মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৫৯৯১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٢) حضرت بکر بن ماعز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے مجھے کہا : اے بکر ! اپنی زبان کو اپنی حفاظت میں رکھ مگر وہ بات جو تیرے فائدہ میں ہو۔ تیرے خلاف نہ ہو۔ کیونکہ میں نے اپنے دین کے بارے میں لوگوں کو متہم پایا ہے۔ جو تمہیں معلوم ہے اس میں اللہ کی اطاعت کر اور جو چیز تمہارے علم میں نہ ہو تو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردے۔ مجھے تمہارے اوپر جان بوجھ کر کیے جانے والے عمل کا، غلطی سے ہونے والے عمل کی بہ نسبت زیادہ خوف ہے۔ تم میں سے جو آج خیر پر ہے وہ بہتر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اپنے آخری شر سے بہتر ہیں، تم لوگ خیر کی مکمل اتباع نہیں کرتے اور تم شر سے کماحقہ فرار اختیار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کچھ اتارا ہے تم نے اس کو سارا نہیں پایا۔ اور جو کچھ تم پڑھتے ہو اس سارے کو تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے۔ وہ پوشیدہ باتیں جو لوگوں پر مخفی ہوتی ہیں وہ اللہ کے لیے تو ظاہر ہیں۔ تم اس کا علاج تلاش کرو۔ پھر آپ نے اپنے آپ سے کہا : اس کا علاج کیا ہے ؟ یہ کہ تم توبہ کرو اور پھر اس کی طرف عود نہ کرو۔
(۳۵۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ مَاعِزٍ ، قَالَ : قَالَ لی الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ : یَا بَکْرُ ، اخْزُنْ عَلَیْک لِسَانَک إِلاَّ مِمَّا لَک ، وَلاَ عَلَیْک ، فَإِنِّی اتَّہَمْت النَّاسَ عَلَی دِینِی ، أَطِعَ اللَّہَ فِیمَا عَلِمْت ، وَمَا اسْتُؤْثِرَ بِہِ عَلَیْک فَکِلْہُ إِلَی عَالَمِہِ ، لأَنَّا عَلَیْکُمْ فِی الْعَمْدِ أَخْوَفُ مِنِّی عَلَیْکُمْ فِی الْخَطَأ، مَا خَیْرُکُمَ الْیَوْمَ بِخَیْرِہِ ، وَلَکِنَّہُ خَیْرٌ مِنْ آخِرِ شَرٍّ مِنْہُ ، مَا تَتَّبِعُونَ الْخَیْرَ کُلَّ اتِّبَاعِہِ ، وَلاَ تَفِرُّونَ مِنَ الشَّرِّ حَقَّ فِرَارِہِ ، مَا کُلُّ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ أَدْرَکْتُمْ ، وَلاَ کُلُّ مَا تَقْرَؤُونَ تَدْرُونَ مَا ہُوَ السَّرَائِرُ اللاَتِی یُخْفِینَ عَلَی النَّاسِ وَہِیَ لِلَّہِ بَوَادٍ ، ابْتَغَوْا دَوَائَہَا ، ثُمَّ یَقُولُ لِنَفْسِہِ : وَمَا دَوَاؤُہَا أَنْ تَتُوبَ ، ثُمَّ لاَ تَعُودَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٣) حضرت ربیع کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ حضرت ربیع رات کو نماز پڑھ رہے تھے کہ اس آیت پر پہنچے { أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ } تو اس کو صبح تک دہراتے رہے۔
(۳۵۹۹۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ بُشَیْرِ مَوْلَی الرَّبِیعِ ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ یُصَلِّی لَیْلَۃً فَمَرَّ بِہَذِہِ الآیَۃِ : {أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ} فَرَدَّدَہَا حَتَّی أَصْبَحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٤) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع، حضرت علقمہ کے پاس آتے تھے اور ان کی مسجد میں راستہ تھا اور ان کے ہمراہ عورتیں بھی مسجد میں سے گزرتی تھیں لیکن وہ ایسی ویسی باتیں نہیں کرتے تھے۔
(۳۵۹۹۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ یَأْتِی عَلْقَمَۃَ وَکَانَ فِی مَسْجِدِہِ طَرِیقٌ ، وَإِلَی جَنْبِہِ نِسَائٌ کُنَّ یَمْرُرْنَ فِی الْمَسْجِد ، فَلاَ یَقُولُ کَذَا وَلا کَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٥) حضرت ربیع بن خثیم سے { وَإِذًا لاَ تُمَتَّعُونَ إِلاَّ قَلِیلاً } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : قلیل سے مراد وہ مہلت ہے جو ان کی موت اور ان کے درمیان ہے۔
(۳۵۹۹۵) حَدَّثَنَا أبو مُعَاوِیَۃَ ، وَوَکِیع ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ {وَإِذًا لاَ تُمَتَّعُونَ إِلاَّ قَلِیلاً} قَالَ : الْقَلِیلُ مَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الأَجَلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٦) حضرت ربیع بن خثیم سے { بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَأَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں جو اپنے کفر پر مرے اور کبھی فرماتے جو لوگ معصیت کی حالت میں مرے۔
(۳۵۹۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ {بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَأَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ} قَالَ : مَاتُوا عَلَی کُفْرِہِمْ ، وَرُبَّمَا قَالَ : مَاتُوا عَلَی الْمَعْصِیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٧) حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ بذات خود بیت الخلاء کو صاف کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں انھیں کہا گیا : آپ کو اس کی کفایت ہے ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں بھی مشقت میں سے اپنا حصہ لوں۔
(۳۵۹۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْنِسُ الْحُشَّ بِنَفْسِہِ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : إنَّک تُکْفَی ہَذَا ، قَالَ : إنِّی أُحِبُّ أَنْ آخُذَ بِنَصِیبِی مِنَ الْمِہْنَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٨) حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نو باتوں کے علاوہ (باقی) باتیں کم کرو : تسبیح، تہلیل، تکبیر، تحمید اور تمہارا خیر کا سوال کرنا اور تمہارا شر سے پناہ مانگنا، اور تمہارا امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا اور قرآن کی قراءت کرنا۔
(۳۵۹۹۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، قَالَ : أَقِلُّوا الْکَلاَمُ إِلاَّ بِتِسْعٍ : تَسْبِیحٍ وَتَہْلِیلٍ وَتَکْبِیرٍ وَتَحْمِیدٍ ، وَسُؤَالِکَ الْخَیْرَ ، وَتَعَوُّذِکَ مِنَ الشَّرِّ ، وَأَمْرِکَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَہْیِکَ عَنِ الْمُنْکَرِ ، وَقِرَائَۃِ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٥٩٩٩) حضرت ربیع کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم میرے لیے حلوہ بناؤ۔ چنانچہ حلوہ پکایا گیا پھر انھوں نے ایک پاگل آدمی کو بلایا اور حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کردینا شروع کیا اور اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ پس جب اس نے کھالیا اور چلا گیا تو گھر والوں نے حضرت ربیع سے کہا ہم نے تکلف کیا اور تیار کیا پھر آپ نے وہ ایسے آدمی کو کھلا دیا جس کو معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا کھایا ہے۔ حضرت ربیع نے فرمایا : لیکن اللہ کو تو معلوم ہے۔
(۳۵۹۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، أَنَّہُ قَالَ لأَہْلِہِ : اصْنَعُوا لِی خَبِیصًا ، فَصُنِعَ فَدَعَا رَجُلاً بِہِ خَبَلٌ فَجَعَلَ رَبِیعٌ یُلَقِّمُہُ وَلُعَابُہُ یَسِیلُ ، فَلَمَّا أَکَلَ وَخَرَجَ ، قَالَ لَہُ أَہْلُہُ : تَکَلَّفْنَا وَصَنَعَنَّا ، ثُمَّ أَطْعَمْتہ رجلا ما یَدْرِی ہَذَا مَا أَکَلَ ، قَالَ الرَّبِیعُ : لَکِنَّ اللَّہَ یَدْرِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٠) حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی مجلس میں نہیں بیٹھے۔ کہتے ہیں مجھے خوف ہے کہ کسی آدمی پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کروں، یا کوئی آدمی کسی آدمی پر جھوٹ باندھے اور مجھے اس پر گواہی کا مکلف بنایا جائے اور میں نگاہ نیچی نہ کرسکوں اور نہ راہ دکھا سکوں۔
(۳۶۰۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مَا جَلَسَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ فِی مَجْلِسٍ مُنْذُ تَأَزَّرَ بِإِزَارٍ ، قَالَ : أَخَافُ أَنْ یُظْلَمَ رَجُلٌ فَلاَ أَنْصُرُہُ ، أَوْ یَفْتَرِیَ رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ فَأُکَلِّفُ عَلَیْہِ الشَّہَادَۃَ، وَلاَ أَغُضَّ الْبَصَرَ ، وَلاَ أَہْدِی السَّبِیلَ ، أَوْ تَقَعَ الْحَامِلُ فَلاَ أَحْمِلُ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠١) حضرت ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فرمایا : تمہیں کیا مقصد لایا ہے ؟ ہم نے جواب دیا۔ ہم آئے ہیں تاکہ آپ اللہ کا ذکر کریں تو ہم بھی آپ کے ہمراہ اللہ کا ذکر کریں اور آپ اللہ کی تعریف کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کی تعریف کریں۔ اس پر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور کہا۔ تمام تعریف اس اللہ کی ہے تم سے یہ نہیں کہلوایا۔ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تو شراب پئے تاکہ ہم بھی تیرے ساتھ پئیں اور نہ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تم زنا کرو تاکہ ہم تیرے ساتھ زنا کریں۔
(۳۶۰۰۱) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ سَیَّارٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : انْطَلَقْت أَنَا وَأَخِی إِلَی الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، فَإِذَا ہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا جَائَ بِکُمْ ، قَالُوا : جِئْنَا لِتَذْکُرَ اللَّہَ فَنَذْکُرَہُ مَعَک ، وَتَحْمَدَ اللَّہَ فَنَحْمَدَہُ مَعَک ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ تَقُولاَ : جِئْنَا لِتَشْرَبَ فَنَشْرَبَ مَعَک ، وَلاَ جِئْنَا لِتَزْنِیَ فَنَزْنِیَ مَعَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٢) حضرت ربیع فرماتے ہیں ملک الموت اور اس کا تین آدمیوں کے پاس آنا قابل تعجب ہے۔ (ایک) اپنے قلعوں میں بند بادشاہ کہ فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس کی روح نکالتا ہے اور اس کے ملک کو اس کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور ماہر طبیب جو لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح نکال لیتا ہے۔
(۳۶۰۰۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ الرَّبِیعَ یَقُولُ : عَجَبًا لِمَلَکِ الْمَوْتِ وَإِتْیَانِہِ ثَلاَثَۃً : مَلِکٌ مُمْتَنِعٌ فِی حُصُونِہِ فَیَأْتِیہِ فَیَنْزِعُ نَفْسَہُ وَیَدَعُ مُلْکَہُ خَلْفَہُ ، وَطَبِیبٌ نِحْرِیرٌ یُدَاوِی النَّاسَ فَیَأْتِیہ فَیَنْزِعُ نَفْسَہُ۔ (ابو نعیم ۱۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٣) حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ ان کا ایک تیس ہزار کی قیمت کا گھوڑا رات نماز پڑھتے ہوئے چوری ہوا لیکن انھوں نے نماز نہ چھوڑی۔ جب صبح ہوئی تو ربیع نے اس کے بچے پر سواری شروع کردی پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے کہا : اے اللہ ! اس نے میری چوری کرلی حالانکہ میں نے اس کی چوری نہیں کی تھی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ربیع قراءت بلند آواز سے کیا کرتے تھے۔ جب آپ نے قدموں کی چاپ سنی تو آہستہ قراءت کرلی۔
(۳۶۰۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، أَنَّہُ سُرِقَتْ لَہُ فَرَسٌ مِنَ اللَّیْلِ وَہُوَ یُصَلِّی قِیمَتُہُ ثَلاَثُونَ أَلْفًا فَلَمْ یَنْصَرِفْ ، فَأَصْبَحَ فَحَمَلَ عَلَی مَہْرِہَا ، ثُمَّ أَصْبَحَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ سَرَقَنِی وَلَمْ أَکُنْ لأَسْرِقُہُ ، قَالَ : وَکَانَ رَبِیعٌ یَجْہَرُ بِالْقِرَائَۃِ فَإِذَا سَمِعَ وَقْعًا خَافَتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٤) حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع سے کہا گیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں ؟ آپ نے فرمایا : تم مجھے مہلت دے دو ۔ پھر آپ نے فکر فرمایا تو کہا : { وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر آپ نے ان لوگوں کی دنیوی زندگی پر حرص اور اس زندگی کی رغبت ذکر فرمائی۔ فرمایا : یہ لوگ بیمار ہوئے اور کچھ ان میں حکیم تھے لیکن دوائی کھانے والا بھی باقی نہ رہا اور دوائی کھلانے والا بھی باقی نہ رہا۔ صفت کرنے والا اور صفت کیا ہوا دونوں ہلاکت کا شکار ہوئے۔ بخدا ! تم لوگ میرے لیے حکیم کو نہ بلاؤ۔
(۳۶۰۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ لِلرَّبِیعِ: أَلاَ نَدْعُو لَک طَبِیبًا، فَقَالَ : أَنْظِرُونِی ، ثُمَّ تَفَکَّرَ ، فَقَالَ : {وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا} فَذَکَرَ مِنْ حِرْصِہِمْ عَلَی الدُّنْیَا وَرَغْبَتِہِمْ فِیہَا، قَالَ: فَقَدْ کَانَتْ مرضی وکان منہم أَطِبَّائُ ، فَلاَ الْمُدَاوِی بَقِیَ ، وَلاَ الْمُدَاوَی ، ہَلَکَ الَّنَاعِت وَالْمنْعُوتُ لَہُ ، وَاللہِ لاَ تَدْعُونَ لِی طَبِیبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٥) حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو انھوں نے یہ دعا مانگی۔ اے اللہ ! ساری حمد تیرے لیے ہے اور سارے امور تیری طرف لوٹتے ہیں اور ہر قسم کی حمد کے معبود آپ ہی ہیں۔ ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ میں ہیں۔ ہم ہر خیر کا آپ ہی سے سوال کرتے ہیں اور ہم ہر شر سے آپ ہی کی پناہ مانگتے ہیں۔
(۳۶۰۰۵) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ فَدَعَا بِہَذِہِ الدَّعَوَاتِ : اللَّہُمَّ لَک الْحَمْدُ کُلُّہُ ، وَإِلَیْک یَرْجِعُ الأَمْرُ کُلُّہُ ، وَأَنْتَ إلَہُ الْخَلْقِ کُلِّہِ ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ ، نَسْأَلُک مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٦) حضرت سریۃ الربیع سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب حضرت ربیع کی موت کا وقت قریب آیا تو ان کی بیٹی روپڑی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اے بیٹی ! تم کیوں روتی ہو ؟ تم کہو۔ اے خوشخبری ! میرا والد خیر سے مل رہا ہے۔
(۳۶۰۰۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سُرِّیَّۃِ الرَّبِیعِ ، قَالَتْ : لَمَّا حُضِرَ الرَّبِیعُ بَکَتِ ابْنَتُہُ ، فَقَالَ : یَا بُنَیَّۃُ، لِمَ تَبْکِینَ ؟ قُولِی یا بشری : لَقِیَ أَبِی الْخَیْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٧) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بیان کیا جو بیس سال تک ربیع بن خثیم کے ساتھ رہا تھا کہ اس نے آپ سے کوئی قابل عتاب کلمہ نہیں سنا۔
(۳۶۰۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ صَحِبَ رَبِیعَ بْنَ خُثَیْمٍ عِشْرِینَ سَنَۃً مَا سَمِعَ منہ کَلِمَۃً تُعَابُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٨) حضرت ربیع بن خثیم سے ارشاد خداوندی { فَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَرَوْحٌ وَرَیْحَانٌ وَجَنَّۃُ نَعِیمٍ } فرمایا : یہ ان کے لیے ذخیرہ شدہ ہیں۔ { وَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِینَ الضَّالِّینَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیمٍ } فرمایا : اس کے پاس ہے { وَتَصْلِیَۃُ جَحِیمٍ } فرمایا : اس کے لیے ذخیرہ شدہ ہے۔
(۳۶۰۰۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ فِی قَوْلِہِ : {فَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَرَوْحٌ وَرَیْحَانٌ وَجَنَّۃُ نَعِیمٍ} قَالَ : مَذْخُورَۃٌ لہ {وَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِینَ الضَّالِّینَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیمٍ} قَالَ : عِنْدَہُ {وَتَصْلِیَۃُ جَحِیمٍ} قَالَ : مَذْخُورَۃٌ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠٠٩) حضرت نسیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع کے پاس جب کوئی سائل آتا تو آپ (رض) کہتے۔ اس سائل کو شکر کھلاؤ۔ کیونکہ حضرت ربیع کو شکر پسند تھی۔
(۳۶۰۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ نُسَیْرٍ أَبِی طُعْمَۃَ قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ إذَا جَائَہُ سَائِلٌ ، قَالَ : أَطْعِمُوا ہَذَا السَّائِلَ سُکَّرًا ، فَإِنَّ الرَّبِیعَ یُحِبُّ السُّکَّرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیع بن خثیم کا کلام
(٣٦٠١٠) حضرت ربیع بن خثیم سے ارشاد خداوندی { یَا أَیُّہَا الإِنْسَاْن مَا غَرَّک بِرَبِّکَ الْکَرِیمِ } کے بارے میں روایت ہے فرمایا : جہل نے۔
(۳۶۰۱۰) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ فی قوْلِہِ : {یَا أَیُّہَا الإِنْسَان مَا غَرَّک بِرَبِّکَ الْکَرِیمِ} قَالَ : الْجَہْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١١) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے لیے اس لحد سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جس میں وہ دنیا کے ہموم سے راحت پالے اور عذاب الٰہی سے امن میں ہو۔
(۳۶۰۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَا مِنْ شَیْئٍ خَیْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنْ لَحْدٍ قَدِ اسْتَرَاحَ مِنْ ہُمُومِ الدُّنْیَا وَأَمِنَ مِنْ عَذَابِ اللہِ۔ (ابو نعیم ۹۷)
তাহকীক: