মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৩৪৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٣) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ مسجد میں سب سے افضل جگہ مقام ابراہیم یعنی مصلیٰ کی جگہ ہے۔ پھر مسجد کے دائیں حصے۔
(۳۴۵۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَیْرُ الْمَسْجِدِ الْمَقَامُ، ثُمَّ مَیَامِنُ الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٤) حضرت ابراہیم امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو مستحب قرار دیتے تھے۔
(۳۴۵۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: یُسْتَحَبُّ یَمِینُ الإِمَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٥) حضرت ابراہیم کو یہ بات پسند تھی کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔
(۳۴۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یَقُومَ عَنْ یَمِینِ الإِمَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٦) حضرت سلمہ بن ابی یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب کو دیکھا کہ وہ مسجد کے دائیں حصے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۳۴۵۶) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی یَحْیَی، قَالَ: رَأَیْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یُصَلِّی فِی الشِّقِّ الأَیْمَنِ مِنَ الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٧) حضرت سلمہ بن ابی یحییٰ کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک کو دیکھا کہ وہ مسجد کے بائیں حصے میں نماز پڑھتے تھے۔
(۳۴۵۷) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی یَحْیَی، قَالَ: رَأَیْتُ أنس بن مالک یُصَلِّی فِی الشِّقِّ الأَیْسَر مِنَ الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٨) حضرت عمران منقری فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین دونوں امام کے بائیں جانب نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۳۴۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عِمْرَانَ الْمُنْقِرِیِّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُمَا کَانَا یُصَلِّیَانِ عَنْ یَسَارِ الإِمَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٥٩) حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔
(۳۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَائِ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کُنَّا نُحِبُّ أَو نَسْتَحِبُّ أَنْ نَقُومَ عَنْ یَمِینِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۳۰۴۔ مسلم ۶۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے دائیں جانب نماز پڑھنا افضل ہے یا بائیں جانب
(٣٤٦٠) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ دائیں طرف کی صفیں باقی مسجد پر پچیس گنا زیادہ اجر رکھتی ہیں۔
(۳۴۶۰) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ: مَیَامِنُ الصُّفُوفِ تَزِیدُ عَلَی سَائِرِ المسجد، خَمْسًا وَعِشْرِینَ دَرَجَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦١) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی وہ ایسے ہے جیسے اس کے گھر کے لوگ اور مال و اسباب سب چھین لیا گیا ہو۔
(۳۴۶۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، رَفَعَہُ، قَالَ: إنَّ الَّذِی تَفُوتُہُ الْعَصْرُ، کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ۔ (مسلم ۴۳۶۔ احمد ۲/۱۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٢) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا وہ ایسے ہے جیسے اس کے گھر کے لوگ اور مال و اسباب سب چھین لیا گیا ہو۔
(۳۴۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَکَ الْعَصْرَ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ۔ (بخاری ۵۵۲۔ مسلم ۵/۴۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٣) حضرت نوفل بن معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا نمازوں میں سے ایک نماز ایسی ہے کہ جس نے اس نماز کو فوت کردیا گویا کہ اس کے اہل و عیال اور مال و دولت سب چھین لیا گیا ہو۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ عصر کی نماز ہے۔
(۳۴۶۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أبی حَبِیبٍ، عَنْ عِرَاکٍ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عُرْوَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: إِنَّ من الصلوات صلاۃ من فاتتہ، فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ ۔ قَالَ ابن عمر: سَمِعْتُ النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول: ہِیَ صَلاَۃُ الْعَصْرِ۔
(بخاری ۳۶۰۲۔ احمد ۴۲۲)
(بخاری ۳۶۰۲۔ احمد ۴۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٤) حضرت عباد بن میسرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوقلابہ اور حضرت حسن بیٹھے تھے، حضرت ابو قلابہ نے کہا کہ حضرت ابو الدرداء فرماتے تھے کہ جس شخص نے بغیر عذر کے عصر کی نماز کو ضائع کردیا اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص نے بغیر عذر کے کسی فرض نماز کو چھوڑ دیا اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔
(۳۴۶۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَیْسَرَۃَ الْمُنْقِرِیُّ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، وَالْحَسَنِ ؛أَنَّہُمَا کَانَا جَالِسَیْنِ، فَقَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مَنْ تَرَکَ الْعَصْرَ حَتَّی تَفُوتَہُ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَکَ صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً حَتَّی تَفُوتَہُ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ۔
(احمد ۶/۴۴۲)
(احمد ۶/۴۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٥) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی وہ ایسے ہے جیسے اس کے اہل و عیال چھین لیے گئے ہوں۔
(۳۴۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ: مَنْ فَاتَتْہُ الْعَصْرُ، فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد کی عظمت کی وجہ سے کوئی ان سے بات نہیں کرسکتا تھا۔ ایک مرتبہ ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو کسی کو ان سے بات کرنے کی طاقت نہ ہوئی۔
(۳۴۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُد النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُکَلَّمُ إعْظَامًا لَہُ، فَلَقَدْ فَاتَتْہُ الْعَصْرُ، وَمَا اسْتَطَاعَ أَحَدٌ أَنْ یُکَلِّمَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٧) حضرت اوس بن ضمعج فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی وہ ایسا ہے جیسے اس کے گھر کے لوگ اور مال و دولت سب چھین لیا گیا ہو۔
(۳۴۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّہُ مَنْ أَخْطَأَتْہُ الْعَصْرُ، فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٨) حضرت بریدہ اسلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔
(۳۴۶۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ، وَوَکِیعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، عَنْ أَبِی الْمُہَاجِرِ، عَنْ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَاتَتْہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ۔ (ابن ماجہ ۶۹۴۔ احمد ۵/۳۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سستی کرنے کا وبال
(٣٤٦٩) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۳۴۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ، عن ہِشَامٍ، عَنْ یَحْیَی، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ، عَنْ بُرَیْدَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ مِثْلَ حَدِیثِ عِیسَی وَوَکِیعٍ۔ (بخاری ۵۹۴۔ احمد ۵/۳۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٠) حضرت ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو کتاب اللہ کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے، اگر قراءت میں سب برابر ہوجائیں تو جو سنت کا سب سے زیادہ عالم ہو وہ امامت کرائے، اگر سنت کے علم میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو اسلام کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، کوئی آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں ہرگز امامت نہ کرائے اور کوئی آدمی کسی کے کمرے میں اس کے تکیے پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔
(۳۴۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُہُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَإِنْ کَانُوا فِی الْقِرَائَۃِ سَوَائً فَأَعْلمُہمْ بِالسُّنَّۃِ، فَإِنْ کَانُوا فِی السُّنَّۃِ سَوَائً، فَأَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً، فَإِنْ کَانُوا فِی الْہِجْرَۃِ سَوَائً، فَأَقْدَمُہُمْ سِلْمًا، وَلاَ یَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِی سُلْطَانِہِ، وَلاَ یَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ عَلَی تَکْرِمَتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ۔
(مسلم ۶۹۰۔ ابوداؤد ۳/۵۸۳)
(مسلم ۶۹۰۔ ابوداؤد ۳/۵۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧١) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امامت کرائے اور امامت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو زیادہ قاری ہے۔
(۳۴۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إذَا کَانُوا ثَلاَثَۃً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَحَدُہُمْ، وَأَحَقُّہُمْ بِالإِمَامَۃِ أَقْرَؤُہُمْ۔
(مسلم ۴۶۴۔ احمد ۳۶)
(مسلم ۴۶۴۔ احمد ۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٢) حضرت مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ میں ایک کمرے میں تھا، جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی تھے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا ۔ ہر ایک نے دوسرے سے کہا آپ آگے ہوجائیں، حضرت عبداللہ، حضرت ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ کے درمیان تھے۔ ان دونوں نے انھیں پکڑ کر آگے کردیا۔ میں نے پوچھا کہ ان کی وجہِ تقدم کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ جنگ بدر میں شریک تھے۔
(۳۴۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، وَزَیْدِ بْنِ إیَاسٍ قَالاَ: حدَّثَنَا مُرَّۃُ بْنُ شَرَاحِیلَ، قَالَ: کُنْتُ فِی بَیْتٍ فِیہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُذَیْفَۃُ، وَأَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ، فَقَالَ ہَذَا لِہَذَا: تَقَدَّمْ، وَقَالَ ہَذَا لِہَذَا: تَقَدَّمْ، وعبد اللہ بین أبی مُوسَی وَحُذَیْفَۃ، فَأَخَذَا بِنَاحِیَتَیْہِ فَقَدَّمَاہُ، قُلْتُ: مِمَّ ذَلِکَ ؟ قَالَ: إِنَّہُ شَہِدَ بَدْرًا۔
তাহকীক: