মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯০০ টি
হাদীস নং: ৩২৮৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو مجھے حضرت زبیر بن العوّام کی فضیلت میں حفظ ہیں
(٣٢٨٣٦) حضرت سعد بن ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اور حضرت عمرو بن العاص (رض) دونوں حضرات حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی قبر پر تشریف لائے، ان دونوں میں سے ایک نے ایسے ان کا ذکر فرمایا : ابن عوف چلے گئے ۔ پس تحقیق تم نے اپنی سچائی کو پا لیا۔ اور تم جھوٹ اور گدلے پن پر غالب آگئے ۔ اور دوسرے نے یوں فرمایا : ابن عوف (رض) چلے گئے۔ تحقیق تم اپنے نامہ اعمال کو ایسے لے گئے کہ تم نے اس کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی۔
(۳۲۸۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ أَنَّ عَلِیًّا وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَتَیَا قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَذَکَرَ أَنَّ أَحَدَہُمَا قَالَ : اذْہَبَ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ أَدْرَکْت صَفْوَہَا وَسَبَقْت رَنْقَہَا ، وَقَالَ الآخَرُ : اذْہَبَ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ ذَہَبْت بِبَطِنَتِکَ لَمْ تَتَغَضْغَضْ مِنْہَا شَیْئًا۔ (احمد ۱۲۵۵۔ حاکم ۳۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو مجھے حضرت زبیر بن العوّام کی فضیلت میں حفظ ہیں
(٣٢٨٣٧) حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمرو بن عاص (رض) نے فرمایا ” ابن عوف چلے گئے اور انھوں نے اپنے اجر کو حکومت یا امارت سے کم نہیں کیا۔ “
(۳۲۸۳۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ قَالَ : اذْہَبَ ابْنُ عَوْفٍ بِبطْنَتَکَ لَمْ تَتَغَضْغَضْ مِنْہَا شَیئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٣٨) حضرت زر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین (رض) رسول اللہ کی کمر مبارک پر کھیل رہے ہوتے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے۔ پس لوگ ان دونوں کو ہٹانے لگتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : ان کو چھوڑ دو ۔ ان دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔
(۳۲۸۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ یَثِبَانِ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَجَعَلَ النَّاسُ یُنَحُّونَہُمَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعُوہُمَا بِأَبِی ہُمَا وَأُمِّی ، مَنْ أَحَبَّنِی فَلْیُحِبَّ ہَذَیْنِ۔ (ابن حبان ۶۹۷۰۔ طبرانی ۲۶۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی : اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ یعنی حسن (رض) اور حسین (رض) سے۔
(۳۲۸۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ، یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُمَّ إنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا ، یَعْنِی حَسَنًا وَحُسَیْنًا۔ (احمد ۵۳۱۔ ابویعلی ۶۱۸۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٠) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حسن (رض) اور حسین (رض) جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
(۳۲۸۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ ، یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔ (ترمذی ۳۷۶۸۔ احمد ۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤١) حضرت زرّ بن حبیش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پس میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لے گئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک فرشتہ میرے سامنے پیش ہوا اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی تھی کہ وہ مجھ پر درود وسلام بھیجے اور اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
(۳۲۸۴۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ مَیْسَرَۃَ النَّہْدِیِّ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّیْت مَعَہُ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی حَتَّی صَلَّی الْعِشَائَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُہُ ، فَقَالَ : مَلَکٌ عَرَضَ لِی اسْتَأْذَنَ رَبَّہُ أَنْ یُسَلِّمَ عَلَیَّ وَیُبَشِّرَنِی أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علی (رض) کو بلند کر کے فرمایا : بیشک میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائیں گے۔
(۳۲۸۴۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ مَعَہُ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّد ، وَلَعَلَّ اللَّہَ سَیُصْلِحُ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
(بخاری ۲۷۰۴)
(بخاری ۲۷۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حسن (رض) اور حسین (رض) دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
(۳۲۸۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔ (طبرانی ۲۵۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٤) حضرت یعلی العامری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) دونوں دوڑتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور فرمایا : اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔
(۳۲۸۴۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ، عَنْ یَعْلَی الْعَامِرِیِّ ؛ أَنَّہُ جَائَ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ یَسْعَیَانِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَمَّہُمَا إلَیْہِ ، وَقَالَ : إنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ۔ (ابن ماجہ ۳۶۶۔ احمد ۱۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٥) حضرت زید بن ارقم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) ، حضرت علی (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) سے ارشاد فرمایا : تمہاری جس کے ساتھ لڑائی اور جنگ میری بھی اس سے جنگ ہے، اور تمہاری جس کے ساتھ صلح تو میری بھی اس سے صلح ہے۔
(۳۲۸۴۵) حَدَّثَنَا مالک بن إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ صُبَیْحٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَۃَ ، وعَلِیٍّ ، وَحَسَنٍ ، وَحُسَیْنٍ : أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَکُمْ۔ (ابن ماجہ ۱۴۵۔ ابن حبان ۶۹۷۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٦) حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی حاجت کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف تشریف لائے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ اٹھایا ہوا تھا مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا ہے ؟ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا ! تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے جس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اٹھایا ہوا ہے ؟ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر ہٹائی تو وہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران پر تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میرے نواسے ہیں۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔ پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
(۳۲۸۴۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ الزَّمْعِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْمُہَاجِرِ، قَالَ: أَخْبَرَنِی مُسْلِمُ بْنُ أَبِی سَہْلٍ النَّبَّالُ، قَالَ: أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی أُسَامَۃُ ، قَالَ: طَرَقْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ لِبَعْضِ الْحَاجَۃِ ، قَالَ: فَخَرَجَ إلَیَّ وَہُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَی شَیْئٍ لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ، فَلَمَّا فَرَغْت مِنْ حَاجَتِی قُلْتُ: مَا ہَذَا الَّذِی أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَیْہِ، فَکَشَفَ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ عَلَی وَرِکَیْہِ ، فَقَالَ: ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی ، اللَّہُمَّ إنَّک تَعْلَمُ أَنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا۔
(ترمذی ۳۷۶۹۔ ابن حبان ۶۹۶۷)
(ترمذی ۳۷۶۹۔ ابن حبان ۶۹۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٧) حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور حضرت حسن (رض) کو پکڑ کر یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
(۳۲۸۴۷) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْخُذُنِی وَالْحَسَنَ فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا۔ (بخاری ۳۷۳۵۔ طبرانی ۲۶۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٨) حضرت مغیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران سے مباھلہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چل رہی تھیں۔
(۳۲۸۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُلاَعِنَ أَہْلَ نَجْرَانَ أَخَذَ بِیَدِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ تَمْشِی خَلْفَہُ۔ (حاکم ۵۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٤٩) حضرت سالم (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے ان دو بیٹوں کا نام شَبِّرْ اور شبیر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے ناموں پر رکھا ہے۔
(۳۲۸۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی سَمَّیْتُ ابْنَیَّ ہَذَیْنِ بِاسْمِ ابْنَیْ ہَارُونَ : شَبِّرٌ ، وَشَبِّیرًا۔ (حاکم ۱۶۸۔ طبرانی ۲۷۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٠) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) کے رونے کی آواز سنی ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔ پھر ارشاد فرمایا : بیشک اولاد بھی فتنہ ہے تحقیق میں ان کے لیے کھڑا ہوا اور مجھے سمجھ بھی نہیں آئی۔
(۳۲۸۵۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بُکَائَ الْحَسَنِ ، أَوِ الْحُسَیْنِ فَقَامَ فَزِعًا ، فَقَالَ : إنَّ الْوَلَدَ لَفِتْنَۃٌ ، لَقَدْ قُمْت إلَیْہِ ، وَمَا أَعْقِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥١) حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور حضرت حسن (رض) کو پکڑ کر یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
(۳۲۸۵۱) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْخُذُنِی وَالْحَسَنَ فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٢) حضرت زہیر بن اقمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی (رض) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک شخص بہت لمبے قد والا تھا کھڑا ہو کر کہنے لگا : تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اس شخص کی کوکھ میں رکھ کر ارشاد فرما رہے تھے : جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے پس چاہیے کہ وہ اس سے محبت کرے اور چاہیے کہ حاضر شخص اس بات کو غائب شخص تک پہنچا دے۔
(۳۲۸۵۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ الأَقْمَرِ ، قَالَ : بَیْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ یَخْطُبُ إذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَسْدِ آدَم طِوَالٌ ، فَقَالَ : لقد رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاضِعَہُ فِی حبوتہ یَقُولُ : مَنْ أَحَبَّنِی فَلْیُحِبَّہُ ، فَلْیُبَلِّغَ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔ (بخاری ۳۱۲۔ احمد ۳۶۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٣) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) سامنے سے تشریف لائے اس حال میں کہ ان دونوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں چلتے پھر ٹھوکر کھا کر گرجاتے پھر کھڑے ہوتے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے اترے اور ان دونوں کو پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ ارشاد فرمایا : یقیناً تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں۔ میں نے ان دو ونوں کو دیکھا پس مجھ سے صبر نہیں ہوا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ شروع فرما دیا۔
(۳۲۸۵۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُنَا فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ وَیَقُومَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَہُمَا فَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ : (إنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلادُکُمْ فِتْنَۃٌ) رَأَیْت ہَذَیْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ، ثُمَّ أَخَذَ فِی خُطْبَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٤) حضرت ابن ابی نعیم (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے مچھر کے خون سے متعلق سوال کیا۔ تو حضرت ابن عمر (رض) نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کہاں کے ہو ؟ اس نے کہا : کہ میں اہل عراق میں سے ہوں۔ اس پر حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : اوہ ! لوگو اس کی طرف دیکھو یہ ایک مچھر کے خون کے متعلق مجھ سے سوال کررہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے کو قتل کردیا ! اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ : وہ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔
(۳۲۸۵۴) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ؟ فقال لہ ابن عمر : ممن أنت ؟ فقال : رجل مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : ہَا انْظُرُوا ہَذَا یَسْأَلُنِی عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَہُمْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : ہُمَا رَیْحَانَتِی مِنَ الدُّنْیَا۔ (بخاری ۵۹۹۴۔ احمد ۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٥) حضرت عبداللہ بن شداد (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت شداد (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے لیے بلایا گیا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حال میں تشریف لائے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو اٹھایا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا ہوا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کی پیٹھوں کے درمیان اپنی نماز کا سجدہ ادا کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا ۔ میرے والد نے کہا : کہ میں نے تمام لوگوں کے درمیان سے سر اٹھایا۔ تو دیکھا ایک بچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے دوبارہ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نماز میں ایسا سجدہ کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی زندگی بھر نہیں کیا۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی وحی کی جار ہی تھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ تو میں نے ناپسند کیا کہ میں جلدی سے اٹھ جاؤں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔
(۳۲۸۵۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دُعِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلاۃٍ ، فَخَرَجَ وَہُوَ حَامِلٌ حَسَنًا ، أَوْ حُسَیْنًا فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِہِ فَسَجَدَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ صَلاتِہِ سَجْدَۃً أَطَالَ فِیہَا ، قَالَ أَبِی : فَرَفَعْت رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَإِذَا الْغُلامُ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعَدْت رَأْسِی فَسَجَدْت ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہُ الْقَوْمُ : یَا رَسُولَ اللہِ لَقَدْ سَجَدْت فِی صَلاتِکَ ہَذِہِ سَجْدَۃً مَا کُنْت تَسْجُدُہَا ، أَفَکَانَ یُوحَی إلَیْک ؟ قَالَ : لاَ وَلَکِنَّ ابْنِی ارْتَحَلَنِی فَکَرِہْت أَنْ أُعَجِّلَہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہُ۔ (احمد ۴۹۳۔ حاکم ۶۲۶)
তাহকীক: