মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭২ টি
হাদীস নং: ১৩৫১৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طواف کرے تو وہ کس دروازے سے صفا کی طرف نکلے ؟
(١٣٥٢٠) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو مخزوم کے دروازے سے صفا کی طرف نکلے۔
(۱۳۵۲۰) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إلَی الصَّفَا مِنْ بَابِ بَنِی مَخْزُومٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طواف کرے تو وہ کس دروازے سے صفا کی طرف نکلے ؟
(١٣٥٢١) حضرت ابن عمر جب تشریف لاتے تو طواف فرماتے پھر دو رکعتیں ادا کرتے اور صفا کی طرف اس دروازے سے نکلتے جو پانی پلانے والی جگہ کے قریب تھا۔
(۱۳۵۲۱) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَدِمَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، خَرَجَ إلَی الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الَّذِی یَلِی السِّقَایَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طواف کرے تو وہ کس دروازے سے صفا کی طرف نکلے ؟
(١٣٥٢٢) حضرت حسن فرماتے ہیں صفا کے لیے جس دروازے سے چاہے نکلے اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۳۵۲۲) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ خَرَجَ إلَی الصَّفَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص طواف کرے تو وہ کس دروازے سے صفا کی طرف نکلے ؟
(١٣٥٢٣) حضرت عطائ فرماتے ہیں جب تم دو رکعتیں ادا کرلو تو جس دروازے سے چاہو صفا کی طرف نکلو۔
(۱۳۵۲۳) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَائٍ، قَالَ: إذَا صَلَّیْتَ فَاخْرُجْ مِنْ أَیِّ الأَبْوَابِ شِئْتَ، یَعْنِی إلَی الصَّفَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو طواف یا رمی کرتے وقت شک ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟
(١٣٥٢٤) حضرت علی فرماتے ہیں جب طواف کرتے ہوئے شک ہوجائے اور معلوم ہو کہ طواف مکمل ہوا کہ نہیں ؟ تو جو شک ہے اس کو پورا کر دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ طواف کرنے پر عذاب نہیں دے گا۔
(۱۳۵۲۴) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ فَلَمْ تَدْرِ أَأَتْمَمْتَ ، أَمْ لَمْ تُتِمْ ، فَأَتِمَّ مَا شَکَکْتَ ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ عَلَی الزِّیَادَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو طواف یا رمی کرتے وقت شک ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟
(١٣٥٢٥) حضرت عطائ سے دریافت کیا گیا کسی شخص کو طواف میں شک پڑجائے کہ اس نے طواف کیا کہ نہیں تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا وہ دوبارہ طواف کرے۔
(۱۳۵۲۵) حدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی الطَّوَافِ فَلَمْ یَدْرِ أَطَافَ ، أَمْ لَمْ یَطُفْہُ ؟ فَلْیَسْتَقْبِلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو طواف یا رمی کرتے وقت شک ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟
(١٣٥٢٦) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں جمرات کی رمی کے دوران بھول گیا کہ میں نے کتنی رمی کی ہے، میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا تو آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میرے پاس سے حضرت ابن الحنفیہ گذرے تو میں نے ان سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ ! ہمارے نزدیک نماز سے معظم کوئی شیء نہیں ہے جب ہم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو وہ نماز کا اعادہ کرتا ہے، حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو اس جواب کی خبر دی تو آپ نے فرمایا : بیشک وہ اہل بیت میں سے ہیں امور صحیح طور پر ان کو سمجھائے گئے ہیں۔
(۱۳۵۲۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : رَمَیْتُ الْجِمَارَ فَلَمْ أَدْرِ بِکَمْ رَمَیْتُ ؟ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ یُجِبْنِی ، فَمَرَّ بِی ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ ، لَیْسَ شَیْئٌ أَعْظَمَ عَلَیْنَا مِنَ الصَّلاَۃِ ، وَإِذَا نَسِیَ أَحَدُنَا أَعَادَ ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ أَہْلُ بَیْتٍ مُفَہَّمُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ پاک کا ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(١٣٥٢٧) حضرت ابن عباس اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } سے لے کر { اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر اس کی جزاء اونٹ کا حکم دیا جائے گا، اور اگر وہ اونٹ نہ پائے تو شکار کی قیمت دیکھے کہ کتنی ہے ؟ پھر اس کی قیمت کو کھانے کے ساتھ متعین کرے اور ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے، اور اللہ پاک کے ارشاد { اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } میں کھانے کا روزے کے ساتھ ارادہ کیا گیا ہے، جب وہ کھانے کو پالے تو اس نے شکار کی جزاء کو پا لیا۔
(۱۳۵۲۷) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ {فَجَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} إلَی قَوْلِہِ : {أَوْ عَدْلُ ذَلِکَ صِیَامًا} قَالَ : إذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّیْدَ حُکِمَ عَلَیْہِ بِجَزَائِہِ مِنَ النَّعَمِ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ نَظَرَ کَمْ ثَمَنُہُ ، ثُمَّ قَوَّمَ ثَمَنَہُ طَعَامًا ، فَصَامَ مَکَانَ کُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا ، {أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ ، أَوْ عَدْلُ ذَلِکَ صِیَامًا} قَالَ : إنَّمَا أُرِیدَ بِالطَّعَامِ الصِّیَامَ ، إِنَّہُ إذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَائَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ پاک کا ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(١٣٥٢٨) حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ نہ پائے تو اس پر کھانے سے قیمت متعین کرے پھر اس کو کہا جائے کہ ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھو۔
(۱۳۵۲۸) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : (وَمَنْ قَتَلَہُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ) فَإِنْ لَمْ یَجِدْ قُوِّمَ عَلَیْہِ طَعَامٌ ، ثُمَّ قِیلَ لَہُ : صُمْ لِکُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ پاک کا ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(١٣٥٢٩) حضرت عطائ، حضرت مجاہد اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر محرم شکار کرلے تو اس پر اس کی قیمت لازم ہے جس سے وہ دم خریدے، اور اگر وہ جانور نہ پائے تو کھانے کے ساتھ قیمت متعین کرے اور ہر مسکین پر ایک صاع صدقہ کرے اور اگر وہ مسکین بھی نہ پائے تو ہر صاع کے بدلے دو روزے رکھے۔
(۱۳۵۲۹) حدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِیبٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَمُجَاہِدٍ ، وَإِبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُمْ قَالُوا : إذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّیْدَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہُ فَاشْتَرَی دَمًا ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ دَمًا قَوَّمَ طَعَامًا فَتَصَدَّقَ عَلَی کُلِّ مِسْکِینٍ نِصْفَ صَاعٍ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ لِکُلِّ صَاعٍ یَوْمَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ پاک کا ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(١٣٥٣٠) حضرت میمون بن مہران کے سامنے ذکر کیا گیا کہ محرم نے اگر شکار کرلیا آپ نے فرمایا اللہ پاک کا ارشاد ہے : { جَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } اگر وہ شخص شکار کی جزاء پالے تو وہ ذبح کر دے، اور اگر نہ پائے تو ثمن کے ساتھ قیمت متعین کرے، پھر اس سے کھانا لے اور مساکین پر صدقہ کر دے اور اگر مساکین نہ پائے تو ہر مسکین کے کھانے کے بدلے ایک روزہ رکھے۔
(۱۳۵۳۰) حدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : ذَکَرَ مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ فِی قَتْلِ الرَّجُلِ الصَّیْدَ وَہُوَ مُحْرِمٌ ، قَالَ : {جَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ} إِنْ وَجَدَ الرَّجُلُ جَزَائَ الصَّیْدِ أَہْدَی ، وَإِنْ لَمْ یَجِدْ فقیمۃ ثَمَنِہِ ، فَیَجْعَلُہُ طَعَامًا یَتَصَدَّقُ بِہِ عَلَی الْمَسَاکِینِ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ عَنْ طَعَامِ کُلِّ مِسْکِینٍ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ پاک کا ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(١٣٥٣١) حضرت مقسم فرماتے ہیں دراہم سے قیمت لگائے پھر دراہم سے کھانے کی قیمت متعین کرے پھر ہر نصف صاع کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھے۔
(۱۳۵۳۱) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسِمٍ قَالَ : یُقَوَّم عَلَیْہِ دَرَاہِمَ ، ثُمَّ یُقَوَّم بِالدَّرَاہِمِ الطَّعَامَ ، ثُمَّ یَصُومُ لِکُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } حج کے زمانے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
(۱۳۵۳۲) حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کَانَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ نَزَلَتْ : {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَّبِّکُمْ} قَالَ : فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٣) حضرت عبید اللہ بن ابو یزید اور حضرت ابن الزبیر سے بھی یہی مروی ہے۔
(۱۳۵۳۳) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ۔(ح) وَعَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ؛ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ) قَالَ : فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٤) حضرت ابن عمر سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حج کے لیے جائے اور ساتھ سامان تجارت لے جائے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، { یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رِضْوَانًا }۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضوان کو تلاش کرتے ہیں۔
(۱۳۵۳۴) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی أُمَیْمَۃَ ؛ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ یَحُجُّ ، وَیَحْمِلُ مَعَہُ تِجَارَۃً ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، وَتَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ رَبِّہِمْ وَرِضْوَانًا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ حاجی انپے ساتھ سامان تجارت رکھے، اور حضرت محمد فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اس شخص کے لیے (حج اور تجارت) دونوں کو جمع کر دے۔
(۱۳۵۳۵) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَحُجَّ الرَّجُلُ وَمَعَہُ تِجَارَۃٌ۔قَالَ : وَقَالَ مُحَمَّدٌ : إِنَّ اللہ قَادِرٌ عَلَی أَنْ یَجْمَعَہُمَا لَہُ جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام دوران حج تجارت نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی (تو تجارت شروع کردی) ۔
(۱۳۵۳۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانُوا لاَ یَتَّجِرُونَ حَتَّی نَزَلَتْ : {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں صحابہ کرام ایام حج میں خریدو فروخت نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی تو خریدو فروخت شروع کردی۔
(۱۳۵۳۷) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ} قَالَ : کَانُوا لاَ یَبِیعُونَ وَلاَ یَشْتَرُونَ فِی أَیَّامِ مِنًی ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی : {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سفر حج میں تجارت کرنا
(١٣٥٣٨) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی تو حج کے زمانے میں ان کے لیے تجارت حلال کردی گئی، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں منیٰ اور عرفات میں خریدو فروخت نہ کرتے تھے۔
(۱۳۵۳۸) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ وَرْقَائَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ) التِّجَارَۃُ فِی الْمَوَاسِمِ أُحِلَّتْ لَہُمْ ، کَانُوا لاَ یَتَبَایَعُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ بِعَرَفَۃَ ، وَلاَ مِنًی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص نے خود پہلے حج نہ کیا ہو لیکن وہ دوسرے شخص کی طرف سے حج ادا کرے
(١٣٥٣٩) حضرت عطائ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا ایک شخص نے شبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ رہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو پھر شبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ وگرنہ اپنی طرف سے ہی تلبیہ پڑھ۔
(۱۳۵۳۹) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً یَقُولُ: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ ، فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْ شُبْرُمَۃَ ، وَإِلاَّ فَلَبِّ عَنْ نَفْسِکَ۔ (دارقطنی ۱۵۶)
তাহকীক: