মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৭৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٦) حضرت ریاح بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت علی (رض) کشادہ جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کے نشانات واضح تھے۔ اس نے کہا : اے میرے دوست تجھ پر سلامتی ہو۔ آپ نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یہ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) ہیں ، پھر انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : میں جس کا دوست ہوں پس علی بھی اس کا دوست ہے۔
(۳۲۷۳۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رِیَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : بَیْنَا عَلِیٌّ جَالِسًا فِی الرَّحْبَۃِ إذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا مَوْلاَیَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ، فَقَالُوا : ہَذَا أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ ، فَقَالَ : إنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔
(طبرانی ۴۰۵۲)
(طبرانی ۴۰۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٧) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی (رض) کو جانشین بنایا تو آپ (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول 5! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے ؟
(۳۲۷۳۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، قَالَ : خَلَّفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ تُخَلِّفُنِی فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ، فَقَالَ : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی غَیْرَ أَنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی۔
(بخاری ۴۴۱۶۔ مسلم ۳۱)
(بخاری ۴۴۱۶۔ مسلم ۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٨) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے۔
(۳۲۷۳۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ لِعَلِیٍّ : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی۔
(بخاری ۳۷۰۶۔ مسلم ۱۸۷۱)
(بخاری ۳۷۰۶۔ مسلم ۱۸۷۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٣٩) حضرت اسماء بنت عمیس (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو یوں ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۳۲۷۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ ابْنَۃُ عَلِیٍّ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِی أَسْمَائُ ابْنَۃُ عُمَیْسٍ ، قَالَتْ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لِعَلِیٍّ : أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی ، إلاَّ أَنَّہُ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِی۔ (نسائی ۸۱۴۳۔ احمد ۴۳۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٠) حضرت زید بن ارقم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۳۲۷۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِیٍّ : أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی ، إلاَّ أَنَّہُ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤١) حضرت عبدالرحمن بن سابط (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ (رض) ایک حج کے موقع پر تشریف لائے تو حضرت سعد (رض) ان کے پاس آئے تو لوگوں نے حضرت علی (رض) کا ذکر کیا اس پر حضرت معاویہ (رض) نے کچھ الفاظ کہے پس حضرت سعد (رض) کو غصہ آگیا آپ (رض) نے فرمایا : تم یہ بات ایسے آدمی کے بارے میں کر رہے ہو کہ میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے بارے میں یہ تین خصوصیات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ اور مجھے ان خصوصیات میں سے کسی ایک کامل جانا میرے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس میں موجود ہے۔ اس سے بھی پسند ہے۔ میں نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں۔ علی بھی اس کا دوست ہے۔ میں نے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میں نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔
(۳۲۷۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قدِمَ مُعَاوِیَۃُ فِی بَعْضِ حَجَّاتِہِ، فَأَتَاہُ سَعْدٌ، فَذَکَرُوا عَلِیًّا، فَنَالَ مِنْہُ مُعَاوِیَۃُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، فَقَالَ: تَقُولُ ہَذَا لِرَجُلٍ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَہُ ثَلاَثُ خِصَالٍ ، لأَنْ تَکُونَ لِی خَصْلَۃٌ مِنْہَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ، وَمَا فِیہَا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہ ، وَسَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی ، إلاَّ أَنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ۔(مسلم ۱۸۷۱۔ ترمذی ۲۹۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٢) حضرت ابو سلیمان الجھنی (رض) یعنی زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں۔ کسی ایک نے بھی مجھ سے پہلے یہ نہیں کہا اور نہ ہی کوئی میرے بعد یہ کہے گا مگر جھوٹا شخص۔
(۳۲۷۴۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِیرَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو سُلَیْمَانَ الْجُہَنِیُّ ، یَعْنِی زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا عَلَی الْمِنْبَرِ وَہُوَ یَقُولُ : أَنَا عَبْدُ اللہِ ، وَأَخُو رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَمْ یَقُلْہَا أَحَدٌ قَبْلِی ، وَلاَ یَقُولُہَا أَحَدٌ بَعْدِی إلاَّ کَذَّابٌ مُفْتَرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٣) حضرت حکم (رض) اور حضرت منھال (رض) اور حضرت عیسیٰ (رض) ، یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) نے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) سردیوں میں تہہ بند اور چادر دو باریک کپڑوں میں نکلتے تھے۔ اور گرمیوں میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ! تو لوگ حضرت عبدالرحمن سے کہنے لگے : اگر آپ (رض) اپنے والد سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتلا دیں گے اس لیے کہ وہ رات کو ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد سے پوچھا : کہ لوگ امیر المؤمنین میں ایسی چیز دیکھتے ہیں جس کو وہ عجیب سمجھتے ہیں ؟ انھوں نے پوچھا : وہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : آپ (رض) سخت گرمی میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں اور آپ (رض) کو اس کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور سخت سردی میں آپ (رض) دو باریک کپڑوں اور چھوٹی چادروں میں نکلتے ہیں اور آپ (رض) کو اس چیز کی بالکل پروا بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ (رض) سردی سے بچتے ہیں۔ کیا آپ (رض) نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے ؟ اس لیے کہ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے کہوں کے آپ حضرت علی (رض) سے جب رات کو بات کریں تو اس بارے میں دریافت کریں۔
پس جب رات کو انھوں نے حضرت علی (رض) سے بات چیت کی تو ان سے کہا : اے امیر المؤمنین : لوگوں نے آپ (رض) کی ایک چیز کا جائزہ لیا ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ (رض) سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ (رض) دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ (رض) کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ (رض) سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے ۔ اور حضرت عمر (رض) کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے ۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا ، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا ، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔
پس جب رات کو انھوں نے حضرت علی (رض) سے بات چیت کی تو ان سے کہا : اے امیر المؤمنین : لوگوں نے آپ (رض) کی ایک چیز کا جائزہ لیا ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ (رض) سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ (رض) دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ (رض) کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ (رض) سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے ۔ اور حضرت عمر (رض) کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے ۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا ، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا ، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔
(۳۲۷۴۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَالْمِنْہَالِ ، وَعِیسَی ، عَنْ عبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَخْرُجُ فِی الشِّتَائِ فِی إزَارٍ وَرِدَائٍ ثَوْبَیْنِ خَفِیفَیْنِ ، وَفِی الصَّیْفِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ وَالثَّوْبِ الثَّقِیلِ ، فَقَالَ : النَّاسُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : لَوْ قُلْتُ لأَبِیک فَإِنَّہُ یَسْمرُ مَعَہُ ، فَسَأَلْت أَبِی ، فَقُلْتُ : إنَّ النَّاسَ قَدْ رَأَوْا مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا اسْتَنْکَرُوہُ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : یَخْرُجُ فِی الْحَرِّ الشَّدِیدِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ وَالثَّوْبِ الثَّقِیلِ ، وَلاَ یُبَالِی ذَلِکَ ، وَیَخْرُجُ فِی الْبَرْدِ الشَّدِیدِ فِی الثَّوْبَیْنِ الْخَفِیفَیْنِ وَالْمُلاَئَتَیْنِ لاَ یُبَالِی ذَلِکَ وَلاَ یَتَّقِی بَرْدًا ، فَہَلْ سَمِعْت فِی ذَلِکَ شَیْئًا فَقَدْ أَمَرُونِی أَنْ أَسْأَلَک أَنْ تَسْأَلَہُ إذَا سَمَرْت عِنْدَہُ ، فَسَمَرَ عِنْدَہُ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّ النَّاسَ قَدْ تَفَقَّدُوا مِنْک شَیْئًا ، قَالَ : وَمَا ہُوَ ، قَالَ : تَخْرُجُ فِی الْحَرِّ الشَّدِیدِ فِی الْقَبَائِ الْمَحْشُوِّ أو الثَّوْبِ الثَّقِیلِ وَتَخْرُجُ فِی الْبَرْدِ الشَّدِیدِ فِی الثَّوْبَیْنِ الْخَفِیفَیْنِ وَفِی الْمُلاَئَتَیْنِ لاَ تُبَالِی ذَلِکَ ، وَلاَ تَتَّقِی بَرْدًا ، قَالَ : وَمَا کُنْتَ مَعَنَا یَا أَبَا لَیْلَی بِخَیْبَرَ ، قَالَ : قُلْتُ بَلَی ، وَاللہِ قَدْ کُنْت مَعَکُمْ ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَکْرٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ فَانْہَزَمَ حَتَّی رَجَعَ إلَیْہِ ، وَبَعَثَ عُمَرَ فَانْہَزَمَ بِالنَّاسِ حَتَّی انْتَہَی إلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ لَہُ ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ فَأَرْسَلَ إلَیَّ فَدَعَانِی ، فَأَتَیْتہ وَأَنَا أَرْمَدُ لاَ أُبْصِرُ شَیْئًا ، فَتَفَلَ فِی عَیْنِی ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِہِ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ ، قَالَ فَمَا آذَانِی بَعْدُ حَرٌّ ، وَلاَ بَرْدٌ۔ (احمد ۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا : کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی (رض) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انھوں نے پیوند لگایا تھا۔
(۳۲۷۴۴) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، لَیَبْعَثَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ رَجُلاً مِنْکُمْ قَدِ امْتَحَنَ اللَّہُ قَلْبَہُ لِلإِیمَانِ فَیَضْرِبُکُمْ ، أَوْ یَضْرِبُ رِقَابَکُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : لاَ فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُ خَاصِفُ النَّعْلِ ، وَکَانَ أَعْطَی عَلِیًّا نَعْلَہُ یَخْصِفُہَا۔ (ترمذی ۲۶۶۰۔ احمد ۱۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٥) حضرت رجائ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے : ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کررہا تھا گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک آدمی ہوگا جو لوگوں سے قتال کرے گا قرآنی تاویل پر جیسا کہ اس کے اترنے پر تم سے قتال کیا گیا تھا۔ پس حضرت ابوبکر (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ شخص حجرے میں جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی (رض) ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جوتا تھا جس کو انھوں نے ٹھیک کیا تھا۔
(۳۲۷۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی غنیۃ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إلَیْنَا وَلَکَأَنَّ عَلَی رُؤُوسِنَا الطَّیْرَ ، لاَ یَتَکَلَّمُ أَحَدٌ مِنَّا ، فَقَالَ : إنَّ مِنْکُمْ رَجُلاً یُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی تَأْوِیلِ الْقُرْآنِ کَمَا قُوتِلْتُمْ عَلَی تَنْزِیلِہِ ، فَقَامَ أَبُوبَکْرٍ، فَقَالَ: أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ، قَالَ: لاَ، فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَنَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ، قَالَ: لاَ، وَلَکِنَّہُ خَاصِفُ النَّعْلِ فِی الْحُجْرَۃِ ، قَالَ : فَخَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیٌّ وَمَعَہُ نَعْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصْلِحُ مِنْہَا۔
(احمد ۳۱۔ حاکم ۱۲۲)
(احمد ۳۱۔ حاکم ۱۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٦) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ تمہارے لیے جنت میں ایک خزانہ ہے اور تم اس کے مالک ہو۔ جب کسی پر ایک نظر پڑجائے تو دوسری نظر مت ڈالو۔ کیونکہ ایک نظر تو معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں ہے۔
(۳۲۷۴۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہُ : یَا عَلِی ، إنَّ لَکَ کَنْزًا فِی الْجَنَّۃِ وَإِنَّک ذُو قَرْنَیْہَا فَلاَ تُتْبِعَ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَإِنَّمَا لَکَ الأُولَی وَلَیْسَتْ لَکَ الآخِرَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٧) حضرت عباد بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں۔ اور میں صدیق اکبر ہوں۔ نہیں کہے گا اس بات کو میرے بعد مگر جھوٹا کذاب شخص۔ اور تحقیق میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی۔
(۳۲۷۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الصَّالِحِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ : أَنَا عَبْدُ اللہِ ، وَأَخُو رَسُولِہِ ، وَأَنَا الصِّدِّیقُ الأَکْبَرُ ، لاَ یَقُولُہَا بَعْدِی إلاَّ کَذَّابٌ مُفْتَرٍ ، وَلَقَدْ صَلَّیْت قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٨) حضرت حبۃ العرنی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میں پہلا آدمی ہوں جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔
(۳۲۷۴۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَبَّۃَ الْعُرَنِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : أَنَا أَوَّلُ رَجُلٍ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۱۴۱۔ ابن سعد ۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٤٩) حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کی طرف لوٹے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیا۔ لیکن اس کو فتح نہ کرسکے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح یا شام کے وقت کوچ فرمایا : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹھہرے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کو چلنے لگے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! بیشک میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا ، اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ۔ اور تم سے وعدے کی جگہ حوض کوثر کا مقام ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو یا پھر میں تمہاری طرف اپنے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ یا اپنے جیسے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ پس وہ ضرور بالضرور ان میں سے قتال کرنے والوں کی گردنوں کو مارے گا ۔ اور ان کی اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شخص حضرت ابوبکر (رض) یا حضرت عمر (رض) ہوں گے۔ پس آپ (رض) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : وہ شخص یہ ہے۔
(۳۲۷۴۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ انْصَرَفَ إِلَی الطَّائِفِ فَحَاصَرَہَا تسع عَشْرَۃَ ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَۃَ ، فَلَمْ یَفْتَتِحْہَا ، ثُمَّ ارْتَحَلَ رَوْحَۃً ، أَوْ غَدْوَۃً فَنَزَلَ ، ثُمَّ ہَجَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إنِّی فَرَطٌ لَکُمْ وَأُوصِیکُمْ بِعِتْرَتِی خَیْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمَ الْحَوْضُ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَتُقِیمُنَّ الصَّلاَۃَ وَلَتُؤْتُنَّ الزَّکَاۃَ ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إلَیْکُمْ رَجُلاً مِنِّی ، أَوْ کَنَفْسِی فَلَیَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلَتِہِمْ وَلَیَسْبِیَنَّ ذَرَارِیَّہُمْ ، قَالَ : فَرَأَی النَّاسُ أَنَّہُ أَبُو بَکْرٍ ، أَوْ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : ہَذَا۔
(بزار ۱۰۵۰۔ حاکم ۱۲۰)
(بزار ۱۰۵۰۔ حاکم ۱۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٠) حضرت ہبیرہ بن یریم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جوڑا ہدیہ دیا گیا جو ریشم سے مزین تھا۔ یا تو اس کا تانا ریشم کا تھا یا اس کا بانا ریشم کا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ جوڑا مجھے بھیج دیا ۔ میں وہ جوڑا لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اور میں نے دریافت کیا کہ میں اس کا کیا کروں ؟ کیا میں اس کو پہن لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! بیشک میں تیرے لیے وہ چیز پسند نہیں کرتا جو چیز میں اپنے لیے ناپسند کروں۔
(۳۲۷۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ أَبِی فَاخِتَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی ہُبَیْرَۃُ بْنُ یَرِیمَ ، عْن عَلِیٍّ ، قَالَ : أُہْدِیَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُلَّۃٌ مُسَیَّرَۃٌ بِحَرِیرٍ ، إمَّا سَدَاہَا حَرِیرٌ ، أَوْ لَحْمَتُہَا، فَأَرْسَلَ بِہَا إلَی، فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: مَا أَصْنَعُ بِہَا، أَلْبَسُہَا، فَقَالَ: لاَ، إنِّی لَمَا أَرْضَی لَکَ مَا أَکْرَہُ لِنَفْسِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥١) حضرت علی (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ما قبل والا ارشاد اس سے بھی منقول ہے۔
(۳۲۷۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ أَبِی فَاخِتَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی جَعْدَۃُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحِیمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٢) حضرت ناجیۃ بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! بلاشبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غسل کا حکم دیا ۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔
(۳۲۷۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ عَمَّک الشَّیْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : فَقَالَ : انْطَلِقْ فَوَارِہِ ، ثُمَّ لاَ تُحَدِّثَنَّ شَیْئًا حَتَّی تَأْتِیَنِی ، قَالَ : فَوَارَیْتہ ، ثُمَّ أَتَیْتہ فَأَمَرَنِی فَاغْتَسَلْت ، ثُمَّ دَعَا لِی بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہِنَّ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔
(۳۲۷۵۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہَانِئِ بْنِ ہَانِئٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ لِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنِّی وَأَنَا مِنْک۔ (ابوداؤد ۲۲۷۴۔ احمد ۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٤) حضرت زید بن یثیع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کو خبر ملی کہ چند لوگ ان کے بارے میں کچھ بات کر رہے ہیں۔ تو آپ (رض) منبر پر چڑھ کر فرمانے لگے۔ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے اس شخص کو قسم دیتا ہوں۔ جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے بارے میں کچھ سنا ہے۔ تو وہ کھڑا ہوجائے ۔ پس چھ کے قریب لوگ کھڑے ہوگئے اور ان میں حضرت سعید بن وھب (رض) چھٹے مل گئے۔ پھر ان سب لوگوں نے فرمایا : ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! تو بھی دوست رکھ ! اس شخص کو جو اس سے دوستی رکھے۔ اور تو دشمنی کر اس شخص سے جو اس سے دشمنی رکھے۔
(۳۲۷۵۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ ، قَالَ : بَلَغَ عَلِیًّا أَنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ فِیہِ ، قَالَ : فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّہَ رَجُلاً ، وَلا أَنْشُدُہُ إلاَّ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا إلاَّ قَامَ ، فَقَامَ مِمَّا یَلِیہِ سِتَّۃٌ ، وَمِمَّا یَلِی سعید بْنَ وَہْبٍ سِتَّۃٌ فَقَالُوا : نَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔
(احمد ۱۰۲۲۔ بزار ۲۵۴۱)
(احمد ۱۰۲۲۔ بزار ۲۵۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٥) حضرت ابو یزید الاودی (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوہریرہ (رض) مسجد میں تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے پھر ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا : میں آپ (رض) کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا آپ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں جس کا دوست ہوں پس علی (رض) بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! تو بھی اس کو دوست بنا جو علی (رض) کو دوست رکھتا ہو۔ اور تو اس سے دشمنی کر جو شخص اس سے دشمنی رکھتا ہو ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں ! پھر وہ نوجوان کہنے لگا : میں آپ (رض) سے بری ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ (رض) نے دشمنی کی اس شخص سے جو ان کو دوست رکھتا ہے اور آپ (رض) نے دوستی کی اس شخص سے جو ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس لوگوں نے اس نوجوان کو کنکریاں ماریں۔
(۳۲۷۵۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی یَزِیدَ الأَوْدِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَسْجِدَ فَاجْتَمَعْنَا إلَیْہِ ، فَقَامَ إلَیْہِ شَابٌّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُک بِاللہِ ، أَسَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ الشَّابُّ : أَنَا مِنْک بَرِیئٌ ، أَشْہَدُ أَنَّک قَدْ عَادَیْت مَنْ وَالاہُ وَوَالَیْت مَنْ عَادَاہُ ، قَالَ فَحَصَبَہُ النَّاسُ بِالْحَصَا۔ (بزار ۲۵۳۱۔ ابویعلی ۶۳۹۲)
তাহকীক: