মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৫৯৭১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٢) حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان ۔۔۔ ابن زبیر (رض) ۔۔۔ کے سجدے سے بڑا سجدہ نہیں دیکھا۔
(۳۵۹۷۲) حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: مَا رَأَیْت سَجْدَۃً أَعْظَمَ مِنْ سَجْدَتِہِ، یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٣) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں { خُذِ الْعَفْوَ } فرمایا : آپ (رض) کو لوگوں کے اخلاق سے ہی حکم دیا گیا۔ اور خدا کی قسم ! جب تک میں لوگوں میں رہوں گا میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔
(۳۵۹۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : {خُذِ الْعَفْوَ} قَالَ : مَا أُمِرَ بِہِ إلا مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ ، وَایْمُ اللہِ لآخُذَنَّ بِہِ فِیہِمْ مَا صَحِبْتہمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٤) حضرت ابونوفل بن ابوعقرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن زبیر (رض) کے پاس حاضر ہوئے تو وہ پندرہ روز سے صوم وصال رکھ رہے تھے۔
(۳۵۹۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِی نَوْفَلِ بْنِ أَبِی عَقْرَبٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ وَہُوَ مُوَاصِلٌ لِخَمْسَ عَشْرَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٥) حضرت محمد بن عبید اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر (رض) کو لوگوں کو خطبہ دیتے دیکھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم متفرق شہروں سے آئے ہو اور ایک بڑی چیز کے متلاشی ہو۔ لہٰذا تم پر حسن دعا اور صدق نیت لازم ہے۔
(۳۵۹۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَرْزُبَانَ، قَالَ: حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیُّ، قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ خَطَبَہُمْ ، وَقَالَ : إنَّکُمْ جِئْتُمْ مِنْ بُلْدَانٍ شَتَّی تَلْتَمِسُونَ أَمْرًا عَظِیمًا ، فَعَلَیْکُمْ بِحُسْنِ الدَّعَۃِ وَصِدْقِ النِّیَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٦) حضرت وہب بن کیسان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابن زبیر (رض) کی بیعت کی گئی تو ایک عراقی آدمی نے آپ کو خط لکھا : ” تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد ! پس اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اہل خیر کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اور وہ چیزیں ان میں پہچانی جاتی ہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، خدا کی فرمان برداری والے عمل اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے۔ اس میں جو ہوگا وہی اس کے پاس آئے گا۔ اگر امام نیک ہوگا تو نیک لوگ اپنی نیکی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے اور اگر امام فاجر ہو تو اہل فجور اس کے پاس اپنے فجور کے ساتھ آئیں گے۔
(۳۵۹۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، قَالَ : کَتَبَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ حِینَ بُویِعَ : سَلاَمٌ عَلَیْک فَإِنِّی أَحْمَدُ إلَیْک اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ لأَہْلِ طَاعَۃِ اللہِ وَأَہْلِ الْخَیْرِ عَلاَمَۃً یُعْرَفُونَ بِہَا ، وَتُعْرَفُ فِیہِمْ مِنَ الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ ، وَالْعَمَلِ بِطَاعَۃِ اللہِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الإِمَامَ مِثْلُ السُّوقِ یَأْتِیہ مَا کان فِیہِ ، فَإِنْ کَانَ بَرًّا جَائَہُ أَہْلُ الْبِرِّ بِبِرِّہِمْ ، وَإِنْ کَانَ فَاجِرًا جَائَہُ أَہْلُ الْفُجُورِ بِفُجُورِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٧) حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کے کھانے کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اگر اس میں خوب نمک مصالحے ڈالے جائیں گے تو جو انجام ہوگا وہ اس سے واقف ہے۔
(۳۵۹۷۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَیٍّ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّ طَعَامَ ابْنِ آدَمَ ضُرِبَ مَثَلاً ، وَإِنَّ مَلَّحَہُ وَقَزَّحَہُ ، عَلِمَ إِلَی مَا یَصِیرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٨) حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا تو حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : حضرت حمزہ قتل کیے گئے لیکن ہمارے پاس ان کے کفن دینے کے لیے کچھ موجود نہیں تھا جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے اور مصعب بن عمیر کو قتل کیا گیا وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ہمارے پاس ان کی تکفین کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ جبکہ ہمیں اس دنیا سے جو ملا ہے وہ تو ملا ہے پھر حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری پاکیزہ چیزیں ہمیں دنیا ہی میں تو پیشگی نہیں دے دی گئیں۔
(۳۵۹۷۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّہُ أُتِیَ بِطَعَامٍ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قتِلَ حَمْزَۃُ وَلَمْ نَجِدْ مَا نُکَفِّنُہُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ، وَقُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی وَلَمْ یَجِدْ مَا نکَفِّنُہُ ، وَقَدْ أَصَبْنَا مِنْہَا مَا أَصَبْنَا ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : إنِّی لأَخْشَی أَنْ نَکُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَیِّبَاتُنَا فِی الدُّنْیَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٧٩) حضرت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر (رض) کے وقت میں ایک آدمی مصر میں ایک باغ میں فکر مند، غم گین بیٹھا ہوا زمین پر کرید رہا تھا کہ اس دوران اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ایک بیلچے والے آدمی کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ بیلچے والے نے کہا کیا بات ہے کہ میں تمہیں فکر مند اور غم گین پاتا ہوں ؟ گویا کہ اس نے اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے کہا : کوئی بات نہیں۔ اس پر بیلچے والے نے کہا : اگر تو یہ دنیا کی خاطر ہے تو دنیا ایک حاضر سامان ہے جس سے نیک اور بد کھاتا ہے۔ اور آخرت ایک سچا وقت ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا۔ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہاں تک کہ اس نے ذکر کیا کہ اس کے گوشت کی طرح مفاصل ہیں۔ جوان میں سے کسی شے میں غلطی کرے گا وہ حق سے غلطی کر بیٹھے گا۔

جب اس آدمی نے یہ باتیں سنیں تو کہا میری فکر مندی مسلمانوں کے اندرونی مسئلہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس آدمی نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے مسلمانوں پر شفقت کی وجہ سے نجات دے گا اور تم سوال کرو۔ وہ کون شخص ہے جس نے اللہ سے مانگا ہو پھر اس کو عطا نہ کیا گیا ہو ؟ اس نے اللہ سے دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو ؟ خدا پر توکل کیا ہو اور خدا اس کو کافی نہ ہوا ہو ؟ اور خدا پر بھروسہ کیا ہو اور خدا نے اس کو نجات نہ دی ہو ؟ راوی کہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے کہنا شروع کیا۔ اے اللہ ! تو مجھے بھی سلامت رکھنا اور مجھ سے بھی سلامتی رکھنا۔ کہتے ہیں پس وہ فتنہ ختم ہوگیا اور مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
(۳۵۹۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَعْنٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : بَیْنَا رَجُلٌ فِی بُسْتَانٍ بِمِصْرٍ فِی فِتْنَۃِ ابْنِ الزُّبَیْرِ جَالِسٌ مَہْمُومٌ حَزِینٌ یَنْکُتُ فِی الأَرْضِ ، إذْ رَفَعَ رَأْسَہُ فَإِذَا صَاحِبُ مِسْحَاۃٍ قَائِمٌ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَقَالَ: صَاحِبُ الْمِسْحَاۃِ، مَا لِی أَرَاک مَہْمُومًا حَزِینًا فَکَأَنَّہُ ازْدَرَاہُ، فَقَالَ: لاَ شَیْئَ، فَقَالَ: صَاحِبُ الْمِسْحَاۃِ: إنْ یَکُنْ لِلدُّنْیَا فَالدُّنْیَا عَرَضٌ حَاضِرٌ یَأْکُلُ مِنْہُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، وَإِنَّ الآخِرَۃَ أَجَلٌ صَادِقٌ یَحْکُمُ فِیہِ مَلِکٌ قَادِرٌ ، یَفْصِلُ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، حَتَّی ذَکَرَ أَنَّ لَہَا مَفَاصِلَ مِثْلَ مَفَاصِلِ اللَّحْمِ ، مَنْ أَخْطَأَ مِنْہَا شَیْئًا أَخْطَأَ الْحَقَّ ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِکَ ، قَالَ : اہْتِمَامِی بِمَا فِیہِ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : فَقَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ سَیُنْجِیک بِشَفَقَتِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ وَسَلْ ، مَنْ ذَا الَّذِی سَأَلَ اللَّہَ فَلَمْ یُعْطِہِ ، وَدَعَا اللَّہَ فَلَمْ یُجِبْہُ وَتَوَکَّلَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَکْفِہِ وَوَثِقَ بِہِ فَلَمْ یُنْجِہِ ، قَالَ : فَطَفِقْت أَقُولُ : اللَّہُمَّ سَلِّمْنِی وَسَلِّمْ مِنِّی ، قَالَ : فَتَجَلَّتْ وَلَمْ أُصِبْ مِنْہَا بِشَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨٠) حضرت سلمہ بن کہیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوجحیفہ کی میرے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے کہا : اے سلمہ ! میری پہچان والی چیزوں میں سے صرف یہ نماز ہی رہ گئی ہے۔ مجھے کوئی نفس موت سے چھڑا کر خوش نہیں کرتا اور نہ مکھی کا نفس۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ رو پڑے۔
(۳۵۹۸۰) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، قَالَ : لَقِیَنِی أَبُو جُحَیْفَۃَ ، فَقَالَ لِی : یَا سَلَمَۃُ مَا بَقِیَ شَیْئٌ مِمَّا کُنْت أَعْرِفُ إِلاَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃُ ، وَمَا مِنْ نَفْسٍ تَسُرُّنِی أَنْ تَفْدِیَنِی مِنَ الْمَوْتِ ، وَلاَ نَفْسُ ذُبَابٍ ، قَالَ : ثُمَّ بَکَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨١) حضرت ابوجحیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بڑوں کے ساتھ بیٹھو۔ حکماء سے ملو اور علماء سے پوچھو۔
(۳۵۹۸۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ : جَالِسُوا الْکُبَرَائَ وَخَالِطُوا الْحُکَمَائَ وَسَائِلُوا الْعُلَمَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨٢) حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگ ابوعبدالرحمن کا جنازہ لے کر حضرت ابوجحیفہ کے پاس سے گزرے تو آپ (رض) نے فرمایا : راحت پا گیا اور اس سے بھی راحت پائی گئی۔
(۳۵۹۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : مَرُّوا بِجِنَازَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی أَبِی جُحَیْفَۃَ ، فَقَالَ : اسْتَرَاحَ وَاسْتُرِیحَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨٣) حضرت ابوسعید سے { فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَۃً ضَنْکًا } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں کہ یہ عذاب قبر ہے۔
(۳۵۹۸۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ {فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَۃً ضَنْکًا} قَالَ : عَذَابُ الْقَبْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨٤) حضرت ابوسعید سے { لَرَادُّک إِلَی مَعَادٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : معاد یعنی اس کی آخرت یعنی جنت۔
(۳۵۹۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ {لَرَادُّک إِلَی مَعَادٍ} قَالَ : مَعَادُہُ آخِرَتُہُ : الْجَنَّۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن زبیر (رض) کا کلام
(٣٥٩٨٥) حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم کے والد کی حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوگی۔ وہ حضرت ابراہیم سے لپٹ جائیں گے تو حضرت ابراہیم ان سے کہیں گے۔ تحقیق میں نے آپ کو حکم دیا اور آپ کو منع کیا لیکن آپ نے میری نافرمانی کی۔ والد کہیں گے : لیکن آج تو میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم جنت کی طرف چل دیں گے اور وہ بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم کو کہا جائے گا۔ اے ابراہیم ! اس کو چھوڑ دے۔ راوی کہتے ہیں وہ کہیں گے تحقیق اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے آج کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پاس ان کے پروردگار کے پاس سے ایک فرشتہ آئے گا اور انھیں سلام کہے گا۔ پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اس سے کلام کریں گے۔ اور ایسے مصروف ہوں گے کہ اپنے والد سے غافل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر فرشتہ چلنے لگے گا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ان کے ہمراہ جنت کی طرف چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں اس پر ان کے والد ان کو آواز دیں گے۔ اے ابراہیم ! راوی کہتے ہیں آپ اس کی طرف التفات کریں گے تو اس کی خلقت ہی بدل چکی ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے۔ اُف، اُف۔ پھر آپ (علیہ السلام) سیدھے ہوجائیں گے اور اس کو چھوڑ دیں گے۔
(۳۵۹۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِی الْوَدَّاکِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : إنَّ إبْرَاہِیمَ یَلْقَاہُ أَبُوہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَتَعَلَّقُ بِہِ ، فَیَقُولُ لَہُ إبْرَاہِیمُ : قَدْ کُنْت آمُرُک وَأَنْہَاک فَعَصَیْتَنِی ، قَالَ : وَلَکِنَّ الْیَوْمَ لاَ أَعْصِیک ، قَالَ : فَیُقْبِلُ إبْرَاہِیمُ إِلَی الْجَنَّۃِ وَہُوَ مَعَہُ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : یَا إبْرَاہِیمُ ، دَعْہُ ، قَالَ : فَیَقُولُ : إنَّ اللَّہَ وَعَدَنِی أَنْ لاَ یَخْذُلَنِی الْیَوْمَ ، قَالَ : فَیَأْتِی إبْرَاہِیمَ آتٍ مِنْ رَبِّہِ مَلَک ، فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَیَرْتَاعُ لَہُ إبْرَاہِیمُ وَیُکَلِّمُہُ وَیُشْغَلُ حَتَّی یَلْہُو عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : فَیَنْطَلِقُ الْمَلَکُ وَیَمْشِی إبْرَاہِیمُ نَحْوَ الْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَیُنَادِیہِ أَبُوہُ : یَا إبْرَاہِیمُ ، قَالَ : فَیَلْتَفِتُ إلَیْہِ وَقَدْ غُیِّرَ خَلْقُہُ ، قَالَ : فَیَقُولُ إبْرَاہِیمُ : أُفٍّ أُفٍّ ، ثُمَّ یَسْتَقِیمُ وَیَدَعُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٨٦) حضرت ابویعلی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم جب کسی مجلس کے پاس سے گزرتے تھے تو کہتے تھے۔ خیر کی بات کہو خیر کا کام کرو۔ اچھے عمل پر مداومت رکھو۔ تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں اور تمہاری مہلت زیادہ نہ ہوجائے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا حالانکہ انھوں نے نہیں سنا تھا۔
(۳۵۹۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ إِذَا مَرَّ بِالْمَجْلِسِ یَقُولُ : قُولُوا خَیْرًا وَافْعَلُوا خَیْرًا وَدُومُوا عَلَی صَالِحَۃٍ ، وَلاَ تَقْسُ قُلُوبُکُمْ ، وَلاَ یَتَطَاوَلْ عَلَیْکُمُ الأَمَدُ ، وَلاَ تَکُونُوا کَالَّذِینَ ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَہُمْ لاَ یَسْمَعُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٨٧) حضرت ابویعلی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ربیع سے کہا جاتا آپ نے صبح کس طرح کی ؟ تو آپ فرماتے : ہم نے ضعف اور گناہگاری کی حالت میں صبح کی کہ ہم اپنے رزق کھا رہے ہیں اور اپنی موتوں کا انتظار کررہے ہیں۔
(۳۵۹۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ إذَا قِیلَ لَہُ : کَیْفَ أَصْبَحْت یَقُولُ : أَصْبَحْنَا ضُعَفَائَ مُذْنِبِینَ نَأْکُلُ أَرْزَاقَنَا وَنَنْتَظِرُ آجَالَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٨٨) حضرت ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بندہ کی یہ دعا، اپنے رب سے کرنا پسند نہیں ہے کہ وہ کہے : اے اللہ ! تو نے اپنے اوپر رحمت کا فیصلہ کرلیا ہے تو نے خود پر یہ فیصلہ کرلیا ہے۔ (یہ کہہ کر) بندہ سستی کا مظاہرہ کرے۔ میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں دیکھا کہ اے میرے پروردگار ! جو مجھ پر لازم تھا وہ میں نے اد ا کردیا ہے۔ پس جو تجھ پر لازم ہے وہ تو ادا کردے۔
(۳۵۹۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، عَنْ رَبِیعٍ ، قَالَ : مَا أُحِبُّ مُنَاشَدَۃَ الْعَبْدِ رَبَّہ یَقُولُ : رَبِّ قَضَیْت عَلَی نَفْسِکَ الرَّحْمَۃَ ، قَضَیْت عَلَی نَفْسِکَ کَذَا ، یَسْتَبْطِئُ ، وَمَا رَأَیْت أَحَدًا یَقُولُ : رَبِّ قَدْ أَدَّیْت مَا عَلَیَّ فَأَدِّ مَا عَلَیْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٨٩) حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ موت سے زیادہ بہتر کوئی غائب چیز ایسی نہیں جس کا مومن کو انتظار ہو۔
(۳۵۹۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، قَالَ : مَا غَائِبٌ یَنْتَظِرُہُ الْمُؤْمِنُ خَیْرٌ مِنَ الْمَوْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٠) حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے اپنی موت کے وقت وصیت کی۔ فرمایا : یہ وہ باتیں ہیں جن کا ربیع بن خثیم اپنی ذات کے بارے میں اقرار کرتا ہے اور اس پر گواہی دیتا ہے اور گواہی کے لیے خدا ہی کافی ہے۔ اور اپنے نیک بندوں کو بدلہ دینے کے لیے کافی ہے اور ثواب دینے کے لیے کافی ہے۔ میں اللہ پر رب ہونے کے اعتبار سے راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر راضی ہوں اور اپنے نفس کے لیے اور اس کے لیے جو میری فرمان برداری کرے اس بات پر راضی ہوں کہ میں عبادت کرنے والوں میں خدا کی عبادت کروں اور حمد کرنے والوں میں خدا کی حمد کروں اور میں مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی کروں۔
(۳۵۹۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ أَنَّہُ أَوْصَی عِنْدَ مَوْتِہِ ، فَقَالَ : ہَذَا مَا أَقَرَّ بِہِ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ عَلَی نَفْسِہِ وَأَشْہَدَ عَلَیْہِ وَکَفَی بِاللہِ شَہِیدًا ، وَجَازِیًا لِعِبَادِہِ الصَّالِحِینَ وَمُثِیبًا أَنِّی رَضِیت بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا ، وَرَضِیت لِنَفْسِی وَلِمَنْ أَطَاعَنِی أَنْ أَعْبُدَہُ فِی الْعَابِدِینَ ، وَأَنْ أَحْمَدَہُ فِی الْحَامِدِینَ ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِجَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৯০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩١) حضرت ابوحیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو دنیا کے معاملات میں سے کسی کا ذکر کرتے نہیں سنا۔ ہاں ایک مرتبہ میں نے انھیں کہتے سنا : یتیم کی کتنی ہی مسجدیں ہیں۔
(۳۵۹۹۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا سَمِعْت الرَّبِیعَ بْنَ خُثَیْمٍ یَذْکُرُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا إِلاَّ أَنِّی سَمِعْتہ یَقُولُ مَرَّۃً : کَمْ للتَّیْم مَسْجِدًا۔
tahqiq

তাহকীক: