মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৬১৩১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٢) حضرت عبداللہ بن عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آسان ترین قربانی لباس اور چال ہے۔
(۳۶۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ أَیْسَرَ النُّسُکِ اللِّبَاسُ وَالْمَشْیَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٣) حضرت ابوسنان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابوالہذیل ایک دن اپنے گناہوں کی شکایت کررہے تھے تو ان سے ایک آدمی نے کہا : اے ابوالمغیرہ ! کیا تم متقی نہیں ہو۔ راوی کہتے ہیں انھوں نے کہا : اے اللہ ! تیرا ایک بندہ میرے قریب ہو رہا ہے اور میں تجھے اس کے غصہ پر گواہ بناتا ہوں۔
(۳۶۱۳۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ، قَالَ : اشْتَکَی عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی الْہُذَیْلِ یَوْمًا ذُنُوبَہُ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا أَبَا الْمُغِیرَۃِ ، أَلَسْت التَّقِیَّ ، قَالَ : فَقَالَ : اللَّہُمَّ إنَّ عَبْدَک ہَذَا أَرَادَ أَنْ یَتَقَرَّبَ إلَیَّ وَإِنِّی أُشْہِدُک عَلَی مَقْتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٤) حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا تمہارا بھائی مرگیا ہے۔ پس میں جلدی سے آیا۔ اس کو اس کے کپڑوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور میں اپنے بھائی کے سر کے پاس کھڑا اس کے لیے استغفار کررہا تھا۔ اور انا للہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا اور اس نے کہا : السلام علیکم ! ہم نے جواب میں کہا۔ وعلیک السلام۔ سبحان اللہ۔ اس نے کہا : سبحان اللہ۔ میں تمہارے بعد اللہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ وہاں میرا استقبال باد نسیم اور ریحان کے ساتھ اور ایسے پروردگار نے کیا جو غصہ میں نہیں تھا۔ اور مجھے سندس اور ریشم کا سبز لباس پہنایا۔ اور میں نے تمہارے گمان سے بھی آسان معاملہ پایا۔ اور تم بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ۔ میں نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ میں تمہیں خبر دوں اور بشارت دوں۔ تم مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے چلو۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں تمہارے آنے تک یہیں رہوں گا۔ پھر یہ صاحب اسی جگہ فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایک کنکری پکڑی اور پھینک دی۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ وہ زیادہ تیز تھے یا یہ۔
(۳۶۱۳۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : أُتِیتُ فَقِیلَ لِی : قَدْ مَاتَ أَخُوک ، فَجِئْت سَرِیعًا وَقَدْ سُجِّیَ بِثَوْبِہِ ، فَأَنَا عِنْدَ رَأْسِ أَخِی أَسْتَغْفِرُ لَہُ وَأَسْتَرْجِعُ إذْ کُشِفَ الثَّوْبُ عَنْ وَجْہِہِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَقُلْنَا : وَعَلَیْک السَّلاَمُ سُبْحَانَ اللہِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ إنِّی قَدِمْت عَلَی اللہِ بَعْدَکُمْ فَتُلُقِّیت بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ ، وَکَسَانِی ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ ، وَوَجَدْت الأَمْرَ أَیْسَرَ مِمَّا تَظُنُّونَ ، وَلاَ تَتَّکِلُوا ، وَإِنِّی أَسْتَأْذَنْت رَبِّی أن أُخْبِرُکُمْ وَأُبَشِّرُکُمْ ، احْمِلُونِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہُ عَہِدَ إلَیَّ أَنْ لاَ أَبْرَحَ حَتَّی آتِیَہُ ، ثُمَّ طَفِئَ مَکَانُہُ ، قَالَ : وَأَخَذَ حَصَاۃً فَرَمَی بِہَا ، قَالَ : فَمَا أَدْرِی أَہُوَ کَانَ أَسْرَعَ أَمْ ہَذِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٥) حضرت ابوعون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل خیر جب باہم ملتے تھے تو ان میں سے بعض، بعض کو تین باتوں کی وصیت کرتے تھے اور جب یہ غائب ہوتے تو پھر ایک دوسرے کو یہ تحریر کرتے۔ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے لیے اس کو کافی ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ درست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ جو شخص اپنی خلوت کو درست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جلوت کو درست کردیتے ہیں۔
(۳۶۱۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْخَیْرِ إذَا الْتَقَوْا یُوصِی بَعْضُہُمْ بَعْضًا بِثَلاَثٍ ، وَإِذَا غَابُوا کَتَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ مَنْ عَمِلَ لآخِرَتِہِ کَفَاہُ اللَّہُ دُنْیَاہُ ، وَمَنْ أَصْلَحَ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللہِ کَفَاہُ اللَّہُ النَّاسَ ، وَمَنْ أَصْلَحَ سَرِیرَتَہُ أَصْلَحَ اللَّہُ عَلاَنِیَتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٦) حضرت عبداللہ بن سنان سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے ایک دوست کو خواب میں دیکھا۔ تو اس سے پوچھا جب تم نے معاملہ دیکھا تو کون سی چیز تمہیں سب سے افضل نظر آئی ؟ انھوں نے کہا : مسجد کے چند سجدے۔
(۳۶۱۳۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا قُطْبَۃُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سِنَانٍ ، أَنَّہُ رَأَی صَاحِبًا لَہُ فِی النَّوْمِ ، فَقَالَ : أَیُّ شَیْئٍ رَأَیْت أَفْضَلَ حِینَ اطَّلَعْت الأَمْرَ ، قَالَ : سَجَدَاتُ الْمَسْجِدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
(٣٦١٣٧) حضرت عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے چالیس سال تک خشکی میں اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے دعا کی۔ اے پروردگار ! میں سمندر میں آپ کی عبادت کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ چنانچہ کچھ لوگ آئے اور اس نے ان سے سوار کرنے کو کہا : انھوں نے اس کو (کشتی میں) سوار کرلیا۔ پھر جب تک خدا کی مشیت تھی کشتی انھیں لے کر چلتی رہی۔ پھر کشتی ٹھہر گئی۔ وہاں پانی کے کنارے میں ایک درخت تھا۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی نے (کشی والوں سے) کہا : مجھے اس درخت کے پاس اتار دو ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اس جگہ کیسے زندہ رہو گے ؟ اس نے کہا : میں نے تمہیں اجرت پر اٹھانے کو کہا تھا پس جہاں میرا دل چاہے تم مجھے وہیں اتارو۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس کو وہاں اتار دیا اور کشتی بقایا لوگوں کو لے کر پھر چل پڑی۔ پھر ایک فرشتے نے آسمان پر چڑھنا چاہا اور اس نے وہ کلمات پڑھے جن کے ذریعہ وہ آسمان پر چڑھتا تھا لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کی کسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ وہ درخت والے کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے پروردگار کے پاس اس کی سفارش کرے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس آدمی نے نماز پڑھی اور فرشتے کے لیے دعا کی۔ راوی کہتے ہیں : اس عابد نے خدا سے یہ دعا بھی کی کہ اس کی روح یہ فرشتہ قبض کرے تاکہ ملک الموت سے ہلکی تکلیف ہو۔ چنانچہ جب اس آدمی کی موت آئی تو یہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ تیرے بارے میں میری بھی شفاعت قبول کریں جس طرح انھوں نے میرے بارے میں تیری شفاعت قبول کی تھی اور یہ کہ میں ہی تمہاری روح قبض کروں۔ پس جیسے تم چاہو گے میں تمہاری روح قبض کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس عابد نے سجدہ کیا اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلا اور وہ مرگیا۔
(۳۶۱۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ طُعْمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِیسَی ، قَالَ : کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ عَبَدَ اللَّہَ أَرْبَعِینَ سَنَۃً فِی الْبَرِّ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ قَدَ اشْتَقْت أَنْ أَعْبُدَک فِی الْبَحْرِ ، فَأَتَی قَوْمٌ فَاسْتَحْمَلَہُمْ فَحَمَلُوہُ ، وَجَرَتْ بِہِمْ سَفِینَتُہُمْ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَجْرِیَ ، ثُمَّ قَامَتْ فَإِذَا شَجَرَۃٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَائِ ، قَالَ : فَقَالَ : ضَعُونِی عَلَی ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، قَالَ : فَقَالُوا : مَا یُعَیِّشُک عَلَی ہَذِہِ ، قَالَ : إنَّمَا اسْتَحْمَلْتُکُمْ فَضَعُونِی حَیْثُ أُرِیدُ ، فَوَضَعُوہُ وَجَرَتْ بِہِمْ سَفِینَتُہُمْ ، فَأَرَادَ مَلَکٌ أَنْ یَعْرُجَ إِلَی السَّمَائِ فَتَکَلَّمَ بِکَلاَمِہِ الَّذِی کَانَ یَعْرُجُ بِہِ فَلَمْ یَقْدِرْ عَلَی ذَلِکَ ، فَعَلِمَ ، أَنَّ ذَلِکَ لِخَطِیئَۃٍ کَانَتْ مِنْہُ ، فَأَتَی صَاحِبُ الشَّجَرَۃِ فَسَأَلَہُ أَنْ یَشْفَعَ لَہُ إِلَی رَبِّہِ ، قَالَ : فَصَلَّی وَدَعَا لِلْمَلَکِ ، قَالَ وَطَلَبَ إِلَی رَبِّہِ أَنْ یَکُونَ ہُوَ یَقْبِضُ نَفْسَہُ لِیَکُونَ أَہْوَنَ عَلَیْہِ مِنْ مَلَکِ الْمَوْتِ ، فَأَتَاہُ حِینَ حَضَرَ أَجَلُہُ ، فَقَالَ : إنِّی طَلَبْت إِلَی رَبِّی أَنْ یُشَفِّعَنِی فِیک کَمَا شَفَّعَک فِی ، وَأَنْ أَکُونَ أَنَا أَقْبِضُ نَفْسَک ، فَمِنْ حَیْثُ شِئْت قَبَضْتہَا ، قَالَ : فَسَجَدَ سَجْدَۃً فَخَرَجَتْ دَمْعَۃٌ مِنْ عَیْنِہِ فَمَاتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٣٨) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے جب سردی کا موسم آتا تو وہ کہتے اے اہل قرآن ! تمہاری نمازوں کے لیے رات لمبی ہوگئی ہے اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹا ہوگیا ہے۔ پس تم غنیمت سمجھو۔
(۳۶۱۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : إذَا جَائَ الشِّتَائُ یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ طَالَ اللَّیْلُ لِصَلاَتِکُمْ وَقَصُرَ النَّہَارُ لِصِیَامِکُمْ فَاغْتَنِمُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٣٩) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم میں سے جو خوب محنت کرنے والا ہے وہ پہلے لوگوں میں سے کھیلنے والے کی طرح ہے۔
(۳۶۱۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : مَا کَانَ الْمُجْتَہِدُ فِیکُمْ إِلاَّ کَاللاَّعِبِ فِیمَنْ مَضَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٠) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک قبروں والے خبروں کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر جب ان کے پاس خبریں نہیں آتیں تو وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے ہیں۔ یہ ہمارے راستہ کے علاوہ پر چل پڑے ہیں۔
(۳۶۱۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ أَہْلَ الْقُبُورِ لیَتَوَقَّعُونَ الأَخْبَارَ ، فَإِذَا لَمْ تَأْتِہِمْ ، قَالُوا : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ، سُلِکَ بِہِ غَیْرُ طَرِیقِنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤١) حضرت بعید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک بڑے لمبے آدمی کو لایا جائے گا اور اس کو میزان میں رکھا جائے گا تو اللہ کے ہاں اس کا وزن مچھر کے پر جتنا بھی نہیں ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : { فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا }۔
(۳۶۱۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : یُؤْتَی بِالرَّجُلِ الْعَظِیمِ الطَّوِیلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُوضَعُ فِی الْمِیزَانِ ، فَلاَ یَزِنُ عِنْدَ اللہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ وَقَرَأَ : {فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٢) حضرت عبید بن عمیر سے قرآن مجید کی آیت { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو کسی بھی مجلس میں بیٹھے پھر اٹھے تو اللہ سے معافی کا طلبگار رہے۔
(۳۶۱۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ : {لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ} قَالَ : الَّذِی لاَ یَجْلِسُ مَجْلِسًا ، ثُمَّ یَقُومُ إِلاَّ اسْتَغْفَرَ اللَّہَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٣) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ ناپسندیدہ اوقات میں وضو کو خوب اچھی طرح کرنا۔ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ آدمی کسی حسین عورت کے ساتھ خلوت میں ہو پھر اس کو چھوڑ دے۔ اس کو صرف اللہ کے لیے چھوڑ دے۔
(۳۶۱۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : مِنْ صِدْقِ الإِیمَانِ وَبِرِّہِ إسْبَاغُ الْوُضُوئِ فِی الْمَکَارِہِ وَمِنْ صِدْقِ الإِیمَانِ وَبِرِّہِ أَنْ یَخْلُوَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَۃِ الْحَسْنَائِ فَیَدَعَہَا ، لاَ یَدَعُہَا إِلاَّ لِلَّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٤) حضرت عبید بن عمیر سے ارشادِ خداوندی { عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِکَ زَنِیمٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ زیادہ کھانے والا اور زیادہ پینے والا ہے۔ طاقتور اور سخت جان لیکن وزن کیا جائے تو وہ جو کے وزن کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ فرشتہ اس جیسے ستر لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں جہنم میں پھینک دے گا۔
(۳۶۱۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ فِی قَوْلِہِ : {عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِکَ زَنِیمٍ} قَالَ : ہُوَ الأَکُولُ الشَّرُوبُ الْقَوی الشَّدِیدُ یُوزَنُ فَلاَ یَزِنُ شَعِیرَۃً ، یَدْفَعُ الْمَلَکُ مِنْ أُولَئِکَ سَبْعِینَ أَلْفًا دَفْعَۃً وَاحِدَۃً فِی جَہَنَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٥) حضرت عبید بن عمیر سے { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : یہ وہ آدمی ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔
(۳۶۱۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ {لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ} قَالَ : الَّذِی یَذْکُرُ ذُنُوبَہُ فِی الْخَلاَئِ فَیَسْتَغْفِرُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٦) حضرت عبید بن عمیر سے { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : اس کی شان میں سے یہ بات ہے کہ وہ قیدی کو رہائی دیتا ہے یا دعا کرنے والے کی قبول کرتا ہے، یا بیمار کو شفا دیتا ہے یا سوال کرنے والے کو عطا کرتا ہے۔
(۳۶۱۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ {کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ} قَالَ : مِنْ شَأْنِہِ أَنْ یَفُکَّ عَانِیًا ، أَوْ یُجِیبَ دَاعِیًا ، أَوْ یَشْفِیَ سَقِیمًا ، أَوْ یُعْطِیَ سَائِلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٧) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اللہ کے ہاں، اپنے ناموں، اپنی نشانیوں، اپنے ہم مجلسوں اور اپنے ظاہری حلیوں سمیت لکھے ہوئے ہو۔
(۳۶۱۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّکُمْ مَکْتُوبُونَ عِنْدَ اللہِ بِأَسْمَائِکُمْ وَسِیمَاکُمْ ومجالسکم وَحُلاَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٨) حضرت عبید بن عمیر سے ارشاد خداوندی { مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَائُ وَالضَّرَّائُ } کے بارے میں روایت ہے۔ الباساء سے مراد فقر ہے اور الضراء سے مراد تکلیف ہے۔ پھر فرمایا : السراء سے مراد نرمی ہے اور الضراء سے مراد سختی ہے۔
(۳۶۱۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ فِی قَوْلِ اللہِ {مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَائُ وَالضَّرَّائُ} قَالَ : الْبَأْسَائُ : الْبُؤْسُ ، وَالضَّرَّائُ : الضُّرُّ ، ثُمَّ قَالَ : السَّرَّائُ : الرَّخَائُ ، وَالضَّرَّائُ : الشِّدَّۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٤٩) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ (رض) کہتے ہیں : پس اس آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چنانچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں : پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔
(۳۶۱۴۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ لِرَجُلٍ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَّئِ بَعْضُہُمْ أَخَصُّ بِہِ مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ بِہِ نَازِلَۃٌ فَلَقِیَ أَخَصَّ الثَّلاَثَۃِ بِہِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا ، وَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی أَفْعَلُ ، فَانْطَلَقَ إِلَی الَّذِی یَلِیہِ فِی الْخَاصَّۃِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، فَقَالَ : أَنْطَلِقُ مَعَک حَتَّی تَبْلُغَ الْمَکَانَ الَّذِی تُرِیدُ، فَإِذَا بَلَغْتَ رَجَعْتُ وَتَرَکْتُک ، فَانْطَلَقَ إِلَی أَخَسِّ الثَّلاَثَۃِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : أَنَا أَذْہَبُ مَعَک حَیْثُمَا ذَہَبْت ، وَأَدْخُلُ مَعَک حَیْثُمَا دَخَلْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ فَمَالُہُ ، خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ فَلَمْ یَتْبَعْہُ مِنْہُ شَیْئٌ ، وَالثَّانِی أَہْلُہُ وَعَشِیرَتُہُ ذَہَبُوا بِہِ إِلَی قَبْرِہِ ، ثُمَّ رَجَعُوا وَتَرَکُوہُ ، وَالثَّالِثُ عَمَلُہُ ہُوَ حَیْثُمَا ذَہَبَ وَیَدْخُلُ مَعَہُ حَیْثُ مَا دَخَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٠) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ { یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّک } کی تفسیر میں فرماتے ہیں : سورج کا غروب کی جگہ سے طلوع ہونا۔
(۳۶۱۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ {یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّک} قَالَ : طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥١) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ پس جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے تم اس کو حلال جانو اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے تم اس سے اجتناب کرو۔ اور ان میں سے بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے نہ ان کو حرام قرار دیا ہے اور نہ ان کو حلال قرار دیا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے معافی ہے پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ۔۔۔} آخر آیت تک۔
(۳۶۱۵۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ أَحَلَّ وَحَرَّمَ ، فَمَا أَحَلَّ فَاسْتَحِلُّوہُ ، وَمَا حَرَّمَ فَاجْتَنِبُوہُ وَتَرَکَ من ذَلِکَ أَشْیَائَ لَمْ یُحِلَّہَا وَلَمْ یُحَرِّمْہَا ، فَذَلِکَ عَفْوٌ مِنَ اللہِ عَفَاہُ ، ثُمَّ یَتْلُو : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: