মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬০১১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٢) حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق نے حج ادا کیا وہ صرف سجدے میں ہی سوتے تھے۔
(۳۶۰۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : حجَّ مَسْرُوقٌ فَمَا نَامَ إِلاَّ سَاجِدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٣) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں دنیا میں کوئی چیز سکون دہ نہیں ہے سوائے خدا کے لیے سجدوں کے۔
(۳۶۰۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَا مِنَ الدُّنْیَا شَیْئٌ آسَی عَلَیْہِ إِلاَّ السُّجُودُ لِلَّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٤) حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی ہمدانی عورت نے حضرت مسروق کے مثل بچہ نہیں جنا۔
(۳۶۰۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ مُرَّۃَ ، قَالَ : مَا وَلَدَتْ ہَمْدَانِیَّۃٌ مِثْلَ مَسْرُوقٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٥) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے یا برائی۔
(۳۶۰۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَا خَطَا عَبْدٌ خَطْوَۃً قَطُّ إِلاَّ کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ ، أَوْ سَیِّئَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٦) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں گفتگو سے بڑھ کر کوئی خرچ نہیں ہے۔
(۳۶۰۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : مَا مِنْ نَفَقَۃٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللہِ مِنْ قَوْلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٧) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے لیے چند مجلسیں ایسی ہوں جن میں وہ خلوت میں ہو اور ان میں اپنے گناہوں کو یاد کرے پھر ان پر استغفار کرے۔
(۳۶۰۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : إنَّ الْمَرْئَ لَحَقِیقٌ أَنْ تَکُونَ لَہُ مَجَالِسُ یَخْلُو فِیہَا یَذْکُرُ فِیہَا ذُنُوبَہُ فَیَسْتَغْفِرُ مِنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٨) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سب سے اچھے خیال میں ہوتا ہوں جب خادم کہتا ہے۔ گھر میں نہ گندم کا قفیز ہے اور نہ ہی درہم۔
(۳۶۰۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، أَوْ غَیْرِہِ ، شَکَّ الأَعْمَشُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : إنَّ أَحْسَنَ مَا أَکُونُ ظَنًّا حِینَ یَقُولُ الْخَادِمُ : لَیْسَ فِی الْبَیْتِ قَفِیزٌ مِنْ قَمْحٍ ، وَلاَ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠١٩) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے۔
(۳۶۰۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ إِلَی اللہِ وَہُوَ سَاجِدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٠) حضرت مسروق فرماتے ہیں جس آدمی کو یہ بات پسند ہو کہ اسے اولین اور آخرین کا علم ہو اور دنیا وآخرت کا علم ہو تو اس کو سورة واقعہ پڑھنی چاہیے۔
(۳۶۰۲۰) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، قَالَ : قَالَ مَسْرُوقٌ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَعْلَمَ عِلْمَ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ وَعِلْمَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ فَلْیَقْرَأْ سُورَۃَ الْوَاقِعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢١) حضرت عامر سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پاس بیٹھتا تھا راوی اس کو شکل سے جانتا تھا لیکن نام سے واقف نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ آپ کی مشایعت میں نکلا۔ راوی کہتے ہیں وہ آپ کو الوداع کہنے والوں میں آخری تھا۔ تو اس نے کہا آپ سب قاریوں میں سے بڑے اور ان کے سردار ہیں۔ اور آپ کی زینت میں ان کی زینت ہے اور آپ کی بدصورتی، ان کی بدصورتی ہے۔ پس آپ اپنے نفس سے فقر اور لمبی عمر کی باتیں نہ کیا کریں۔
(۳۶۰۲۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَجْلِسُ إِلَی مَسْرُوقٍ یَعْرِفُ وَجْہَہُ وَلاَ یُسَمِّی اسْمَہُ ، قَالَ : فَشَیَّعَہُ ، قَالَ : فَکَانَ فِی آخِرِ مَنْ وَدَّعَہُ ، فَقَالَ : إنَّک قَرِیعُ الْقُرَّائِ وَسَیِّدُہُمْ ، وَإِنَّ زَیْنَک لَہُمْ زَیْنٌ ، وَشَیْنَک لَہُمْ شَیْنٌ ، فَلاَ تُحَدِّثَنَّ نَفْسَک بِفَقْرٍ ، وَلاَ طُولِ عُمُرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٢) حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مقام سلسلہ سے واپس آئے تو اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور ان کے پاس تاجر لوگ آئے اور آپ کی تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے۔ آپ ہمارے مالوں سے کس قدر مستغنی تھے۔ اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی : { أَفَمَنْ وَعَدْنَاہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لاَقِیہِ کَمَنْ مَتَّعْنَاہُ مَتَاعَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا }۔ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اسے حاصل کرے گا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی میں فائدے کی چیزیں دے دی ہیں۔
(۳۶۰۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مِنَ السِّلْسِلَۃِ أَتَاہُ أَہْلُ الْکُوفَۃِ ، وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنَ التُّجَّارِ ، فَجَعَلُوا یُثْنُونَ عَلَیْہِ وَیَقُولُونَ : جَزَاک اللَّہُ خَیْرًا مَا کَانَ أَعَفَّک عَنْ أَمْوَالِنَا ، فَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {أَفَمَنْ وَعَدْنَاہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لاَقِیہِ کَمَنْ مَتَّعْنَاہُ مَتَاعَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٣) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی کی جہالت کے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ آدمی اپنے علم پر عجب کرنے لگے اور آدمی کے علم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔
(۳۶۰۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : بِحَسْبِ الْمَرْئِ مِنَ الْجَہْلِ أَنْ یَعْجَبَ بِعِلْمِہِ وَبِحَسْبِہِ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ یَخْشَی اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٤) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغا تھا۔ فرماتے ہیں : مرغا ان کو نماز کے لیے اٹھاتا تھا اور گدھے پر وہ پانی ادھر ادھر لے جاتے تھے اور اس سے منتفع ہوتے اور وہ ان کے لیے ان کے خیمہ کو اٹھاتا تھا۔ اور کتا ان کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر ایک لومڑی آئی اور اس نے مرغا پکڑا۔ ان لوگوں کو مرغ کے چلے جانے کا غم ہوا لیکن وہ آدمی نیک تھا تو اس نے کہا ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہو۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جتنی دیر اللہ نے چاہا اسی طرح رہے پھر بھیڑیا آیا تو اس نے گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ چنانچہ وہ لوگ گدھے کے جانے پر بھی غم گین ہوئے لیکن نیک آدمی نے کہا ہوسکتا ہے اسی میں خیر ہو۔ پھر کتا بھی مرگیا۔ تو اس مرد صالح نے کہا ہوسکتا ہے یہی بہتر ہو۔ پھر جب ان لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ تو قید کرلیے گئے ہیں اور یہ بچ گئے ہیں۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : وہ لوگ اس لیے پکڑے گئے تھے کہ ان کے پاس آوازیں اور چیخ و پکار تھی۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی شور مچانے والی چیز نہ تھی۔ ان کا کتا، گدھا اور مرغ تو مرگئے تھے۔
(۳۶۰۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ بِالْبَادِیَۃِ لَہُ کَلْبٌ وَحِمَارٌ وَدِیکٌ ، قَالَ : فَالدِّیکُ یُوقِظُہُمْ لِلصَّلاَۃِ ، وَالْحِمَارُ یَنْقُلُونَ عَلَیْہِ الْمَائَ ، وَیَنْتَفِعُونَ بِہِ وَیَحْمِلُونَ لَہُمْ خِبَائَہُمْ، وَالْکَلْبُ یَحْرُسُہُمْ ، فَجَائَ ثَعْلَبٌ فَأَخَذَ الدِّیکَ فَحَزِنُوا لِذَہَابِ الدِّیک ، وَکَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا ، فَقَالَ : عَسَی أَنْ یَکُونَ خَیْرًا ، قَالَ : فَمَکَثُوا مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ جَائَ ذِئْبٌ فَشَقَّ بَطْنَ الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ فَحَزِنُوا لِذَہَابِ الْحِمَارِ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ الصَّالِحُ : عَسَی أَنْ یَکُونَ خَیْرًا ، ثُمَّ مَکَثُوا بَعْدَ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ أُصِیبَ الْکَلْبُ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ الصَّالِحُ : عَسَی أَنْ یَکُونَ خَیْرًا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا نَظَرُوا فَإِذَا ہُوَ قَدْ سُبِیَ مِنْ حَوْلِہِمْ وَبَقُوا ہُمْ ، قَالَ : فَإِنَّمَا أُخِذُوا أُولَئِکَ بِمَا کَانَ عِنْدَہُمْ مِنَ الصَّوْتِ وَالْجَلَبَۃِ ، وَلَمْ یَکُنْ عِنْدَ أُولَئِکَ شَیْئٌ یَجْلُب ، قَدْ ذَہَبَ کَلْبُہُمْ وَحِمَارُہُمْ وَدِیکُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٥) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرد صالح رات کے اندھیرے میں درہموں کی تھیلی لے کر نکلا۔ وہ اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کو ایک کثیر المال شخص ملا اس آدمی نے یہ دراہم کی تھیلی اس کو دے دی۔ جب صبح ہوئی تو شور ہوا۔ فلاں آدمی اور اس کے مال پر تم لوگ تعجب نہیں کرتے۔ اس کے پاس کوئی آدمی درہموں کی تھیلی لے کر آیا اور وہ اس کو دے گیا۔ یہ بات اس دینے والے کو پہنچی تو اس پر بہت شاق گزرا اس نے کہا میرا خیال نہیں ہے کہ جب میں نے تھیلی اس مالدار کو دے دی ہے تو میری طرف سے یہ قبول ہوا ہوگا۔
٢۔ راوی کہتے ہیں یہ آدمی ایک رات پھر تھیلی لے کر نکلا اور اس نے یہ تھیلی ایک زانیہ عورت کو دے دی۔ لوگوں نے جب صبح کی تو کہنے لگے۔ فلانی عورت پر تمہیں تعجب نہیں ہے۔ اس کے پاس فلاں آیا اور اس کو تھیلی دے گیا حالانکہ یہ عورت تو کسی کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکتی۔ اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس کو بہت شاق گزرا اس نے کہا : میرا خیال نہیں ہے کہ یہ صدقہ میری طرف سے قبول ہوا ہوگا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں پھر اس آدمی کو خواب آیا اور اس کو کہا گیا تم نے غنی کو جو صدقہ دیا وہ بھی تم سے قبول ہوگیا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو یہ بات دکھائیں کہ صدقہ کرنے والے لوگ بھی ہیں تاکہ اس کو بھی اس کا شوق ہو اور جو عورت تھی وہ صرف ضرورت کی وجہ سے زنا کرتی تھی۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو عفیفہ بنائیں۔
٢۔ راوی کہتے ہیں یہ آدمی ایک رات پھر تھیلی لے کر نکلا اور اس نے یہ تھیلی ایک زانیہ عورت کو دے دی۔ لوگوں نے جب صبح کی تو کہنے لگے۔ فلانی عورت پر تمہیں تعجب نہیں ہے۔ اس کے پاس فلاں آیا اور اس کو تھیلی دے گیا حالانکہ یہ عورت تو کسی کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکتی۔ اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس کو بہت شاق گزرا اس نے کہا : میرا خیال نہیں ہے کہ یہ صدقہ میری طرف سے قبول ہوا ہوگا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں پھر اس آدمی کو خواب آیا اور اس کو کہا گیا تم نے غنی کو جو صدقہ دیا وہ بھی تم سے قبول ہوگیا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو یہ بات دکھائیں کہ صدقہ کرنے والے لوگ بھی ہیں تاکہ اس کو بھی اس کا شوق ہو اور جو عورت تھی وہ صرف ضرورت کی وجہ سے زنا کرتی تھی۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو عفیفہ بنائیں۔
(۳۶۰۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ صَالِحٌ بِصُرَّۃٍ مِنْ دَرَاہِمَ فِی ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ ، فَأَرَادَ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہَا ، فَلَقِیَ رَجُلاً کَثِیرَ الْمَالِ فَأَعْطَاہَا إیَّاہُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ : أَلاَ تَعْجَبُونَ لِفُلاَنٍ وَکَثْرَۃِ مَالِہِ ، جَائَہُ رَجُلٌ بِصُرَّۃِ دَرَاہِمَ فَأَعْطَاہَا إیَّاہُ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فَشَقَّ عَلَیْہِ ، وَقَالَ : مَا أَرَاہُ تُقْبَلُ مِنِّی حِینَ أَعْطَیْتہَا ہَذَا الرَّجُلَ الْغَنِیَّ۔
۲۔ قَالَ : وَخَرَجَ لَیْلَۃً أُخْرَی بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا امْرَأَۃً بَغِیًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ، قَالُوا : أَلاَ تَعْجَبُونَ إِلَی فُلاَنَۃَ جَائَہَا فُلاَنٌ بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا وَہِیَ لاَ تَمْنَعُ رِجْلَہَا مِنْ أَحَدٍ ، فَبَلَغَہُ ذَلِکَ فَشَقَّ عَلَیْہِ ، وَقَالَ : مَا أُرَاہُ یُقْبَلُ مِنِّی۔
۳۔ قَالَ : فَأُتِیَ فِی الْمَنَامِ فَقِیلَ لَہُ قَدْ تُقُبِّلَ مِنْک مَا أَعْطَیْت ہَذَا الْغَنِی ، فَإِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نُرِیَہُ ، أَنَّ فِی النَّاسِ مَنْ یَتَصَدَّقُ ، فَیَرْغَبُ فِی ذَلِکَ ، وَأَمَّا الْمَرْأَۃُ فَإِنَّہَا إنَّمَا تَبْغِی مِنَ الْحَاجَۃِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعُفَّہَا۔
۲۔ قَالَ : وَخَرَجَ لَیْلَۃً أُخْرَی بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا امْرَأَۃً بَغِیًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ، قَالُوا : أَلاَ تَعْجَبُونَ إِلَی فُلاَنَۃَ جَائَہَا فُلاَنٌ بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا وَہِیَ لاَ تَمْنَعُ رِجْلَہَا مِنْ أَحَدٍ ، فَبَلَغَہُ ذَلِکَ فَشَقَّ عَلَیْہِ ، وَقَالَ : مَا أُرَاہُ یُقْبَلُ مِنِّی۔
۳۔ قَالَ : فَأُتِیَ فِی الْمَنَامِ فَقِیلَ لَہُ قَدْ تُقُبِّلَ مِنْک مَا أَعْطَیْت ہَذَا الْغَنِی ، فَإِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نُرِیَہُ ، أَنَّ فِی النَّاسِ مَنْ یَتَصَدَّقُ ، فَیَرْغَبُ فِی ذَلِکَ ، وَأَمَّا الْمَرْأَۃُ فَإِنَّہَا إنَّمَا تَبْغِی مِنَ الْحَاجَۃِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعُفَّہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٦) حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق اس حد تک نماز پڑھتے کہ ان کی بیوی ان کے پیچھے بیٹھ کر رونے لگتی۔
(۳۶۰۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ مَسْرُوقٌ یُصَلِّی حَتَّی تَجْلِسَ امْرَأَتُہُ خَلْفَہُ تَبْکِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسروق کا کلام
(٣٦٠٢٧) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مصیبتوں والے لوگ قیامت کے دن اس بات کو پسند کریں گے کہ ان کو قینچیوں سے کاٹا جاتا۔
(۳۶۰۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَمِیرَۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : وَدَّ أَہْلُ الْبَلاَئِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، أَنَّ جُلُودَہُمْ کَانَتْ تُقْرَضُ بِالْمَقَارِیضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مرہ کا کلام
(٣٦٠٢٨) حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مرہ کے پاس آئے۔ ہم نے ان کے بارے میں پوچھا : لوگوں نے کہا مرۃ الطیب ؟ تو وہ اپنے بالاخانہ میں تھے جس میں انھوں نے بارہ سال عبادت کی تھی۔
(۳۶۰۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : أَتَیْنَا مُرَّۃَ نَسْأَلُ عَنْہُ فَقَالُوا : مُرَّۃُ الطَّیِّبُ ، فَإِذَا ہُوَ فِی عِلْیَۃٍ لَہُ قَدْ تَعَبَّدَ فِیہَا ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مرہ کا کلام
(٣٦٠٢٩) حضرت ہیثم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مرہ ہر روز دو سو رکعات پڑھا کرتے تھے۔
(۳۶۰۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْہَیْثَم قَالَ : کَانَ مُرَّۃُ یُصَلِّی کُلَّ یَوْمٍ مِئَتَیْ رَکْعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مرہ کا کلام
(٣٦٠٣٠) حضرت مالک بن مغول سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مرہ سے پوچھا گیا آپ کی کتنی نماز باقی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : آدھی یعنی دو سو پچاس رکعات۔
(۳۶۰۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سُئِلَ مُرَّۃُ : عمَّا بَقِیَ مِنْ صَلاَتِکَ ، قَالَ : الشَّطْرُ خَمْسُونَ وَمِائَتَا رَکْعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৩০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مرہ کا کلام
(٣٦٠٣١) حضرت مرہ سے { وَأَفْئِدَتُہُمْ ہَوَائٌ} کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : پھٹے ہوں گے کسی شے کی حفاظت نہیں کریں گے۔
(۳۶۰۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُرَّۃَ {وَأَفْئِدَتُہُمْ ہَوَائٌ} قَالَ : مُتَخَرِّقَۃٌ لاَ تَعِی شَیْئًا۔
তাহকীক: