মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬১১১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عون بن عبداللہ
(٣٦١١٢) حضرت ابن سابط سے قرآن مجید کی آیت { لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس سے مراد چہرہ خداوندی کی طرف دیکھنا۔
(۳۶۱۱۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ {لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} قَالَ : النَّظَرُ إِلَی وَجْہِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عون بن عبداللہ
(٣٦١١٣) حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے آدم کے بیٹے ! تو نے جتنی میری عبادت کی اور مجھ سے امید رکھی پس میں تجھے جو کچھ ہوچکا ہے اس پر معاف کرتا ہوں۔ میرا بندہ مجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہے اور میں کیسے اپنے بندہ کو گمراہ کروں جبکہ وہ مجھ سے ہدایت مانگتا ہے اور میں حکم ہوں۔
(۳۶۱۱۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ یَقُولُ : إنَّک یَا ابْنَ آدَمَ مَا عَبَّدْتنِی وَرَجَوْتنِی فَإِنِّی غَافِرٌ لَک عَلَی مَا کَانَ ، یَسْأَلُنِی عَبْدِی الْہُدَی وَکَیْفَ أضِلُّ عَبْدِی وَہُوَ یَسْأَلُنِی الْہُدَی وَأَنَا الْحَکَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عون بن عبداللہ
(٣٦١١٤) حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رات کے اندھیروں میں نمازوں کے لیے جانے والوں کو قیامت کے دن نور تام کی خوشخبری دے دو ۔
(۳۶۱۱۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : بَشِّرَ الْمَشَّائِینَ فِی ظُلَمِ اللَّیْلِ إِلَی الصَّلَوَاتِ بِنُورٍ تَامٍّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عون بن عبداللہ
(٣٦١١٥) حضرت علاء بن عبدالکریم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ابن سابط کو قرآن مجید کی آیت { وَإِنَّہُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ} کے بارے میں کہتے سنا۔ آپ نے فرمایا : اُم الکتاب میں ہر وہ چیز ہے جو قیامت تک ہونے والی ہے۔
(۳۶۱۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ سَمِعَہُ مِنَ ابْنِ سَابِطٍ : {وَإِنَّہُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ} قَالَ : فِی أُمِّ الْکِتَابِ کُلُّ شَیْئٍ ہُوَ کَائِنٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عون بن عبداللہ
(٣٦١١٦) حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے امور کی تدبیر چار فرشتے کرتے ہیں۔ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت۔ جو جبرائیل ہے وہ لشکروں اور ہوا والا ہے اور جو میکائیل ہے وہ بارشوں اور نباتات والا ہے اور ملک الموت تو روحوں کو قبض کرنے والا ہے اور اسرافیل لوگوں پر جو احکامات ہوتے ہیں جو انھوں نے پورے کرنے ہوتے ہیں وہ لے کر اترتا ہے۔
(۳۶۱۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ سَمِعْت الأَعْمَشَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : یُدَبِّرُ أَمْرَ الدُّنْیَا أَرْبَعَۃٌ : جَبْرَائِیلُ وَمِیکَائِیلُ وَإِسْرَافِیلُ وَمَلَکُ الْمَوْتِ ، فَأَمَّا جَبْرَائِیلُ فَصَاحِبُ الْجُنُودِ وَالرِّیحِ ، وَأَمَّا مِیکَائِیلُ فَصَاحِبُ الْقَطْرِ وَالنَّبَاتِ ، وَأَمَّا مَلَکُ الْمَوْتِ فَمُوَکَّلٌ بِقَبْضِ الأَنْفُسِ ، وَإِمَّا إسْرَافِیلُ فَہُوَ یَتَنَزَّلُ بِالأَمْرِ عَلَیْہِمْ بِمَا یُؤْمَرُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١١٧) حضرت ابوحیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کو کہتے سنا میں نے جب بھی اپنے قول کو اپنے عمل پر پیش کیا تو مجھے یہ ڈر ہوا کہ میں جھوٹا نہ بنوں۔
(۳۶۱۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ یَقُولُ: مَا عَرَضْت قَوْلِی عَلَی عَمَلِی إِلاَّ لَخَشِیت أَنْ أَکُونَ مُکَذِّبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١١٨) حضرت سالم بن ابی حفصہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم تیمی کو کہتے سنا : اے اللہ ! ہم کمزور ہیں۔ اس کمزوری کی وجہ سے جس پر تو نے ہمیں پیدا کیا اور اس کمزوری کی وجہ سے جس کی طرف ہم نے رجوع کرنا ہے جو تو چاہے (وہی ہوتا ہے) نہ کہ جو ہم چاہیں۔ پس تو ہمارے لیے یہ بات چاہ لے کہ ہم استقامت کے ساتھ رہیں۔
(۳۶۱۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ یَقُولُ: اللَّہُمَّ إنَّا ضُعَفَائُ، مِنْ ضَعْفٍ خَلَقْتَنَا وَإِلَی ضَعْفٍ مَا نَصِیرُ ، فَمَا شِئْت لاَ مَا شِئْنَا ، فَشَأْ لَنَا أَنْ نَسْتَقِیمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١١٩) حضرت حصین، حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کے کلام میں سے یہ بات تھی : آدمی کو اس سے بڑی حسرت کیا ہوگی کہ وہ اپنے غلام کو جس کو اللہ نے دنیا میں اس کا غلام بنایا تھا اور وہ غلام اللہ کے ہاں بروز قیامت افضل درجہ پر ہو ؟ آدمی کو اس سے بڑی حسرت کس بات پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال دیا تھا۔ وہ کسی اور کو اس مال کا وارث بنا دے پھر وہ وارث اس مال میں اللہ کی اطاعت کرے۔ پس مال کا گناہ مالک پر اور اس کا ثواب دوسرے کے لیے ہو ؟ اور اس سے بڑی حسرت آدمی کو کیا ہوگی کہ وہ کسی بندے کو دیکھے جو دنیا میں نابینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کھول دی ہے اور یہ نابینا ہوگیا ہے ؟ پھر آپ (رض) نے فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ دنیا سے بھاگتے تھے جبکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اور ان لوگوں کو جو مقام ملتا تھا وہ ملتا تھا۔ لیکن تم لوگ دنیا کی پیروی کرتے ہو اور دنیا نے تم سے منہ پھیرا ہوا ہے اور تمہیں جو عذاب ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ پس تم اپنا اور ان لوگوں کا معاملہ قیاس کرلو۔
(۳۶۱۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : کَانَ مِنْ کَلاَمُہِ أَنْ یَقُولَ : أَیُّ حَسْرَۃٍ أَکْبَرُ عَلَی امْرِئٍ مِنْ أَنْ یَرَی عَبْدًا لہ کَانَ اللَّہُ خَوَّلَہُ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ عِنْدَ اللہِ أَفْضَلُ مَنْزِلَۃً مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَأَیُّ حَسْرَۃٍ عَلَی امْرِئٍ أَکْبَرُ مِنْ أَنْ یُؤْتِیَہُ اللَّہُ مَالاً فِی الدُّنْیَا فَیَرِثَہُ غَیْرُہُ فَیَعْمَلَ فِیہِ بِطَاعَۃِ اللہِ فَیَکُونَ وِزْرُہُ عَلَیْہِ وَأَجْرُہُ لِغَیْرِہِ ، وَأَیُّ حَسْرَۃٍ عَلَی امْرِئٍ أَکْبَرُ مِنْ أَنْ یَرَی عَبْدًا کَانَ مَکْفُوفَ الْبَصَرِ فِی الدُّنْیَا قَدْ فَتَحَ اللَّہُ لَہُ ، عَنْ بَصَرِہِ وَقَدْ عَمِیَ ہُوَ ، ثُمَّ یَقُولُ : إنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوا یَفِرُّونَ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ مُقْبِلَۃٌ عَلَیْہِمْ ، وَلَہُمْ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَہُمْ ، وَإِنَّکُمْ تَتَّبِعُونَہَا وَہِیَ مُدْبِرَۃٌ عَنْکُمْ وَلَکُمْ مِنَ العذاب مَا لَکُمْ ، فَقِیسُوا أَمْرَکُمْ وَأَمْرَ الْقَوْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٠) حضرت ابراہیم تیمی سے قرآن مجید کی آیت { وَیَأْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَان } کے بارے میں منقول ہے کہ یہاں تک کہ بالوں کے کناروں سے بھی موت آئے گی۔
(۳۶۱۲۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ : {وَیَأْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَان} قَالَ : حَتَّی مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢١) حضرت ابراہیم تیمی سے {إنَّا ہُدْنَا إلَیْک } کے بارے میں روایت ہے : تُبْنَا یعنی ہم نے رجوع کیا۔
(۳۶۱۲۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ {إنَّا ہُدْنَا إلَیْک} قَالَ : تُبْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٢) حضرت ابراہیم تیمی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ ایسی چادر اوڑھتے تھے جو پیچھے سے سرین تک اور آگے سے پستان تک پہنچتی تھی۔ ابراہیم کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے ابا جان ! اگر آپ اپنی اس چادر سے بڑی چادرلے لیں ! انھوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ بات نہ کہہ۔ خدا کی قسم ! زمین پر جو طیب لقمہ بھی میں کھاتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی میرے مبغوض ترین انسان کے منہ میں چلا جائے۔
(۳۶۱۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ یَرْتَدِی بِالرِّدَائِ یَبْلُغُ أَلْیَتَیْہِ مِنْ خَلْفِہِ وَثَدْیَیْہِ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَبَتِ ، لَوْ أَنَّک اتَّخَذْت رِدَائً أَوْسَعَ مِنْ رِدَائِک ہَذَا ، قَالَ : یَا بُنَی ، لاَ تَقُلْ ہَذَا ، فَوَاللہِ مَا عَلَی الأَرْضِ لُقْمَۃٌ لَقَمْتہَا طَیِّبَۃً إِلاَّ لَوَدِدْت لَوْ کَانَتْ فِی أَبْغَضِ النَّاسِ إلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٣) حضرت ابراہیم تیمی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ والد صاحب بصرہ گئے اور انھوں نے چار ہزار میں غلام خریدا۔ پھر اسے چار ہزار کے نفع کے ساتھ بیچ دیا۔ میں نے ان سے کہا ابا جان ! اگر آپ بصرہ جائیں اور غلاموں کی خریدو فروخت کریں تو خوب نفع ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے ایسی بات نہ کہو۔ واللہ مجھے یہ نفع حاصل کر کے خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی میرے دل میں اس طرح کا اور نفع حاصل کرنے کی امنگ پیدا ہوئی ہے۔
(۳۶۱۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَی الْبَصْرَۃِ فَاشْتَرَی رَقِیقًا بِأَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، قَالَ : فَبَنَوْا لَہُ دَارِہِ ، ثُمَّ بَاعَہُمْ بِرِبْحٍ أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَتِ لَوْ أَنَّک عَمَدْت إِلَی الْبَصْرَۃِ فَاشْتَرَیْت مِثْلَ ہَؤُلاَئِ فَرَبِحْت فِیہِمْ ، فَقَالَ : لاَ تَقُلْ لِی ہَذَا ، فَوَاللہِ مَا فَرِحْت بِہَا حِینَ أَصَبْتہَا ، وَلاَ حَدَّثْت نَفْسِی بِأَنْ أَرْجِعَ فَأُصِیبَ مِثْلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٤) حضرت یزید بن شجرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو میت بھی مرتا ہے تو اس کے ہم مجلس اس کے سامنے متمثل ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اہل لہو ہوں تو اہل لہو۔ اور اگر اہل ذکر سے ہوں تو اہل ذکر۔
(۳۶۱۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ شَجَرَۃَ، قَالَ: مَا مِنْ مَیِّتٍ یَمُوتُ حَتَّی یُمَثَّلَ لَہُ جُلَسَاؤُہُ عِنْدَ مَوْتِہِ ، إنْ کَانُوا أَہْلَ لَہْوٍ فَأَہْلُ لَہْوٍ ، وَإِنْ کَانُوا أَہْلَ ذِکْرٍ فَأَہْلُ ذِکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٥) حضرت ابن شجرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبر کافر آدمی سے یا فاجر آدمی سے کہتی ہے کیا تمہیں میری ظلمت یاد نہیں ہے ؟ کیا تمہیں میری وحشت یاد نہیں ہے ؟ کیا تمہیں میری تنگی یاد نہیں ہے ؟ کیا تمہیں میرا غم یاد نہیں ؟ “
(۳۶۱۲۵) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عن مجاہد عَنِ ابْنِ شَجَرَۃَ ، قَالَ : یَقُولُ الْقَبْرُ لِلرَّجُلِ الْکَافِرِ ، أَوِ الْفَاجِرِ : أَمَا ذَکَرْت ظُلْمَتِی ؟ أَمَا ذَکَرْت وَحْشَتِی ؟ أَمَا ذَکَرْت ضِیقِی ؟ أَمَا ذَکَرْت غَمِّی ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٦) حضرت یزید بن شجرہ کے بارے میں روایت ہے وہ قصہ بیان کرتے تھے اور ان کا فعل ان کے قول کی تصدیق کرتا تھا۔
(۳۶۱۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ شَجَرَۃَ ، قَالَ : کَانَ یَقُصُّ وَکَانَ یُصَدِّقُ فِعْلُہُ قَوْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٧) حضرت کردوس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں صبح وشام واقعات سنایا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ بیشک جنت، جنت کے عمل کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی۔ رغبت کو خوف کے ساتھ ملائے رکھو۔ اچھے کاموں پر مداومت رکھو۔ اور اللہ تعالیٰ سے سلیم قلوب اور صالح اعمال کے ہمراہ ڈرتے رہو۔ اور آپ بکثرت یہ فرمایا کرتے تھے : جو ڈرتا ہے وہ جلدی اندھیرے میں ہی چل پڑتا ہے۔
(۳۶۱۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَمِّہِ ، عَنْ کُرْدُوسٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُصُّ عَلَیْنَا غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً وَیَقُولُ : إنَّ الْجَنَّۃَ لاَ تُنَالُ إِلاَّ بِعَمَلٍ لَہَا ، اخْلِطُوا الرَّغْبَۃَ بِالرَّہْبَۃِ ، وَدُومُوا عَلَی صَلاَحٍ ، وَاتَّقُوا اللَّہَ بِقُلُوبٍ سَلِیمَۃٍ وَأَعْمَالٍ صَالِحَۃٍ ، وَیُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ : مَنْ خَافَ أَدْلَجَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم تیمی کا کلام
(٣٦١٢٨) حضرت ابودہقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک جوان حضرت احنف کے ہمراہ چلا جارہا تھا تو آپ نے اس کو کہا : اے برادر زادہ ! جب حق تمہارے سامنے آجائے تو پھر تم اس کا ارادہ کرلو اور اس کے ماسوا سے غافل ہوجاؤ۔
(۳۶۱۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنْبَاعِ ، عَنْ أَبِی الدِّہْقَانِ ، قَالَ : بَیْنَمَا شَابٌّ یَمْشِی مَعَ الأَحْنَفِ ، فَقَالَ لَہُ : یَا ابْنَ أَخِی ، إذَا عُرِضَ لَک الْحَقُّ فَاقْصِدْ لَہُ وَالْہَ عَمَّا سِوَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٢٩) حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے تم عمل کرو درآنحالیکہ تم ڈر رہے ہو اور عمل کو چھوڑ دو جبکہ تمہیں اس کی چاہت ہو۔ عمل صالح تھوڑا بھی ہو تم اس پر مداومت کرو۔
(۳۶۱۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، قَالَ : کَانَ یُقَالَ : اعْمَلْ وَأَنْتَ مُشْفِقٌ وَدَعَ الْعَمَلَ وَأَنْتَ تَشْتَہِیہِ ، عَمَلٌ صَالِحٌ قَلِیلٌ تَدُومُ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٠) حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے حضرت یحییٰ کہتے ہیں جب آدمی سجدہ کرے اور حضرت ابن مہدی کہتے ہیں جب آدمی اپنی پیشانی کو رکھ دیتا ہے تو وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔
(۳۶۱۳۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، وَابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، قَالَ یَحْیَی : إذَا سَجَدَ ، وَقَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ : إذَا وَضَعَ الرَّجُلُ جَبْہَتَہُ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْکِبْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣١) حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو حضرت شریح کے حوالہ سے ذکر کرتے سنا کہ انھوں نے اپنے ایک پڑوسی کو دیکھا جو جارہے تھے۔ پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم فارغ ہوگئے ہیں۔ شریح نے کہا : فارغ آدمی کو یہی حکم ہے ؟ “
(۳۶۱۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتہمْ یَذْکُرُونَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ رَأَی جِیرَانًا لَہُ تَحَوَّلُوا ، فَقَالَ : مَا لَکُمْ ؟ قَالُوا : فَرَغْنَا ، قَالَ : وَبِہَذَا أُمِرَ الفارغ۔
তাহকীক: