মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৭১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٦) حضرت عقبہ بن اوس السَّدوسی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ اس امت میں بارہ (12) خلیفہ ہوں گے۔ ابوبکر (رض) ، تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق ہوچکی۔ اور عمر بن خطاب (رض) جو بہت امانت دار ہوں گے۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق بھی حاصل ہوچکی اور عثمان بن عفان (رض) ذوالنورین جنہیں رحمت کی دو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اور ظلماً قتل کیا گیا ۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی بھی تصدیق حاصل ہوچکی۔
(۳۲۷۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ السَّدُوسِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : یَکُونُ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَۃً : أَبُو بَکْرٍ أَصَبْتُمَ اسْمَہُ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَرْنٌ مِنْ حَدِیدٍ أَصَبْتُمَ اسْمَہُ ، وَعُثْمَان بْنُ عَفَّانَ ذُو النُّورَیْنِ أُوتِیَ کِفْلَیْنِ مِنَ الرَّحْمَۃِ ، قُتِلَ مَظْلُومًا ، أَصَبْتُمَ اسْمَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٧) حضرت مجمع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے تو وہ اپنے ہم نشینوں سے کہنے لگا : اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جو امیر المؤمنین حضرت عثمان (رض) کو سب و شتم کرتا ہو تو یہ شخص یعنی عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو۔ اس پر حضرت عبد الرحمن (رض) نے فرمایا : اے امیر ! اللہ کی پناہ، اس بات سے کہ میں حضرت عثمان (رض) کو سب و شتم کروں۔ یقیناً کتاب اللہ میں پائی جانے والی اس آیت مبارکہ نے مجھے اس کام سے روک دیا اور محفوظ رکھا۔ اللہ نے ارشاد فرمایا : (ترجمہ : نیز وہ مال) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو نکال باہر کیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنی جائدادوں سے ۔ جو تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی خوشنودی ، اور مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی سچے لوگ ہیں ) حضرت عثمان ان لوگوں میں سے تھے۔
(۳۲۷۱۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ مُجَمِّعٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ أَبِی لَیْلَی عَلَی الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِجُلَسَائِہِ : إذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إِلَی رَجُلٍ یَسُبُّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ فَہَذَا عِنْدَکُمْ ، یَعْنِی عَبْدَ الرَّحْمَن ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن : مَعَاذَ اللہِ أَیُّہَا الأَمِیرُ أَنْ أَکُونَ أَسُبُّ عُثْمَانَ إِنَّہُ لَیَحْجِزُنِی ، عَنْ ذَلِکَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللہِ ، قَالَ اللَّہُ : {لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ} ، فَکَانَ عُثْمَان مِنْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٨) حضرت یزید بن عمرو المعاصری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ثور الفھمی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ عبد الرحمن بن عدیس جو کہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ بلوائیوں کے پاس آیا اور منبر پر چڑھا : حمدو ثنا کے بعد اس نے حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا۔ تو حضرت ابو ثور (رض) فرماتے ہیں کہ میں محاصرے کے دوران حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ (رض) کے بارے میں ایسے اور ایسے کہہ رہا ہے۔ پس حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ایسی بات کیسے ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ میں نے اللہ کے پاس دس خصوصیات ذخیرہ کی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہ میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں۔ اور تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سے اپنی ایک بیٹی کا نکاح کیا، پھر دوسری بیٹی کا نکاح کیا اور تحقیق میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے رسول اللہ سے بیعت کی تو پھر کبھی بھی میں نے اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اور نہ ہی میں نے کبھی عشق و معشوقی کی۔ اور نہ ہی کبھی اس چیز کی میں نے کبھی تمنا و آرزو کی ۔ اور میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں کبھی شراب پی۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا کہ کون شخص اس راستہ کے حصہ کو خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کرے گا تو اس کے لیے اس کے بدلہ جنت میں گھر ہوگا ؟ پس میں نے اس جگہ کو خرید کر مسجد کی توسیع کی تھی۔
(۳۲۷۱۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ الْفَہْمِیَّ یَقُولُ : قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عُدَیْسٍ الْبَلَوِیُّ وَکَانَ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَبُو ثَوْرٍ : فَدَخَلْتُ عَلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقُلْتُ : إنَّ فُلاَنًا ذَکَرَ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ عُثْمَان : وَمِنْ أَیْنَ وَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ اللہِ عَشْرًا : إنِّی لَرَابِعُ الإسْلاَمِ، وَقَدْ زَوَّجَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ابْنَتَہُ ، ثُمَّ ابْنَتَہُ ، وَقَدْ بَایَعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِی ہَذِہِ الْیُمْنَی فَمَا مَسِسْتُ بِہَا ذَکَرِی ، وَلاَ تَغَنَّیْتُ ، وَلاَ تَمَنَّیْت ، وَلاَ شَرِبْت خَمْرًا فِی جَاہِلِیَّۃٍ ، وَلاَ إسْلاَمٍ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَشْتَرِی ہَذِہِ الزَّنقَۃَ ، وَیَزِیدُہَا فِی الْمَسْجِدِ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ ، فَاشْتَرَیْتہَا وَزِدْتہَا فِی الْمَسْجِدِ۔ (ابن ابی عاصم ۱۳۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧١٩) حضرت مسعر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ملحان (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابن عمر (رض) کے سامنے حضرت عثمان (رض) اور حضرت عمر (رض) کا ذکر کیا گیا تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : تیری کیا رائے ہے کہ اگر تیرے پاس دو اونٹ ہوں جن میں سے ایک قوی ہو اور دوسرا ا کمزور ہو تو کیا تم کمزور اونٹ کو قتل کردو گے ؟
(۳۲۷۱۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ مِلْحَانَ ، قَالَ : ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُثْمَان ، وَعُمَرُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ بَعِیرَانِ أَحَدُہُمَا قَوِیٌّ ، وَالآخَرُ ضَعِیفٌ أَکُنْتَ تَقْتُلُ الضَّعِیفَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٠) حضرت مسعر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلیمان (رض) نے فرمایا : کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق سوال کیا۔ راوی فرماتے ہیں آپ (رض) نے یوں فرمایا : کہ تم ان کو ہم میں سب سے بہتر سمجھو یا یوں فرمایا : ہم لوگ ان کو اپنے میں سب سے بہترین اور افضل سمجھتے تھے۔
(۳۲۷۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی سَلْمَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، فَقَالَ مِسْعَرٌ : إمَا قَالَ: تَحْسَبُہُ ، أَوَ قَالَ : نَحْسَبُہُ مِنْ خِیَارِنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢١) حضرت کلثوم (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) یوں فرماتے تھے : کہ میں پسند نہیں کرتا کہ حضرت عثمان (رض) کو قتل کے ارادے سے ایک تیر بھی ماروں جس کے بدلہ اگرچہ مجھے احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ملے۔
(۳۲۷۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ کُلْثُومٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : مَا أُحِبُّ أَنِّی رَمَیْت عُثْمَانَ بِسَہْمٍ ، قَالَ مسعر : أُرَاہُ أَرَادَ قَتْلَہُ ، وَلاَ أَنَّ لِی مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٢) حضرت حسان بن عطیہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) سے ارشاد فرمایا تھا۔ اللہ تمہارے ان گناہوں کو بخش دے جو تم نے پہلے کیے اور جو تم بعد میں کرو گے اور جو تم نے پوشیدگی میں کیے اور جو تم نے اعلانیہ طور پر کیے۔ اور جو تم نے چھپائے اور جو تم نے ظاہر کیے اور جو کچھ قیامت کے دن تک کرو گے۔
(۳۲۷۲۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِیُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُثْمَانَ : غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا قَدَّمْت ، وَمَا أَخَّرْت ، وَمَا أَسْرَرْت ، وَمَا أَعْلَنْت ، وَمَا أَخْفَیْت ، وَمَا أَبْدَیْت ، وَمَا ہُوَ کَائِنٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ :
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ :
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٣) حضرت محمد بن حاطب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا گیا تو حضرت حسن بن علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ امیر المؤمنین ابھی تمہارے پاس آئیں گے تو وہی تم لوگوں کو ان کے بارے میں بتائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی (رض) تشریف لائے ۔ اور فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) ان لوگوں میں سے تھے پھر یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : وہ لوگ ایمان پر قائم رہے اور اچھے کام کیے پھر حرام چیزوں سے بچے اور احکام الٰہی کو مانا پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھے کام کیے ۔ اور اللہ دوست رکھتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔
(۳۲۷۲۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ : ذُکِرَ عُثْمَان ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ : ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ یَأْتِیکُمَ الآنَ فَیُخْبِرُکُمْ ، قَالَ : فَجَائَ عَلِیٌّ ، فَقَالَ : کَانَ عُثْمَان مِنَ الَّذِینَ {آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ} حَتَّی أَتَمَّ الآیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٤) حضرت نافع بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا : کہ مجھ پر دروازہ بند کردو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے یہاں تک کہ کنویں کے گرد بنی ہوئی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پس دروازہ بجایا گیا تو میں نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : ابوبکر ہوں۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! یہ ابوبکر (رض) ہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ پس وہ آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ (رض) نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : عمر (رض) ہوں۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! یہ عمر (رض) ہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو آنے کی اجازت دی اور جنت کی خوش خبری بھی سنا دی۔ پس وہ تشریف لائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ (رض) نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا : کون شخص ؟ وہ کہنے لگا ! عثمان (رض) ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! یہ عثمان (رض) ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو بھی اجازت دے دو ۔ اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ آزمائش کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو بھی اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دی۔ پس وہ داخل ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔
(۳۲۷۲۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ : دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِیطَانِ الْمَدِینَۃِ ، وَقَالَ لِی : أَمْسِکْ عَلَی الْبَاب ، فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالَ : أَبُو بَکْرٍ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ہَذَا أَبُو بَکْرٍ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَأَذِنْت لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ ، فَجَائَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَذَا ، قَالَ : عُمَرُ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ہَذَا عُمَرُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَأَذِنْت لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ فَجَائَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ : مَنْ ہَذَا ، قَالَ : عُثْمَان ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ہَذَا عُثْمَان ، قَالَ : ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ مَعَ بَلاَئٍ ، قَالَ : فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ۔ (ابوداؤد ۵۱۴۶۔ احمد ۵۱۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٥) حضرت سفیان بن حسین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی کا رشتہ حضرت عثمان (رض) پر پیش کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں راہنمائی نہ کروں اس شخص پر جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے۔ اور میں اس کی راہنمائی نہ کروں عثمان کے لیے اس عورت پر جو اس عورت سے بہتر ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی بیٹی سے خود نکاح کرلیا۔ اور حضرت عثمان (رض) کا نکاح اپنی بیٹی سے کروا دیا۔
(۳۲۷۲۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَمَّا عَرَضَ عُمَرُ ابْنَتَہُ عَلَی عُثْمَانَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أَدُلُّ عُثْمَانَ عَلَی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا ، وَأَدُلُّہَا عَلَی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لَہَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَتَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللہِ وَزَوَّجَ عُثْمَانَ ابْنَتَہُ۔ (حاکم ۱۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت عثمان (رض) بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
(٣٢٧٢٦) حضرت عاصم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین (رض) کے پاس حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا گیا تو ایک آدمی کہنے لگا۔ یقیناً لوگ تو ان کو گالیاں دیتے ہیں ! اس پر آپ (رض) نے فرمایا : ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو نجاشی بادشاہ پر داخل ہوا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے ایسے گروہ میں سے کہ سب ان کے علاوہ فتنہ میں پڑگئے تھے ! لوگوں نے پوچھا : کہ وہ لوگ کس فتنہ میں پڑے تھے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص بھی اس بادشاہ پر داخل ہوتا تو وہ سر جھکا کر اس کو سلام کرتا۔ پس حضرت عثمان (رض) نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ، تو اس بادشاہ نے پوچھا : تمہیں کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جیسا کہ تمہارے ساتھیوں نے سجدہ کیا ؟ تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ نہیں کرتا۔
(۳۲۷۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ عُثْمَان ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّہُمْ یَسُبُّونَہُ ، فَقَالَ : وَیْحَہُمْ یَسُبُّونَ رَجُلاً دَخَلَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ محمد صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُلُّہُمْ أَعْطَی الْفِتْنَۃَ غَیْرَہُ ، قَالُوا : وَمَا الْفِتْنَۃُ الَّتِی أَعْطَوْہَا ، قَالَ : کَانَ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ أَحَدٌ إلاَّ أَوْمَأَ إلیہ بِرَأْسِہِ فَأَبَی عُثْمَان ، فَقَالَ : مَا مَنَعَک أَنْ تَسْجُدَ کَمَا سَجَدَ أَصْحَابُک ، فَقَالَ : مَا کُنْتُ لأَسْجُدَ لأَحَدٍ دُونَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٢٧) حضرت زر بن حبیش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑ کر پیدا کیا اور انسان کو وجود بخشا یقیناً نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ عہد کیا تھا کہ صرف مخلص مومن ہی مجھ سے محبت کرے گا۔ اور منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔
(۳۲۷۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ إِنَّہُ لَعَہْدُ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ إلَیَّ أَنَّہُ لاَ یُحِبُّنِی إلاَّ مُؤْمِنٌ ، وَلاَ یُبْغِضُنِی إلاَّ مُنَافِقٌ۔ (احمد ۹۵۔ ابن حبان ۶۹۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٢٨) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔
(۳۲۷۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کُنْتُ وَلِیَّہُ فَعَلِیٌّ وَلِیُّہُ۔ (احمد ۳۵۰۔ بزار ۲۵۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٢٩) حضرت ام موسیٰ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتی ہوں کہ حضرت علی (رض) لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھے عہد کے اعتبار سے۔ آپ فرماتی ہیں۔ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کر رہے تھے جس دن حضرت عائشہ (رض) کے گھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح میں ہر تھوڑی دیر بعد بار بار فرماتے کہ علی (رض) آگیا ؟ آپ (رض) فرماتی ہیں۔ مجھے یہ گمان تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کسی کام بھیجا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر میں آگئے تو ہم نے محسوس کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے کوئی کام ہے اس لیے ہم گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئے۔ پس ان سب میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان سے سرگوشی فرماتے رہے۔ پھر اسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ تو آپ (رض) ہی سب سے زیادہ عہد کے اعتبار سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھے۔
(۳۲۷۲۹) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَی ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : وَالَّذِی أَحْلِفُ بِہِ إِنْ کَانَ عَلِیٌّ لأَقْرَبَ النَّاسِ عَہْدًا بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : عُدْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ قُبِضَ فِی بَیْتِ عَائِشَۃَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃً بَعْدَ غَدَاۃٍ یَقُولُ : جَائَ عَلِیٌّ؟ مِرَارًا ، قَالَتْ : وَأَظُنُّہُ کَانَ بَعَثَہُ فِی حَاجَۃٍ ، قَالَتْ : فَجَائَ بَعْدُ فَظَنَنَّا أَنَّ لَہُ إلَیْہِ حَاجَۃً ، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَیْتِ فَقَعَدْنَا بِالْبَابِ ، فَکُنْت مِنْ أَدْنَاہُمْ مِنَ الْبَابِ ، فَأَکَبَّ عَلَیْہِ عَلِیٌّ فَجَعَلَ یُسَارُّہُ وَیُنَاجِیہِ ، ثُمَّ قُبِضَ مِنْ یَوْمِہِ ذَلِکَ ، فَکَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِہِ عَہْدًا۔ ئنسائی ۷۱۰۸۔ طبرانی ۸۸۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٠) حضرت سعد بن عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا : کہ آپ (رض) مجھے حضرت علی (رض) کے متعلق بتلائیے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : جب تو حضرت علی (رض) کے متعلق کچھ پوچھنا چاہے تو پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے قریب ہی ان کا گھر دیکھ لیا کر۔ یہ ان کا گھر ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھر ہے۔ اس آدمی نے کہا : میں تو ان سے بغض رکھتا ہوں ! آپ (رض) نے فرمایا : پس پھر اللہ بھی تجھ سے بغض رکھتے ہیں۔
(۳۲۷۳۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِی، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا أَرَدْت أَنْ تَسْأَلَ عَنْ عَلِیٍّ فَانْظُرْ إِلَی مَنْزِلِہِ مِنْ مَنْزِلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا مَنْزِلُہُ وَہَذَا مَنْزِلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَإِنِّی أَبْغَضُہُ ، قَالَ : فَأَبْغَضَک اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣١) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن والوں کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ پس میں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! مجھے تو قضاء سے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، آپ (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مار کر یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت عطا فرما۔ اور اس کی زبان کو سیدھا کر دے۔ پس مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں شک نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آج میں اس جگہ پر بیٹھا ہوا ہوں۔
(۳۲۷۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ لأَقْضِیَ بَیْنَہُمْ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی لاَ عِلْمَ لِی بِالْقَضَائِ ، قَالَ : فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی صَدْرِی ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اہْدِ قَلْبَہُ وَسَدِّدْ لِسَانَہُ ، فَمَا شَکَکْت فِی قَضَائٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ حَتَّی جَلَسْتُ مَجْلِسِی ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٢) حضرت عمرو بن مرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو البختری (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں نے حضرت علی (رض) سے کہا : کہ آپ (رض) ہمیں اپنے بارے میں بتلائیے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جب میں کچھ سوال کرتا تھا تو مجھے عطاء کردیا جاتا تھا۔ اور جب میں خاموش ہوتا تھا تو مجھ ہی سے شروعات کی جاتی تھی۔
(۳۲۷۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالُوا : لَہُ : أَخْبِرْنَا عَنْ نَفْسِکَ ، قَالَ : کُنْتُ إذَا سَأَلْتُ أُعْطِیت وَإِذَا سَکَتّ ابْتُدِئْت۔ (نسائی ۸۵۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٣) حضرت عبداللہ بن عمرو بن ھند الجملی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میں جب کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ مانگتا تھا تو آپ (رض) مجھے عطا فرما دیتے ۔ اور جب میں خاموش ہوتا تھا تو مجھ ہی سے شروعات فرماتے۔
(۳۲۷۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ ہِنْدٍ الْجَمَلِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کُنْتُ إذَا سَأَلْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِی ، وَإِذَا سَکَتّ ابْتَدَأَنِی۔ (ترمذی ۳۷۲۲۔ حاکم ۱۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٤) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حبشی بن جنادہ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس پر حضرت شریک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا : اے ابو اسحق ! آپ (رض) نے ان کو یہاں دیکھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : حضرت حبشی (رض) ہماری مجلس میں ٹھہرے تھے اور فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے سنا : علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور میری طرف سے علی (رض) کے علاوہ کوئی بھی ادائیگی نہیں کرے گا۔
(۳۲۷۳۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حُبْشِیِّ بْنِ جُنَادَۃَ ، قَالَ : قلْت لَہُ : یَا أَبَا أسْحَاقَ ، أَیْنَ رَأَیْتہ ، قَالَ : وَقَفَ عَلَیْنَا فِی مَجْلِسِنَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : عَلِیٌّ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، وَلاَ یُؤَدِّی عَنِّی إلاَّ عَلِیٌّ۔ (ترمذی ۳۷۱۹۔ ابن ماجہ ۱۱۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم غدیر خم کے موقع پر حجفہ مقام میں تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے پھر حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی بھی اس کا دوست ہے۔
(۳۲۷۳۵) حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ، قَالَ: کُنَّا بِالْجُحْفَۃِ بِغَدِیرِ خُمٍّ إذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔
তাহকীক: