মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬০৭১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٢) حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو کہتے سنا کہ عبدالرحمن بن یزید نے کبھی کوئی عمل نہیں کیا مگر یہ کہ اس سے ان کی مراد خدا کی رضا ہوتی تھی۔
(۳۶۰۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتہمْ یَقُولُونَ : مَا عَمِلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ عَمَلاً قَطُّ إِلاَّ وَہُوَ یُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٣) حضرت عبدالرحمن بن یزید کے بارے میں روایت ہے کہ وہ سات دن میں قرآن پڑھا کرتے تھے۔
(۳۶۰۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی سَبْعٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٤) حضرت زیاد بن حدیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو لوگ تقویٰ میں مبالغہ نہیں کرتے وہ فقاہت حاصل نہیں کرتے۔
(۳۶۰۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ حُدَیْرٍ، قَالَ: مَا فَقِہَ قَوْمٌ لَمْ یَبْلُغُوا التُّقَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٥) حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں لوہے کی رکاوٹ (پنجرہ وغیرہ) میں ہوں اور میرے پاس میری ضرورت کی چیزیں ہوں۔ نہ میں لوگوں سے بات کروں اور نہ ہی لوگ میرے ساتھ بات کریں۔
(۳۶۰۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِی صَخْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ زِیَادُ بْنُ حُدَیْرٍ : لَوَدِدْت أَنِّی فِی حَیِّزٍ مِنْ حَدِیدٍ وَمَعِی مَا یُصْلِحُنِی لاَ أُکَلِّمُ ، وَلاَ یُکَلِّمُونِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٦) حضرت حارث بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب تو کسی دنیوی کام میں ہو تو جلدی کرو اور جب تم کسی اخروی معاملہ میں ہو تو جتنا ہوسکے ٹھہرو۔ اور جب تم نماز پڑھ رہے ہو اور شیطان تمہارے پاس آئے اور کہے : تم دکھلاوا کررہے ہو۔ تو تم (پھر بھی) نماز کو مزید لمبا کرو۔
(۳۶۰۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : إذَا کُنْتَ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا فَتَوحَّ ، وَإِذَا کُنْت فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الآخِرَۃِ فَامْکُثْ مَا اسْتَطَعْت ، وَإِذَا جَائَک الشَّیْطَانُ وَأَنْتَ تُصَلِّی، فَقَالَ : إنَّک تُرَائِی ، فَزِدْ وَأَطِلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٧) حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت خیثمہ نے فرمایا : تم اور ابراہیم مسجد میں بیٹھتے ہو اور تم پر ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ جب کہ میں نے حارث بن قیس کو دیکھا کہ جب ان کے پاس دو آدمی جمع ہوجاتے تو وہ ان کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے۔
(۳۶۰۷۷) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : قَالَ خَیْثَمَۃُ : تَجْلِسُ أَنْتَ وَإِبْرَاہِیمُ فِی الْمَسْجِدِ وَیُجْتَمَعُ عَلَیْکُمْ ، قَدْ رَأَیْت الْحَارِثَ بْنَ قَیْسٍ إذَا اجْتَمَعَ عِنْدَہُ رَجُلاَنِ قَامَ وَتَرَکَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٨) حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں آدمی خیمہ کو کھٹکھٹاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس وہ ان کے لیے شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ پاتا تھا۔ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ اس پر مامون ہیں جس پر وہ لوگ خوفزدہ تھے۔
(۳۶۰۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَ قْمَرِ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : إنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَطْرُقُ الْفُسْطَاطَ ، قَالَ : فَیَجِدُ لَہُمْ دَوِیًّا کَدَوِیِّ النَّحْلِ ، فَمَا بَالُ ہَؤُلاَئِ یَأْمَنُونَ مَا کَانَ أُولَئِکَ یَخَافُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٧٩) حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے عبداللہ بن ربیعہ سے کہا : اے عبداللہ ! کیا آپ اپنے بھتیجے کے بارے میں میری مدد نہیں کرو گے ؟ انھوں نے کہا : وہ کیا مدد ہے ؟ انھوں نے کہا : میں جس کام میں ہوں وہ میری اس میں مدد کرے۔ تو عبداللہ نے اس سے کہا : اے عمرو ! اپنے والد کی اطاعت کر۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے حضرت معضد کی طرف دیکھا۔ وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فرمایا : تو ان کی اطاعت نہ کر { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو نے فرمایا : اے میرے ابا جان ! میں تو محض ایک غلام ہوں جو اپنی گردن چھڑانے میں عمل کررہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر عتبہ رو پڑے اور کہا : اے میرے بیٹے ! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک اللہ کے لیے محبت اور (دوسری) والد کی اپنے بیٹے سے محبت۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو نے کہا : اے ابا جان ! آپ میرے پاس ستر ہزار کے مبلغ مال لائے تھے۔ پس اگر آپ اس مال کے متعلق مجھ سے سوال کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے اس کو لے لو۔ وگرنہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اس کو خرچ کروں۔ عتبہ نے اس کو کہا : تم اس کو خرچ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے اس کو اس طرح خرچ کیا کہ اس میں سے ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔
(۳۶۰۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ رَبِیعَۃَ : یَا عَبْدَ اللہِ ، أَلاَ تُعِینُنِی عَلَی ابْنِ أَخِیک ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : یُعِینُنِی عَلَی مَا أَنَا فِیہِ مِنْ عَمَلٍ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : یَا عَمْرُو ، أَطِعْ أَبَاک ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَی مِعَضَدٍ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : لاَ تُطِعْہُم {وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو : یَا أَبَتِ ، إِنِی إنَّمَا أَنَا عَبْدٌ أَعْمَلُ فِی فِکَاکِ رَقَبَتِی ، قَالَ : فَبَکَی عُتْبَۃُ ، وَقَالَ : یَا بُنَیَّ إنِّی لأُحِبُّک حُبَّیْنِ : حُبًّا لِلَّہِ وَحُبَّ الْوَالِدِ وَلَدَہُ ، قَالَ : فَقَالَ : عَمْرٌو : یَا أَبَتِ ، إنَّک کُنْت أَتَیْتنِی بِمَالٍ بَلَغَ سَبْعِینَ أَلْفًا ، فَإِنْ کُنْت سَائِلِی عَنْہُ فَہُوَ ذَا فَخُذْہُ ، وَإِلاَّ فَدَعْنِی فَأَمْضِیہ ، قَالَ لَہُ : عُتْبَۃُ فَأَمْضِہِ ، قَالَ : فَأَمْضَاہُ حَتَّی مَا بَقِیَ مِنْہُ دِرْہَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٨٠) حضرت عمارہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ کی طرف نکلے اور ہمارے ساتھ حضرت شریح کے گھر والے بھی تھے۔ چنانچہ شریح ہمارے ساتھ مشایعت میں باہر آئے تو فرمایا : ان کی باتوں میں یہ بات بھی تھی۔ چلنے میں خوب کوشش کرو کیونکہ تمہارے سوار تمہیں خدا کی طرف سے کسی چیز کا فائدہ نہیں دیں گے۔ اور آدمی دنیا میں سے کوئی چیز اپنی جان سے ہلکی نہیں چھوڑتا۔ عمارہ کہتے ہیں میں نے ان کی بات یاد رکھی اور اس سے فائدہ اٹھایا۔
(۳۶۰۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَنَا أَہْلٌ لِشُرَیْحِ بْنِ ہَانِیئٍ إِلَی مَکَّۃَ ، فَخَرَجَ مَعَنَا یُشَیِّعْنَا ، قَالَ : فَکَانَ فِیمَا قَالَ لَنَا : أَجِدُّوا السَّیْرَ فَإِنَّ رُکْبَانَکُمْ لاَ تُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللہِ شَیْئًا ، وَمَا فَقَدَ الرَّجُلُ مِنَ الدُّنْیَا شَیْئًا أَہْوَنَ عَلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ تَرَکَہَا ، قَالَ عُمَارَۃُ : فَمَا ذَکَرْتہَا مِنْ قَوْلِہِ إِلاَّ انْتَفَعْت بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٨١) حضرت محمد بن فضیل، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان حنفی کو کہتے سنا : کیا تم میں سے کسی کو اس بات پر حیا نہیں آتی کہ اس کی سواری کا جانور یا اس کے پہننے کا کپڑا اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔ ماہان تکبیر اور تہلیل میں سستی نہیں کرتے تھے۔
(۳۶۰۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَاہَانَ یَقُولُ : أَمَا یَسْتَحْیِی أحَدُکُمْ أَنْ تَکُونَ دَابَّتُہُ الَّتِی یَرْکَبُ وَثَوْبُہُ الَّذِی یَلْبَسُ أَکْثَرَ لِلَّہِ مِنْہُ ذِکْرًا ، فَکَانَ لاَ یَفْتُرُ مِنَ التَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابورزین کا کلام
(٣٦٠٨٢) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ماہان حنفی کو دیکھا اور حجاج نے ان کے بارے میں حکم دیا تھا کہ ان کو ان کے دروازے پر سولی چڑھا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو اس وقت دیکھا جبکہ وہ تختہ پر تھے اور تسبیح، تکبیر، تہلیل اور خدا کی حمد وثنا میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ جب انتیس کو پہنچے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں ان کو نیزہ لگا۔ پھر میں نے ان کو ایک مہینہ کے بعد بھی، اپنے ہاتھ سے انتیس کا عدد شمار کیے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں رات کے وقت ان کے پاس روشنی دیکھی جاتی تھی۔
(۳۶۰۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مُؤَذِّنِ بَنِی حَنِیفَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ مَاہَانَ الْحَنَفِیَّ وَأَمَرَ بِہِ الْحَجَّاجُ أَنْ یُصْلَبَ عَلَی بَابِہِ ، قَالَ : فَنَظَرْت إلَیْہِ وَإِنَّہُ لَعَلَی الْخَشَبَۃِ وَہُوَ یُسَبِّحُ وَیُکَبِّرُ وَیُہَلِّلُ وَیَحْمَدُ اللَّہَ حَتَّی بَلَغَ تِسْعًا وَعِشْرِینَ ، فَعَقَدَ بِیَدِہِ فَطَعَنَہُ وَہُوَ عَلَی ذَلِکَ الْحَالِ ، فَلَقَدْ رَأَیْت بَعْدَ شَہْرٍ تِسْعًا وَعِشْرِینَ بِیَدِہِ، قَالَ : وَکَانَ یُرَی عِنْدَہُ الضَّوْئُ بِاللَّیْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٣) حضرت عطاء بن سائب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالبختری نرم دل تھے اور یہ جب نوحہ سنتے تو رونے لگ جاتے۔
(۳۶۰۸۳) حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : کَانَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ رَجُلاً رَقِیقًا ، وَکَانَ یَسْمَعُ النَّوْحَ وَیَبْکِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٤) حضرت ابوالبختری سے ارشادِ خداوندی { اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ کہتے ہیں وہ لوگ ان کو جس حرام کے حلال کرنے کا کہتے یہ ان کی اطاعت کرتے اور اسی طرح جس خدا کے حلال کردہ کو حرام کرنے کو کہتے یہ ان کی اطاعت کرتے اس طرح ان لوگوں نے ان کی عبادت کی۔
(۳۶۰۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ فِی قَوْلِہِ : {اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ} قَالَ : أَطَاعُوہُمْ فِیمَا أَمَرُوہُمْ بِہِ مِنْ تَحْلِیلِ حَرَامٍ ، وَتَحْرِیمِ حَلاَلِ اللہ فَعَبَدُوہُمْ بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٥) حضرت ابوالبختری کہتے ہیں اگر میں کسی ایسی جماعت میں ہوں جو مجھ سے زیادہ جانتی ہو تو مجھے یہ اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی قوم میں ہوں جہاں سب سے بڑا عالم میں ہوں۔
(۳۶۰۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی الَعَنْبَسِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ : لأَنْ أَکُونَ فِی قَوْمٍ أَعْلَمَ مِنِّی أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَکُونَ فِی قَوْمٍ أَنَا أَعْلَمُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٦) حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں تین باتیں ایسی ہیں کہ مجھے ان میں سے ہونے کی بنسبت آسمان سے گرنا زیادہ محبوب ہے۔ وہ لوگ جو زیب وزینت کی باتوں کو میٹھا سمجھے اور قرآن سے اکتائے اور وہ قوم جو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرے۔ یعنی خارجی اور اہل شام۔
(۳۶۰۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدثنا سَعِیدُ بْنُ صَالِحٍ أُخْبِرْنَا ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ : ثَلاَثَۃٌ لأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَکُونَ أَحَدَہُمْ : قَوْمٌ اسْتَحَلُّوا أَحَادِیثَ لَہَا زِینَۃٌ وَبَہْجَۃٌ ، وَسَئِمُوا الْقُرْآنَ ، وَقَوْمٌ أَطَاعُوا الْمَخْلُوقَ فِی مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ، یَعْنِی أَہْلَ الشَّامِ وَالْخَوَارِجَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٧) حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ حضرت ابوالبختری اور ان کے ساتھی ایسے تھے کہ جب ان میں سے کوئی کسی کو اپنی تعریف کہتے سنتا یا اس کو عجب ہونے لگتا تو وہ اپنے کندھوں کو موڑ لیتا اور کہتا میں خدا کے لیے عاجزی کرتا ہوں۔
(۳۶۰۸۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ وَأَصْحَابَہُ کَانُوا إذَا سَمِعَ أَحَدَہُمْ یُثْنِی عَلَیْہِ ، أَوْ دَخَلَہُ عُجْبٌ ثَنَی مَنْکِبَیْہِ ، وَقَالَ : خَشَعْت لِلَّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالبختری
(٣٦٠٨٨) حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ زمین صاحب ایمان کی غیر موجودگی کو محسوس کرتی ہے اور زمین کے ٹکڑے مومن کے لیے مزین ہوجاتے ہیں جبکہ وہ نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہے۔
(۳۶۰۸۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : إنَّ الأَرْضَ لَتَفْقِدُ الْمُؤْمِنَ ، وَإِنَّ الْبِقَاعَ لَتُزَیَّنُ لِلْمُؤْمِنِ إذَا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمرو بن میمون
(٣٦٠٨٩) حضرت عمرو بن میمون کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ چار چیزوں میں عمل کو جلدی کرو۔ موت سے پہلے زندگی میں، بیماری سے قبل صحت میں، مشغولیت سے قبل فراغت میں اور چوتھی مجھے یاد نہیں رہی۔
(۳۶۰۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالَ : بَادِرُوا بِالْعَمَلِ أَرْبَعًا: بِالْحَیَاۃِ قَبْلَ الْمَمَاتِ ، وَبِالصِّحَّۃِ قَبْلَ السَّقَمِ ، وَبِالْفَرَاغِ قَبْلَ الشُّغْلِ ، وَلَمْ أَحْفَظِ الرَّابِعَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمرو بن میمون
(٣٦٠٩٠) حضرت عمرو بن میمون سے ارشادِ خداوندی { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : (اس سے مراد) جنت ہے۔
(۳۶۰۹۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قَوْلِہِ : {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ} قَالَ : الْبِرُّ الْجَنَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৯০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمرو بن میمون
(٣٦٠٩١) حضرت عمرو بن میمون کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے لیے مسجد کی دیوار میں ایک کیل لگایا جاتا تھا اور جب آپ نماز میں قیام سے تھک جاتے اور قیام آپ کے لیے مشکل ہوجاتا تو آپ اس کیل سے سہارا لے کر ٹھہر جاتے یا اس کے ساتھ رسی باندھ دی جاتی پھر آپ اس کے ساتھ ٹھہر جاتے۔
(۳۶۰۹۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ، قَالَ: کَانَ یُوتَدُ لَہُ فِی حَائِطِ الْمَسْجِد، وَکَانَ إذَا سَئِمَ مِنَ الْقِیَامِ فِی الصَّلاَۃِ وَشَقَّ عَلَیْہِ أَمْسَکَ بِالْوَتِدِ یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ ، أَوْ یُرْبَطُ لَہُ حَبْلٌ فَیَمْسِکُ بِہِ۔
তাহকীক: