মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯০০ টি

হাদীস নং: ৩২৭৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٦) حضرت عبداللہ بن شداد (رض) فرماتے ہیں کہ یمن کے سرح قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ارشاد فرمایا : چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور بات سنو اور اطاعت کرو۔ یا پھر میں تمہاری طرف ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو میرے جیسا ہے وہ تمہارے لڑنے والوں سے قتال کرے گا اور تمہاری اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ اللہ کی قسم ! وہ میں یا میرے جیسا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑا۔
(۳۲۷۵۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَیَّاشٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفْدُ آل سَرْحٍ مِنَ الْیَمَنِ ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَتُقِیمُنَّ الصَّلاۃَ وَلَتُؤْتُنَّ الزَّکَاۃَ وَلَتَسْمَعْن وَلَتُطِیعَنْ ، أَوْ لأبْعَثَنَّ إلَیْکُمْ رَجُلاً کَنَفْسِی یُقَاتِلُ مُقَاتِلَتَکُمْ وَیَسْبِی ذَرَارِیَّکُمْ ، اللَّہُمَّ أَنَا ، أَوْ کَنَفْسِی ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ۔ (احمد ۱۰۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٧) حضرت عاصم بن ضمرہ (رض) فرماتے ہیں جب حضرت علی (رض) کو شہید کردیا گیا تو حضرت حسن بن علی (رض) نے خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو یا یوں فرمایا : اے عراق والو ! تحقیق تمہارے سامنے ایک آدمی تھا جس کو رات کو شہید کردیا گیا یا یوں فرمایا : کہ جو آج فوت ہوگیا۔ پہلے لوگ اس سے علم میں نہیں بڑھے اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کے علم کو پاسکیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس کو کسی لشکر میں بھیجتے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کی دائیں طرف ہوتے تھے اور حضرت میکائیل اس کی بائیں طرف ہوتے۔ پس وہ شخص واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرما دیتے۔
(۳۲۷۵۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، قَالَ : خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حِینَ قُتِلَ عَلِیٌّ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، أَوْ یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ لَقَدْ کَانَ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ رَجُلٌ قُتِلَ اللَّیْلَۃَ ، أَوْ أُصِیبَ الْیَوْمَ لَمْ یَسْبِقْہُ الأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ ، وَلا یُدْرِکُہُ الآخِرُونَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَہُ فِی سَرِیَّۃٍ کَانَ جِبْرِیلُ عَنْ یَمِینِہِ وَمِیکَائِیلُ ، عَنْ یَسَارِہِ ، فَلا یَرْجِعُ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٨) حضرت عمرو بن مرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کے سامنے حضرت علی (رض) کے متعلق لوگوں کی باتیں ذکر کی گئیں تو انھوں نے فرمایا : ہم لوگ آپس میں بیٹھے ہیں ہم نے اکٹھے کھایا پیا ہے۔ اور ہم ان کے اعمال پر رضا مند ہیں پس میں نے تو کبھی بھی نہیں سنی وہ بات جو لوگ کہتے ہیں۔ بیشک تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم یوں کہہ دیا کرو۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اور ان کے داماد ہیں وہ بیعت الرضوان کے موقع پر حاضر تھے اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(۳۲۷۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : ذُکِرَ عِنْدَہُ قَوْلُ النَّاسِ فِی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : قَدْ جَالَسْنَاہُ وَوَاکَلْنَاہُ وَشَارَبْنَاہُ وَقُمْنَا لَہُ عَلَی الأَعْمَالِ ، فَمَا سَمِعْتہ یَقُولُ شَیْئًا مِمَّا یَقُولُونَ ، إنَّمَا یَکْفِیکُمْ أَنْ تَقُولُوا : ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُہُ، وَشَہِدَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ ، وَشَہِدَ بَدْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٥٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور آج ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس لوگ قدم اونچے کرکے اپنے آپ کو ظاہر کرنے لگے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ان کی دونوں آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب مبارک ڈالا اور اس کے ساتھ حضرت علی (رض) کی دونوں آنکھوں کو مسلا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جھنڈا دیا۔ پس اسی دن اللہ نے ان کو فتح عطا فرما دی۔
(۳۲۷۵۹) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی مَنِینٍ وَہُوَ یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَدْفَعَنَّ الرَّایَۃَ إِلَی رَجُلٍ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، قَالَ : فَتَطَاوَلَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ: أَیْنَ عَلِیٌّ فَقَالُوا : یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ ، فَدَعَاہُ فَبَزَقَ فِی کَفَّیْہِ ، وَمَسَحَ بِہِمَا عَیْنَی عَلِیٍّ ، ثُمَّ دَفَعَ إلَیْہِ الرَّایَۃَ، فَفَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ۔ (مسلم ۱۸۷۱۔ احمد ۳۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٠) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کے پاس کھانے کا پیغام بھیجا لیکن کسی بھی بیوی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی نہ ملی۔ تو اچانک حضرت علی (رض) سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو غبار آلود اور پراگندہ حال میں تھے اور ان کے کندھے پر ایک صاع کے قریب کھجوریں تھیں۔ جو انھوں نے مزدوری کر کے حاصل کی تھیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوش آمدید بوجھ اٹھانے والے کو اور اٹھائے ہوئے بوجھ کو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے سر سے مٹی جھاڑی پھر ارشاد فرمایا : خوش آمدید ابوتراب ! پھر انھوں نے کھجوروں کو قریب کیا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھائیں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو بھی اس میں سے حصہ بھیجا۔
(۳۲۷۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : بَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی نِسَائِہِ فَلَمْ یَجِدْ عِنْدَ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ شَیْئًا ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ ہُمْ بِعَلِیٍّ قَدْ أَقْبَلَ شعثًا مُغْبَرًّا ، عَلَی عَاتِقِہِ قَرِیبٌ مِنْ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ قَدْ عَمِلَ بِیَدِہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَرْحَبًا بِالْحَامِلِ وَالْمَحْمُولِ ، ثُمَّ أَجْلَسَہُ فَنَفَضَ ، عَنْ رَأْسِہِ التُّرَابَ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِأَبِی تُرَابٍ ، فَقَرَّبَہُ ، فَأَکَلُوا حَتَّی صَدَرُوا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی نِسَائِہِ إِلَی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ طَائِفَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦١) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب (رض) نے ارشاد فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جھنڈا دیا اور فرمایا : میں ایسے شخص کو جھنڈا دے رہا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب ڈالا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ اور ان کے لیے دعا فرمائی پس اللہ نے ان کو خیبر میں فتح دے دی۔
(۳۲۷۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّایَۃَ إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لأَدْفَعَنَّہَا إِلَی رَجُلٍ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَتَفَلَ فِی عَیْنَیْہِ وَکَانَ أَرْمَدَ ، قَالَ : وَدَعَا لَہُ فَفُتِحَتْ عَلَیْہِ خَیْبَرُ۔ (عبدالرزاق ۱۰۳۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٢) حضرت عمر بن اسید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت علی (رض) بن ابی طالب کو تین خصوصیات عطا کی گئیں ۔ مجھے ان میں سے ایک کامل جانا میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی جس سے ان کی اولاد بھی ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام دروازے بند کروا دیے سوائے ان کے دروازے کے ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر کے دن ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔
(۳۲۷۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِیْدَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَقَدْ أُوتِیَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ثَلاثَ خِصَالٍ لأَنْ تَکُونَ لِی وَاحِدَۃٌ مِنْہُنَّ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ : زَوَّجَہُ ابْنَتَہُ فَوَلَدَتْ لَہُ ، وَسَدَّ الأَبْوَابَ إلاَّ بَابَہُ ، وَأَعْطَاہُ الْحَرْبَۃَ یَوْمَ خَیْبَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٣) حضرت ایاس بن سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حضرت علی (رض) کو بلانے کے لیے بھیجا۔ اور ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5! اس سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پس میں ان کو لایا اس حال میں کہ میں ان کو راستہ دکھانے کے لیے آگے چل رہا تھا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا پھر ان کو جھنڈا مرحمت فرمایا۔ اور اسی دن اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دے دی۔
(۳۲۷۶۳) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَہُ إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَجِئْت بِہِ أَقُودُہُ أَرْمَدَ ، قَالَ : فَبَصَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، ثُمَّ أَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، وَکَانَ الْفَتْحُ عَلَی یَدَیْہِ۔ (مسلم ۱۴۳۳۔ احمد ۵۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٤) حضرت جُمَیع بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ اور میری خالہ حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ہم نے ان سے پوچھا : کہ حضرت علی (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک کیا مقام تھا ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدن پر ایسی جگہ ہاتھ رکھا جہاں کسی نے بھی نہیں رکھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ان ہاتھ میں نکلی کہ انھوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ پوچھا گیا : تم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں دفن کرو گے ؟ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک زمین کا کوئی ٹکڑا اس حصہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی۔ لہٰذا ہم نے اسی جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کردی۔
(۳۲۷۶۴) حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ أَنَا وَأُمِّی وَخَالَتِی، فَسَأَلْنَاہَا: کَیْفَ کَانَ عَلِیٌّ عِنْدَہُ، فَقَالَتْ: تَسْأَلُونِی عَنْ رَجُلٍ وَضَعَ یَدَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَوْضِعًا لَمْ یَضَعْہَا أَحَد ، وَسَالَتْ نَفْسُہُ فِی یَدِہِ ، وَمَسَحَ بِہَا وَجْہَہُ وَمَاتَ ، فَقِیلَ : أَیْنَ تَدْفِنُونہُ، فَقَالَ عَلِیٌّ : مَا فِی الأَرْضِ بُقْعَۃٌ أَحَبُّ إِلَی اللہِ مِنْ بُقْعَۃٍ قُبَضَ فِیہَا نَبِیَّہُ ، فَدَفَنَّاہُ۔ (ابویعلی ۴۸۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت نکلے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسی کالی چادر تھی جس پر اونٹوں کے کجاوے کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ پس حضرت حسن (رض) آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس میں داخل کیا۔ پھر حضرت حسین (رض) آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت فاطمہ (رض) آئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا پھر حضرت علی (رض) آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی ، اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والو اور پاک کر دے تمہیں پوری طرح ۔
(۳۲۷۶۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ ، قَالَتْ : قالَتْ عَائِشَۃُ : خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃً وَعَلَیْہِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ ، فَجَائَ الْحَسَنُ فَأَدْخَلَہُ مَعَہُ ، ثُمَّ جَائَ حُسَیْنٌ فَأَدْخَلَہُ مَعَہُ ، ثُمَّ جَائَتْ فَاطِمَۃُ فَأَدْخَلَہَا ، ثُمَّ جَائَ عَلِیٌّ فَأَدْخَلَہُ ، ثُمَّ قَالَ : {إنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمَ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا}۔ (مسلم ۱۸۸۳۔ ابوداؤد ۴۰۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٦) حضرت شداد ابو عمارہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت واثلہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ ان کے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پس ان لوگوں نے حضرت علی (رض) کا ذکر کیا پھر ان کو سب و شتم کرنے لگے تو میں نے بھی ان کے ساتھ ان کو برا بھلا کہا۔ تو حضرت واثلہ (رض) نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس حدیث کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور سنائیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں حضرت فاطمہ (رض) کے پاس گیا میں نے ان سے حضرت علی (رض) کے متعلق پوچھا : تو وہ فرمانے لگیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ہیں پس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں درآنحالیکہ حضرت علی (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ان سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا ۔ اور حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو بھی بٹھایا یہ دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران پر تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب پر اپنا کپڑا یا چادر ڈال دی ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والو ! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور میرے گھر والے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
(۳۲۷۶۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِی عَمَّارٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی وَاثِلَۃَ ، وَعِنْدَہُ قَوْمٌ فَذَکَرُوا علیا فَشَتَمُوہُ فَشَتَمَہُ مَعَہُمْ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُک بِمَا سَمِعْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : أَتَیْتُ فَاطِمَۃَ أَسْأَلُہَا عَنْ عَلِیٍّ ، فَقَالَتْ : تَوَجَّہَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ ، فَجَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ عَلِیٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا آخِذٌ بِیَدِہِ حتی دخل ، فَأَدْنَی عَلِیًّا وَفَاطِمَۃَ فَأَجْلَسَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلَی فَخِذِہِ ، ثُمَّ لَفَّ عَلَیْہِمْ ثَوْبَہُ ، أَوَ قَالَ : کِسَاء ، ثُمَّ تَلا ہَذِہِ الآیَۃَ : {إنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ} ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ ہَؤُلائِ أَہْلُ بَیْتِی ، وَأَہْلُ بَیْتِی أَحَقُّ۔ (احمد ۱۰۷۔ طبرانی ۱۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٧) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں میرے پاس تھے۔ کہ خادمہ نے آکر عرض کیا : حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) دروازے پر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے گھر والوں کے لیے جگہ بناؤ۔ پس میں گھر کے ایک کونے میں ہوگئی۔ تو حضرت علی (رض) ، حضرت فاطمہ (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) تشریف لائے۔ پھر دونوں بچوں کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے علی (رض) کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ (رض) کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور ان کا بوسہ بھی لیا۔ اور ان سب پر اپنی کالی چادر ڈال دی۔ پھر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تیری طرف پناہ پکڑتے ہیں نہ کہ جہنم کی طرف میں اور میرے گھر والے ۔ حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں۔ میں نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی۔
(۳۲۷۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ أَبِی الْمُعَذَّلِ الطُّفَاوِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَہَا فِی بَیْتِہَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَجَائَتِ الْخَادِمُ ، فَقَالَتْ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ بِالسُّدَّۃِ ، فَقَالَ : تَنَحِّی لِی ، عَنْ أَہْلِ بَیْتِی ، فَتَنَحَّیت فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ ، فَدَخَلَ عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ ، فَوَضَعَہُمَا فِی حِجْرِہِ ، وَأَخَذَ عَلِیًّا بِإِحْدَی یَدَیْہِ فَضَمَّہُ إلَیْہِ ، وَأَخَذَ فَاطِمَۃَ بِالْیَدِ الأُخْرَی فَضَمَّہَا إلَیْہِ وَقَبَّلَہَا ، وَأَغْدَفَ عَلَیْہِمْ خَمِیصَۃً سَوْدَائَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إلَیْک لاَ إِلَی النَّارِ ، أَنَا وَأَہْلُ بَیْتِی ، قَالَتْ : فَنَادَیْتہ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : وَأَنْتِ۔ (احمد ۲۹۶۔ طبرانی ۹۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٨) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ھبیرہ بن یریم (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت حسن بن علی (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! کل تم سے ایک ایسا شخص جد اہو گیا کہ نہیں سبقت لے جاسکے اس سے پہلے لوگ اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کا مقام پاسکتے ہیں۔ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کسی لشکر میں بھیجتے تو ان کو جھنڈا عطا فرماتے پس وہ واپس نہیں لوٹتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتے۔ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے دائیں جانب ہوتے اور میکائیل (علیہ السلام) ان کے بائیں جانب ہوتے۔ انھوں نے کوئی سونا، چاندی نہیں چھوڑا سوائے سات درہموں کے جو میں نے ان کی بخشش میں سے بچائے تھے۔ اس لیے کہ ان سے ایک خادم خریدنے کا ارادہ تھا۔
(۳۲۷۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ یَرِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ قَامَ خَطِیبًا فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، لَقَدْ فَارَقَکُمْ أَمْسِ رَجُلٌ مَا سَبَقَہُ الأَوَّلُونَ ، وَلا یُدْرِکُہُ الآخِرُونَ وَلَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْعَثُہُ الْمَبْعَثَ فَیُعْطِیہِ الرَّایَۃَ فَمَا یَرْجِعُ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ ، جِبْرِیلُ عَنْ یَمِینِہِ وَمِیکَائِیلُ ، عَنْ شِمَالِہِ ، مَا تَرَکَ بَیْضَائَ ، وَلا صَفْرَائَ إلاَّ سَبْعَمِئَۃِ دِرْہَمٍ فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِہِ ، أَرَادَ أَنْ یَشْتَرِیَ بِہَا خَادِمًا۔ (احمد ۱۹۹۔ بزار ۲۵۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٦٩) حضرت ابو حمزہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم (رض) نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والے شخص حضرت علی (رض) تھے۔

عمرو بن مرہ کہتے ہیں : میں حضرت ابراہیم (رض) کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے یہ بات ذکر کی تو انھوں نے اس کا انکار کیا اور فرمایا : سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔

(
(۳۲۷۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ مَوْلَی الأَنْصَارِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرَقْمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ ، فقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ : فَأَتَیْت إبْرَاہِیمَ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ فَأَنْکَرَہُ وقال : أَبُو بَکْر۔ (احمد ۳۶۸۔ طیالسی ۶۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٠) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جبلہ (رض) نے ارشاد فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی غزوہ میں شریک نہ ہوتے تو اپنے ہتھیار حضرت علی (رض) یا حضرت اسامہ (رض) کو مرحمت فرما دیتے۔
۳۲۷۷۰) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ جَبَلَۃَ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا لَمْ یَغْزُ أَعْطَی سِلاحَہُ عَلِیًّا أَوْ أُسَامَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧١) حضرت عمرو بن شاس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تحقیق تو نے مجھے ایذاء پہنچائی۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میں اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچاؤں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے علی (رض) کو ایذاء پہنچائی۔ تحقیق اس نے مجھے ایذاء پہنچائی۔
(۳۲۷۷۱) حَدَّثَنَا مالک بن إسْمَاعِیلَ، قَالَ: حدَّثَنَا مَسْعُود بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نِیَارٍ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَدْ آذَیْتَنِی : قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أُحِبُّ أَنْ أُوذِیَکَ ، قَالَ : مَنْ آذَی عَلِیًّا فَقَدْ آذَانِی۔

(بزار ۲۵۶۱۔ احمد ۴۸۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٢) حضرت عبد الملک بن ابی سلیمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رض) میں کوئی شخص ایسا بھی تھا جو حضرت علی (رض) سے زیادہ علم والا ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! میں کسی کو نہیں جانتا۔
(۳۲۷۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : قلْت لِعَطَائٍ : کَانَ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَعْلَمَ مِنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لاَ ، وَاللَّہِ مَا أَعْلَمُہُ !۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٣) حضرت عمرو بن حبشی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی (رض) نے حضرت علی (رض) کی وفات کے بعد ہم سے خطاب فرمایا : تحقیق کل تم سے وہ شخص جدا ہوگیا کہ پہلے لوگ اس کے علم کو نہیں پا سکے اور نہ بعد والے پا سکے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو جھنڈا عطا کرتے تھے پھر وہ واپس نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتا۔
(۳۲۷۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُبْشِیٍّ ، قَالَ : خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بَعْدَ وَفَاۃِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لَقَدْ فَارَقَکُمْ رَجُلٌ بِالأَمْسِ لَمْ یَسْبِقْہُ الأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ ، وَلا یُدْرِکُہُ الآخِرُونَ ، کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِیہِ الرَّایَۃَ فَلا یَنْصَرِفُ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ۔ (احمد ۱۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے باغات میں تشریف لے گئے۔ پس ہم لوگ ایک باغ کے پاس سے گزرے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! یہ کتنا خوبصورت باغ ہے ؟ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی (رض) ! تیرا جو باغ جنت میں ہے وہ اس سے کئی درجہ زیادہ خوبصورت ہے۔ یہاں تک کہ سات باغوں کے پاس سے گزرے ہر جگہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! یہ باغ کتنا خوبصورت ہے ؟ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے جاتے : تیرا جو باغ جنت میں ہے وہ اس سے کئی درجہ خوبصورت ہے۔
(۳۲۷۷۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجْت أَنَا وَعَلِیٌّ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِی حوائط الْمَدِینَۃِ ، فَمَرَرْنَا بِحَدِیقَۃٍ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : مَا أَحْسَنَ ہَذِہِ الْحَدِیقَۃَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : حَدِیقَتُک فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِنْہَا یَا عَلِی ، حَتَّی مَرَّ بِسَبْعِ حَدَائِقَ ، کُلُّ ذَلِکَ یَقُولُ عَلِیٌّ : مَا أَحْسَنَ ہَذِہِ الْحَدِیقَۃَ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَیَقُولُ : حَدِیقَتُک فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِنْ ہَذِہِ۔ (طبرانی ۱۱۰۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٥) حضرت علیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اس امت میں سب سے پہلا شخص جو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وارد ہوگا۔ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں۔
(۳۲۷۷۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَیْسٌ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی صَادِقٍ ، عَنْ عُلَیْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : إنَّ أَوَّلَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ وُرُودًا عَلَی نَبِیِّہَا أَوَّلُہَا إسْلامًا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ۔
tahqiq

তাহকীক: