মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭২ টি

হাদীস নং: ১৫৩৫৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا (اکھٹا احرام باندھنا)
(١٥٣٦٠) حضرت ابو نصر سے مروی ہے کہ حضرت علی نے ان سے فرمایا کہ حج وعمرہ دونوں کے لیے تلبیہ پڑھو، جب تم مکہ مکرمہ آؤ تو ان کے لیے دو طواف کرو، ایک طواف عمرہ کے لیے اور ایک طواف حج کے لیے، اور تم میں سے کوئی بھی یوم النحر سے پہلے احرام نہ کھولے۔
(۱۵۳۶۰) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ ؛ أَنَّ عَلِیًّا ، قَالَ لَہُ : لَبِّ بِہِمَا جَمِیعًا ، فَإِذَا قَدِمْتَ مَکَّۃَ ، فَطُفْ لَہُمَا طَوَافَیْنِ ؛ طَوَافًا لِعُمْرَتِکَ ، وَطَوَافًا لِحَجَّتِکَ ، وَلاَ تُحِلَّنَّ مِنْکَ حَرَامًا دُونَ یَوْمِ النَّحْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا (اکھٹا احرام باندھنا)
(١٥٣٦١) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : جب تم نے حج کا ارادہ کیا تھا تو کیا کہا تھا ؟ حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے یوں کہا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُکَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میرے پاس تو ھدی ہے اور جو ھدی کے ساتھ محرم ہے وہ حلال نہ ہو، راوی فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا اور قصر کروا لیا سوائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور ان لوگوں کے جن کے پاس ھدی تھی۔
(۱۵۳۶۱) حدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَابِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِیٍّ : مَا قُلْتَ حِینَ فَرَضْتَ الْحَجَّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُکَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِنَّ مَعِی الْہَدْیَ ، فَلاَ یَحِلُّ مِنْکَ حَرَامٌ ، قَالَ : فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ وَقَصَّرُوا ، إِلاَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا (اکھٹا احرام باندھنا)
(١٥٣٦٢) حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر تشریف لائے اور آپ دونوں نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، پس آپ دونوں یوم النحر تک حلال نہ ہوئے۔
(۱۵۳۶۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عُرْوَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانَا یَقْدُمَانِ وَہُمَا مُہِلاَّنِ بِالْحَجِّ ، فَلاَ یَحِلُّ مِنْہُمَا حَرَامًا إِلَی یَوْمِ النَّحْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا (اکھٹا احرام باندھنا)
(١٥٣٦٣) حضرت ابن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص حج وعمرہ کا احرام باندھے اس کے لیے ایک طواف ہی کافی ہے اور وہ احرام نہ کھولے یہاں تک کہ اپنا حج بھی مکمل کرے پھر دونوں احراموں کو کھول دے۔
(۱۵۳۶۳) حدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ جَمِیعًا کَفَاہُ طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَقْضِیَ حَجَّتَہُ ، وَیَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٤) حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن میں حضرت ابن عمر کے پہلو میں تھا اور میری سواری ان کی سواری کے ساتھ لگی ہوئی تھی یا میری ران ان کی ران کے ساتھ لگی ہوئی تھی، میں نے ان سے ان کلمات سے زائد کچھ نہیں سنا، لاَ إلَہَ لاَ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ یہاں تک کہ عرفات سے منیٰ کی طرف چل پڑے۔
(۱۵۳۶۴) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلٍ ، عَنْ أَبِی شُعْبَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ بِجَنْبِ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَۃَ ، وَإِنَّ رُکْبَتِی لَتَمَسُّ رُکْبَتَہُ ، أَوْ فَخِذِی تَمَسُّ فَخِذَہُ ، فَمَا سَمِعْتُہُ یَزِیدُ عَلَی ہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ ؛ لاَ إلَہَ لاَ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، حَتَّی أَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ إلَی جَمْعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٥) حضرت داؤد بن ابو عاصم فرماتے ہیں کہ میں حضرت سالم بن عبداللہ کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرا تاکہ میں دیکھوں وہ کیا کرتے ہیں، وہ ذکر اور دعاؤں میں مشغول رہے یہاں تک کہ لوگ منیٰ چلے گئے۔
(۱۵۳۶۵) حدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی عاصِمٍ ، قَالَ : وَقَفْت مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بِعَرَفَۃَ ، أَنْظُرُ کَیْفَ یَصْنَعُ ؟ ، فَکَانَ فِی الذِّکْرِ وَالدُّعَائِ حَتَّی أَفَاضَ النَّاسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٦) حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : اکثر میں اور میرے سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے تھے۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ تو میرے دل، کان اور آنکھ کو منور فرما۔ اے اللہ میرے سینہ کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر دے۔ میں تجھ سے قلبی وساوس اور معاملہ کی سختی سے پناہ مانگتا ہوں اور فتنہ قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ میرے یا سے فتنوں سے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جو دن یا رات میں پیش آئیں اور جن فتنوں کو ہوا لے کر چلے۔
(۱۵۳۶۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَخِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَکْثَرُ دُعَائِی ، وَدُعَائِ الأَنْبِیَائِ قَبْلِی بِعَرَفَۃَ ؛ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا ، وَفِی سَمْعِی نُورًا ، وَفِی بَصَرِی نُورًا ، اللَّہُمَّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی ، وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ ، وَشَتَاتِ الأَمْرِ ، وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ ، اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی اللَّیْلِ ، وَشَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّہَارِ ، وَشَرِّ مَا تَہُبُّ بِہِ الرِّیَاحُ۔

(ترمذی ۳۵۲۔ ابن خزیمۃ ۲۸۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٧) حضرت ابن ابی حسین سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اکثر میں اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے ہیں : اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہیں اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تمام بھلائیاں اس ہی کے قبضہ میں ہیں۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔
(۱۵۳۶۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَرَبِیٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَکْثَرُ دُعَائِی وَدُعَائِ الأَنْبِیَائِ قَبْلِی بِعَرَفَۃَ ؛ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ ، یُحْیِی وَیُمِیتُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٨) حضرت ابن الحنفیہ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ حج میں کون سی دعا پڑھنا افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔
(۱۵۳۶۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : مَا أَفْضَلُ مَا نَقُولُ فِی حَجِّنَا ؟ قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٦٩) حضرت صدقہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ عرفات میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا افضل ہے یا ذکر کرنا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت کرنا افضل ہے۔
(۱۵۳۶۹) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنْ قِرَائَۃِ الْقُرْآنِ ، أَفْضَلُ یَوْمَ عَرَفَۃَ ، أَوِ الذِّکْرِ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ قِرَائَۃُ الْقُرْآنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
(١٥٣٧٠) حضرت عبد الرحمن بن شتر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الحنفیہ سے عرض کیا کہ حج میں ہم کیا کہیں تو افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔
(۱۵۳۷۰) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَتْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : مَا أَفْضَلُ مَا نَقُولُ فِی حَجِّنَا ؟ قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧١) قبیلہ بکر بن وائل میں سے ایک شخص نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا کہ ہم حج کے لیے مزدوری کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کا گمان ہے کہ ہمارا حج نہیں ہوا، حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے تلبیہ نہیں پڑھا، کعبہ کا طواف نہیں کیا ؟ ہم نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ؟ فرمایا کہ پھر تم لوگ حج کرنے والے ہو، ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تھا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوگئی کہ { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ }، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنا دی اور پھر فرمایا تم لوگ حج کرنے والے ہو۔
(۱۵۳۷۱) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ : إنَّا نُکْرِی فِی ہَذَا الْوَجْہِ للْحَجِّ ، وَإِنَّ أُنَاسًا یَزْعُمُونَ أَنْ لاَ حَجَّ لَنَا ، قَالَ : أَلَسْتُمْ تُلَبُّونَ ، وَتَطُوفُونَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ ، وَتَقِفُونَ بِالْمَوْقِفِ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَإِنَّکُمْ حُجَّاجٌ ، قَدْ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ عَنْ مِثْلِ الَّذِی سَأَلْتَنِی عَنْہُ فَلَمْ یُجِبْہُ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ} فَدَعَاہُ فَقَرَأَہَا عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّکُمْ حُجَّاجٌ۔

(ابوداؤد ۱۷۳۰۔ احمد ۲/۱۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٢) حضرت ابن عباس کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں خود کو (خدمت حج) کے لیے کرائے کے طور پر پیش کیا۔ لیکن میں نے حج کی وجہ سے اپنی اجرت چھوڑ دی تو کیا میرا حج ہوگیا۔ تو کیا میری طرف سے (حج) کافی ہوگیا ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ اسی میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : { اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب }۔
(۱۵۳۷۲) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّی أَکْرَیْتُ نَفْسِی مِنْ قَوْمٍ ، وَوَضَعْتُ عَنْہُمْ مِنْ أَجْرِی مِنْ أَجْلِ الْحَجِّ ، فَہَلْ یُجْزِئُ ذَلِکَ عَنِّی ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ہَذَا مِنَ الَّذِینَ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : {أُولَئِکَ لَہُمْ نَصِیبٌ مِمَّا کَسَبُوا وَاللَّہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٣) حضرت حسن سے اس مزدور کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے مکہ تک مزدوری کی پھر وہ مالدار ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
(۱۵۳۷۳) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الأَجِیرِ یُؤَاجِرُ نَفْسَہُ إِلَی مَکَّۃَ ، ثُمَّ یُوسِرُ ، قَالَ : یُجْزِئُ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٤) حضرت عطائ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد تاجر اور مزدور کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
(۱۵۳۷۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَطَاوُوسٍ ، وَمُجَاہِدٍ ؛ فِی التَّاجِرِ وَالْکَرِیِّ ، قَالُوا : یُجْزِئُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٥) حضرت ابن عمر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے آپ کو حاجیوں کی مزدوری کے لیے پیش کردیا، کہ اس کی طرف سے حج کافی ہوجائے گا۔
(۱۵۳۷۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ أَبِی طَالُوتَ ، عَنْ أَبِی السَّلِیلِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُکْرِی نَفْسَہُ فِی الْحَجِّ ، قَالَ : یُجْزِئُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٦) حضرت عمر بن ذرّ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے تاجر، مزدور اور اجیر کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ مزدور کے حج میں کوئی نقص اور کمی نہیں آئے گی، نہ تاجر کے حج میں اور نہ ہی اجیر کے حج میں۔
(۱۵۳۷۶) حدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ التَّاجِرِ ، وَالْکَرِیِّ ، وَالأَجِیرِ ؟ قَالَ : لاَ یُنْتَقَصُ الْکَرِیُّ مِنْ حَجِّہِ ، وَلاَ التَّاجِرُ مِنْ حَجِّہِ ، وَلاَ الأَجِیرُ مِنْ حَجِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٧) حضرت سعید بن جبیر سے ایک اعرابی نے دریافت کیا کہ میں نے ایک اونٹ مزدوری پر لیا اور میرا حج کرنے کا ارادہ ہے کیا یہ میرے لیے کافی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(۱۵۳۷۷) حدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ وَسَأَلَہُ أَعْرَابِیٌّ ، فَقَالَ : إِنِّی أَکْرَیْتُ إِبِلاً وَأَنَا أُرِیدُ الْحَجَّ ، أَیُجْزِئُنِی ؟ قَالَ : لاَ ، وَلاَ کَرَامَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٨) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ نہیں کافی ہوگا۔
(۱۵۳۷۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لاَ یُجْزِئُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا مزدور کے لیے اس کا حج کافی ہو جائے گا ؟
(١٥٣٧٩) حضرت ابو السلیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مزدوری کرنے والے کا حج نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا بلکہ اس کا اچھا اور عمدہ حج ہوگا اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، امانت کو صحیح طریقے سے ادا کرے اور اچھا ساتھی بن کر رہے۔
(۱۵۳۷۹) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی السَّلِیلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : إِنَّ أُنَاسًا یَزْعُمُونَ، أَوْ مَنْ زَعَمَ مِنْہُمْ ، أَنَّ الْکَرِیَّ لاَ حَجَّ لَہُ ؟ قَالَ : بَلْ لَہُ حَجٌّ حَسَنٌ جَمِیلٌ ، إِنِ اتَّقَی اللَّہَ ، وَأَدَّی الأَمَانَۃَ ، وَأَحْسَنَ الصَّحَابَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক: