔ تو لوگ کہنے لگے ! آپ (رض) ہم پر سخت مزاج کو خلیفہ بنادیں گے۔ پس اگر وہ ہمارے مالک ہوگئے تو وہ مزید سخت شدید مزاج والے ہوجائیں گے۔ آپ (رض) اپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب آپ ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے ان کو ہم پر خلیفہ بنادیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھے میرے رب سے خوف دلاتے ہو ؟ ! میں جواب دوں گا : اے اللہ ! میں نے ان لوگوں پر تیرے سب سے بہترین بندے کو امیر بنادیا۔
(۳۲۶۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَکْرٍ الْوَفَاۃُ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ لِیَسْتَخْلِفَہُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : اسْتَخْلَفْت عَلَیْنَا فَظًّا غَلِیظًا ، فَلَوْ مَلَکَنَا کَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ ، مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إذَا أَتَیْتہ وَقَدِ اسْتَخْلَفْت عَلَیْنَا ، قَالَ : أَتُخَوِّفُونِی بِرَبِّی ، أَقُولُ : اللَّہُمَّ أَمَّرْت عَلَیْہِمْ خَیْرَ أَہْلِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٧) حضرت معروف بن ابی معروف الموصلی (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کی وفات ہوگئی تو ہم لوگوں نے ایک آواز سنی جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : (ترجمہ) اسلام پر ہر رونے والے کو رونا چاہیے۔ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے۔ وہ ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا۔ دنیا ختم ہوگئی اور دنیا کا بہترین شخص چلا گیا۔ جو اس کے وعدوں کا یقین رکھتا تھا آج پریشان ہے۔
(۳۲۶۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ أَبِی مَعْرُوفٍ الْمَوْصِلِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أُصِیبَ عُمَرُ سَمِعْنَا صَوْتًا :
لِیَبْکِ عَلَی الإسْلاَمِ مَنْ کَانَ بَاکِیًا فَقَدْ أَوْشَکُوا ہَلْکَی ، وَمَا قَدُمَ الْعَہْدُ
وَأَدْبَرَتِ الدُّنْیَا وَأَدْبَرَ خَیْرُہَا وَقَدْ مَلَّہَا مَنْ کَانَ یُوقِنُ بِالْوَعْدِ
لِیَبْکِ عَلَی الإسْلاَمِ مَنْ کَانَ بَاکِیًا فَقَدْ أَوْشَکُوا ہَلْکَی ، وَمَا قَدُمَ الْعَہْدُ
وَأَدْبَرَتِ الدُّنْیَا وَأَدْبَرَ خَیْرُہَا وَقَدْ مَلَّہَا مَنْ کَانَ یُوقِنُ بِالْوَعْدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٨) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا تو حضرت ابن عباس (رض) آپ (رض) کے پاس تشریف لائے اور آپ (رض) سے فرمایا : اے امیر المؤمنین : یقیناً آپ کا اسلام مسلمانوں کی مدد ثابت ہوا، اور آپ کی خلافت مسلمانوں کی فتح۔ اللہ کی قسم ! آپ (رض) نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ یہاں تک کہ اگر دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوتا تو وہ دونوں آپ کی طرف اپنا معاملہ سونپ دیتے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگو مجھے بٹھا دو ۔ پس لوگوں نے ان کو بٹھایا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھ پر دوبارہ اپنی بات دہراؤ ۔ تو حضرت ابن عباس (رض) نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم اس بات کی اس دن گواہی دو گے جب تم اپنے رب سے ملو گے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں۔ اس بات سے حضرت عمر (رض) مسرور ہوئے اور بہت خوش ہوئے۔
(۳۲۶۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی عُمَرَ حِینَ طُعِنَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنْ کَانَ إسْلاَمُک لَنَصْرًا ، وَإِنْ کَانَتْ إمَارَتُک لَفَتْحًا ، وَاللہِ لَقَدْ مَلأَتِ الأَرْضَ عَدْلاً حَتَّی إنَّ الرَّجُلَیْنِ لَیَتَنَازَعَانِ فَیَنْتَہِیَانِ إِلَی أَمْرِکَ ، قَالَ عُمَرُ : أَجْلِسُونِی ، فَأَجْلَسُوہُ ، قَالَ : رُدَّ عَلَیَّ کَلاَمُک ، قَالَ : فَرَدَّہُ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَتَشْہَدُ لِی بِہَذَا الْکَلاَمُ یَوْمَ تَلْقَاہُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَّرَ ذَلِکَ عُمَرَ وَفَرِحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٧٩) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) سے پوچھا : تم میں سے کون جنازہ میں حاضر ہوا ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : میں نے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس نے صدقہ دیا ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : میں نے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : میں نے اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت واجب ہوگئی، جنت واجب ہوگئی۔
(۳۲۶۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِہِ : مَنْ شَہِدَ مِنْکُمْ جِنَازَۃً ، قَالَ عُمَرُ أَنَا : قَالَ : مَنْ عَادَ مِنْکُمْ مَرِیضًا ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ صَائِمًا ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ وَجَبَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٠) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کا گزر ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ حضرت عائشہ (رض) بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھیں۔ اور آپ دونوں حلوہ کھا رہے تھے ۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو بھی بلا لیا۔ آپ (رض) نے ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ (رض) کا ہاتھ حضرت عائشہ (رض) کے ہاتھ سے ٹکرا گیا اس پر آپ (رض) نے فرمایا : اوہ ! اگر اس کے اور اس کے ساتھیوں کے معاملہ میں میری بات مانی جاتی تو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کوئی آنکھ بھی نہ دیکھ سکتی ۔ یہ حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ تھا۔ پس اس پر آیت نازل ہوگئی۔
(۳۲۶۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ وَعَائِشَۃُ وَہُمَا یَأْکُلاَنِ حَیْسًا ، فَدَعَاہُ فَوَضَعَ یَدَہُ مَعَ أَیْدِیہِمَا ، فَأَصَابَتْ یَدُہُ یَدَ عَائِشَۃَ ، فَقَالَ : أَوَّہْ ، لَوْ أُطَاعُ فِی ہَذِہِ وَصَوَاحِبِہَا مَا رَأَتْہُنَّ أَعْیُنٌ ، وَذَلِکَ قَبْلَ آیَۃِ الْحِجَابِ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ۔ (بخاری ۱۰۵۳۔ نسائی ۱۱۴۱۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨١) حضرت جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے ارشاد فرمایا : حضرت علی (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ وہ چادر سے ڈھکے ہوئے تھے تو آپ (رض) نے فرمایا : اس کرہ زمین پر کوئی شخص نہیں جو میرے نزدیک پسندیدہ ہو اس ڈھکے ہوئے شخص سے کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس کے نامہ اعمال کے ساتھ ملوں۔
(۳۲۶۸۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَائَ عَلِیٌّ إِلَی عُمَرَ وَہُوَ مُسَجًّی ، فَقَالَ : مَا عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ أَحَدٌ أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ أَلْقَی اللَّہَ بِصَحِیفَتِہِ مِنْ ہَذَا الْمُسَجَّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٢) حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرمایا : حضرت عمر (رض) کو سلام کہیے : اور انھیں خبر دیجئے کہ یقیناً ان کی رضا ہی فیصلہ ہے اور ان کا غصہ معزز ہے۔
(۳۲۶۸۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ یَعْقُوبَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، أَنَّ جِبْرِیلَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَقْرِئْ عُمَرَ السَّلاَمَ وَأَخْبِرْہُ ، أَنَّ رِضَاہُ حُکْمٌ وَغَضَبَہُ عِزٌّ۔ (ابن عدی ۲۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٣) حضرت صلت بن بھرام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سیار ابو الحکم (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) کی بیماری جب بڑھ گئی تو وہ روشن دان سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : اے لوگو ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم لوگ اس سے خوش ہوئے ؟ پس لوگ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ہم راضی نہیں ہوں گے مگر یہ کہ وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہوں۔ تو وہ حضرت عمر (رض) ہی تھے۔
(۳۲۶۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامُ ، عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ لَمَّا ثَقُلَ أَطْلَعَ رَأْسَہُ إِلَی النَّاسِ مِنْ کُوَّۃٍ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إنِّی قَدْ عَہِدْت عَہْدًا ، أَفَتَرْضَوْنَ بِہِ فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا : قَدْ رَضِینَا ، فَقَامَ عَلِیٌّ ، فَقَالَ : لاَ نَرْضَی إلاَّ أَنْ یَکُونَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَکَانَ عُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٤) حضرت ربعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ نہیں تھا اسلام حضرت عمر (رض) کے زمانے میں مگر پذیرائی حاصل کرنے والے آدمی کی طرح روز بروز جس کی پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہو۔ پس جب حضرت عمر (رض) کو شہید کردیا گیا تو وہ ہوگیا پیچھے جانے والی آدمی کی طرح جو روز بروز دور ہوتا جا رہا ہو۔
(۳۲۶۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : مَا کَانَ الإسْلاَمُ فِی زَمَانِ عُمَرَ إلاَّ کَالرَّجُلِ الْمُقْبِلِ مَا یَزْدَادُ إلاَّ قُرْبًا ، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ کَانَ کَالرَّجُلِ الْمُدْبِرِ مَا یَزْدَادُ إلاَّ بُعْدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عمر بن خطاب (رض) کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٥) حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شمر نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر (رض) کے علم کے سامنے لوگوں کا علم ایک سوراخ میں چھپا ہوا تھا۔
(۳۲۶۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرٍ ، قَالَ : لَکَأَنَّ عِلْمَ النَّاسِ کَانَ مَدْسُوسًا فِی جُحْرٍ مَعَ عِلْمِ عُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٦) حضرت عمر بن جاوان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضرت عثمان (رض) تشریف لائے۔ کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان (رض) ہیں۔ آپ (رض) داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ (رض) پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ (رض) نے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہاں حضرت علی (رض) ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ (رض) نے پوچھا : یہاں حضرت طلحہ (رض) ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ (رض) نے پوچھا : یہاں حضرت زبیر (رض) ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ (رض) نے پوچھا : یہاں حضرت سعد (رض) ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کو جو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص فلاں قبیلہ کے اونٹ کا باڑ ا خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے تو میں نے وہ باڑا بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خریدا۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے وہ باڑا خرید لیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اس جگہ کو ہماری مسجد کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا ؟ راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔
آپ (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں : کیا تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا ، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ؟
راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔
آپ (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا ۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی ؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے، آپ (رض) نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہ۔
آپ (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں : کیا تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا ، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ؟
راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔
آپ (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا ۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی ؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے، آپ (رض) نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہ۔
(۳۲۶۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : قدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَجَائَ عُثْمَان فَقِیلَ : ہَذَا عُثْمَان ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ مُلَیَّۃٌ لَہُ صَفْرَائُ قَدْ قَنَّعَ بِہَا رَأْسَہُ ، قَالَ : ہَاہُنَا عَلِیٌّ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : ہَاہُنَا طَلْحَۃُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ ہَاہُنَا الزُّبَیْرُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : ہَاہُنَا سَعْدٌ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَتَعْلَمُونَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ یَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِی فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ، فَابْتَعْتہ بِعِشْرِینَ أَلْفًا ، أَوْ خَمْسَۃٍ وَعِشْرِینَ أَلْفًا ، فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : قَدِ ابْتَعْتہ ، فَقَالَ : اجْعَلْہُ فِی مَسْجِدِنَا وَأَجْرُہُ لَکَ ، قَالَ : فَقَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ یَبْتَاعُ رُومَۃَ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ، فَابْتَعْتہَا بِکَذَا وَکَذَا ، ثُمَّ أَتَیْتہ ، فَقُلْتُ : قَدِ ابْتَعْتہَا ، فَقَالَ : اجْعَلْہَا سِقَایَۃً لِلْمُسْلِمِینَ وَأَجْرُہَا لَکَ، قَالَ : قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : مَنْ جَہِّزَ ہَؤُلاَئِ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ، یَعْنِی جَیْشَ الْعُسْرَۃِ ، فَجَہَّزْتُہُمْ حَتَّی لَمْ یَفْقِدُوا عَقَالاً ، وَلاَ خِطَامًا ، قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : قَالَ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ثَلاَثًا۔ (احمد ۷۰۔ ابن حبان ۶۹۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٧) حضرت مرۃ البھزی (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک دن مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کا کیا حال ہوگا اس فتنہ میں جو اطراف زمین میں پھوٹ پڑے گا گویا کہ وہ گائے کے دو سینگوں کی طرح ہوگا۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم لوگ اس صورت میں کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں پر لازم ہے اس شخص کی اور اس کی جماعت کی پیروی کرنا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے جلدی کی یہاں تک کہ میں اس آدمی کے پاس پہنچ گیا پھر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی 5! یہ شخص ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی شخص ہے۔ تو وہ حضرت عثمان (رض) تھے۔
(۳۲۶۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ َ: حَدَّثَنِی ہَرَم بْنُ الْحَارِثِ وَأُسَامَۃُ بْنُ خُرَیمٍ وَکَانَا یُغَازِیَانِ فَحَدَّثَانِی حَدِیثًا ، وَلاَ یَشْعُرُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنَّ صَاحِبَہُ حَدَّثَنِیہِ عَنْ مُرَّۃَ الْبَہْزِیِّ ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُونَ فِی فِتْنَۃٍ تَثُورُ فِی أَقْطَارِ الأَرْضِ کَأَنَّہَا صَیَاصِی بقر ، قَالُوا : فَنَصْنَعُ مَاذَا یَا رَسُولَ اللہِ قَالَ : عَلَیْکُمْ بِہَذَا وَأَصْحَابِہِ ، قَالَ : فَأَسْرَعْت حَتَّی عَطَفْت عَلَی الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ : ہَذَا یَا نَبِیَّ اللہِ ، قَالَ : ہَذَا فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔ (احمد ۳۳۔ ابن حبان ۶۹۱۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٨) حضرت کعب بن عجرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتنہ کا ذکر فرمایا : اور اس کو بہت قریب بتلایا۔ پھر ایک شخص گزرا جس کا سر چادر میں چھپا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن یہ شخص اور اس کی جماعت ہدایت پر ہوگی۔ پس ایک آدمی اس کے پیچھے گیا اور اس کو کندھے سے پکڑ کر اس کا چہرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھیرا اور پوچھا : یہ شخص ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! پس وہ حضرت عثمان (رض) تھے۔
(۳۲۶۸۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ فِتْنَۃً فَقَرَّبَہَا ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ ، فَقَالَ : ہَذَا وَأَصْحَابُہُ یَوْمَئِذٍ عَلَی الْہُدَی فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَخَذَ بِمَنْکِبَیْہِ وَأَقْبَلَ بِوَجْہِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَذَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔ (ابن ماجہ ۱۱۱۔ احمد ۲۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٨٩) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) کو شہید کردیا گیا تو ایلیاء مقام پر بہت سے خطیبوں نے خطاب کیا پس ان کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی جن کا نام کعب بن مرہ (رض) تھا وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اگر یہ حدیث میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنی ہوتی تو میں کبھی کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتنہ کا ذکر کیا ۔ میر اگمان ہے کہ اس کو بہت قریب بتلایا تو ایک آدمی جس کا سر چادر سے چھپا ہوا تھا وہ گزرا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن یہ شخص اور اس کی جماعت حق پر ہوگی۔ پس میں اس شخص کے پیچھے گیا پھر میں نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس کے چہرے کو پھیرا اور پوچھا : یہ شخص ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں۔ پس وہ حضرت عثمان (رض) تھے۔
(۳۲۶۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان قَامَ خُطَبَائُ بِإِیلِیَائَ فَقَامَ مِنْ آخِرِہِمْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ مُرَّۃُ بْنُ کَعْبٍ ، فَقَالَ : لَوْلاَ حَدِیثٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قُمْت ، إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ فِتْنَۃً أَحْسَبُہُ ، قَالَ : فَقَرَّبَہَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا وَأَصْحَابُہُ یَوْمَئِذٍ عَلَی الْحَقِ ، فَانْطَلَقْت فَأَخَذْت بِمَنْکِبَیْہِ ، فَأَقْبَلْت بِوَجْہِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ہَذَا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔ (احمد ۲۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٠) حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ عثمان جنت میں ہیں۔
(۳۲۶۹۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ الْمُثَنَّی ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّی رِیَاحَ بْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول : عُثْمَان فِی الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩١) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ حیادار عثمان (رض) ہیں۔
(۳۲۶۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَصْدَقُ أُمَّتِی حَیَائً عُثْمَان۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٢) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہتے تھے؛ وہ صنعاء میں تھا جب اس کو حضرت عثمان (رض) کے قتل کی خبر پہنچی پس وہ رونے لگا اور کافی دیر تک روتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوا تو کہنے لگا۔ آج نبوت یا نبوت کی خلافت چھین لی گئی ۔ اور بادشاہت اور ظلم ہوگا۔ جو جس چیز پر غالب آئے گا اس کو کھاجائے گا۔
(۳۲۶۹۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ کَانَ عَلَی صَنْعَائَ ، فَلَمَّا جَائَہُ قَتْلُ عُثْمَانَ بَکَی فَأَطَالَ الْبُکَائَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : الْیَوْمَ انْتُزِعَتِ النُّبُوَّۃُ ، أَوَ قَالَ : خِلاَفَۃُ النُّبُوَّۃِ وَصَارَتْ مُلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، مَنْ غَلَبَ عَلَی شَیْئٍ أَکَلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٣) حضرت موسیٰ بن طلحہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت عثمان (رض) سب سے زیادہ شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی فرمانے والے تھے۔
(۳۲۶۹۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، قَالَ : قالَتْ عَائِشَۃُ : کَانَ عُثْمَان أَحْصَنَہُمْ فَرْجًا وَأَوْصَلَہُمْ للرَّحِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٤) حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ بلاشبہ حضرت عثمان (رض) نے غزوہ تبوک میں مجاہدین کو ستر کم ایک ہزار اونٹوں پر سوار کیا۔ اور ہزار کے عدد کو ستر گھوڑوں سے مکمل کیا۔
(۳۲۶۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ عُثْمَانَ حَمَلَ فِی جَیْشِ الْعُسْرَۃِ عَلَی أَلْفِ بَعِیرٍ إلاَّ سَبْعِینَ کَمَّلَہَا خَیْلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٥) حضرت عبداللہ بن سنان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) کو جب خلیفہ بنادیا گیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم نے اپنے میں سے سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
(۳۲۶۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ حِینَ اسْتُخْلِفَ عُثْمَان : مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہا ، ذَا فُوْقُ۔
তাহকীক: