মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৬০৩১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٢) حضرت عمارہ، حضرت اسود کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ راہبوں میں سے ایک راہب تھے۔
(۳۶۰۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: مَا کَانَ إِلاَّ رَاہِبًا مِنَ الرُّہْبَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٣) حضرت شعبی سے روایت ہے کہتے ہیں (ان سے) حضرت اسود کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ خوب روزہ رکھنے والے، خوب حج کرنے والے اور خوب قیام کرنے والے تھے۔
(۳۶۰۳۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الأَسْوَدِ ، فَقَالَ : کَانَ صَوَّامًا حَجَّاجًا قَوَّامًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٤) حضرت منصور کے بعض شاگردوں سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت اسود (رض) شدید گرمی کے دن بھی روزہ رکھتے تھے۔ وہ دن جس کے بارے میں خیال ہوتا تھا کہ سرخ چمڑے والا اونٹ بھی گرمی کی وجہ سے کمزور ہوجاتا ہے۔
(۳۶۰۳۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَسَنٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، قَالَ : إنْ کَانَ الأَسْوَدُ لَیَصُومُن فِی الْیَوْمِ الشَّدِیدِ الْحَرِّ الَّذِی یُرَی أَنَّ الْجَمَلَ الْجَلَدَ الأَحْمَرَ یُرَنَّحُ فِیہِ مِنَ الْحَرِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٥) حضرت علی بن مدرک بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ، حضرت اسود کو کہا کرتے تھے۔ آپ اس جسم کو کیوں عذاب دیتے ہیں ؟ اسود کہتے تھے میں اس کی راحت چاہتا ہوں۔
(۳۶۰۳۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُدْرِکٍ ، أَنَّ عَلْقَمَۃَ کَانَ یَقُولُ لِلأَسْوَدِ : لِمَ تُعَذِّبُ ہَذَا الْجَسَدَ فَیَقُولُ : إنَّمَا أُرِیدُ لَہُ الرَّاحَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٦) حضرت حنش بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود بن یزید کو دیکھا کہ ان کی ایک آنکھ روزے کی وجہ سے ضائع ہوگئی تھی۔
(۳۶۰۳۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : رَأَیْتُ الأَسْوَدَ بْنَ یَزِیدَ قَدْ ذَہَبَتْ إحْدَی عَیْنَیْہِ مِنَ الصَّوْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود کا کلام
(٣٦٠٣٧) حضرت ریاح نخعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت اسود، سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ غیر رمضان میں سخت گرمی کے دن پیاس کی وجہ سے ان کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا۔
(۳۶۰۳۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ رِیَاحٍ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : کَانَ الأَسْوَدُ یَصُومُ فِی السَّفَرِ حَتَّی یَتَغَیَّرَ لَوْنُہُ مِنَ الْعَطَشِ فِی الْیَوْمِ الْحَارِّ فِی غَیْرِ رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٣٨) حضرت علقمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے۔ ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اپنا ایمان زیادہ کریں۔
(۳۶۰۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ شِبَاکٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : اذْہَبُوا بِنَا نَزْدَدْ إیمَانًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٣٩) حضرت ابن عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت شعبی سے علقمہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ سست کے ساتھ تھے لیکن تیز رفتار کو پکڑ لیتے تھے۔
(۳۶۰۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : سُئِلَ الشَّعْبِیُّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ مَعَ الْبَطِیئِ وَیُدْرِکُ السَّرِیعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٠) حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ اللہ والوں میں سے تھے۔
(۳۶۰۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ، عَنْ مُرَّۃَ، قَالَ: کَانَ عَلْقَمَۃُ مِنَ الرَّبَّانِیِّینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤١) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک رات میں قرآن پڑھا۔
(۳۶۰۴۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : قَرَأَ عَلْقَمَۃُ الْقُرْآن فِی لَیْلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٢) حضرت علقمہ سے {إنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ حضرت شریک فرماتے ہیں یہ قیامت سے پہلے دنیا ہی میں ہوگا۔ حضرت جریر کہتے ہیں کہ قیامت کو ہوگا۔
(۳۶۰۴۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَن عَلْقَمَۃَ {إنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌ} قَالَ شَرِیکٌ : ہَذَا فِی الدُّنْیَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ جَرِیرٌ : ہَذَا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٣) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب اپنے ساتھیوں کو خوش اور ہشاش دیکھتے تو انھیں اسی طرح کے ایام یاد دلاتے۔
(۳۶۰۴۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَلْقَمَۃُ إذَا رَأَی مِنْ أَصْحَابِہِ ہَشَاشًا ، أَوَ قَالَ : انْبِسَاطًا ذَکَّرَہُمْ بین الأَیَّامِ کَذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٤) حضرت ابومعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن شرحبیل کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا : ہمارے ساتھ اس آدمی کے پاس چلو جو چال ڈھال میں حضرت عبداللہ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ چنانچہ ہم حضرت علقمہ کے پاس گئے۔
(۳۶۰۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، فَقَالَ : انْطَلَقُوا بِنَا إِلَی أَشْبَہِ النَّاسِ سَمْتًا وَہَدْیًا بِعَبْدِ اللہِ ، فَدَخَلْنَا عَلَی عَلْقَمَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٥) حضرت ابومعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن شرحبیل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ لوگوں میں سے اس شخص کے پاس جاؤ جو طریقہ زندگی، اندازق گفتگو اور طرز عمل میں حضرت عبداللہ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے اور حضرت عبداللہ کے سب سے بڑے راز دار ہیں۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے یہاں تک کہ ہم حضرت علقمہ کے پاس پہنچے۔
(۳۶۰۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، فَقَالَ : اذْہَبُوا بِنَا إِلَی أَشْبَہِ النَّاسِ ہَدْیًا وَدَلاًّ وَسَمْتًا وَأَبْطَنِہِمْ بِعَبْدِ اللہِ ، فَلَمْ نَدْرِ مَنْ ہُوَ حَتَّی انْطَلَقْنَا إِلَی عَلْقَمَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٦) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح حضرت ہمام کنگھی کرکے آئے تو کچھ لوگوں نے کہا : حضرت ہمام کی زلفیں بتارہی ہیں کہ آج رات انھوں نے تکیہ نہیں کیا۔
(۳۶۰۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَصْبَحَ ہَمَّامٌ مُتَرَجِّلاً ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : إنَّ جُمَّۃَ ہَمَّامٍ لَتُخْبِرُکُمْ ، أَنَّہُ لَمْ یَتَوَسَّدْہَا اللَّیْلَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٧) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا جس کو ہمام بن حارث کہا جاتا تھا۔ وہ مسجد میں نماز کے دوران صرف بیٹھ کر ہی سوتا تھا اور کہا کرتا تھا : اے اللہ ! آپ مجھے تھوڑی نیند سے شفا دے دیں اور میری بیداری کو اپنی اطاعت میں کردیں۔
(۳۶۰۴۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ مِنَّا ، یُقَالَ لَہُ : ہَمَّامُ بْنُ الْحَارِثِ وَکَانَ لاَ یَنَامُ إِلاَّ قَاعِدًا فِی الْمَسْجِدِ فِی صَلاَتِہِ ، فَکَانَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ اشْفِنِی مِنَ النَّوْمِ بِیَسِیرٍ وَارْزُقْنِی سَہَرًا فِی طَاعَتِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٨) حضرت ابن معقل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں (وَلَوْ تَرَی إذْ فَزِعُوا فَلاَ فَوْتَ ) یعنی وہ بہت زیادہ ڈریں گے مگر ان کو موت نہیں آئے گی۔
(۳۶۰۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ : (وَلَوْ تَرَی إذْ فَزِعُوا فَلاَ فَوْتَ) قَالَ : أَفْزَعَہُمْ فَلَمْ یَفُوتُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٤٩) حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آج کے دن موت کے لیے تیار ہوں، خفیف الحال ہوں، میں نے کوئی قرض نہیں چھوڑا اور نہ ہی میں نے ایسے عیال چھوڑے ہیں جن کی ہلاکت کا مجھے خوف ہے۔ اگر محشر کا خوف نہ ہوتا۔
(۳۶۰۴۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : إنِّی الْیَوْمَ لَمیسر لِلْمَوْتِ خَفِیفُ الْحَالِ أو الْحَالَۃِ ، وَمَا أَدَعُ دَیْنًا ، وَمَا أَدَعُ عِیَالاً أَخَافُ عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ لولا ہَوْلُ الْمُطَّلَعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٥٠) حضرت ابواسحق، حضرت ابومیسرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ جب اپنے بستر پر آتے تو رو پڑتے پھر کہتے۔ کاش میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا۔ پوچھا گیا : کیوں۔ انھوں نے فرمایا : اس لیے کہ ہمیں یہ خبر تو دی گئی ہے کہ ہم اس پر وارد ہوں گے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اس کو پار کریں گے۔
(۳۶۰۵۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ،عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ، قَالَ: کَانَ إذَا آوَی إِلَی فِرَاشِہِ بَکَی ، ثُمَّ قَالَ : لَیْتَ أُمِّی لَمْ تَلِدْنِی ، قِیلَ : لِمَ ، قَالَ : لأَنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّا وَارِدُوہَا وَلَمْ نُخْبَرْ أَنَّا صَادِرُوہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৫০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ کا کلام
(٣٦٠٥١) حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مرگیا لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پرہیزگار ہے۔ پس اس کی قبر میں کوئی آیا اور اس کو کہا گیا ہم تمہیں عذاب خداوندی کے سو کوڑے ماریں گے۔ اس نے کہا : تم مجھے کس وجہ سے کوڑے مارو گے جبکہ میں خوب بچتا تھا اور پرہیزگاری کرتا تھا ؟ اس کو کہا گیا پچاس۔ کم ہوتے ہوتے ایک کوڑے تک آگئے۔ چنانچہ اس کو ایک کوڑا لگایا گیا تو قبر آگ سے بھڑک اٹھی اور وہ شخص ہلاک ہوگیا پھر اس کو دوبارہ پیدا کیا گیا تو اس نے کہا : تم نے مجھے کس وجہ سے کوڑا مارا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا ایک دن تو نے یہ جانتے ہوئے نماز پڑھی کہ تو بغیر وضو کے ہے اور ایک کمزور مسکین نے تجھ سے مدد طلب کی لیکن تو نے اس کی مدد نہ کی۔
(۳۶۰۵۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ یَرَوْنَ ، أَنَّ عِنْدَہُ وَرَعًا ، فَأُتِیَ فِی قَبْرِہِ فَقِیلَ : إنَّا جَالِدُوک مِئَۃَ جَلْدَۃٍ مِنْ عَذَابِ اللہِ ، قَالَ فِیمَ تَجْلِدُونِی فَقَدْ کُنْت أَتَوَقَّی وَأَتَوَرَّعُ ، فَقِیلَ : خَمْسُونَ ، فَلَمْ یَزَالُوا یُنَاقِصُونَہُ حَتَّی صَارَ إِلَی جَلْدَۃٍ فَجُلِدَ ، فَالْتَہَبَ الْقَبْرُ عَلَیْہِ نَارًا وَہَلَکَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ أُعِیدَ ، فَقَالَ فِیمَ جَلَدْتُمُونِی ، قَالُوا : صَلَّیْت یَوْمَ تَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ، وَاسْتَغَاثَک الضَّعِیفُ الْمِسْکِینُ فَلَمْ تُغِثْہُ۔
tahqiq

তাহকীক: