মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৬৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٦) حضرت عثمان (رض) سے بیعت کرلی گئی تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو میں نے یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگوں نے اپنے میں سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کچھ کمی نہیں کی۔
(۳۲۶۹۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ یَقُولُ حِینَ بُویِعَ عُثْمَان : مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَی ذَا فُوْقُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٧) حضرت ابو الملیح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر سب لوگ حضرت عثمان (رض) کے قتل پر یکجا ہوجاتے تو ان پر ایسے ہی پتھر برسائے جاتے جیسا کہ قوم لوط پر برسائے گئے تھے۔
(۳۲۶۹۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ یَزِیدِ بْنِ أَبِی الْمَلِیحِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ اجْتَمَعُوا عَلَی قَتْلِ عُثْمَانَ لَرُجِمُوا بِالْحِجَارَۃِ کَمَا رُجِمَ قَوْمُ لُوطٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٨) حضرت عبید اللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت نافع (رض) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ ایک آدمی جس کو جھجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان (رض) کے ہاتھ سے لکڑی چھین کر اس کو اپنے گھٹنے کی مدد سے توڑ دیا تو اس کے اس جگہ میں عضو کو کھانے والی بیماری ہوگئی۔
(۳۲۶۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ جَہْجَاہٌ تَنَاوَلَ عَصًی کَانَتْ فِی یَدِ عُثْمَانَ فَکَسَرَہَا بِرُکْبَتِہِ ، فَرَمَی من ذَلِکَ الْمَوْضِعِ بِآکِلَۃٍ۔q
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٦٩٩) حضرت زیاد بن ابی حبیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت کعب (رض) نے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں اس کی طرف کہ اس کے دونوں ہاتھوں میں آگ کے انگارے ہیں یعنی حضرت عثمان (رض) کے قاتل کو جس نے ان کو قتل کیا۔
(۳۲۶۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی ہَذَا وَفِی یَدِہِ شِہَابَانِ مِنْ نَارٍ ، یَعْنِی قَاتِلَ عُثْمَانَ فَقَتَلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٠) حضرت ابو سھلہ (رض) جو کہ حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : کیا میں ابوبکر (رض) کو بلا دوں ؟ آپ فرماتی ہیں۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا : کہ میں عمر (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : کہ میں علی (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : میں عثمان بن عفان (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! پس میں نے ان کو بلوا دیا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گئے ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ (رض) نے مجھے بتلایا : کہ جب حضرت عثمان (رض) گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا : آپ (رض) قتال کیوں نہیں کرتے ؟ ! تو آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔
حضرت ابو سھلہ (رض) فرماتے ہیں۔ صحابہ (رض) کا گمان تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ (رض) نے مجھے بتلایا : کہ جب حضرت عثمان (رض) گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا : آپ (رض) قتال کیوں نہیں کرتے ؟ ! تو آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔
حضرت ابو سھلہ (رض) فرماتے ہیں۔ صحابہ (رض) کا گمان تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔
(۳۲۷۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ قَالَ: أَخْبَرَنَا قَیْسٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلَۃَ مَوْلَی عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِی بَعْضَ أَصْحَابِی ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : أَدْعُو لَکَ أَبَا بَکْرٍ ؟ قَالَتْ : فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، فَقُلْتُ : أَدْعُو لَکَ عُمَرَ ؟ فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، قُلْتُ : فَأَدْعُو لَکَ عَلِیًّا ؟ فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، قُلْتُ : فَأَدْعُو لَکَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَوْتُہُ ، فَلَمَّا جَائَ أَشَارَ إلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَاعَدِی ، فَجَائَ فَجَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَہُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ یَتَغَیَّرُ ، قَالَ قَیْسٌ : فَأَخْبَرَنِی أَبُو سَہْلَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الدَّارِ قِیلَ لِعُثْمَانَ : أَلاَ تُقَاتِلُ ، فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہِدَ إلَیَّ عَہْدًا وَإِنِّی صَابِرٌ عَلَیْہِ ، قَالَ أَبُو سَہْلَۃَ : فَیَرَوْنَ أَنَّہُ ذَلِکَ الْمَجْلِسُ۔ (ابن سعد ۶۶۔ احمد ۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠١) حضرت عبداللہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے میرے نزدیک مجھے سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا وہ شخص ہوگا جو اپنے ہتھیار اور ہاتھ کو جنگ کرنے سے روک دے۔
(۳۲۷۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ یَقُولُ : إنَّ أَعْظَمَکُمْ عِنْدِی غَنَائً مَنْ کَفَّ سِلاَحَہُ وَیَدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٢) حضرت ابن عباس (رض) قرآن مجید کی آیت { ہَلْ یَسْتَوِی ہُوَ وَمَنْ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عثمان بن عفان (رض) ہیں۔
(۳۲۷۰۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا وُہَیْبٌ وَحَمَّادٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عبد اللہِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ : {ہَلْ یَسْتَوِی ہُوَ وَمَنْ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ} قَالَ : ہُوَ عُثْمَان بْنُ عَفَّانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٣) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی وصیت لکھ رہے تھے کہ آپ (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ تو حضرت عثمان (رض) نے جلدی سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کا نام لکھ دیا۔ پس جب آپ (رض) کو افاقہ ہوا تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے پوچھا : تم نے کس کا نام لکھا ؟ انھوں نے فرمایا : عمر بن خطاب (رض) کا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تو نے وہی بات لکھی کہ میں نے یہی چاہا تھا کہ اس کے لکھنے کا تمہیں حکم دوں۔ اور اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس منصب کے اہل تھے۔
(۳۲۷۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ عُثْمَان یَکْتُبُ وَصِیَّۃَ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَتْ: فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ فَعَجَّلَ وَکَتَبَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : مَنْ کَتَبْت ، قَالَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : کَتَبْتَ الَّذِی أَرَدْتُ ، الَّذِی آمُرُک بِہِ ، وَلَوْ کَتَبْتَ نَفْسَک کُنْتَ لَہَا أَہْلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٤) حضرت حبیب بن ابی ملیکہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق پوچھا : کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ پھر اس نے پوچھا : کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! اس نے پوچھا : کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ( غزوہ احد) ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر (رض) سے کہا گیا : بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں !
آپ (رض) نے فرمایا : تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا : اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) بیعت الرضوان میں حاضر تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا : جی ہاں ! اور یقیناً اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ( ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔
آپ (رض) نے فرمایا : تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا : اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان (رض) بیعت الرضوان میں حاضر تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا : جی ہاں ! اور یقیناً اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ( ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔
(۳۲۷۰۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : شَہِدَ بَدْرًا ، فَقَالَ : لاَ فَقَالَ : ہَلْ شَہِدَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ ، فَقَالَ : لاَ قَالَ : فَہَلْ تَوَلَّی یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ ذَہَبَ الرَّجُلُ فَقِیلَ لابْنِ عُمَرَ : إنَّ ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّک عِبْت عُثْمَانَ ، قَالَ : رُدُّوہُ علی ، قَالَ : فَرَدُّوہُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ : ہَلْ عَقَلْت مَا قُلْتُ لَکَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : سَأَلْتُنِی ہَلْ شَہِدَ عُثْمَان بَدْرًا ، فَقُلْتُ لَکَ : لاَ فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ عُثْمَانَ فِی حَاجَتِکَ وَحَاجَۃِ رَسُولِکَ ، فَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ ، وَسَأَلْتنِی ہَلْ شَہِدَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَکَ : لاَ وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہُ إِلَی الأَحْزَابِ لِیُوَادِعُونَا وَیُسَالِمُونَا فَأَبَوْا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَایَعَ لَہُ وَقَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ عُثْمَانَ فِی حَاجَتِکَ وَحَاجَۃِ رَسُولِکَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی فَبَایَعَ لَہُ ، وَسَأَلْتنِی ہَلْ کَانَ عُثْمَان تَوَلَّی یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَإِنَّ اللَّہَ ، قَالَ : {إنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إنَّمَا اسْتَزَلَّہُمَ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّہُ عَنْہُمْ} فَاذْہَبْ فَاجْہَدْ عَلَی جَہْدِک۔ (ابوداؤد ۲۷۲۰۔ طبرانی ۱۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٥) حضرت سعد بن عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق پوچھا : تو آپ (رض) نے ان کے اچھے اعمال کا ذکر فرمایا : پھر ارشاد فرمایا : شاید کہ تم ان کے بارے میں برا گمان رکھتے ہو ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! آپ (رض) نے فرمایا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے۔
(۳۲۷۰۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ سعد بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ فَذَکَرَ أَحْسَنَ أَعْمَالِہِ ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّ ذَلِکَ یَسُوئُک ، فَقَالَ : أَجَلْ ، فَقَالَ : أَرْغَمَ اللَّہُ بِأَنْفِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٦) حضرت ھلال بن ابی حمید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عکیم (رض) نے ارشاد فرمایا : میں حضرت عثمان کے شہید ہوجانے کے بعد کبھی بھی خلیفہ کے قتل پر مدد نہیں کروں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے ان کے قتل پر مدد کی تھی ؟ انھوں نے کہا : یقیناً میں نے ان کے خون پر اتنی مدد کی کہ میں ان کی برائیاں شمار کرتا تھا۔
(۳۲۷۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أَیُّوبَ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی حُمَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُکَیْمٍ : لاَ أُعِینُ عَلَی قَتْلِ خَلِیفَۃٍ بَعْدَ عُثْمَانَ أَبَدًا ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : وَأَعَنْت عَلَی دَمِہِ ، قَالَ : إنِّی أَعُدُّ ذِکْرَ مَسَاوِئِہِ عَوْنًا عَلَی دَمِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٧) حضرت یحییٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عامر (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان (رض) پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ پس ان کو کہا گیا : کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے ۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔
(۳۲۷۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَامِرٍ یَقُولُ : لَمَّا تشعب النَّاسُ فِی الطَّعْنِ عَلَی عُثْمَانَ قَامَ أَبِی فَصَلَّی مِنَ اللَّیْلِ ثم نام ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : قُمْ فَاسْأَلَ اللَّہَ أَنْ یُعِیذَک مِنَ الْفِتْنَۃِ الَّتِی أَعَاذَ مِنْہَا عِبَادَہُ الصَّالِحِینَ ، قَالَ : فَقَامَ فَمَرِضَ ، قَالَ : فَمَا رُئِیَ خَارِجًا حَتَّی مَاتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٨) حضرت عبداللہ بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ (رض) کے پاس بھیجا تو انھوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ایک دن میں اور حضرت حفصہ (رض) ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت ابوبکر (رض) کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں ؟ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت عمر (رض) کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں ۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان (رض) حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے عثمان : شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین ! آپ (رض) نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔
(۳۲۷۰۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ قَیْسٍ أَنَّہُ سَمِعَ النُّعْمَانَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ أَنَّہُ أَرْسَلَہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ بِکِتَابٍ إِلَی عَائِشَۃَ فَدَفَعَہُ إلَیْہَا ، فَقَالَتْ لِی : أما أُحَدِّثُک بِحَدِیثٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَتْ : إنِّی عِنْدَہُ ذَاتَ یَوْمٍ أَنَا وَحَفْصَۃُ ، فَقَالَ : لَوْ کَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ یُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَبْعَثُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَیَجِیئُ فَیُحَدِّثُنَا ، قَالَ : فَسَکَتَ ، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَبْعَثُ إِلَی عُمَرَ فَیُحَدِّثُنَا ، فَسَکَتَ ، قَالَتْ : فَدَعَا رَجُلاً فأصر إلَیْہِ دُونَنَا فَذَہَبَ ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَان فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ بِوَجْہِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : یَا عُثْمَان ، إنَّ اللَّہَ لَعَلَّہُ أَنْ یُقَمَّصَکَ قَمِیصًا ، فَإِنْ أَرَادُوک عَلَی خَلْعِہِ فَلاَ تَخْلَعْہُ ثَلاَثًا ، قُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَیْنَ کُنْتِ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ ، قَالَتْ : أُنْسِیتُہُ کَأَنِّی لَمْ أَسْمَعْہُ قَطُّ۔
(ابن ماجہ ۱۱۲۔ احمد ۱۴۹)
(ابن ماجہ ۱۱۲۔ احمد ۱۴۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٠٩) حضرت ایاس بن سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سلمہ (رض) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کے لیے اپنا داہنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لی، تو لوگوں نے کہا : ابو عبداللہ کے لیے تو خوش نصیبی ہے کہ وہ امن سے بیت اللہ کا طواف کررہا ہے۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر وہ اتنے اور اتنے سال بھی ٹھہرتا تو طواف نہ کرتا یہاں تک کہ میں طواف کرلیتا۔
(۳۲۷۰۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُوسَی، قَالَ: أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ، عَنْ إیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَایَعَ لِعُثْمَانَ ِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی، فَقَالَ النَّاسُ: ہَنِیئًا لأَبِی عَبْدِاللہِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ آمِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ مَکَثَ کَذَا وَکَذَا سَنَۃً مَا طَافَ حَتَّی أَطُوفَ۔ (طبرانی ۱۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٠) حضرت سالم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : البتہ تحقیق تم لوگ حضرت عثمان پر چند چیزوں کا عیب لگاتے ہو ۔ اگر حضرت عمر (رض) نے ان کاموں کو کیا ہوتا تو تم کبھی بھی ان پر عیب نہ لگاتے۔
(۳۲۷۱۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ: لَقَدْ عِبْتُمْ عَلَی عُثْمَانَ أَشْیَائَ لَوْ أَنَّ عُمَرَ فَعَلَہَا مَا عِبْتُمُوہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١١) حضرت ام ھلال بنت وکیع فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان (رض) کی زوجہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) اونگھ رہے تھے جب بیدار ہوئے تو فرمانے لگے : یقیناً میری قوم مجھے قتل کر دے گی۔ تو میں نے کہا : ہرگز نہیں اے امیر المؤمنین ! تو آپ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کو خواب میں دیکھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے یوں فرمایا : آج رات تم ہمارے ساتھ افطار کرو یا یوں فرمایا : تم آج رات ہمارے ساتھ افطار کرو گے۔
(۳۲۷۱۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُد ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أُمِّ ہِلاَلٍ ابْنَۃِ وَکِیعٍ ، عَنِ امْرَأَۃِ عُثْمَانَ ، قَالَتْ : أَغْفَی عُثْمَان ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ ، قَالَ : إنَّ الْقَوْمَ یَقْتُلُونِی ، فَقُلْتُ : کَلاَّ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ : إنِّی رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ ، قَالَ : فَقَالُوا : أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّیْلَۃَ ، أَوْ قَالُوا : إنک تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّیْلَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٢) حضرت ابو حبیبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کے گھر میں داخل ہوا جب بلوائیوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ پس میں نے وہاں حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں : کہ ایک پوچھنے والے نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کسی بات کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر امیر اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت لازم ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
(۳۲۷۱۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی حبیبۃ ، قَالَ : دَخَلْت الدَّارَ عَلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَسَمِعْت أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی فِتْنَۃً وَاخْتِلاَفًا ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ : فَمَا تَأْمُرُنِی ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِالأَمِیرِ وَأَصْحَابِہِ ، وَضَرَبَ عَلَی مَنْکِبِ عُثْمَانَ۔ (حاکم ۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٣) حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوہریرہ (رض) جب حضرت عثمان (رض) کے قتل کا ذکر فرماتے تو رونے لگتے۔ گویا کہ میں اب بھی ان کے سسکنے کی آواز سن رہا ہوں۔
(۳۲۷۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : کَانَ أبو ہریرۃ إذَا ذَکَرَ قَتْلَ عُثْمَانَ بَکَی فَکَأَنِّی أَسْمَعُہُ یَقُولُ : ہَاہْ ہَاہْ ینتحب۔ (ابن سعد ۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٤) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) کو قتل کردیا گیا تو اس وقت حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے جیسا کہ گندگی صاف کپڑے کو چھوڑ دیتی ہے۔ پھر تم نے ان کو قریب کر کے ذبح کردیا جیسا کہ کسی مینڈھے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی ؟ تو حضرت مسروق (رض) نے ان سے عرض کیا : یہ تو آپ (رض) کے عمل کی وجہ سے ہوا کہ آپ (رض) ہی نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کو خروج کا حکم دیا ! راوی کہتے ہیں : کہ اس پر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس پر تمام مومن ایمان لائے اور کافروں نے جس کے ساتھ کفر کیا۔ میں نے کسی سفیدی پر سیاہی سے نہیں لکھا یہاں تک کہ میں اپنی اس جگہ پر بیٹھ گئی۔
امام اعمش (رض) فرماتے ہیں : پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔
امام اعمش (رض) فرماتے ہیں : پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔
(۳۲۷۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَ : قالَتْ حِینَ قُتِلَ عُثْمَان تَرَکْتُمُوہُ کَالثَّوْبِ النَّقِیِّ مِنَ الدَّنَسِ ، ثُمَّ قَرَّبْتُمُوہُ فَذَبَحْتُمُوہُ کَمَا یُذْبَحُ الْکَبْشُ ، ہلا کَانَ ہَذَا قَبْلَ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ لَہَا مَسْرُوقٌ : ہَذا عَمَلک أَنْتِ کَتَبْت إِلَی أُنَاسٍ تَأْمُرِینَہُمْ بِالْخُرُوجِ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لاَ وَالَّذِی آمَنَ بِہِ الْمُؤْمِنُونَ وَکَفَرَ بِہِ الْکَافِرُونَ ، مَا کَتَبْتُ إلَیْہِمْ سَوْدَائَ فِی بَیْضَائَ حَتَّی جَلَسْتُ مَجْلِسِی ہَذَا ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَکَانُوا یَرَوْنَ أَنَّہُ کُتِبَ عَلَی لِسَانِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٥) حضرت محمد بن حاطب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو یہ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (رض) نے یہ آیت پڑھی ( بیشک وہ لوگ کہ ( فیصلہ) ہوچکا ہے پہلے ہی جن کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا یہ اس سے دور رکھے جائیں گے ) آپ (رض) نے فرمایا : حضرت عثمان (رض) ان ہی لوگوں میں سے تھے۔
(۳۲۷۱۵) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ: حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إیَاسٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَخْطُبُ یَقُولُ: {إنَّ الَّذِینَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنَی أُولَئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُونَ} قَالَ عُثْمَان مِنْہُمْ۔
তাহকীক: