মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭২ টি

হাদীস নং: ১৪৮৯৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠٠) حضرت عطائ مکہ مکرمہ کے گھروں کے کرایہ کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۴۹۰۰) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أُجُورَ بُیُوتِ مَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠١) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جو شخص مکہ مکرمہ کے گھر کو کرایہ پردے کر اس کی اجرت کھا رہا ہے وہ جہنم کی آگ کھا رہا ہے۔
(۱۴۹۰۱) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: مَنْ أَکَلَ شَیْئًا مِنْ کِرَائِ مَکَّۃَ ، فَإِنَّمَا یَأْکُلُ نَارًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠٢) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کا مکتوب لوگوں کو پڑھ کر سنایا (جس میں تحریر تھا کہ) مکہ مکرمہ کے گھروں اور رہائشی مکانوں کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے (اس سے منع کیا گیا ہے) ۔
(۱۴۹۰۲) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَنَا قَرَأْتُ کِتَابَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَلَی النَّاسِ بِمَکَّۃَ ، یَنْہَاہُمْ عَنْ کِرَائِ بُیُوتِ مَکَّۃَ وَدُورِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠٣) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جو لوگ مکہ مکرمہ کے گھر کرایہ پردے کر ان کا کرایہ کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔
(۱۴۹۰۳) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أُجُورَ بُیُوتِ مَکَّۃَ إنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠٤) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے اھل مکہ کو منع کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کے دروازے بنائیں تاکہ حاجی آ کر ان گھروں کے صحنوں میں اتریں (اور وہاں ٹھہریں) ۔
(۱۴۹۰۴) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَمْنَعُ أَہْلَ مَکَّۃَ أَنْ یَجْعَلُوا لَہَا أَبْوَابًا ، حَتَّی یَنْزِلَ الْحَاجُّ فِی عَرَصَاتِ الدُّورِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
(١٤٩٠٥) حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ مکہ کے گھروں کے دروازے نہیں ہونے چاہیے، مصر اور عراق والے اپنی اونٹوں کی قطار کے ساتھ آتے ہیں اور وہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں داخل ہوجاتے ہیں۔
(۱۴۹۰۵) حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ لِلدُّورِ بِمَکَّۃَ أَبْوَابٌ ، کَانَ أَہْلُ مِصْرَ وَأَہْلُ الْعِرَاقِ یَأْتُونَ بِفُطْرَاتِہِمْ فَیَدْخُلُونَ دُورَ مَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩٠٦) حضرت ہشام بن حجیر فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں میرا ایک مکان تھا جسے میں نے کرایہ پر دیا ہوا تھا، میں نے حضرت طاؤس سے اس کے کرایہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے مجھے اس کے پیسوں کے کھانے کا حکم دیا۔
(۱۴۹۰۶) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ ہِشَامٍ بن حُجَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ لِی بَیْتٌ بِمَکَّۃَ فَکُنْتُ أَکْرِیہِ ، فَسَأَلْتُ طَاوُوسًا ؟ فَأَمَرَنِی أَنْ آکُلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩٠٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے مکانات کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، مگر یہ کہ کوئی شخص کرایہ پردے اور اس پر بہت زیادہ نفع کمائے (تو یہ جائز نہیں) ۔
(۱۴۹۰۷) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ مُجَاہِدًا یَقُولُ : لاَ أَرَی بِکِرَائِ بُیُوتِ مَکَّۃَ بَأْسًا ، إِلاَّ أَنْ یَتَکَارَی رَجُلٌ فَیَتَرَبَّحَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩٠٨) حضرت عثمان ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں میرے گھر ہیں جن میں میری اولاد رہتی ہے، اور وہ جس کو چاہتے ہیں ان گھروں میں رہائش دیتے ہیں۔
(۱۴۹۰۸) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَوَّارٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی ہِشَامٍ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : رِبَاعِی الَّتِی بِمَکَّۃَ یَسْکُنُہَا بَنِیَّ ، وَیُسْکِنُونَہَا مَنْ أَحَبَّوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩٠٩) حضرت مجاہد، حضرت عطاء اور حضرت طاؤس مکہ مکرمہ کے مکان کو فروخت کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۴۹۰۹) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَعَطَائٍ ، وَطَاوُوسٍ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَبِیعُوا شَیْئًا مِنْ رِبَاعِ مَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯০৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩١٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے مکان فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
(۱۴۹۱۰) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ یَحِلُّ بَیْعُ رِبَاعِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩١١) حضرت مجاہد سے مرفوعاً مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مکہ مکرمہ کے مکان فروخت کرنا جائز نہیں ہیں۔
(۱۴۹۱۱) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، رَفَعَہُ ، قَالَ : لاَ یَحِلُّ بَیْعُ رِبَاعِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے
(١٤٩١٢) حضرت علقمہ بن نضلہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اور حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مکان تھا اس کا نام سوائب تھا کہ جو خود محتاج ہے وہ خود اس میں رہے اور جو مالدار ہے وہ دوسروں کو اس میں رہنے کی جگہ دے۔
(۱۴۹۱۲) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ ، قَالَ : کَانَتْ رِبَاعُ مَکَّۃَ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَزَمَانِ أَبِی بَکْرٍ ، وَعُمَرَ تُسَمَّی السَّوَائِبُ ، مَنِ احْتَاجَ سَکَنَ ، وَمَنِ اسْتَغْنَی أَسْکَنَ۔ (ابن ماجہ ۳۱۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٣) حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے سال مقام جعرانہ سے عمرہ کیا، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عمرہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق کو مکہ پر امیر مقرر فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دو ، اور لوگوں میں یہ اعلان (بھی) کروا دو کہ جو اس سال حج کرے وہ مامون ہے، اور آج کے بعد مشرک حج نہیں کرسکتا اور بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۴۹۱۳) حدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ عَامَ الْفَتْحِ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِہِ اسْتَخْلَفَ أَبَا بَکْرٍ عَلَی مَکَّۃَ ، وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ الْمَنَاسِکَ ، وَأَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ : مَنْ حَجَّ الْعَامَ فَہُوَ آمِنٌ ، وَلاَ یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ ، وَلاَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٤) حضرت ابن عباس سے مروی ہے ایک دیہاتی خدمت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے بنو عبد المطلب کے بیٹے ! السلام علیکم، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں وعلیکم السلاام کہا۔ پھر اس اعرابی نے کہا کہ میں آپ کے ننہال یعنی قبیلہ بنو سعید سے ہوں (یہ قبیلہ حضور کا رضاعی ماموں تھے) اور میں اپنی قوم بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قسم دینے لگا ہوں اور سوال کرنے لگا ہوں، اس قسم اور سوال کا جواب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو دینا ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے بنی سعد کے بھائی تو خود سے سوال کرلے۔ (یعنی قرابت کی وجہ سے حضور نے اپنے اور اس شخص میں کوئی فرق نہ رکھا) ۔ اس نے عرض کیا بیشک ہم نے آپ کی کتاب (مکتوب) میں پایا ہے اور ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد نے حکم دیا ہے کہ ہم لوگ حج بیت اللہ کریں، کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ہاں۔
(۱۴۹۱۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا غُلاَمَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : وَعَلَیْکَ ، فَقَالَ : إِنِّی رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِکَ مِنْ بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ ، وَإِنِّی رَسُولُ قَوْمِی إِلَیْک وَوَافِدُہُمْ ، وَإِنِّی سَائِلُکَ فَمُشْتَدَّۃٌ مَسْأَلَتِی إِیَّاکَ ، وَمُنَاشِدُکَ فَمُشْتَدَّۃٌ مُنَاشَدَتِی إِیَّاکَ ، قَالَ : خُذْ عَنْکَ یَا أَخَا بَنِی سَعْدٍ ، قَالَ : فَإِنَّا وَجَدْنَا فِی کِتَابِکَ ، وَأَمَرَتْنَا رُسُلُکَ أَنْ نَحُجَّ الْبَیْتَ الْعَتِیقَ ، فَأُنْشِدُکَ ، أَہُوَ أَمَرَکَ بِذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔

(دارمی ۶۵۱۔ بیہقی ۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٥) حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو حضرت عبداللہ بن عمر ہمارے پاس تشریف لائے اور پھر فرمایا : ہم لوگ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عمدہ لباس، اچھی خوشبو اور خوبصورت شکل والا ایک شخص آیا اور عرض کیا : السلام علیک یا رسول اللہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب آ جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریب ہو جاؤ، پس وہ تھوڑا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگیا، ہم نے کہا (دل میں) کہ ہم نے آج کے دن کی طرح نہیں دیکھا کوئی شخص عمدہ کپڑوں میں، اور نہ ہی اچھی خوشبو اور خوبصورت چہرے والا اور نہ ہی اس سے زیادہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توقیر کرنے والا، پھر اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب آ جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں پس وہ تھوڑا سا قریب آگیا، ہم نے پھر اسی طرح سوچا، پھر اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کے قریب ہو جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتنا قریب ہوگیا کہ اس کے گھٹنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گھٹنوں کے ساتھ مل گئے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا غسل جنابت کرنا، اس نے عرض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا، ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم لوگوں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا لیکن وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دے رہا ہے (یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو تعلیم دے رہے ہیں) ۔
(۱۴۹۱۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، قَالَ : وَرَدْنَا الْمَدِینَۃَ ، فَأَتَیْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ جَیِّدُ الثِّیَابِ ، طَیِّبُ الرِّیحِ، حَسَنُ الْوَجْہِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : وَعَلَیْک ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَدْنُو مِنْک ؟ فَقَالَ: اُدْنُہْ ، فَدَنَا دَنْوَۃً ، فَقُلْنَا : مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ قَطُّ رَجُلاً أَحْسَنَ ثَوْبًا ، وَلاَ أَطْیَبَ رِیحًا ، وَلاَ أَحْسَنَ وَجْہًا، وَلاَ أَشَدَّ تَوْقِیرًا لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَدْنُو مِنْکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَنَا دَنْوَۃً ، فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا ، ثُمَّ قَالَ لَہُ الثَّالِثَۃَ : أَدْنُو مِنْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، حَتَّی أَلْزَقَ رُکْبَتَیْہِ بِرُکْبَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ : یَا رَسُولَ ، مَا الإِسْلاَمُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تُقِیمُ الصَّلاَۃَ ، وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَیْتَ ، وَتَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، فَقُلْنَا : مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ قَطُّ رَجُلاً ، وَاللَّہِ لَکَأَنَّہُ یُعَلِّمُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۱/۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٦) حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں مروہ سے پہلے صفا پر چڑھوں یا صفا سے پہلے مروہ پر ؟ طواف سے پہلے نماز ادا کروں یا نماز سے پہلے طواف کروں ؟ حلق سے پہلے قربانی کروں یا قربانی سے پہلے حلق کروں ؟ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : قرآن پاک کی ترتیب سے ان کو ادا کرو (اور حاصل کرو) بیشک وہ یاد کرنے میں آسان ہے (اور تو اس پر قادر ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } پس صفا پر مروہ سے پہلے چڑھو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے { وَ لَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ } پس حلق سے پہلے قربانی کرو او اللہ پاک کا ارشاد ہے { طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ } پس نماز سے پہلے طواف کرو۔
(۱۴۹۱۶) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ ، أَوْ بِالْمَرْوَۃِ قَبْلَ الصَّفَا ؟ أَوْ أُصَلِّی قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَطُوفَ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّیَ ؟ أَوْ أَذْبَحَ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، أَوْ أَحْلِقَ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خُذْ ذَلِکَ مِنْ قِبَلِ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّہُ أَجْدَرُ أَنْ تُحْفَظَ ، قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ) فَالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ ، وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : (وَلاَ تَحْلِقُوا رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ) فَقَالَ : بِالذَّبْحِ قَبْلَ الْحَلْقِ ، وَقَالَ : (طَہِّرَا بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْعَاکِفِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ) ، فَالطَّوَافُ قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٧) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب چار براءتیں نازل ہوئیں تو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھیجا (کہ میں اعلان کروں کہ) کوئی شخص بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے، آج کے بعد مشرک بیت اللہ کے قریب نہ آئے، اور جس شخص کے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی معاھدہ تھا پس وہ اس مدت تک ہے (جو طے ہوئی تھی) اور جنت میں مسلمان کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔
(۱۴۹۱۷) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ أُنْزِلَتْ بَرَائَۃٌ بِأَرْبَعٍ : أَنْ لاَ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ ، وَلاَ یَقْرَبَ الْمَسْجِدَ مُشْرِکٌ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا ، وَمَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدٌ فَہُوَ إِلَی مُدَّتِہِ ، وَلاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔ (احمد ۱/۷۹۔ حاکم ۱۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٨) حضرت حسین بن عقیل سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ضحاک نے مناسک حج لکھوائے۔
(۱۴۹۱۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عُقَیْلٍ ، قَالَ : أََمْلَی عَلَیَّ الضَّحَّاکُ مَنَاسِکَ الْحَجِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯১৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩١٩) حضرت حسین بن عقیل سے اسی طرح مروی ہے۔
(۱۴۹۱۹) حدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عُقَیْلٍ ، قَالَ : أََمْلَی عَلَیَّ الضَّحَّاکُ مَنَاسِکَ الْحَجِّ۔
tahqiq

তাহকীক: