মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৭৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٦) حضرت ابو عبداللہ جدلی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے ابو عبداللہ ! تمہارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب و شتم کیا جاتا ہے پھر بھی تم لوگ غیرت نہیں کھاتے ؟ آپ (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : کون شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : حضرت علی (رض) اور ان سے محبت کرنے والوں کو سب و شتم کیا جاتا ہے۔ اور تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے محبت فرماتے تھے۔
(۳۲۷۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْجَدَلِیِّ ، قَالَ : قالَتْ لِی أُمُّ سَلَمَۃَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، أَیُسَبُّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیکُمْ ، ثُمَّ لاَ تُغَیِّرُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَنْ یَسُبُّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : یُسَبُّ عَلِیٌّ وَمَنْ یُحِبُّہُ ، وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّہُ۔ (احمد ۳۲۳۔ ابویعلی ۶۹۷۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٧) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مومن علی (رض) سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق علی (رض) سے محبت نہیں کرے گا۔
(۳۲۷۷۷) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْیَرِیِّ ، عَنْ أُمِّہِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لاَ یُبْغِضُ عَلِیًّا مُؤْمِنٌ ، وَلا یُحِبُّہُ مُنَافِقٌ۔
(احمد ۲۹۲۔ طبرانی ۸۸۵)
(احمد ۲۹۲۔ طبرانی ۸۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٨) حضرت عبداللہ بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک ہماری مثال اس امت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی سی ہے۔ اور بنی اسرائیل میں پائے جانے والے مغفرت کے دروازے کی سی ہے۔
(۳۲۷۷۸) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَمَّارٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إنَّمَا مَثَلُنَا فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ کَسَفِینَۃِ نُوحٍ وَکَبَابِ حِطَّۃٍ فِی بَنِی إسْرَائِیلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٧٩) حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی منافق ہم سے محبت نہیں کرے گا اور کوئی بھی مومن ہم سے بغض نہیں رکھے گا۔
(۳۲۷۷۹) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ قَرْمٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : لاَ یُحِبُّنَا مُنَافِقٌ ، وَلا یُبْغِضُنَا مُؤْمِنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٠) حضرت ابو عبیدہ بن حکم الازدی (رض) مرفوع حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے ارشاد فرمایا : عنقریب تو میرے بعد ایک جدوجہد کرے گا۔ آپ (رض) نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! یہ جدوجہد میرے دین کی سلامتی کے بارے میں ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! تیرے دین کی حفاظت کے بارے میں ہوگی۔
(۳۲۷۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْحَکَمِ الأَزْدِیِّ یَرْفَعُ حَدِیثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِیٍّ: إنک سَتَلْقَی بَعْدِی جَہْدًا، قَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ ، فِی سَلامَۃٍ من دِینِی، قَالَ : نَعَمْ ، فِی سَلامَۃٍ مِنْ دِینِک۔ (حاکم ۱۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨١) حضرت عدی بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت برائ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم لوگوں نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ پس ندا لگائی گئی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ اور ایک درخت کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ صاف کی گئی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اور پھر حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : کیا تم لوگوں کو علم نہیں کہ میں سب مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہوں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : کیوں نہیں ! راوی فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں پس علی بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست رکھے پس تو بھی اس کو دوست رکھ۔ اور جو اس سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی فرما۔ راوی فرماتے ہیں : اس کے بعد حضرت عمر (رض) ان سے ملے اور فرمایا : اے ابو طالب کے بیٹے ! تمہیں مبارک ہو۔ تم نے ہر مومن مرد اور مومن عورت کا دوست ہونے کی حالت میں صبح و شام کی۔
(۳۲۷۸۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا بِغَدِیرِ خُمٍّ ، قَالَ : فَنُودِیَ : الصَّلاۃُ جَامِعَۃٌ ، وَکُسِحَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَصَلَّی الظُّہْرَ فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ ، قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ ، قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ ، قَالَ : فَلَقِیَہُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : ہَنِیئًا لَکَ یَا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ ، أَصْبَحْت وَأَمْسَیْت مَوْلَی کُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَۃٍ۔ (نسائی ۸۴۷۳۔ احمد ۲۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٢) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو لشکر بھیجے جن میں سے ایک پر حضرت علی (رض) کو امیر بنایا اور دوسرے لشکر پر حضرت خالد بن ولید (رض) کو ، پھر ارشاد فرمایا : اگر لڑائی ہو تو اس صورت میں حضرت علی (رض) لوگوں پر امیر ہوں گے۔ پس حضرت علی (رض) نے قلعہ کو فتح کرلیا۔ اور ایک باندی کو اپنے لیے خاص کرلیا اس پر حضرت خالد (رض) نے خط لکھ کر اس بات کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خط پڑھا تو ارشاد فرمایا : تم کیا کہتے ہو ایسے شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب رکھتا ہے۔ اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو محبو ب رکھتے ہیں۔
(۳۲۷۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ أَبِی إِسْحَاق ، عن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَیْشَیْنِ عَلَی أَحَدِہِمَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، وَعَلَی الآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ قِتَالٌ فَعَلِیٌّ عَلَی النَّاسِ ، فَافْتَتَحَ عَلِیٌّ حِصْنًا فَاتَّخَذَ جَارِیَۃً لِنَفْسِہِ ، فَکَتَبَ خَالِدٌ بِسَوْأتہ ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکِتَابَ ، قَالَ : مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔ (ترمذی ۱۷۰۴۔ احمد ۳۵۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٣) حضرت عطیہ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ وہ بہت بوڑھے تھے اور ان کی پلکیں ان کی آنکھوں پر گری ہوئی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا : آپ (رض) ہمیں اس شخص یعنی حضرت علی (رض) بن ابی طالب (رض) کے متعلق بتلائیے ۔ پس آپ (رض) نے اپنے ہاتھ سے دونوں پلکوں کو اٹھایا پھر ارشاد فرمایا : : یہ تو خیر البشر ہیں۔
(۳۲۷۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ وَقَدْ سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلَی عَیْنَیْہِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَخْبِرْنَا عَنْ ہَذَا الرَّجُلِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : فَرَفَعَ حَاجِبَیْہِ بِیَدَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : ذَاکَ مِنْ خَیْرِ الْبَشَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٤) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور حضرت علی (رض) کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ پس حضرت علی (رض) نے کچھ ایسا کام کیا جس کو لوگوں نے ناپسند کیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چار لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اس بات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کریں گے۔ اور یہ لوگ جب سفر سے واپس آگئے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلانے کا ارادہ کیا۔ پس انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھا پھر لوگ اپنے کجاو وں کی طرف پلٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ جب سارے لشکروا لے آگئے ۔ اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلام کرلیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! آپ کی کیا رائے ہے علی (رض) کے بارے میں کہ انھوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ علی (رض) سے کیا چاہتے ہو ؟ ! تم لوگ علی (رض) سے کیا چاہتے ہو ؟ ! علی مجھ سے ہیں اور میں علی (رض) سے ہوں اور علی میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں۔
(۳۲۷۸۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَزِیدُ الرِّشْکُ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَلِیًّا ، فَصَنَعَ عَلِیٌّ شَیْئًا أَنْکَرُوہُ ، فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یذکروا أمرہم لرسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانُوا إذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَؤُوا بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَیْہِ وَنَظَرُوا إلَیْہِ ، ثُمَّ یَنْصَرِفُونَ إِلَی رِحَالِہِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِیَّۃُ سَلَّمُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَۃِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِیًّا صَنَعَ کَذَا وَکَذَا ، فَأَقْبَلَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْرَفُ الْغَضَبُ فِی وَجْہِہِ ، فَقَالَ : مَا تُرِیدُونَ مِنْ عَلِیٍّ ، مَا تُرِیدُونَ مِنْ عَلِیٍّ ، عَلِیٌّ مِنِّی وَأَنَا مِنْ عَلِی ، وَعَلِیٌّ وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِی۔ (ابوداؤد ۸۲۹۔ احمد ۴۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٥) حضرت ابوبکر بن خالد بن عُرْفطہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک (رض) کے پاس مدینہ میں آیا ، تو انھوں نے کہا : مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ تم لوگ حضرت علی (رض) کو گالیاں دیتے ہو ؟ آپ (رض) نے کہا : جی ہاں ! آپ (رض) نے پوچھا : شاید کہ تم بھی ان کو گالیاں دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کی پناہ ! آپ (رض) نے فرمایا : تم کبھی ان کو گالی مت دینا۔ پس اگر میرے سر کے درمیان میں آرا رکھ دیا جائے کہ میں حضرت علی (رض) کو گالی دوں ! میں کبھی بھی ان کو گالی نہیں دوں گا اس حدیث کے سننے کے بعد جو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن چکا ہوں۔
(۳۲۷۸۵) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَقِیقُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ، قَالَ : أَتَیْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ بِالْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ : ذُکِرَ لِی أَنَّکُمْ تَسُبُّونَ عَلِیًّا ، قَالَ : قَدْ فَعَلْنَا ، قَالَ : فَلَعَلَّک قَدْ سَبَبْتہ ، قَالَ : قُلْتُ : مَعَاذَ اللہِ ، قَالَ : فَلا تَسُبَّہُ ، فَلَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَی مَفْرِقِی ، عَلَی أَنْ أَسُبَّ عَلِیًّا ، مَا سَبَبْتہ أَبَدًا ، بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعْتُ۔ (ابویعلی ۷۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٦) حضرت میمونہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب جدائی کا وقت تھا تو میمونہ بنت حارث سے کہا گیا : اے ام المؤمنین ! آپ علی بن ابی طالب (رض) کو لازم پکڑ لو۔ اللہ کی قسم نہ وہ گمراہ ہیں اور نہ ان کی وجہ سے کوئی گمراہ ہوا۔
(۳۲۷۸۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَمَّنْ حدثہ عن مَیْمُونَۃَ ، قَالَت : لَمَّا کَانَتِ الْفُرْقَۃُ قِیلَ لِمَیْمُونَۃَ ابْنَۃِ الْحَارِثِ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَتْ : عَلَیْکُمْ بِابْنِ أَبِی طَالِبٍ فَوَاللہِ مَا ضَلَّ ، وَلا ضُلَّ بِہِ۔ (طبرانی ۱۲۔ حاکم ۱۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٧) حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ امام شعبی (رض) نے ارشاد فرمایا : قرآن کی یہ آیت { أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) کے بارے میں نازل ہوئی۔
(۳۲۷۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : {أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} قَالَ: نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ وَالْعَبَّاسِ۔ (عبدالرزاق ۲۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٨) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : ایک آیت ایسی ہے کہ نہ مجھ سے پہلے اس پر کسی نے عمل کیا اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس پر عمل کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کو دس دراہم کے عوض بیچ دیا پس جب بھی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی سرگوشی کرتا تو میں ایک درہم صدقہ کردیتا یہاں تک کہ وہ دراہم ختم ہوگئے۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔
(۳۲۷۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إِنَّہُ لَمْ یَعْمَلْ بِہَا أَحَدٌ قَبْلِی ، وَلا یَعْمَلُ بِہَا أَحَدٌ بَعْدِی ، کَانَ لِی دِینَارٌ فَبِعْتہ بِعَشْرَۃِ دَرَاہِمَ ، فَکُنْت إذَا نَاجَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْت بِدِرْہَمٍ حَتَّی نَفِدَتْ ، ثُمَّ تَلا ہَذِہِ الآیَۃَ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً}۔ (ابن جریر ۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٨٩) حضرت علی بن علقمہ انماری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت اتری ! اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ایک دینار میں کافی ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اتنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کتنا ہونا چاہیے ؟ میں نے عرض کیا تھوڑے سے جَو مقرر کردیے جائیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً یہ تو بہت ہی کم ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں۔ اتنے میں دوسری آیت اتری گئی : ترجمہ : کیا تم لوگ ڈر گئے اس بات سے کہ پیش کرو اپنی علیحدگی کی گفتگو سے پہلے صدقات ؟ الایۃ۔ آپ (رض) نے فرمایا : پس میری وجہ سے اللہ نے اس امت پر آسانی فرما دی۔
(۳۲۷۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، قَالَ: حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سعید ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلْقَمَۃَ الأَنْمَارِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً} ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَی دِینَار ، قُلْتُ : لاَ یُطِیقُونَہُ ، قَالَ : فَکَمْ قُلْت : شَعِیرَۃٌ ، قَالَ: إنَّک لَزَہِیدٌ، قَالَ: فَنَزَلَتْ : {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ} الآیَۃَ ، قَالَ : فبی خَفَّفَ اللَّہُ عَنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ۔
(ترمذی ۳۳۰۰۔ ابن حبان ۶۹۴۲)
(ترمذی ۳۳۰۰۔ ابن حبان ۶۹۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩٠) حضرت ابو ہارون (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک نافع بن ازرق آیا، اور آپ (رض) کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ اللہ کی قسم ! میں علی (رض) سے بغض رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنا سر اٹھا کر ارشاد فرمایا : اللہ بھی تجھ سے بغض رکھے اس لیے کہ تو ایسے شخص سے بغض رکھتا ہے جو سبقت لے جانے والا ہے۔ اور دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
(۳۲۷۹۰) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَارُونَ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ جَالِسًا إذْ جَائَہُ نَافِعُ بْنُ الأَزْرَقِ فَقَامَ عَلَی رَأْسِہِ ، فَقَالَ : وَاللہِ إنِّی لأَبْغَضُ عَلِیًّا ، قَالَ : فَرَفَعَ إلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : أَبْغَضَک اللَّہُ ، تُبْغِضُ رَجُلاً سَابِقَۃٌ مِنْ سَوَابِقِہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩١) حضرت ابو الطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رض) میں سے ایک نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت علی (رض) میں اتنے بہترین اوصاف جمع ہیں کہ ان میں سے اگر ایک وصف کو بھی لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ خیر کے اعتبار سے بہت زیادہ وسیع ہو۔
(۳۲۷۹۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقَدْ جَائَ فِی عَلِیٍّ مِنَ الْمَنَاقِبِ مَا لَوْ أَنَّ مَنْقَبًا مِنْہَا قُسِمَ بَیْنَ النَّاسِ لأوْسَعَہُمْ خَیْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩٢) حضرت معاویہ بن قرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت حسن (رض) بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت حسن (رض) نے حضرت علی (رض) کا ذکر فرمایا : اور فرمایا : آپ (رض) لوگوں میں سب سے زیادہ سیدھے راستے والے اور لوگوں کے دین کو سیدھا فرمانے والے تھے جب اس میں ٹیڑھ پن پیدا ہوجاتا ۔
(۳۲۷۹۲) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَالْحَسَنُ جَالِسَیْنِ نَتَحَدَّثُ ، إذْ ذَکَرَ الْحَسَنُ عَلِیًّا ، فَقَالَ : أَرَاہُمَ السَّبِیلَ ، وَأَقَامَ لَہُمَ الدِّینَ إِذْ اعْوَجَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩٣) حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : علی (رض) جنت میں ہیں۔
(۳۲۷۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَیَّاحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : عَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ۔ (ابوداؤد ۴۶۱۷۔ احمد ۱۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩٤) حضرت ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نکاح ایسے شخص سے کردیا جو کمزور پنڈلیوں والا، بڑے پیٹ والا اور کمزور نگاہ کا حامل ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کیا ہے جو میری امت میں سب سے زیادہ صلح کو مقدم رکھنے والا اور سب سے عظیم بردبار اور سب سے زیادہ علم والا ہے۔
(۳۲۷۹۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : قالَتْ فَاطِمَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، زَوَّجْتَنِی حَمْشَ السَّاقَیْنِ عَظِیمَ الْبَطْنِ أَعْمَشَ الْعَیْنِ، قَالَ: زَوَّجْتُک أَقْدَمَ أُمَّتِی سِلْمًا، وَأَعْظَمَہُمْ حِلْمًا، وَأَکْثَرَہُمْ عِلْمًا۔
(عبدالرزاق ۹۷۸۳)
(عبدالرزاق ۹۷۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان
(٣٢٧٩٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت بریدہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں حضرت علی (رض) کے ساتھ یمن لڑنے کے لیے گیا۔ تو میں نے ان میں کچھ زیادتی دیکھی۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو میں نے حضرت علی (رض) کا ذکر کیا اور ان کا نقص بیان کیا : اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ مقدم نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول 5! ضرور ۔ آپ نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی (رض) بھی اس کا دوست ہے۔
(۳۲۷۹۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُرَیْدَۃَ، قَالَ : غزوت مَعَ عَلِیٍّ إِلَی الْیَمَنِ فَرَأَیْتُ مِنْہُ جَفْوَۃً ، فَلَمَّا قَدِمْت عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَکَرْت عَلِیًّا فَتنَقَّصْتُہُ ، فَجَعَلَ وَجْہُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ، فَقَالَ: أَلَسْت أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ ، قُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ۔ (احمد ۳۴۷۔ حاکم ۱۱۰)
তাহকীক: