মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭২ টি

হাদীস নং: ১৩৭৫৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ وہ پیدل بیت اللہ جائے گا، پھر وہ کچھ سفر طے کر کے عاجز آ جائے
(١٣٧٦٠) حضرت عبید اللہ کی والدہ محترمہ نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی، پھر جب وہ پیدل سفر کر کے مقام سقیاء تک پہنچی تو مزید پیدل سفر سے عاجز آگئیں، حضرت ابن عمر سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس کو کہو کہ وہ آئندہ سال پھر آئے اور جہاں سے وہ پیدل چلنے سے عاجز آئی تھی وہاں سے پیدل چل کر آگے کا سفر کرے۔
(۱۳۷۶۰) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أُذَیْنَۃَ ، قَالَ مَالِکٌ : جَدَّتُہُ، وَقَالَ عُبَیْدُ اللہِ : أُمَّہُ ، جَعَلَتْ عَلَیْہَا الْمَشْیَ ، فَمَشَتْ حَتَّی إذَا انْتَہَتْ إلَی السُّقْیَا عَجَزَتْ ، فَسُئل ابْنَ عُمَرَ؟ فَقَالَ : مُرُوہَا أَنْ تَعُودَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، فَتَمْشِی مِنْ حَیْثُ عَجَزَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ وہ پیدل بیت اللہ جائے گا، پھر وہ کچھ سفر طے کر کے عاجز آ جائے
(١٣٧٦١) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ جو خاتون بھی یہ نذر مانے کہ وہ پیدل حج کرے گی پھر وہ پیدل چلنے کی طاقت نہ رکھے تو اس کو چاہیے کہ سوار ہوجائے اور اونٹ کی قربانی کرے۔
(۱۳۷۶۱) حدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ جَعَلَتْ عَلَیْہَا الْمَشْیَ إلَی الْبَیْتِ فَلَمْ تَسْتَطِعْ ، فَلْتَرْکَبْ وَلِتُہْدِ بَدَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص عرفات سے منیٰ کے راستہ کے علاوہ کسی اور راستہ سے نکلے
(١٣٧٦٢) حضرت سعید بن جبیر اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص عرفات سے واپس آتے وقت منیٰ کے علاوہ دائیں بائیں کوئی اور راستہ اختیار کرے۔
(۱۳۷۶۲) حدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّہُ لَمْ یَرَ بَأْسًا إذَا أَقْبَلَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، أَنْ یَأْخُذَ غَیْرَ طَرِیقِ مِنًی شِمَالاً ، وَیَمِینًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص عرفات سے منیٰ کے راستہ کے علاوہ کسی اور راستہ سے نکلے
(١٣٧٦٣) حضرت عطائ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ جب کوئی شخص عرفات سے آئے تو منیٰ کے بجائے ” ضب “ پہاڑ کا راستہ اختیار کرے ۔
(۱۳۷۶۳) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، أَوِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَأْخُذَ غَیْرَ طَرِیقِ مِنًی، إذَا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، طَرِیقِ ضَبٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر اپنے تین بال اکھیڑ دے تو اس پر کیا لازم ہے ؟
(١٣٧٦٤) حضرت حسن اور حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ محرم اگر اپنے تین بال اکھیڑ لے تو اس پر دم واجب ہے اور اس معاملہ میں جان بوجھ کر کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں برابر ہیں۔
(۱۳۷۶۴) حدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَطَائٍ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ : فِی ثَلاَثِ شَعَرَاتٍ دَمٌ ، النَّاسِی وَالْمُتَعَمِّدُ سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب اونٹ کو نحر کرنے کا ارادہ کرے تو اس کی جھول اتارے کہ نہیں ؟
(١٣٧٦٥) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ اونٹ کا نحر کرتے وقت اس کا جھول اتار دو بدنہ کو جھول میں لت پت نہ کرو۔
(۱۳۷۶۵) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یَنْزِعُ جِلاَلَہَا لاَ تَتَمَرَّغُ فِیہِ ، یَعْنِی الْبُدْنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب اونٹ کو نحر کرنے کا ارادہ کرے تو اس کی جھول اتارے کہ نہیں ؟
(١٣٧٦٦) حضرت ابن عمر جس بدنہ پر جھول ہوتی اس کو نحر نہ فرماتے۔
(۱۳۷۶۶) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَنْحَرُہَا وَعَلَیْہَا جِلاَلُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ قصاب کو اسی جانور میں سے کچھ دیا جائے گا کہ نہیں ؟
(١٣٧٦٧) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اونٹوں کے پاس رہوں اور اس میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم قصاب کو اپنے پاس سے دیں گے۔
(۱۳۷۶۷) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : أَمَرَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَی بُدْنِہِ ، وَأَمَرَنِی أَنْ لاَ أُعْطِیَ الْجَازِرَ مِنْہَا شَیْئًا ، وَقَالَ : نَحْنُ نُعْطِیہِ مِنْ عِنْدِنَا۔ (بخاری ۱۷۱۶۔ مسلم ۹۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ قصاب کو اسی جانور میں سے کچھ دیا جائے گا کہ نہیں ؟
(١٣٧٦٨) حضرت مقسم فرماتے ہیں کہ جانور کی کھال قصاب کو مت دو ، اگر اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے بکری خرید سکتے ہو تو خرید کر اس بکری کو ذبح کرلو۔
(۱۳۷۶۸) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : لاَ تُعْطِ مَسْکَ الْہَدْیِ الْجَزَّارُ ، وَإِنْ وَجَدْت بِہِ شَاۃً فَاشْتَرِ بِہِ شَاۃً ، فَاذْبَحْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ قصاب کو اسی جانور میں سے کچھ دیا جائے گا کہ نہیں ؟
(١٣٧٦٩) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ جانور کی کھال قصاب کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۳۷۶۹) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعْطَی مَسْکَ الْہَدْیِ الْجَزَّارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ قصاب کو اسی جانور میں سے کچھ دیا جائے گا کہ نہیں ؟
(١٣٧٧٠) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر ارشاد فرماتے ہیں کہ جانور کی کھال قصاب کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۳۷۷۰) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعْطَی الْجَزَّارُ جِلْدَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ قصاب کو اسی جانور میں سے کچھ دیا جائے گا کہ نہیں ؟
(١٣٧٧١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قصاب کو جانور میں سے کچھ نہ دیا جائے گا۔
(۱۳۷۷۱) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ سَیْفٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ یُعْطَی الْجَزَّارُ مِنْہَا شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے
(١٣٧٧٢) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص بھی واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔
(۱۳۷۷۲) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : ہُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَنْصَرِفُونَ کُلَّ وَجْہٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّی یَکُونَ آخِرُ عَہْدِہِ بِالْبَیْتِ۔ (مسلم ۹۶۳۔ ابوداؤد ۱۹۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے
(١٣٧٧٣) حضرت عمر اس شخص کو واپس بھیج دیتے جس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف نہ ہوتا۔
(۱۳۷۷۳) حدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُوس، وَعَطَائٍ؛ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَرُدُّ مَنْ خَرَجَ، وَلَمْ یَکُنْ آخِرَ عَہْدِہِ بِالْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے
(١٣٧٧٤) حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص طواف نہ کرلے وہ واپس نہ جائے، بیشک حج کا آخری عمل طواف ہونا چاہیے۔
(۱۳۷۷۴) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ یَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ ، فَإِنَّ آخِرَ النُّسُکِ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے
(١٣٧٧٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو اور حیض والی عورتوں سے یہ حکم ہلکا کردیا گیا ہے (ان کے لیے اس میں تخفیف کردی گئی ہے) ۔
(۱۳۷۷۵) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُمِرَ النَّاسُ أَنْ یَکُونَ آخِرَ عَہْدِہِمْ بِالْبَیْتِ ، وَخُفِّفَ عَنِ الْحُیَّضِ۔ (مسلم ۳۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے
(١٣٧٧٦) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حاجی حضرات منیٰ سے ہی واپس لوٹ جایا کرتے تھے، ان کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو، لیکن حیض والی عورتوں کے لیے اس میں تخفیف کردی گئی۔
(۱۳۷۷۶) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : کَانُوا یَنْفِرُونَ مِنْ مِنًی ، فَقِیلَ لَہُمْ : یَکُونُ آخِرَ عَہْدِکُمْ بِالْبَیْتِ ، وَرُخِّصَ لِلْحُیَّضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج یا عمرہ کرنے والے کے لیے قصر کرنا کافی ہو جائے گا ؟
(١٣٧٧٧) حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروہ پر کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک میں نیزے کا پھل تھا جس سے آپ نے اپنے بال تھوڑے تھوڑے کاٹے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ارشاد فرما رہے تھے : میں نے قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ کے احکام کو حج کے احکام میں داخل کردیا ہے اسلام میں صرورہ (کنوار پن یا غیر حاجی شخص) نہیں ہے اور اونٹ کا خون بہایا جائے گا قربانی کرتے وقت اور تلبیہ اونچی آواز سے پڑھو۔
(۱۳۷۷۷) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ کِلاَبِ بْنِ عَلِیّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَخِی جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَرْوَۃِ وَبِیَدِہِ مشِقَصٌّ ، یُقَصِّرُ بِہِ مِنْ شَعْرِہِ وَہُوَ یَقُولُ : دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ، وَتُثَجُّ الإِبِلُ ثَجًّا ، وَعُجُّوا بِالتَّکْبِیرِ عَجًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج یا عمرہ کرنے والے کے لیے قصر کرنا کافی ہو جائے گا ؟
(١٣٧٧٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں صحابہ کرام نے اپنا احرام کھول دیا قصر کروا کر اور انھوں نے حلق نہ کروایا۔
(۱۳۷۷۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : أَحَلَّ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَصَّرُوا ، وَلَمْ یَحْلِقُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج یا عمرہ کرنے والے کے لیے قصر کرنا کافی ہو جائے گا ؟
(١٣٧٧٩) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد محترم کے ساتھ حج اور عمرہ کیا میرے بال کندھوں تک تھے میں نے تھوڑے تھوڑے بال کاٹے لیکن آپ نے مجھے حلق کروانے کا حکم نہ دیا۔
(۱۳۷۷۹) حدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ أَحُجُّ مَعَ أَبِی وَأَعْتَمِرُ وَلِی جُمَّۃٌ إلَی مَنْکِبِی، فَمَا أَمَرَنِی بِحَلْقِہَا قَطُّ فَکُنْت أُقَصِّرُ۔
tahqiq

তাহকীক: