মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৩৪৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٣) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ قباء کی مسجد میں مہاجرین اور انصار کی امامت کرایا کرتے تھے۔
(۳۴۷۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: کَانَ سَالِمٌ یَؤُمُّ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارَ فِی مَسْجِدِ قُبَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٤) حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں جب ہماری قوم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے واپس آئی تو انھوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا کہ تم میں قرآن کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا تمہاری امامت کرائے۔ چنانچہ انھوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع سجدہ سکھایا۔ میں انھیں نماز پڑھاتا تھا اور میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ وہ میرے والد سے کہا کرتے تھے کہ کیا تم اپنے بیٹے کی سرین ڈھک نہیں سکتے ؟ !
(۳۴۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ، قَالَ: لَما رَجَعَ قَوْمِی مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَہُ: إِنَّہُ قَالَ لَنَا: لِیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قِرَائَۃً لِلْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْنِی فَعَلَّمُونِی الرکوع وَالسُّجُودَ، فَکُنْت أُصَلِّی بِہِمْ وَعَلَیَّ بُرْدَۃٌ مَفْتُوقَۃٌ، قَالَ: فَکَانُوا یَقُولُونَ لأَبِی: أَلاَ تُغَطِّی عَنَّا اسْتِ ابْنِک۔ (ابوداؤد ۵۸۷۔ احمد ۵/۷۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٥) حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم پانی کے ایک گھاٹ کے پاس رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے قافلے ہمارے پاس رکا کرتے تھے، ان میں بعض قافلے ایسے بھی ہوتے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے واپس آرہے ہوتے تھے۔ میں ان کے پاس جاتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے قرآن مجید کا بہت سا حصہ یاد کرلیا۔ لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ ایک ایک کرکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے اور کہتے ” یارسول اللہ ! ہم فلاں قبیلے کی طرف سے نمائندے ہیں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں “ میری والد بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر دینے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آنے لگے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اپنے میں سے نماز کے لیے اس کو آگے کرو جو قرآن زیادہ جانتا ہے۔ انھوں نے غور کیا، اس وقت میں پانی کے پاس بنے ایک بڑے کمرے میں تھا۔ انھوں نے مجھ سے زیادہ عمدہ قرآن پڑھنے والا کسی کو نہ پایا چنانچہ نماز کے لیے مجھے آگے کردیا۔ میں نوعمر لڑکا تھا اور انھیں نماز پڑھایا کرتا تھا۔
(۳۴۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ، قَالَ: کُنَّا عَلَی حَاضِرٍ، فَکَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِینَ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَدْنُو مِنْہُمْ فَأَسْتَمِعُ حَتَّی حَفِظْتُ قُرْآنًا کَثِیرًا، وَکَانَ النَّاسُ یَنْتَظِرُونَ بِإِسْلاَمِہِمْ فَتْحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْتِیہِ فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَنَا وَافِدُ بَنِی فُلاَنٍ، وَجِئْتُک بِإِسْلاَمِہِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِی بِإِسْلاَمِ قَوْمِہِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدِّمُوا أَکْثَرَکُمْ قُرْآنًا، فَنَظَرُوا وَأَنَا عَلَی حِوَائٍ عَظِیمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِیہِمْ أَحَدًا أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّی، فَقَدَّمُونِی وَأَنَا غُلاَمٌ، فَصَلَّیْتُ بِہِمْ۔ (بخاری ۴۳۰۲۔ ابوداؤ۹ ۵۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٦) حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تین مسلمان کسی سفر میں ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے گا جو ان میں قرآن مجید کا زیادہ قاری ہو خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور جب وہ ان کی امامت کرائے گا تو وہی ان کا امیر ہوگا۔ یہ وہ امیر تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر قرار دیا ہے۔
(۳۴۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ ثَوْرٍ الشَّامِیِّ، عَنْ مُہَاصِرِ بْنِ حَبِیبٍ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إذَا خَرَجَ ثَلاَثَۃٌ مُسْلِمِینَ فِی سَفَرٍ فَلْیَؤُمَّہُمْ أَقْرَؤُہُمْ لِکِتَابِ اللہِ، وَإِنْ کَانَ أَصْغَرَہُمْ ، فَإِذَا أَمَّہُمْ فَہُوَ أَمِیرُہُمْ ، وَذَلِکَ أَمِیرٌ أَمَّرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

(عبدالرزاق ۹۲۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٧) حضرت عمرو بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب واپس جانے لگے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہیں وہ نماز پڑھائے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہمارے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن کا یاد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ چنانچہ میرے نوعمر ہونے کے باوجود لوگوں نے مجھے آگے کردیا۔ پس میں انھیں نماز پڑھا یا کرتا تھا اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی تھی۔ میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی ہوتا میں ہی نماز پڑھاتا، اور میں اب تک ان کے جنازے پڑھا رہا ہوں۔
(۳۴۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِیبٍ الْجَرْمِیِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُمْ وَفَدُوا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَنْصَرِفُوا قَالُوا: قلْنَا لَہُ: یَا رَسُولَ اللہِ، مَنْ یُصَلِّی بِنَا ؟ قَالَ: أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَلَمْ یَکُنْ فِیہِمْ أَحَدٌ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِی وَأَنَا غُلاَمٌ، فَکُنْت أُصَلِّی بِہِمْ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ، قَالَ: فَمَا شَہِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلاَّ کُنْتُ إمَامَہُمْ، وَأُصَلِّی علی جَنَائِزِہِمْ إلَی یَوْمِی ہَذَا۔ (ابوداؤد ۵۸۸۔ احمد ۵/۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٨) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والا لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
(۳۴۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الرَّبِیعِ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، قَالَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ، أَقْرَؤُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٧٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والا لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
(۳۴۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، قَالَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ، أَفْقَہُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
(٣٤٨٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مکہ سے واپس آئے تو قباء کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ اس موقع پر حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ ان کی امامت کراتے، کیونکہ وہ ان میں سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والے تھے۔ ان لوگوں میں حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد اور حضرت عمر بن خطاب بھی ہوتے تھے۔
(۳۴۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ الْمُہَاجِرِینَ حِینَ أَقْبَلُوا مِنْ مَکَّۃَ نَزَلُوا إلَی جَنْبِ قُبَائَ، فَأَمَّہُمْ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِی حُذَیْفَۃَ، لأَنَّہُ کَانَ أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا، وَفِیہِمْ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨١) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمرکو فجر کی نماز میں نظر نہ آئے، آپ نے انھیں پیغام دے کر بلایا۔ وہ آئے تو حضرت عمر نے پوچھا کہ تم کہاں تھے ؟ انھوں نے کہا کہ میں بیمار تھا، اگر آپ کا قاصد مجھے بلانے نہ آتا تو میں نہ آتا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب تم کسی کی طرف جاسکتے ہو تو نماز کے لیے بھی جاؤ۔
(۳۴۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: فَقَدَ عُمَرُ رَجُلاً فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ، فَجَائَ فَقَالَ: أَیْنَ کُنْت ؟ فَقَالَ: کُنْتُ مَرِیضًا وَلَوْلا أَنَّ رَسُولَک أَتَانِی مَا خَرَجْت، فَقَالَ عُمَرُ: فَإِنْ کُنْتَ خَارِجًا إلَی أَحَدٍ فَاخْرُجْ إِلی الصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٢) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
(۳۴۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ، عَنْ أَبِی مُوسَی، قَالَ: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِی، ثُمَّ لَمْ یُجِبْہُ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
(۳۴۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِی، ثُمَّ لَمْ یُجِبْ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ۔ (ابوداؤد ۵۵۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا کان پگھلے ہوئے تانبے سے بھر جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ منادی کی آواز سن کر اس کا جواب نہ دے۔
(۳۴۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَیْنٍ، عَنْ أَبِی نَجِیحٍ الْمَکِّیِّ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لأَنْ یَمْتَلِئَ أُذُنُ ابْنِ آدَمَ رَصَاصًا مُذَابًا، خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ الْمُنَادِیَ، ثُمَّ لاَ یُجِیبُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور اس کا جواب نہ دے، تو نہ اس نے خیر کا ارادہ کیا اور نہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا گیا۔
(۳۴۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عن سفیان، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِی فَلَمْ یُجِبْہ، لَمْ یُرِدْ خَیْرًا، وَلَمْ یُرَدْ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٦) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
(۳۴۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ، عن أَبی مُوسَی الْہِلاَلِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِی، ثُمَّ لَمْ یُجِبْ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ، فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ایک مرتبہ باہر تشریف لائے، انھوں نے اپنا آدھا سر دھو رکھا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ مؤذن آگیا تھا، لہٰذا مجھے جلدی لگ گئی اور مجھے یہ بات ناپسند معلوم ہوئی کہ میں اسے روکوں۔
(۳۴۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، قَالَ: خَرَجَ عُثْمَانُ وَقَدْ غَسَلَ أَحد شِقَّیْ رَأْسِہِ، فَقَالَ: إنَّ الْمُنَادِیَ جَائَ فَأَعْجَلَنِی ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَحْبِسَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٨) حضرت علی فرماتے ہیں کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے ؟ فرمایا جو مؤذن کی آواز سنتا ہے۔
(۳۴۸۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَیَّانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: لاَ صَلاَۃَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلاَّ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ: قِیلَ لہ: وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ ؟ قَالَ: مَنْ أَسْمَعَہُ الْمُنَادِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٨٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو شخص اذان کی آواز سنے اور بغیر عذر نماز کے لیے نہ آئے، تو اس کی نماز سر سے تجاوز نہیں کرتی۔
(۳۴۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِیٍّ، أَنَّہُ قَالَ: مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِہِ، لَمْ تُجَاوِز صَلاَتُہُ رَأْسَہُ، إِلاَّ بِالْعُذْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٩٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جب تم نے کسی پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہنا ہو تو اللہ کے داعی کی پکار پر لبیک کہو۔
(۳۴۹۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ قَالَ: إِنْ کُنْتَ مُجِیبَ دَعْوَۃٍ، فَأَجِبْ دَاعِیَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٩١) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز کو مختصر پڑھایا پھر فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی کو نماز پڑھانے کا کہوں، پھر اذان دی جائے، اور میں ان لوگوں کے گھروں میں جا کر انھیں جلا دوں جو نماز کے لیے مسجد میں نہیں آتے۔
(۳۴۹۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: اسْتَقَلَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِی الْعِشَائِ، یَعْنِی الْعَتَمَۃَ، قَالَ: فَلَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ فَیُنَادَی بِہَا، ثُمَّ آتِیَ قَوْمًا فِی بُیُوتِہِمْ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ، لاَ یَشْہَدُونَ الصَّلاَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
(٣٤٩٢) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مدینہ میں بہت سے حشرات اور دلدلی جگہیں ہیں، کیا میرے لیے رخصت ہے کہ میں عشاء اور فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ لوں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ سنتے ہو ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو پھر نماز کے لیے ضرور آؤ۔
(۳۴۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی، قَالَ: جَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، إنَّ الْمَدِینَۃَ أَرْضُ ہَوَامٍّ وَسِبَاخٍ، فَہَلْ لِی رُخْصَۃٌ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِی بَیْتِی ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَتَسْمَعُ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ؟ قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَیَّہَلاَ۔ (حاکم ۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক: