মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭২ টি
হাদীস নং: ১৪৯১৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٠) حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم کے پاس تشریف لائے پھر ان کے ساتھ منیٰ آئے، پھر ان کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں، پھر فجر کی نماز ادا کی، پھر صبح کے وقت ان کے ساتھ عرفہ آئے اور اس جگہ اترے جہاں لوگ اترتے ہیں پھر ان کے ساتھ دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر ان کے ساتھ موقف پر تشریف لائے، یہاں تک کہ جب اتنا وقت گزر گیا کہ جس طرح ایک آدمی تیزی سے مغرب ادا کرتا ہے تو آگے چل پڑے، پھر مزدلفہ آئے اور وہاں آ کر دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر وہیں پر رات گزاری یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں سستی کرتا ہے ان کے ساتھ چلتے ہوئے منیٰ تشریف لائے اور جمرہ کی رمی فرمائی، پھر قربانی کی اور حلق کروایا پھر ان کے ساتھ چلے، پھر اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے نبی پر وحی فرمائی کہ { اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا }۔
(۱۴۹۲۰) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَی جِبْرِیلُ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِمَا السَّلاَم ، فَرَاحَ بِہِ إِلَی مِنًی ، فَصَلَّی بِہِ الصَّلَوَاتِ جَمِیعًا ، ثُمَّ صَلَّی بِہِ الْفَجْرَ ، ثُمَّ غَدَا بِہِ إِلَی عَرَفَۃَ ، فَنَزَلَ بِہِ حَیْثُ یَنْزِلُ النَّاسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِہِ الصَّلاَتَیْنِ جَمِیعًا ، ثُمَّ أَتَی بِہِ الْمَوْقِفَ ، حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَعْجَلِ مَا یُصَلِّی الإِنْسَانُ الْمَغْرِبَ أَفَاضَ بِہِ ، فَأَتَی جَمْعًا فَصَلَّی بِہِ الصَّلاَتَیْنِ جَمِیعًا ، ثُمَّ بَاتَ بِہَا حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَعْجَلِ مَا یُصَلِّی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ الْفَجْرَ صَلَّی بِہِ ، ثُمَّ وَقَفَ حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَبْطَأِ مَا یُصَلِّی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ الْفَجْرَ ، أَفَاضَ بِہِ إِلَی مِنًی ، فَرَمَی الْجَمْرَۃَ ، ثُمَّ ذَبَحَ وَحَلَقَ ، ثُمَّ أَفَاضَ بِہِ ، ثُمَّ أَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی بَعْدُ إِلَی نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا}۔ (ابن خزیمۃ ۲۸۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢١) حضرت ابو مجلز قرآن پاک کی آیت { وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ } (کی تفسیر میں) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور پھر آپ کو طواف کر کے دکھایا اور اچھی طرح کروایا پھر صفا ومروہ کی سعی، پھر وہ دونوں عقبہ کی طرف چلے تو شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ نے شیطان کو مارتے ہوئے تکبیر پڑھی اور حضرت ابراہیم سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں حضرات جمرہ وسطی کی طرف چلے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔
پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔
پھر حضرت جبرائیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔
پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔
پھر حضرت جبرائیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔
(۱۴۹۲۱) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ فِی قولہ تعالی : {وَإِذْ یَرْفَعُ إبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ} قَالَ : لَمَّا فَرَغَ مِنَ البَیتِ جَائَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم ، فَأَرَاہُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ ، وَأَحْسَبُہُ قَالَ : وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ، ثُمَّ انْطَلَقَا إِلَی الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، قَالَ : فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ،فَرَمَی وَکَبَّرَ ، وَقَالَ لإِبْرَاہِیمَ : اِرْمِ وَکَبِّرْ ، قَالَ : فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ ، حَتَّی أَفَلَ الشَّیْطَانُ ، ثُمَّ انْطَلَقَا إِلَی الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی ، فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ حَتَّی أَفَلَ الشَّیْطَانُ ۔ ثُمَّ أَتَیَا الْجَمْرَۃَ الْقُصْوَی ، قَالَ : فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، قَالَ : فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَقَالَ : اِرْمِ وَکَبِّرْ ، فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ ، حَتَّی أَفَلَ الشَیطَان ۔ ثُمَّ أَتَی بِہِ إِلیَ مِنًی ، فَقَالَ : ہَاہُنَا یَحْلِقُ النَّاسُ رُؤُوسَہُمْ ، ثُمَّ أَتَی بِہِ جَمْعًا ، فَقَالَ : ہَاہُنَا یَجْمَعُ النَّاسُ الصَّلاَۃَ ، ثُمَّ أَتَی بِہِ عَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : عَرَفْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمِنْ ثُمَّ سُمِّیَتْ عَرَفَاتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٢) حضرت محمد بن ابو موسیٰ قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب } کے متعلق فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ شعائر اللہ میں سے ہے، مزدلفہ شعائر اللہ میں سے ہے، جمرات کی رمی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے، اونٹ کی قربانی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے اور حلق کروانا شعائر اللہ میں سے ہے، پس جو ان شعائر کی تعظیم کرے گا یہ اس کے دل کے تقویٰ کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مناسک حج میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے دوسرے کی طرف نکلا جائے، قرآن پاک میں جو اجل مسمی کا تذکرہ اس سے مراد دوسرے مشعر کے طرف جانے تک کا وقت ہے۔ { ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَے الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ } ان تمام شعائر مقام و مرکز بیت اللہ کا طواف ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مناسک حج میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے دوسرے کی طرف نکلا جائے، قرآن پاک میں جو اجل مسمی کا تذکرہ اس سے مراد دوسرے مشعر کے طرف جانے تک کا وقت ہے۔ { ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَے الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ } ان تمام شعائر مقام و مرکز بیت اللہ کا طواف ہے۔
(۱۴۹۲۲) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبی مُوسَی ؛ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللہِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ} ، قَالَ : الْوُقُوفُ بِعَرَفَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَبِجَمْع مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْجِمَارُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْبُدْنُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْحَلْقُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، فَمَنْ یُعَظِّمْہَا فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ ۔ قَالَ : وَفِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {لَکُمْ فِیہَا مَنَافِعُ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی} ، قَالَ : لَکُمْ فِی کُلِّ مَشْعَرٍ مَنَافِعُ ، إِلَی أَنْ تَخْرُجُوا مِنْہُ إِلَی غَیْرِہِ ، فَالأَجَلُ الْمُسَمَّی : الْخُرُوجُ مِنْہُ إِلَی غَیْرِہِ ، {ثُمَّ مَحِلُّہَا إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ} قَالَ : مَحِلُّ ہَذِہِ الشَّعَائِرِ کُلِّہَا ، الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } یہ تمام کا تمام حج ہے۔
(۱۴۹۲۳) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} قَالَ : ہُوَ الْحَجُّ کُلُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٤) حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر کے ساتھ تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انھوں نے سواری کا حکم فرمایا تو ان کے لیے سواری لائی گئی اور وہ منیٰ سے اس پر سوار ہو کر چل پڑے، راوی فرماتے ہیں کہ پس اگر کوئی بات ہمیں عجیب لگتی تھی تو وہ ہماری نادانی کی وجہ سے تھی، ایک شخص تھا جو ان سے خواتین کے متعلق باتیں کرتا تھا اور ان کو ہنساتا تھا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ نے نماز عصر ادا کی تو وقوف عرفہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، یا پھر فرمایا کہ ہاتھوں کو پھیلایا، راوی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ شاید یوں کہا ہو کہ کانوں سے نیچے تک اٹھایا اور یہ پڑھنے لگے : اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ اہْدِنِی بِالْہُدَی ، وَقِنِی بِالتَّقْوَی ، وَاغْفِرْ لِی فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی ، پھر اپنے ہاتھ نیچے کرلیے اور اتنی دیر خاموش رہے جتنی دیر میں کوئی شخص سورة الفاتحہ پڑھ لیتا ہے پھر لوٹے اور ہاتھوں کو بلند کیا اور پھر وہ دعائیں مانگیں، پھر آپ مسلسل اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ آپ منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔
راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ کھلی جگہ دیکھتے تو تیز چلتے اور جب جگہ کی تنگی کو دیکھتے تو رک جاتے، پھر ان پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑ پر آتے تو ہر پہاڑ پر اتنی دیر کھڑے ہوتے جتنی دیر میں کوئی شخص یوں کہے : اس کے ہاتھ رک گئے ہیں لیکن اس کی ٹانگیں نہیں رکیں، راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ راستے میں اترے اور پھر چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، میں نے کہا کہ شاید وہ سنت کاموں میں سے کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں بیشک گیا ہوں اس طور پر کہ تمہیں تعلیم دوں، پھر آپ آئے اور آہستہ اور توقف کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوگئے اور مزدلفہ آنے تک نماز نہیں پڑھی، پھر وہاں پر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : الصلاۃ جامعۃ کہ نماز مشترکہ ہے اس کے درمیان کسی چیز سے تجاوز نہ کیا جائے (نفل نہ پڑھے جائیں) ۔
میں نے عرض کیا کہ ان کے درمیان (دو نمازوں کے) اقامت نہ ہو سوائے اس قول کے کہ الصلاۃ جامعۃ ؟ فرمایا کہ نہیں۔
پھر عشاء کی دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے لیے پانچ رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان نفل ادا نہیں کیے، پھر کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ جو ہماری آواز سن رہا ہے پس وہ ہمارے پاس آجائے، راوی فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسی طرح کرنا مناسب ہے، پھر وہاں پر آپ نے رات گزاری، پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کہ آسمان پر کوئی ستارہ موجود نہ تھا جس کو دیکھا جاتا، اور سورة عبس وتولٰی تلاوت فرمائی اور قنوت نہیں پڑھی نہ رکوع سے پہلے نہ بعد میں، پھر ٹھہرے رہے اور اس جگہ کی دعائیں ذکر فرمائیں جیسا کہ گزشتہ دن عرفات میں ذکر کیں تھیں، پھر آپ چل پڑے، آپ اس طرح چل رہے تھے کہ اگر وسعت دکھیتے تو تیز چلتے اور جب تنگی دیکھتے تو ٹھہر جاتے۔
راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے مجھے خبر دی کہ بیشک وہ وادی جو منیٰ کے سامنے ہے جس کو وادی محسّر کہا جاتا ہے وہاں پر اترا جائے گا۔
پھر جب اس پر آئے تو اپنے پاؤں سے سواری کو ایڑی لگائی تو میں سمجھ گیا کہ وہ تیز چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے سواری کو تھکا دیا، تو میں نے اپنی سواری کو تیز دوڑایا۔
پھر انھوں نے جمرہ کی رمی فرمائی پھر اگلے دن بھی جمرہ کی رمی کی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مجھ سے کہا زوال سے عصر تک (رمی کرو) پھر آگے ہوئے یہاں تک کہ وہ جمرہ اولیٰ اور دوسرے جمرہ کے درمیان ہوگئے، پھر دعاؤں کا ذکر کیا جس طرح (پیچھے) دو جگہوں پر (موقفین میں) ذکر کیا تھا، مگر اس دعا میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا کہ وأصلح لی یا واتمم لنا مناسکنا، راوی کہتے ہیں کہ اس جگہ اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر میں کوئی شخص سورہ یوسف کی تلاوت کرلے پھر درمیانے جمرہ کی رمی کی پھر اسی طرح دعاؤں کا ذکر کیا اور اسی طرح اتنی دیر قیام کیا۔
راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم یا حضرت نافع سے دریافت کیا کہ وہ خاموشی میں بھی کچھ پڑھا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ سنت میں تو کچھ نہیں ہے۔
راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ کھلی جگہ دیکھتے تو تیز چلتے اور جب جگہ کی تنگی کو دیکھتے تو رک جاتے، پھر ان پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑ پر آتے تو ہر پہاڑ پر اتنی دیر کھڑے ہوتے جتنی دیر میں کوئی شخص یوں کہے : اس کے ہاتھ رک گئے ہیں لیکن اس کی ٹانگیں نہیں رکیں، راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ راستے میں اترے اور پھر چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، میں نے کہا کہ شاید وہ سنت کاموں میں سے کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں بیشک گیا ہوں اس طور پر کہ تمہیں تعلیم دوں، پھر آپ آئے اور آہستہ اور توقف کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوگئے اور مزدلفہ آنے تک نماز نہیں پڑھی، پھر وہاں پر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : الصلاۃ جامعۃ کہ نماز مشترکہ ہے اس کے درمیان کسی چیز سے تجاوز نہ کیا جائے (نفل نہ پڑھے جائیں) ۔
میں نے عرض کیا کہ ان کے درمیان (دو نمازوں کے) اقامت نہ ہو سوائے اس قول کے کہ الصلاۃ جامعۃ ؟ فرمایا کہ نہیں۔
پھر عشاء کی دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے لیے پانچ رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان نفل ادا نہیں کیے، پھر کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ جو ہماری آواز سن رہا ہے پس وہ ہمارے پاس آجائے، راوی فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسی طرح کرنا مناسب ہے، پھر وہاں پر آپ نے رات گزاری، پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کہ آسمان پر کوئی ستارہ موجود نہ تھا جس کو دیکھا جاتا، اور سورة عبس وتولٰی تلاوت فرمائی اور قنوت نہیں پڑھی نہ رکوع سے پہلے نہ بعد میں، پھر ٹھہرے رہے اور اس جگہ کی دعائیں ذکر فرمائیں جیسا کہ گزشتہ دن عرفات میں ذکر کیں تھیں، پھر آپ چل پڑے، آپ اس طرح چل رہے تھے کہ اگر وسعت دکھیتے تو تیز چلتے اور جب تنگی دیکھتے تو ٹھہر جاتے۔
راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے مجھے خبر دی کہ بیشک وہ وادی جو منیٰ کے سامنے ہے جس کو وادی محسّر کہا جاتا ہے وہاں پر اترا جائے گا۔
پھر جب اس پر آئے تو اپنے پاؤں سے سواری کو ایڑی لگائی تو میں سمجھ گیا کہ وہ تیز چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے سواری کو تھکا دیا، تو میں نے اپنی سواری کو تیز دوڑایا۔
پھر انھوں نے جمرہ کی رمی فرمائی پھر اگلے دن بھی جمرہ کی رمی کی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مجھ سے کہا زوال سے عصر تک (رمی کرو) پھر آگے ہوئے یہاں تک کہ وہ جمرہ اولیٰ اور دوسرے جمرہ کے درمیان ہوگئے، پھر دعاؤں کا ذکر کیا جس طرح (پیچھے) دو جگہوں پر (موقفین میں) ذکر کیا تھا، مگر اس دعا میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا کہ وأصلح لی یا واتمم لنا مناسکنا، راوی کہتے ہیں کہ اس جگہ اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر میں کوئی شخص سورہ یوسف کی تلاوت کرلے پھر درمیانے جمرہ کی رمی کی پھر اسی طرح دعاؤں کا ذکر کیا اور اسی طرح اتنی دیر قیام کیا۔
راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم یا حضرت نافع سے دریافت کیا کہ وہ خاموشی میں بھی کچھ پڑھا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ سنت میں تو کچھ نہیں ہے۔
(۱۴۹۲۴) حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : کَانَ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ فَرُحِلَتْ وَارْتَحَلَ مِنْ مِنًی فَسَارَ ، قَالَ : فَإِنْ کَانَ لأَعْجَبُنَا إِلَیْہِ أَسْفَہُنَا ، رَجُلٌ کَانَ یُحَدِّثُہُ عَنِ النِّسَائِ وَیُضْحِکُہُ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّی الْعَصْرَ وَقَفَ بِعَرَفَۃَ ، فَجَعَلَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ ، أَو قَالَ : یَمُدُّ ، قَالَ : وَلاَ أَدْرِی لَعَلَّہُ قَدْ قَالَ : دُونَ أُذُنَیْہِ ، وَجَعَلَ یَقُولُ : اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ اہْدِنِی بِالْہُدَی ، وَقِنِی بِالتَّقْوَی ، وَاغْفِرْ لِی فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی ، ثُمَّ یَرُدُّ یَدَیْہِ فَیَسْکُتُ کَقَدْرِ مَا کَانَ إِنْسَانٌ قَارِئًا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، ثُمَّ یَعُودُ فَیَرْفَعُ یَدَیْہِ وَیَقُولُ مِثْلَ ذَلِکَ ، فَلَمْ یَزَلْ یَفْعَلُ ذَلِکَ حَتَّی أَفَاضَ ۔ قَالَ : فَکَانَ سَیْرُہُ إِذَا رَأَی سَعَۃً الْعَنَقَ ، وَإِذَا رَأَی مَضِیقًا أَمْسَکَ ، وَإِذَا أَتَی جَبَلاً مِنْ تِلْکَ الْجِبَالِ وَقَفَ عِنْدَ کُلِّ جَبَلٍ مِنْہَا کَقَدْرِ مَا أَقُولُ ، أَوْ یَقُولُ الْقَائِلُ : وَقِفَتْ یَدَاہَا وَلَمْ تَقِفْ رِجْلاَہَا ، قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ مَنْزِلَہُ بِالطَّرِیقِ ، فَانْطَلَقَ وَاتَّبَعْتُہُ فَقُلْتُ : لَعَلَّہُ یَفْعَلُ شَیْئًا مِنَ السُّنَّۃِ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَذْہَبُ حَیْثُ تَعْلَمُ ، فَجَائَ فَتَوَضَّأَ عَلَی رِسْلِہِ ، ثُمَّ رَکِبَ ، وَلَمْ یُصَلِّ حَتَّی أَتَی جَمْعًا ، فَأَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَیْنَا ، فَقَالَ : الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ، وَلَمْ یَتَجَوَّزْ بَیْنَہُمَا بِشَیْئٍ ۔ قُلتُ : وَلَمْ یَکُن بَیْنَہُمَا إِقَامَۃً إِلاَّ قَولَہُ : الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ؟ أَو قَالَ : أَذَانٌ إِلاَّ ذَاکَ ؟ قَالَ : لاَ ۔ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ، فَصَلَّی خَمْسَ رَکَعَاتٍ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ ، لَمْ یَتَطَوَّعْ ، أَوْ قَالَ : لَمْ یَتَجَوَّزْ بَیْنَہُمَا بِشَیْئٍ ، ثُمَّ دَعَا بِطَعَامٍ ، فَقَالَ : مَنْ کَانَ یَسْمَعُ صَوْتَنَا فَلْیَأْتِنَا ، قَالَ : کَأَنَّہُ یَرَی أَنَّ ذَاکَ کَذَاک یَنْبَغِی ، ثُمَّ بَاتُوا ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الصُّبْحَ بِسَوَادٍ ، وَلَیْسَ فِی السَّمَائِ نَجْمٌ أَعْرِفُہُ إِلاَ أَرَاہُ ، وَقَرَأَ بِـ : (عَبَسَ وَتَوَلَّی) وَلَمْ یَقْنُتْ قَبْلَ الرُّکُوعِ ، وَلاَ بَعْدَہُ ، ثُمَّ وَقَفَ فَذَکَرَ مِنْ دُعَائِہِ فِی ہَذَا الْمَوْقِفِ کَمَا فَعَلَ فِی مَوْقِفِہِ بِالأَمْسِ ، ثُمَّ أَفَاضَ سَیْرَہُ ، إِذَا رَأَی سَعَۃً الْعَنَقَ ، وَإِذَا رَأَی مَضِیقًا أَمْسَکَ ۔ قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِی أَنَّ الْوَادِی الَّذِی بَیْنَ یَدَیْہِ مِنًی الَّذِی یُدْعَی مُحَسِّرًا یُوضَعُ ۔ فَلَمَّا أَتَی عَلَیْہِ رَکَضَ بِرِجْلِہِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یُوضِعَ فَأَعْیَتْہُ رَاحِلَتُہُ فَأَوْضَعْتُہُ ، فَرَمَی الْجَمْرَۃَ ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ رَمَی الْجَمْرَۃَ ، قَالَ : أَحْسَبُہُ قَالَ لِی : بِہَاجِرَۃٍ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ حَتَّی کَانَ بَیْنَہُمَا وَبَیْنَ الْوُسْطَی ، فَذَکَرَ مِنْ دُعَائِہِ مِثْلَ دُعَائِہِ فِی الْمَوْقِفَیْنِ ، إِلاَّ أَنَّہُ زَادَ : وَأَصْلِحْ لِی، أَو قَالَ : وَأَتْمِمْ لَنَا مَنَاسِکَنَا ، قَالَ : وَکَانَ قِیَامُہُ کَقَدْرِ مَا کَانَ إِنْسَانٌ فِیمَا یُرَی قَارِئًا سُورَۃَ یُوسُفَ ، ثُمَّ رَمَی الْجَمْرَۃَ الْوُسْطَی ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَذَکَرَ مِنْ دُعَائِہِ نَحْوَ ذَاکَ ، وَمِنْ قِیَامِہِ نَحْوَ ذَلِکَ ۔ قَالَ : فَقُلْتُ لِسَالِمٍ ، أَوْ نَافِعٍ : ہَلْ کَانَ یَقُولُ فِی سُکُوتِہِ شَیْئًا ؟ قَالَ : أَمَّا مِنَ السُّنَّۃِ ، فَلاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٥) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس آئے، آپ نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس پہنچ گئے، میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی بن حسین ہوں، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر میرا اوپر والا بٹن کھولا اور پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا اور اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر رکھا میں اس وقت نوجوان تھا، فرمایا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش آمدید، پوچھ جو پوچھنا چاہتا ہے ؟ میں نے ان سے دریافت کیا اس حال میں کہ وہ نابینا تھے، (اتنے میں) نماز کا وقت ہوگیا تو وہ بےسلہ ہوا کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوگئے، جب بھی اس کو کندھے پر ڈالتے تو وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے کونے واپس ان کی طرف آتے، اور ان کی چادر ہینگر پر لٹکی ہوئی تھی، پھر انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز کے بعد) میں نے عرض کیا کہ مجھے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں بتائیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے نو کا عدد بنایا اور فرمایا کہ
حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو سال تک بغیر حج کیے مدینہ منورہ میں رہے، پھر دس ہجری کو لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، (یہ سن کر) بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آنا شروع ہوگئے ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کا سفر کرے اور آپ کے عمل کی طرح عمل کرے، پھر ہم لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : غسل کرلو اور (شرم گاہ) پر کپڑا باندھ لو اور پھر احرام باندھ لو۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں نماز پڑھائی اور پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب آپ کی اونٹنی مقام بیدا پر پہنچی تو میں نے اپنے آگے دیکھا لوگوں کو جن میں کچھ سوار اور کچھ پیدل ہیں، اور داہنی طرف بھی اسی طرح اور بائیں طرف بھی اسی طرح اور پیچھے بھی اسی طرح اس حال میں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تھے اور آپ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور وہ اس کی تفسیر جانتے تھے، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی عمل نہیں کیا مگر ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہ عمل کیا، پھر توحید کا تلبیہ پڑھا (جس کے الفاظ یہ ہیں) ، لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لاَ شَرِیکَ لَکَ لوگوں نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ تلبیہ پڑھا پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر کسی بات کو رد نہ فرمایا اس میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلبیہ کو لازم فرمایا۔
جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی ہمیں عمرے کے بارے میں معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ جب ہم لوگ بیت اللہ آئے رکن کا استلام کیا اور طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر چل کر پورے کیے پھر مقام ابراہیم کے بارے میں حکم نافذ کیا اور قرآن پاک کی آیت { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } تلاوت فرمائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام ابراھیم کو اپنے اور بیت اللہ درمیان رکھا، میرے والد فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ذکر کیا ہو مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت فرمائی دو رکعتوں میں { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ یاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن کی طرف لوٹے اور اس کا استلام فرمایا : پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے پھر جب آپ صفا کے قریب ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } تلاوت فرمائی (اور فرمایا کہ) میں اس سے ابتداء کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا (جو نظر آ رہا تھا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ان الفاظ میں اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، أَنْجَزَ وَعدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ پھر اس کے درمیان دعا فرمائی پھر اسی طرح (یہی دعا) تین بار مانگی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم مبارک بطن وادی میں تیز چلنے لگے (اوپر سے نیچے کی طرف) پھر جب اوپر کی طرف چڑھے تو آہستہ چلنے لگے یہاں تک کہ مروہ پر آگئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مروہ پہ وہ تمام افعال کیے جو صفا پر کیے تھے، یہاں تک کہ جب مروہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری چکر تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک جب میں کسی کام کو آگے کرتا ہوں تو اس کو پیچھے نہیں کرتا، ھدی (کے جانور) کو جمع نہیں کیا اور میں اس کو عمرہ بناتا ہوں، پس تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے پس ان کو چاہیے کہ وہ احرام کھول دیں اور اس کو عمرہ بنالیں، حضرت سراقہ بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ حکم صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک انگلی دوسرے میں ملائی اور فرمایا : میں نے عمرہ کو حج میں داخل کردیا ہے ہمیشیہ کے لیے۔
حضرت علی یمن سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ لے کر تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ کو حلال (بغیر احرام کے) پایا، انھوں نے رنگے ہوئے کپڑے پہن رکھے تھے اور سرمہ لگایا ہوا تھا، حضرت علی نے اس پر نکیر فرمائی، حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ میرے والد محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کا حکم دیا ہے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا حضرت فاطمہ پر جس وجہ سے غصہ آیا تھا اس کا ذکر کروں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کروں جو حضرت فاطمہ نے ذکر کیا، پس میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا جو میں نے حضرت فاطمہ پر نکیر کی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا، اور دریافت کیا کہ جب تو نے حج کے لیے احرام باندھا تو کیا کہا تھا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں یوں کہا تھا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک میرے پاس ھدی ہے پس تو احرام نہ کھولنا، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت علی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ھدی کے جانور جو یمن سے لے کر حاضر ہوئے تھے ان کی مقدار سو تھی، راوی فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیئے اور قصر کروا دیئے سوائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور ان لوگوں کے جن کے پاس ھدی کے جانور تھے۔
پھر جب آٹھ ذی الحجہ کا دن آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ کی طرف رخت سفر باندھا اور حج کے لیے احرام باندھا (تلبیہ پڑھا) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر وعصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر کچھ دیر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سیاہ وسفید رنگ کا خیمہ نصب کردیا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے اور قریش شک میں نہ تھے مگر اس بات سے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشعر حرام کے پاس کھڑے ہوں جس طرح کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے تجاوز فرما گئے یہاں تک کہ عرفہ پہنچ گئے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمہ پایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سیاہ وسفید رنگ کا نصب کیا گیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خیمہ میں اترے، جب سورج زوال کے قریب ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصواء اونٹنی کو لانے کا حکم فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سواری تیار کی گئی، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہو کر) بطن وادی میں تشریف لائے اور لوگوں سے یہ خطبہ ارشاد فرمایا :
لوگو ! تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پر حرام ہیں جیسے کہ آج کے دن کی حرمت ہے اس مہینے میں اور اس شہر میں، آگاہ رہو زمانہ جاہلیت کا ہر معاملہ میرے قدموں کے نیچے ہے، ختم ہے، جاہلیت کے تمام خون ختم ہیں، اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جو بنی سعد میں دایہ تلاش کررہا تھا اس کو ھذیل نے قتل کردیا تھا، جاہلیت کا تمام سود ختم ہے، اور پہلا سود جو میں اپنے سودوں میں سے ختم کرتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، پس وہ تمام کا تمام ختم ہونے والا ہے، پس عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بیشک تم ان کی وجہ سے اللہ کے معاملہ میں پکڑے جاؤ گے، اور اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہیں تمہارے لیے حلال کردی گئی ہیں، اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر کسی ایسے شخص کے لیے ہموار نہ کریں جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسے مارو کہ ان کو (زیادہ) اذیت نہ ہو، اور تم پر ان کا کھانا، لباس اچھے طریقے سے لازم ہے، اور میں تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر اس کو تھام لو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے میرے بعد، اللہ کی کتاب، بیشک تم سے میرے بارے میں سوال ہوگا پس تم کیا جواب دو گے ؟ سب نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہنچا دیا، اور اپنا حق ادا کردیا اور نصیحت کردی، اے اللہ ! تو گواہ رہ، اے اللہ ! تو گواہ رہ، تین بار فرمایا، پھر اذان دی گئی اور اقامت ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور نماز (نفل وغیرہ) نہ پڑھی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے اور موقف پر تشریف لائے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قصواء اونٹنی ٹیلوں کی طرف چڑھنا شروع ہوئی اور لوگوں کا ہجوم آپ کے سامنے تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اسی طرح کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور سورج کی زردی آہستہ آہستہ جانے لگی یہاں تک کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہوگئی، حضرت اسامہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ہجوم کو ہٹا رہے تھے جو اونٹنی کو چمٹ رہے تھے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ اونٹنی کا سر پاؤں رکھنے کی جگہ تک پہنچ جائے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ سے (اشارہ کر کے) فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! پر سکون رہو، اے لوگو ! پر سکون رہو، جب اونٹنی کسی ٹیلہ پر آتی تو کچھ تیز ہوتی یہاں تک کہ اس پر چڑھ جاتی۔
یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں پر مغرب و عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی تسبیح (نفل وغیرہ) نہ پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آرام کے لیے لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی، پھر جب فجر خوب روشن ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھائی، پھر قصواء پر سوار ہوئے اور مشعر حرام پر تشریف لائے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا کی، تکبیرات پڑھیں، اور تلبیہ اور حمد وثنا کی، اور کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج خوب روشن ہوگیا، تو آپ طلوع شمس سے قبل ہی چل پڑے اور حضرت فضل بن عباس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے وہ خوبصورت بالوں، سفید چہرے اور خاص علامتوں والے شخص تھے۔
پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے تو کچھ عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزریں تو حضرت فضل بن عباس نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا، حضرت فضل بن عباس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر کے دیکھنا شروع کردیا۔
پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی محسّر پر تشریف لائے، وہاں آپ نے اپنی سواری کو تھوڑا تیز کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درمیانے راستہ پر چلے جو جمرہ کبری کی طرف سے نکلتا ہے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آگئے جو درخت کے پاس ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات کنکریوں سے اس کی رمی فرمائی، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطن وادی میں سے رمی فرمائی، پھر آپ قربان گاہ کی طرف پھرے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ قربان کیے پھر (چھری) حضرت علی کو عطا فرمائی انھوں نے جو جانور باقی بچے تھے وہ ذبح کیے اور ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا، اور ہر اونٹ کے ٹکڑے (حصے، حصے) کرنے کا حکم فرمایا اور ان کو ہانڈیوں میں ڈالا گیا اور پکایا گیا، اور ان کے گوشت میں سے کھایا بھی اور اس کے شوربے میں سے پیا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے اور مکہ مکرمہ تشریف لائے، اور مکہ میں نماز ظہر ادا فرمائی، پھر بنی عبد المطلب کے پاس تشریف لائے جو زم زم پلا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اترو بنی عبد المطلب کے ساتھ، پس لوگوں کے تمہارے پلانے پر غالب آنے کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی ضرور تمہارے ساتھ اترتا، پھر آپ کو ڈول دیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا۔
حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو سال تک بغیر حج کیے مدینہ منورہ میں رہے، پھر دس ہجری کو لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، (یہ سن کر) بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آنا شروع ہوگئے ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کا سفر کرے اور آپ کے عمل کی طرح عمل کرے، پھر ہم لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : غسل کرلو اور (شرم گاہ) پر کپڑا باندھ لو اور پھر احرام باندھ لو۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں نماز پڑھائی اور پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب آپ کی اونٹنی مقام بیدا پر پہنچی تو میں نے اپنے آگے دیکھا لوگوں کو جن میں کچھ سوار اور کچھ پیدل ہیں، اور داہنی طرف بھی اسی طرح اور بائیں طرف بھی اسی طرح اور پیچھے بھی اسی طرح اس حال میں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تھے اور آپ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور وہ اس کی تفسیر جانتے تھے، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی عمل نہیں کیا مگر ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہ عمل کیا، پھر توحید کا تلبیہ پڑھا (جس کے الفاظ یہ ہیں) ، لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لاَ شَرِیکَ لَکَ لوگوں نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ تلبیہ پڑھا پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر کسی بات کو رد نہ فرمایا اس میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلبیہ کو لازم فرمایا۔
جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی ہمیں عمرے کے بارے میں معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ جب ہم لوگ بیت اللہ آئے رکن کا استلام کیا اور طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر چل کر پورے کیے پھر مقام ابراہیم کے بارے میں حکم نافذ کیا اور قرآن پاک کی آیت { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } تلاوت فرمائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام ابراھیم کو اپنے اور بیت اللہ درمیان رکھا، میرے والد فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ذکر کیا ہو مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت فرمائی دو رکعتوں میں { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ یاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن کی طرف لوٹے اور اس کا استلام فرمایا : پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے پھر جب آپ صفا کے قریب ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } تلاوت فرمائی (اور فرمایا کہ) میں اس سے ابتداء کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا (جو نظر آ رہا تھا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ان الفاظ میں اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، أَنْجَزَ وَعدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ پھر اس کے درمیان دعا فرمائی پھر اسی طرح (یہی دعا) تین بار مانگی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم مبارک بطن وادی میں تیز چلنے لگے (اوپر سے نیچے کی طرف) پھر جب اوپر کی طرف چڑھے تو آہستہ چلنے لگے یہاں تک کہ مروہ پر آگئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مروہ پہ وہ تمام افعال کیے جو صفا پر کیے تھے، یہاں تک کہ جب مروہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری چکر تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک جب میں کسی کام کو آگے کرتا ہوں تو اس کو پیچھے نہیں کرتا، ھدی (کے جانور) کو جمع نہیں کیا اور میں اس کو عمرہ بناتا ہوں، پس تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے پس ان کو چاہیے کہ وہ احرام کھول دیں اور اس کو عمرہ بنالیں، حضرت سراقہ بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ حکم صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک انگلی دوسرے میں ملائی اور فرمایا : میں نے عمرہ کو حج میں داخل کردیا ہے ہمیشیہ کے لیے۔
حضرت علی یمن سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ لے کر تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ کو حلال (بغیر احرام کے) پایا، انھوں نے رنگے ہوئے کپڑے پہن رکھے تھے اور سرمہ لگایا ہوا تھا، حضرت علی نے اس پر نکیر فرمائی، حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ میرے والد محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کا حکم دیا ہے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا حضرت فاطمہ پر جس وجہ سے غصہ آیا تھا اس کا ذکر کروں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کروں جو حضرت فاطمہ نے ذکر کیا، پس میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا جو میں نے حضرت فاطمہ پر نکیر کی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا، اور دریافت کیا کہ جب تو نے حج کے لیے احرام باندھا تو کیا کہا تھا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں یوں کہا تھا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک میرے پاس ھدی ہے پس تو احرام نہ کھولنا، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت علی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ھدی کے جانور جو یمن سے لے کر حاضر ہوئے تھے ان کی مقدار سو تھی، راوی فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیئے اور قصر کروا دیئے سوائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور ان لوگوں کے جن کے پاس ھدی کے جانور تھے۔
پھر جب آٹھ ذی الحجہ کا دن آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ کی طرف رخت سفر باندھا اور حج کے لیے احرام باندھا (تلبیہ پڑھا) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر وعصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر کچھ دیر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سیاہ وسفید رنگ کا خیمہ نصب کردیا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے اور قریش شک میں نہ تھے مگر اس بات سے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشعر حرام کے پاس کھڑے ہوں جس طرح کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے تجاوز فرما گئے یہاں تک کہ عرفہ پہنچ گئے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمہ پایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سیاہ وسفید رنگ کا نصب کیا گیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خیمہ میں اترے، جب سورج زوال کے قریب ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصواء اونٹنی کو لانے کا حکم فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سواری تیار کی گئی، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہو کر) بطن وادی میں تشریف لائے اور لوگوں سے یہ خطبہ ارشاد فرمایا :
لوگو ! تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پر حرام ہیں جیسے کہ آج کے دن کی حرمت ہے اس مہینے میں اور اس شہر میں، آگاہ رہو زمانہ جاہلیت کا ہر معاملہ میرے قدموں کے نیچے ہے، ختم ہے، جاہلیت کے تمام خون ختم ہیں، اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جو بنی سعد میں دایہ تلاش کررہا تھا اس کو ھذیل نے قتل کردیا تھا، جاہلیت کا تمام سود ختم ہے، اور پہلا سود جو میں اپنے سودوں میں سے ختم کرتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، پس وہ تمام کا تمام ختم ہونے والا ہے، پس عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بیشک تم ان کی وجہ سے اللہ کے معاملہ میں پکڑے جاؤ گے، اور اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہیں تمہارے لیے حلال کردی گئی ہیں، اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر کسی ایسے شخص کے لیے ہموار نہ کریں جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسے مارو کہ ان کو (زیادہ) اذیت نہ ہو، اور تم پر ان کا کھانا، لباس اچھے طریقے سے لازم ہے، اور میں تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر اس کو تھام لو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے میرے بعد، اللہ کی کتاب، بیشک تم سے میرے بارے میں سوال ہوگا پس تم کیا جواب دو گے ؟ سب نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہنچا دیا، اور اپنا حق ادا کردیا اور نصیحت کردی، اے اللہ ! تو گواہ رہ، اے اللہ ! تو گواہ رہ، تین بار فرمایا، پھر اذان دی گئی اور اقامت ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور نماز (نفل وغیرہ) نہ پڑھی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے اور موقف پر تشریف لائے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قصواء اونٹنی ٹیلوں کی طرف چڑھنا شروع ہوئی اور لوگوں کا ہجوم آپ کے سامنے تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اسی طرح کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور سورج کی زردی آہستہ آہستہ جانے لگی یہاں تک کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہوگئی، حضرت اسامہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ہجوم کو ہٹا رہے تھے جو اونٹنی کو چمٹ رہے تھے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ اونٹنی کا سر پاؤں رکھنے کی جگہ تک پہنچ جائے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ سے (اشارہ کر کے) فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! پر سکون رہو، اے لوگو ! پر سکون رہو، جب اونٹنی کسی ٹیلہ پر آتی تو کچھ تیز ہوتی یہاں تک کہ اس پر چڑھ جاتی۔
یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں پر مغرب و عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی تسبیح (نفل وغیرہ) نہ پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آرام کے لیے لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی، پھر جب فجر خوب روشن ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھائی، پھر قصواء پر سوار ہوئے اور مشعر حرام پر تشریف لائے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا کی، تکبیرات پڑھیں، اور تلبیہ اور حمد وثنا کی، اور کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج خوب روشن ہوگیا، تو آپ طلوع شمس سے قبل ہی چل پڑے اور حضرت فضل بن عباس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے وہ خوبصورت بالوں، سفید چہرے اور خاص علامتوں والے شخص تھے۔
پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے تو کچھ عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزریں تو حضرت فضل بن عباس نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا، حضرت فضل بن عباس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر کے دیکھنا شروع کردیا۔
پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی محسّر پر تشریف لائے، وہاں آپ نے اپنی سواری کو تھوڑا تیز کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درمیانے راستہ پر چلے جو جمرہ کبری کی طرف سے نکلتا ہے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جمرہ کے پاس آگئے جو درخت کے پاس ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات کنکریوں سے اس کی رمی فرمائی، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطن وادی میں سے رمی فرمائی، پھر آپ قربان گاہ کی طرف پھرے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ قربان کیے پھر (چھری) حضرت علی کو عطا فرمائی انھوں نے جو جانور باقی بچے تھے وہ ذبح کیے اور ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا، اور ہر اونٹ کے ٹکڑے (حصے، حصے) کرنے کا حکم فرمایا اور ان کو ہانڈیوں میں ڈالا گیا اور پکایا گیا، اور ان کے گوشت میں سے کھایا بھی اور اس کے شوربے میں سے پیا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے اور مکہ مکرمہ تشریف لائے، اور مکہ میں نماز ظہر ادا فرمائی، پھر بنی عبد المطلب کے پاس تشریف لائے جو زم زم پلا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اترو بنی عبد المطلب کے ساتھ، پس لوگوں کے تمہارے پلانے پر غالب آنے کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی ضرور تمہارے ساتھ اترتا، پھر آپ کو ڈول دیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا۔
(۱۴۹۲۵) حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّی انْتَہَی إِلَیَّ ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، فَأَہْوَی بِیَدِہِ إِلَی رَأْسِی ، فَنَزَعَ زِرِّی الأَعْلَی، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّی الأَسْفَلَ ، ثُمَّ وَضَع کَفَّہُ بَیْنَ ثَدْیَیَّ ، وَأَنَا یَوْمئِذٍ غُلاَمٌ شَابٌّ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِکَ یَا ابْنَ أَخِی ، سَلْ عَمَّ شِئْتَ ؟ فَسَأَلْتُہُ وَہُوَ أَعْمَی ، وَجَائَ وَقْتُ الصَّلاَۃِ ، فَقَامَ فِی نِسَاجَۃٍ مُلْتَحِفًا بِہَا ، کُلَّمَا وَضَعَہَا عَلَی مَنْکِبِہِ رَجَعَ طَرَفَاہَا إِلَیْہِ ، مِنْ صِغَرِہَا ، وَرِدَاؤُہُ إِلَی جَنْبِہِ عَلَی الْمِشْجَبِ ، فَصَلَّی بِنَا ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِی عَنْ حَجَّۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : بِیَدِہِ ، فَعَقَدَ تِسْعًا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَثَ تِسْعَ سِنِینَ لَمْ یَحُجَّ ، ثُمَّ أَذَّنَ فِی النَّاسِ فِی الْعَاشِرَۃِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَاجًّ ، فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَشَرٌ کَثِیرٌ کُلُّہُمْ یَلْتَمِسُ أَنْ یَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَیَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِہِ ، فَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی أَتَیْنَا ذَا الْحُلَیْفَۃَ ، فَوَلَدَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَسْجِدِ ، کَیْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : اغْتَسِلِی ، وَاسْتَنْفِرِی بِثَوْبٍ ، وَأَحْرِمِی فَصَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَرَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ رَاحِلَتَہُ عَلَی الْبَیْدَائِ ، نَظَرْتُ إِلَی مَدَّی بَصَرِی مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ ، وَعَنْ یَمِینِہِ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَعَنْ یَسَارِہِ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا وَعَلَیْہِ یَنْزِلُ الْقُرْآنُ ، وَہُوَ یَعْرِفُ تَأْوِیلَہُ ، فَمَا عَمِلَ بِہِ مِنْ شَیْئٍ عَمِلْنَا بِہِ ، فَأَہَلَّ بِالتَّوْحِیدِ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لاَ شَرِیکَ لَکَ ، وَأَہَلَّ النَّاسُ بِہَذَا الَّذِی یُہِلُّونَ بِہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ شَیْئًا مِنْہُ ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَلْبِیَتَہُ۔ وَقَالَ جَابِرٌ : لَسْنَا نَنْوِی إِلاَّ الْحَجَّ ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَۃَ ، حَتَّی إِذَا أَتَیْنَا الْبَیْتَ مَعَہُ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ فَرَمَلَ ثَلاَثًا، وَمَشَی أَرْبَعًا ، ثُمَّ نَفَدَ إِلَی مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ ، فَقَرَأَ : {وَاِتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ ، فَکَانَ أَبِی یَقُولُ : وَلاَ أَعْلَمُہُ ذَکَرَہُ إِلاَّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ : {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} وَ{قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الرُّکْنِ فَاسْتَلَمَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَی الصَّفَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ} أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّہُ بِہِ ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِی عَلَیْہِ حَتَّی رَأَی الْبَیْتَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْبَیْتَ ، وَوَحَّدَ اللَّہَ وَکَبَّرَہُ ، وَقَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، أَنْجَزَ وَعدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ ، ثُمَّ دَعَا بَیْنَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ۔
ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَۃِ حتَّی انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ إِلَی بَطْنِ الْوَادِی ، حَتَّی إِذَا صَعِدْنَا مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَۃَ ، فَفَعَلَ عَلَی الْمَرْوَۃِ کَمَا فَعَلَ عَلَی الصَّفَا ، حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرُ طَوَافِہِ عَلَی الْمَرْوَۃِ ، قَالَ : إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقَ الْہَدْیَ ، وَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً ، فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحِلَّ وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً ، فَقَامَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلِعَامِنَا ہَذَا ، أَمْ لأَبَدٍ ؟ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَہُ وَاحِدَۃً فِی الأُخْرَی ، وَقَالَ : دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ ، مَرَّتَیْنِ ، لاَ ، بَلْ لأَبَدٍ أَبَدٍ ۔ وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَۃَ مِمَّنْ حَلَّ ، وَلَبِسَتْ ثِیَابًا صَبِیغًا ، وَاکْتَحَلَتْ ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا ، فَقَالَتْ : أَبِی أَمَرَنِی بِہَذَا ، قَالَ : فَکَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ بِالْعِرَاقِ : فَذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَی فَاطِمَۃَ لِلَّذِی صَنَعَتْ ، مُسْتَفْتِیًا لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا ذَکَرَتْ عَنْہُ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی أَنْکَرْتُ ذَلِکَ عَلَیْہَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ صَدَقَتْ ، قَالَ : مَا قُلْتَ حِینَ فَرَضْتَ الْحَجَّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُک صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِنَّ مَعِی الْہَدْیَ فَلاَ تَحِلَّ ، قَالَ : فَکَانَ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِی قَدِمَ بِہِ عَلِیُّ مِنَ الْیَمَنِ ، وَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِئَۃ ، قَالَ : فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا إِلاَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ ۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ تَوَجَّہُوا إِلَی مِنًی فَأَہَلُّوا بِالْحَجِّ ، وَرَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی بِہَا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ ، ثُمَّ مَکَثَ قَلِیلاً حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ تَشُکَّ قُرَیْشٌ ، إِلاَّ أَنَّہُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ، کَمَا کَانَتْ قُرَیْشٌ تَصْنَعُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی عَرَفَۃَ فَوَجَدَ الْقُبَّۃَ قَدْ ضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ ، فَنَزَلَ بِہَا حَتَّی إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَہُ ، فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِی فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَقَالَ : إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا ، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا ، أَلاَ کُلَّ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمیَّ مَوْضُوعٌ ، وَدِمَائُ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعَۃٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ، کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِی بَنِی سَعْدٍ ، فَقَتَلَتْہُ ہُذَیْلٌ ، وَرِبَا أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ ، وَأَوَّلُ رِبَاً أَضَعُ رِبَانَا ، رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَإِنَّہُ مَوْضُوعٌ کُلُّہُ ، فَاتَّقُوا اللَّہَ فِی النِّسَائِ ، فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوہُنَّ بِأَمر اللہِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللہِ ، وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ أَنْ لاَ یُوطِئْنَ فُرُشَکُمْ أَحَدًا تَکْرَہُونَہُ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِکَ فَاضْرِبُوہُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ ، وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَقَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ إِنَ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ ؛ کِتَابُ اللہِ ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّی ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ قَالُوا : نَشْہَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ ، فَقَالَ : بِإِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ ، یَرْفَعُہَا إِلَی السَّمَائِ وَیَنْکُتُہَا إِلَی النَّاسِ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَّلی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَّلی الْعَصْرَ ، وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا ۔ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِہِ الْقَصْوَائَ إِلَی الصَّخَرَاتِ ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاۃِ بَیْنَ یَدَیْہِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَذَہَبَتِ الصُّفْرَۃُ قَلِیلاً حَتَّی غَابَ الْقُرْصُ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ خَلْفَہُ ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَائِ الزِّمَامَ ، حَتَّی إِنَّ رَأْسَہَا لَیُصِیبُ مَوْرِکَ رَحْلِہِ ، وَیَقُولُ بِیَدِہِ الْیُمْنَی : أَیُّہَا النَّاسُ ، السَّکِینَۃَ السَّکِینَۃَ ، کُلَّمَا أَتَی حَبْلاً مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَی لَہَا قَلِیلاً ، حَتَّی تَصْعَدَہ ۔
حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی بِہَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَیْنِ ، وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا شَیْئًا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَصَلَّی حِینَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ ، ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، فَدَعَاہُ وَکَبَّرَہُ وَہَلَّلَہُ وَوَحَّدَہُ ، فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی أَسْفَرَ جِدًّا ، فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَجُلاً حَسَنَ الشَّعْرِ ، أَبْیَضَ وَسِیمًا ۔ فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ ظُعُنٌ یَجْرِینَ ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ إِلَیْہِنَّ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ عَلَی وَجْہِہِ ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْہَہُ إلَی الشِّقِّ الآخَرِ یَنْظُرُ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ عَلَی وَجْہِ الْفَضْلِ ، فَصْرِفُ وَجْہَہُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ یَنْظُرُ ، حَتَّی أَتَی مُحَسِّراً فَحَرَّکَ قَلِیلاً ، ثُمَّ سَلَکَ الطَّرِیقَ الْوُسْطَی الَّتِی تُخْرِجُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْکُبْرَی، حَتَّی أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ ، یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، مِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ ، رَمَی مِنْ بَطْنِ الْوَادِی ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ ، فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّینَ بِیَدِہِ ، ثُمَّ أَعْطَی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ مِنْہَا ، وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ ، وَأَمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ فَجُعِلَتْ فِی قِدْرٍ ، فَطُبِخَتْ ، فَأَکَلاَ مِنْ لَحْمِہَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا ۔ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَی الْبَیْتِ ، فَصَلَّی بِمَکَّۃَ الظُّہْرَ ، فَأَتَی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ ، فَقَالَ : انْزِعُوا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلاَ أَنْ یَغْلِبَکُمَ النَّاسُ عَلَی سِقَایَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ ، فَنَاوَلُوہُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْہُ۔
ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَۃِ حتَّی انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ إِلَی بَطْنِ الْوَادِی ، حَتَّی إِذَا صَعِدْنَا مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَۃَ ، فَفَعَلَ عَلَی الْمَرْوَۃِ کَمَا فَعَلَ عَلَی الصَّفَا ، حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرُ طَوَافِہِ عَلَی الْمَرْوَۃِ ، قَالَ : إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقَ الْہَدْیَ ، وَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً ، فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحِلَّ وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً ، فَقَامَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلِعَامِنَا ہَذَا ، أَمْ لأَبَدٍ ؟ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَہُ وَاحِدَۃً فِی الأُخْرَی ، وَقَالَ : دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ ، مَرَّتَیْنِ ، لاَ ، بَلْ لأَبَدٍ أَبَدٍ ۔ وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَۃَ مِمَّنْ حَلَّ ، وَلَبِسَتْ ثِیَابًا صَبِیغًا ، وَاکْتَحَلَتْ ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا ، فَقَالَتْ : أَبِی أَمَرَنِی بِہَذَا ، قَالَ : فَکَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ بِالْعِرَاقِ : فَذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَی فَاطِمَۃَ لِلَّذِی صَنَعَتْ ، مُسْتَفْتِیًا لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا ذَکَرَتْ عَنْہُ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی أَنْکَرْتُ ذَلِکَ عَلَیْہَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ صَدَقَتْ ، قَالَ : مَا قُلْتَ حِینَ فَرَضْتَ الْحَجَّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُک صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِنَّ مَعِی الْہَدْیَ فَلاَ تَحِلَّ ، قَالَ : فَکَانَ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِی قَدِمَ بِہِ عَلِیُّ مِنَ الْیَمَنِ ، وَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِئَۃ ، قَالَ : فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا إِلاَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ ۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ تَوَجَّہُوا إِلَی مِنًی فَأَہَلُّوا بِالْحَجِّ ، وَرَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی بِہَا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ ، ثُمَّ مَکَثَ قَلِیلاً حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ تَشُکَّ قُرَیْشٌ ، إِلاَّ أَنَّہُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ، کَمَا کَانَتْ قُرَیْشٌ تَصْنَعُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی عَرَفَۃَ فَوَجَدَ الْقُبَّۃَ قَدْ ضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَۃَ ، فَنَزَلَ بِہَا حَتَّی إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَہُ ، فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِی فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَقَالَ : إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا ، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا ، أَلاَ کُلَّ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمیَّ مَوْضُوعٌ ، وَدِمَائُ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعَۃٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ، کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِی بَنِی سَعْدٍ ، فَقَتَلَتْہُ ہُذَیْلٌ ، وَرِبَا أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ ، وَأَوَّلُ رِبَاً أَضَعُ رِبَانَا ، رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَإِنَّہُ مَوْضُوعٌ کُلُّہُ ، فَاتَّقُوا اللَّہَ فِی النِّسَائِ ، فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوہُنَّ بِأَمر اللہِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللہِ ، وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ أَنْ لاَ یُوطِئْنَ فُرُشَکُمْ أَحَدًا تَکْرَہُونَہُ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِکَ فَاضْرِبُوہُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ ، وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَقَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ إِنَ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ ؛ کِتَابُ اللہِ ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّی ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ قَالُوا : نَشْہَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ ، فَقَالَ : بِإِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ ، یَرْفَعُہَا إِلَی السَّمَائِ وَیَنْکُتُہَا إِلَی النَّاسِ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَّلی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَّلی الْعَصْرَ ، وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا ۔ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِہِ الْقَصْوَائَ إِلَی الصَّخَرَاتِ ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاۃِ بَیْنَ یَدَیْہِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَذَہَبَتِ الصُّفْرَۃُ قَلِیلاً حَتَّی غَابَ الْقُرْصُ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ خَلْفَہُ ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَائِ الزِّمَامَ ، حَتَّی إِنَّ رَأْسَہَا لَیُصِیبُ مَوْرِکَ رَحْلِہِ ، وَیَقُولُ بِیَدِہِ الْیُمْنَی : أَیُّہَا النَّاسُ ، السَّکِینَۃَ السَّکِینَۃَ ، کُلَّمَا أَتَی حَبْلاً مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَی لَہَا قَلِیلاً ، حَتَّی تَصْعَدَہ ۔
حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی بِہَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَیْنِ ، وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا شَیْئًا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَصَلَّی حِینَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ ، ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، فَدَعَاہُ وَکَبَّرَہُ وَہَلَّلَہُ وَوَحَّدَہُ ، فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی أَسْفَرَ جِدًّا ، فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَجُلاً حَسَنَ الشَّعْرِ ، أَبْیَضَ وَسِیمًا ۔ فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ ظُعُنٌ یَجْرِینَ ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ إِلَیْہِنَّ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ عَلَی وَجْہِہِ ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْہَہُ إلَی الشِّقِّ الآخَرِ یَنْظُرُ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ عَلَی وَجْہِ الْفَضْلِ ، فَصْرِفُ وَجْہَہُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ یَنْظُرُ ، حَتَّی أَتَی مُحَسِّراً فَحَرَّکَ قَلِیلاً ، ثُمَّ سَلَکَ الطَّرِیقَ الْوُسْطَی الَّتِی تُخْرِجُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْکُبْرَی، حَتَّی أَتَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الشَّجَرَۃِ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ ، یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ مِنْہَا ، مِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ ، رَمَی مِنْ بَطْنِ الْوَادِی ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ ، فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّینَ بِیَدِہِ ، ثُمَّ أَعْطَی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ مِنْہَا ، وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ ، وَأَمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ فَجُعِلَتْ فِی قِدْرٍ ، فَطُبِخَتْ ، فَأَکَلاَ مِنْ لَحْمِہَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا ۔ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَی الْبَیْتِ ، فَصَلَّی بِمَکَّۃَ الظُّہْرَ ، فَأَتَی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ ، فَقَالَ : انْزِعُوا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلاَ أَنْ یَغْلِبَکُمَ النَّاسُ عَلَی سِقَایَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ ، فَنَاوَلُوہُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٦) حضرت مسروق سے مروی ہے کہ کتاب اللہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، نماز قائم کرنے کا، زکوۃ ادا کرنے کا، حج ادا کرنے کا اور عمرہ کرنے کا۔
(۱۴۹۲۶) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أُمِرْتُمْ فِی الْکِتَابِ بِإِقَامَۃِ أَرْبَعٍ ؛ بِإِقَامَۃِ الصَّلاَۃِ ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ ، وَإِقَامَۃِ الْحَجِّ ، وَالْعُمْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٧) حضرت عطائ سے دریافت کیا گیا کہ سندیہ مرغی جو حرم سے نکالی جاتی ہے (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ شکار ہے۔
(۱۴۹۲۷) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الدَّجَاجَۃِ السِّنْدِیَّۃِ یُخْرَجُ بِہَا مِنَ الْحَرَمِ ؟ فَقَالاَ : لاَ ، ہِیَ صَیْدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
(١٤٩٢٨) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ ازواج مطہرات مردوں کے ساتھ طواف کیا کرتی تھیں، حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے کہا : آؤ حجر اسود کا استلام کریں، آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو اور اس سے آگے نکل جاؤ (بغیر بوسہ دیئے) ۔
(۱۴۹۲۸) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُنَّ یَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ ، قَالَ عَطَائٌ : وَقَالَتِ امْرَأَۃٌ لِعَائِشَۃَ : تَعَالَیْ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلِمِیہِ ، قَالَتْ : انفُذی عَنْکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کا حشیش (گھاس) کاٹنا (اکٹھی کرنا)
(١٤٩٢٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ محرم گھاس اکٹھی کرے۔
(۱۴۹۲۹) حدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَحْتَشَّ الْمُحْرِمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کا حشیش (گھاس) کاٹنا (اکٹھی کرنا)
(١٤٩٣٠) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۴۹۳۰) حدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کو شکار مردار پہ مجبور کیا جائے
(١٤٩٣١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جس محرم کو مردار اور شکار پر مجبور کیا جائے تو مردار کھالے لیکن شکار کو نہ کھائے اور اس کے درپے نہ ہو۔
(۱۴۹۳۱) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ فِیمَنِ اضْطُرَّ إِلَی مَیْتَۃٍ وَصَیْدٍ : یَأْکُلُ الْمَیْتَۃَ ، وَلاَ یَأْکُلُ الصَّیْدَ ، وَلاَ یَعْرِضُ لَہُ ، یَعْنِی الْمُحْرِمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ گونگے کی طرف سے تلبیہ پڑھا جائے گا
(١٤٩٣٢) حضرت عطائ فرماتے کہ گونگے اور بچے کی طرف سے تلبیہ پڑھا جائے گا۔
(۱۴۹۳۲) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یُلَبَّی عَنِ الأَخْرَسِ وَالصَّبِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خاتون عمرہ کرنے کی نیت سے آئے لیکن اس کو حیض آ جائے
(١٤٩٣٣) حضرت حسن اس عورت کے متعلق فرماتے ہیں جو عمرہ کے لیے آئے لیکن اس کو حیض آجائے تو وہ عمرہ پر حج کا احرام باندھے گی اور وہ عرفات کی طرف چلے گی اس حال میں کہ وہ قران کرنے والی ہے۔
(۱۴۹۳۳) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی امْرَأَۃٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَۃً وَہِیَ حَائِضٌ ، قَالَ : تُہِلُّ بِالْحَجِّ عَلَی عُمْرَتِہَا ، وَتَمْضِی إِلَی عَرَفَاتٍ وَہِیَ قَارِنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خاتون عمرہ کرنے کی نیت سے آئے لیکن اس کو حیض آ جائے
(١٤٩٣٤) حضرت عطائ سے اسی طرح منقول ہے۔
(۱۴۹۳۴) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص تلبیہ پڑھنے کے ارادے سے تکبیر پڑھ لے
(١٤٩٣٥) حضرت طاؤس سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص تلبیہ پڑھنے کی نیت کرے اور وہ تکبیر پڑھ لے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔
(۱۴۹۳۵) حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ یُلَبِّیَ فَکَبَّرَ ؟ قَالَ : یُجْزِئْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خاتون عمرہ کرنے کی نیت سے آئے لیکن اس کو حیض آ جائے
(١٤٩٣٦) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ وہ (تلبیہ) لوٹائے گا۔
(۱۴۹۳۶) حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یَرْجِعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خاتون عمرہ کرنے کی نیت سے آئے لیکن اس کو حیض آ جائے
(١٤٩٣٧) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
(۱۴۹۳۷) حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یُجْزِئْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت اگر خاوند کی اجازت کے بغیر حج کا احرام باندھ لے
(١٤٩٣٨) حضرت مطر سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے اپنے شوہر سے حج کی اجازت مانگی لیکن شوہر نے اس کو اجازت نہ دی، پھر اس نے خاوند سے بیت اللہ کی زیارت کی اجازت مانگی تو شوہر نے اجازت دے دی، پھر اس خاتون نے اس پر سفید کپڑوں کو ملا لیا اور حج کے لیے فریاد تلبیہ (آواز) کرنے لگی، لوگ حضرت حسن کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا ؟ حضرت حسن نے ارشاد فرمایا : احمقو ! اس کو یہ جائز ہے، حضرت مطر فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ (شمار ہوگی) ہے،
حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں مکہ مکرمہ گیا اور میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ایک شخص کے ذمہ لگایا کہ حضرت عطاء بن ابی رباح سے پوچھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ! آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے اس پر یہ نہیں ہے۔
حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں مکہ مکرمہ گیا اور میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ایک شخص کے ذمہ لگایا کہ حضرت عطاء بن ابی رباح سے پوچھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ! آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے اس پر یہ نہیں ہے۔
(۱۴۹۳۸) حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الْعَمِّیُّ ، قَالَ : سُئِلَ مَطَرٌ ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ امْرَأَۃٍ اسْتَأْذَنَتْ زَوْجَہَا فِی الْحَجِّ فَلَمْ یَأْذَنْ لَہَا ، فَاسْتَأْذَنَتْہُ أَنْ تَزُورَ فَأَذِنَ لَہَا ، فَضَمَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابًا لَہَا بَیضَائَ وَصَرَخَتْ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ : فَأَتَوُا الْحَسَنَ فَسَأَلُوہُ ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ : اللَّکَعَۃُ لَیْسَ لَہَا ذَاکَ ، قَالَ مَطَرٌ : وَسُئِلَ قَتَادَۃُ ؟ فَقَالَ : ہِیَ مُحْرِمَۃٌ ، قَالَ مَطَرٌ : فَانْطَلَقَتُ إِلَی مَکَّۃَ فَسَأَلَتُ الْحَکَمَ بْنَ عُتَیْبَۃَ ؟ فَقَالَ : ہِیَ مُحْرِمَۃٌ ، قَالَ مَطَرٌ : فَأَمَرْتُ رَجُلاً فَسَأَلَ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ ؟ فَقَالَ : لاَ ، وَلاَ نِعْمَۃُ عَیْنٍ ، لَیْسَ لَہَا ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت اگر خاوند کی اجازت کے بغیر حج کا احرام باندھ لے
(١٤٩٣٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حج جب فرض ہوجائے اور خاتون کے ساتھ کوئی محرم بھی موجود ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کہ وہ شوہر سے اجازت لیے بغیر حج کے لیے نکل جائے۔
(۱۴۹۳۹) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِذَا کَانَتِ الْفَرِیضَۃُ ، وَکَانَ لَہَا مَحْرَمٌ ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ تَخْرُجَ ، وَلاَ تَسْتَأْذِنَ زَوْجَہَا۔
তাহকীক: