মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯০০ টি

হাদীস নং: ৩২৮৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٦) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن بن علی (رض) کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ اور فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ شعبہ (رض) کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عدی (رض) سے پوچھا : حضرت حسن (رض) سے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں !
(۳۲۸۵۶) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَمَلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ عَلَی عَاتِقِہِ ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ إنِّی أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ ، قَالَ شُعْبَۃُ : فَقُلْتُ لِعَدِیٍّ : حَسَنٌ، قَالَ : نَعَمْ۔ (بخاری ۳۷۴۹۔ احمد ۲۸۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٧) حضرت ابو مزَرَّد مدینی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا۔ اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) کا ہاتھ پکڑا ہو اتھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے۔ آنکھ کی طرح پتلا ہوجا ۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ پس بچے نے اپنا پاؤں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں پر رکھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اٹھا کر اپنے سینہ پر بٹھا لیا۔ اور پھر ارشاد فرمایا : اپنا منہ کھولو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔
(۳۲۸۵۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی مُزَرِّدٍ الْمَدِینِیُّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : بَصُرَ عَیْنَایَ ہَاتَانِ وَسَمِعَ أُذُنَایَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِ حَسَنٍ ، أَوْ حُسَیْنٍ وَہُوَ یَقُولُ : تَرَقَّ عَیْنَ بَقَّۃٍ ، قَالَ : فَیَضَعُ الْغُلامُ قَدَمَہُ عَلَی قَدَمِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ یَرْفَعُہُ فَیَضَعُہُ عَلَی صَدْرِہِ ، ثُمَّ یَقُولُ: افْتَحْ فَاک ، قَالَ: ثُمَّ یُقَبِّلُہُ ، ثُمَّ یَقُولُ: اللَّہُمَّ إنِّی أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ۔ (بخاری ۲۴۹۔ طبرانی ۲۶۵۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٨) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) نے ایک دوسرے کو پچھاڑا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسین (رض) جلدی کرو۔ حضرت فاطمہ (رض) نے پوچھا : کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ جبرائیل (علیہ السلام) کہہ رہے تھے۔ حسین (رض) جلدی کرو۔
(۳۲۸۵۸) حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : اصْطَرَعَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہی حُسَیْنٌ ، فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ : کَأَنَّہُ أَحَبُّ إلَیْک ؟ قَالَ : لاَ وَلَکِنَّ جِبْرِیلَ یَقُولُ : ہی حُسَیْنٌ۔ (ابن عدی ۱۶۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٥٩) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو اٹھائے ہوئے انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس پر گزرے۔ تو وہ لوگ کہنے لگے ۔ کتنی اچھی سواری ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں۔
(۳۲۸۵۹) حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَہُوَ حَامِلُہُمَا عَلَی مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ نَعِمَتِ الْمَطِیَّۃُ ، قَالَ : وَنِعْمَ الرَّاکِبَانِ۔ (طبرانی ۳۹۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٠) حضرت یعلی یعمری (رض) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانے کی دعوت میں جانے کے لیے نکلے ، تو راستہ میں حضرت حسین (رض) بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو بچہ نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنستے رہے۔ پھر یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پکڑا اور اپنا ایک ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھا اور اپنا دوسرا ہاتھ ان کی گدی کے نیچے رکھا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر نیچے جھکا کر اپنے منہ کو ان کے منہ پر رکھ کر ان کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا : حسین مجھ سے ہے اور میں حسین (رض) سے ہوں۔ اور حسین (رض) تمام نواسوں میں سب سے بہتر نواسے ہیں۔
(۳۲۸۶۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ ، عَنْ یَعْلَی الْعَامِرِیِّ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلَی طَعَامٍ دَعُوا لَہُ ، فَإِذَا حُسَیْنٌ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِی الطَّرِیقِ فاستمثل أَمَامَ الْقَوْمِ ، ثُمَّ بَسَطَ یَدَہُ وَطَفِقَ الصَّبِیُّ یَفِرُّ ہَاہُنَا مَرَّۃً وَہَاہُنَا ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُضَاحِکُہُ حَتَّی أَخَذَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ إحْدَی یَدَیْہِ تَحْتَ ذَقْنِہِ وَالأُخْرَی تَحْتَ قَفَاہُ ، ثُمَّ أَقْنَعَ رَأْسَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ فَاہُ عَلَی فِیہِ فَقَبَّلَہُ ، فَقَالَ : حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ ، أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا ، حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ۔

(ترمذی ۳۷۷۵۔ ابن حبان ۸۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر (رض) کی بیوی کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ حضرت جعفر (رض) کے بیٹوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج دیں۔ پس ان بچوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! یقیناً جعفر تیرے پاس آگیا اچھے ثواب کی طرف۔ پس تو اس کی اولاد میں سب سے بہتر شخص کو جانشین بنا۔ جیسے تو نے اپنے نیک بندوں میں سے ایک بندے کو جانشین بنایا۔
(۳۲۸۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أُخْبِرْت أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی امْرَأَۃِ جَعْفَرٍ أَنِ ابْعَثِی إلَیَّ بَنِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَأُتِیَ بِہِمْ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ جَعْفَرًا قَدْ قَدِمَ إلَیْک إِلَی أَحْسَنِ الثَّوَابِ فَاخْلُفْہُ فِی ذُرِّیَّتِہِ بِخَیْرِ مَا خَلَفْت عَبْدًا مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ۔(احمد ۱۶۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٢) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر (رض) حبشہ سے آئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے ملے اور ان سے فرمایا : ہم لوگ ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ تو وہ کہنے لگیں۔ میں واپس نہیں لوٹوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آؤں۔ پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میں عمر (رض) سے ملی تو انھوں نے کہا : کہ یقیناً وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور بیشک وہ ہم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ! اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی۔

حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعید بن ابی بردہ (رض) نے بیان فرمایا : اس دن حضرت اسمائ (رض) نے حضرت سے یوں فرمایا : ایسی بات نہیں۔ ہم لوگ تو دشمنوں اور نسب سے دور لوگوں کی زمین میں تھے ۔ اور تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ جو تمہارے جاہلوں کو نصیحت فرما دیتے اور تم میں سے بھوکوں کو کھانا کھلا دیتے۔
(۳۲۸۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشِ لَقِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ ، فَقَالَ لَہَا : سَبَقْنَاکُمْ بِالْہِجْرَۃِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْکُمْ ، فَقَالَتْ : لاَ أَرْجِعُ حَتَّی آتِیَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَقِیت عُمَرَ فَزَعَمَ أَنَّہُ أَفْضَلُ مِنَّا وَأَنَّہُمْ سَبَقُونَا بِالْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ : نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَنْتُمْ ہَاجَرْتُمْ مَرَّتَیْنِ قَالَ إسْمَاعِیلُ : فَحَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَتْ یَوْمَئِذٍ لِعُمَرَ : مَا ہُوَ کَذَلِکَ ، کُنَّا مُطَرَّدِینَ بِأَرْضِ الْبُغَضَائِ وَالْبُعَدَائِ وَأَنْتُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعِظُ جَاہِلَکُمْ وَیُطْعِمُ جَائِعَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٣) حضرت ابو میسرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر (رض) ، حضرت زید اور حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے شہید ہونے کی خبر ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ذکر فرمایا : پھر یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔ تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! جعفر کی مغفرت فرما اور عبداللہ بن رواحہ کی بھی۔
(۳۲۸۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَیْسَرَۃَ أَنَّہُ لَمَّا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتْلُ جَعْفَرٍ وَزَیْدٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ذَکَرَ أَمْرَہُمْ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِزَیْدٍ ثَلاثًا ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِجَعْفَرٍ وَلِعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٤) حضرت سالم بن ابی الجعد (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تینوں خواب میں دکھلائے گئے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر کو دو پروں والے فرشتہ کی صورت میں دیکھا جو خون میں لت پت تھے۔ اور زید ان کے سامنے تخت پر تھے اور ابن رواحہ (رض) بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ گویا کہ وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے۔
(۳۲۸۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا قُطْبَۃُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، قَالَ : أُرِیَہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ فرَأَی جَعْفَرًا مَلَکًا ذَا جَنَاحَیْنِ مُضَرَّجًا بِالدِّمَائِ ، وَزَیْدًا مُقَابِلُہُ عَلَی السَّرِیرِ ، وَابْنَ رَوَاحَۃَ جَالِسًا مَعَہُمْ کَأَنَّہُمْ مُعْرِضُونَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر (رض) سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
(۳۲۸۶۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ یَرِیمَ ، وہَانِئٍ ، عَنْ علِیٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَہْت خَلْقِی وَخُلُقِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر (رض) سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
(۳۲۸۶۶) حَدَّثَنَا عَبْد اللہ بن نُمَیْر ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَہْت خَلْقِی وَخُلُقِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٧) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر (رض) سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
(۳۲۸۶۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَہْت خَلْقِی وَخُلُقِی۔ (بخاری ۲۶۹۹۔ ترمذی ۳۷۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٨) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اے جعفر ! تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
(۳۲۸۶۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَمَّا أَنْتَ یا جَعْفَر فَأَشْبَہْت خَلْقِی وَخُلُقِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٦٩) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ موتہ کے دن بلقاء مقام پر حضرت جعفر (رض) کو قتل کردیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی : اے اللہ ! تو جعفر کے اہل خانہ میں اس شخص کو جانشین بنا جس کو تو نے اپنے نیک بندوں میں سے جانشین بنایا ہو۔
(۳۲۸۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ قُتِلَ یَوْمَ مُؤْتَۃَ بِالْبَلْقَائِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی أَہْلِہِ بِأَفْضَلِ مَا خَلَفْت عَبْدًا مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٧٠) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو کسی نے آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر (رض) کے نجاشی کے پاس سے آنے کی خبر سنائی اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ان دونوں میں سے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ جعفر (رض) کے آنے کی یا خیبر کے فتح ہونے کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے ملے اور ان کو اپنے سے چمٹا لیا پھر دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ان کا بوسہ لیا۔
(۳۲۸۷۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ خَیْبَرَ فَقِیلَ لَہُ : قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِی بِأَیِّہِمَا أَنَا أَفْرَحُ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ، أَوْ بِفَتْحِ خَیْبَرَ ، ثُمَّ تَلَقَّاہُ وَالْتَزَمَہُ وَقَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
(٣٢٨٧١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے شادی کرلی، تو حضرت اسماء کے بیٹے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ ان ددنوں میں سے ایک نے کہا : میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے افضل ہے اس پر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ اتنے میں حضرت اسمائ (رض) نے فرمایا : میں نے عرب کا کوئی جوان جعفر (رض) سے بہتر نہیں دیکھا۔ اور میں نے کوئی بوڑھا ابوبکر (رض) سے بہتر نہیں دیکھا۔ تو حضرت علی (رض) نے ان سے کہا : تو نے ہمارے لیے کوئی بات ہی نہیں چھوڑی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب دیتی تو میں تم سے بہت سخت ناراض ہوتا۔ حضرت اسمائ (رض) نے فرمایا : اور تم ان تینوں میں سب سے کم بہتر ہو۔
(۳۲۸۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ أَنَّ عَلِیًّا تَزَوَّجَ أَسْمَائَ ابْنَۃَ عُمَیْسٍ فَتَفَاخَرَ ابْنَاہَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ : کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا : أَنَا أَکْرَمُ مِنْک ، وَأَبِی خَیْرٌ مِنْ أَبِیک ، فَقَالَ لَہَا عَلِیٌّ : اقْضِی بَیْنَہُمَا ، فَقَالَتْ : مَا رَأَیْت شَابًّا مِنَ الْعَرَبِ خَیْرًا مِنْ جَعْفَرٍ ، وَمَا رَأَیْت کَہْلاً کَانَ خَیْرًا مِنْ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہَا عَلِیٌّ : مَا تَرَکْت لَنَا شَیْئًا وَلَوْ قُلْت غَیْرَ ہَذَا لَمَقَتُّک ، فَقَالَتْ : وَاللہِ إنَّ ثَلاثَۃً أَنْتَ أَخَسُّہُمْ لَخِیَارٌ۔ (ابن سعد ۲۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ بن عبد المطلب اسد اللہ کے فضائل کا بیان
(٣٢٨٧٢) حضرت ابن عون (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمیر بن اسحاق (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت حمزہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے دو تلواروں سے لڑا کرتے تھے اور فرماتے جاتے ! میں اللہ کا شیر ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شیر ہوں۔
(۳۲۸۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ حَمْزَۃَ کَانَ یُقَاتِلُ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَیْفَیْنِ وَیَقُولُ : أَنَا أَسَدُ اللہِ وَأَسَدُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (حاکم ۱۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ بن عبد المطلب اسد اللہ کے فضائل کا بیان
(٣٢٨٧٣) حضرت زکریا (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عامر (رض) نے ارشاد فرمایا : غزوہ احد کے دن حضرت حمزہ (رض) کو شہید کردیا گیا۔ اور حضرت حنظلہ بن راھب (رض) کو بھی شہید کردیا گیا جن کو فرشتوں نے غسل دے کر پاک کیا۔
(۳۲۸۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قتِلَ حَمْزَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ وَقُتِلَ حَنْظَلَۃُ بْنُ الرَّاہِبِ الَّذِی طَہَّرَتْہُ الْمَلائِکَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ۔ (بیہقی ۱۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ بن عبد المطلب اسد اللہ کے فضائل کا بیان
(٣٢٨٧٤) حضرت سالم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور حضرت مصعب بن عمیر (رض) غزوہ احد کے دن شہید ہوگئے اور انھوں نے جو ثواب و انعام دیکھنا تھا دیکھ لیا تو کہنے لگے۔ کاش ہمارے بھائی بھی اس کے بارے میں جان لیتے جو ہمیں ثواب و انعام ملا ہے تاکہ ان کے شوق میں مزید اضافہ ہوتا۔ تو اللہ رب العزت نے فرمایا : میں تمہاری طرف سے یہ پیغام ان کو پہنچاؤں گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ! ترجمہ : اور تم ہرگز گمان مت کرو ان لوگوں کو مردہ جو اللہ کے راستہ میں قتل کردیے گئے بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔ اللہ کے اس قول تک ۔۔۔ اور یقیناً اللہ مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
(۳۲۸۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لَمَّا أُصِیبَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ یَوْمَ أُحُدٍ وَرَأَوْا مِنَ الْخَیْرِ مَا رَأَوْا ، قَالُوا : یَا لَیْتَ إخْوَانَنَا یَعْلَمُونَ مَا أَصَبْنَا مِنَ الْخَیْرِ کَیْ یَزْدَادُوا رَغْبَۃً ، فَقَالَ اللَّہُ : أَنَا أُبَلِّغُ عَنْکُمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ} إِلَی قَوْلِہِ {وَأَنَّ اللَّہَ لاَ یُضِیعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِینَ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس (رض) کے بارے میں منقول ہیں
(٣٢٨٧٥) حضرت عبد المطب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کس نے آپ (رض) کو غصہ دلایا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑے خوشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ آگیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رَگ پھڑکنے لگی۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ ہوتے تو یہ رگ پھڑکتی تھی۔ پس جب آپ (رض) چلے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ ایمان ہرگز داخل نہیں ہوگا کسی آدمی کے دل میں یہاں تک کہ وہ تم لوگوں سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے محبت کرے ، پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جس نے حضرت عباس (رض) کو اذیت پہنچائی، تحقیق اس نے مجھے ایذا پہنچائی۔ بیشک آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے۔
(۳۲۸۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وأنا عندہ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْضَبَک ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ : مَا لَنَا وَلِقُرَیْشٍ إذَا تَلاقَوْا تَلاقَوْا بِوُجُوہٍ مُبَشِّرَۃٍ ، وَإِذَا لَقَوْنَا لَقَوْنَا بِغَیْرِ ذَلِکَ ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّ وَجْہُہُ وَحَتَّی اسْتَدَرَّ عَرَقٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ، وَکَانَ إذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الإِیمَانُ حَتَّی یُحِبَّکُمْ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ آذَی الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِی، إنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ۔ (ترمذی ۳۷۸۵۔ احمد ۲۰۷)
tahqiq

তাহকীক: