মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬১৫১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٢) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بھی بندہ کی تب تک ضرورت رہتی ہے جب تک بندہ خدا کی طرف حاجت مند رہتا ہے۔
(۳۶۱۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : لاَ یَزَالُ للہ فِی الْعَبِدِ حَاجَۃ مَا کَانَتْ لِلْعَبْدِ إِلَی اللہِ حَاجَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٣) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قبروں والے بھی میت کا اس طرح استقبال کرتے ہیں جس طرح کسی سوار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے سوال کرتے ہیں۔ پس جب وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا ؟ جو لوگ مرگئے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو یہ میت کہتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اس پر وہ کہتے ہیں : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ اس کو اس کے ٹھکانا ہاویہ کی طرف لے جایا گیا۔
(۳۶۱۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ أَہْلَ الْقُبُورِ لَیَتَوکَّفُونَ لِلْمَیِّتَ کَمَا یُتَلَقَّی الرَّاکِبُ یَسْأَلُونَہُ ، فَإِذَا سَأَلُوہُ مَا فَعَلَ فُلاَنٌ مِمَّنْ قَدْ مَاتَ ، فَیَقُولُ : أَلَمْ یَأْتِکُمْ ، فَیَقُولُونَ : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ذُہِبَ بِہِ إِلَی أُمِّہِ الْہَاوِیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٤) حضرت عبید بن عمیر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک قبر کہتی ہے۔ اے ابن آدم ! تو نے میرے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں غربت کا گھر ہوں۔ تنہائی کا گھر ہوں۔ کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ؟ “
(۳۶۱۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدثنا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : إنَّ الْقَبْرَ لَیَقُولُ : یَا ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَعْدَدْت لِی أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّی بَیْتُ الْغُرْبَۃِ ، وَبَیْتُ الْوَحْدَۃِ ، وَبَیْتُ الأَکْلَۃِ ، وَبَیْتُ الدُّودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٥) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح کو اپنی قوم میں سے ایسے آدمی سے بھی واسطہ پڑا کہ اس نے آپ (علیہ السلام) کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ آپ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ یہ کہہ رہے تھے۔ اے میرے پروردگار ! میری قوم کو معاف کردے کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔
(۳۶۱۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: إنْ کَانَ نُوحٌ لَیَلْقَاہُ الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِہِ فَیَخْنُقُہُ حَتَّی یَخِرَّ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ، قَالَ: فَیفِیقُ حِینَ یَفِیقُ وَہُوَ یَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٦) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت نوح کی قوم پر جب غرق کا سیلاب آیا کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے ہمراہ ایک عورت تھی جس کے پاس بچہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : اس عورت نے بچہ کو کمر تک اوپر اٹھایا۔ جب پانی کمر تک پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے سینہ تک بلند کرلیا پھر جب پانی سینہ کو پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے پستان تک بلند کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر میں ان لوگوں میں سے کسی پر رحم کرتا تو میں اس عورت پر رحم کرتا، یعنی اس کی طرف سے بچہ پر رحم کی وجہ سے۔
(۳۶۱۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتہ یُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ : إنَّ قَوْمَ نُوحٍ لَمَّا أَصَابَہُمَ الْغَرَقُ ، قَالَ : وَکَانَتْ مَعَہُمَ امْرَأَۃٌ مَعَہَا صَبِیٌّ لَہَا ، قَالَ : فَرَفَعَتْہُ إِلَی حَقْوِہَا ، فَلَمَّا بَلَغَہُ الْمَائُ رَفَعَتْہُ إِلَی صَدْرِہَا ، فَلَمَّا بَلَغَہُ الْمَائُ رَفَعَتْہُ إِلَی ثَدْیِہَا ، فَقَالَ اللَّہُ : لَوْ کُنْت رَاحِمًا مِنْہُمْ أَحَدًا رَحِمْتہَا ، یَعْنِی بِرَحْمَتِہَا الصَّبِیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٧) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتا ہے اور اس کو دین کی راہنمائی القاء کرتا ہے۔
(۳۶۱۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أبی سُفْیَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إذَا أَرَادَ اللَّہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا فَقَّہَہُ فِی الدِّینِ وَأَلْہَمَہُ رُشْدَہُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٨) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قیامت کے دن کہا جائے گا۔ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے آپ چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابراہیم کہیں گے۔ اے میرے پروردگار ! میرے والد ؟ حضرت ابراہیم سے کہا جائے گا یہ تیرے ساتھ والوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم سوال کرنے میں اصرار کریں گے تو ان سے کہا جائے گا۔ اپنے والد کو دیکھو۔ راوی کہتے ہیں پس جب وہ دیکھیں گے تو وہ بجو بنا ہوگا۔ اس پر حضرت ابراہیم کہیں گے مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر ان کا دل ان سے بے پروا ہوجائے گا۔ اور حضرت ابراہیم جنت کی طرف لے جائے جائیں گے اور ان کے والد کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
(۳۶۱۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ إبْرَاہِیمَ ، یُقَالَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : ادْخُلِ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْت ، قَالَ : فَیَقُولُ : یَا رَبِّ وَالِدِی فَیُقَالَ لَہُ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنْک ، فَإِذَا أَلَحَّ فِی الْمَسْأَلَۃِ قِیلَ لَہُ : دُونَک أَبَاک ، قَالَ : فَیَلْتَفِتُ فَإِذَا ہُوَ ضَبُعٌ فَیَقُولُ : مَا لِی فِیہِ مِنْ حَاجَۃٍ، فَتَطِیبُ نَفْسُہُ عَنْہُ ، فَیُنْطَلَقُ بِإِبْرَاہِیمَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَیُنْطَلَقُ بِأَبِیہِ إِلَی النَّارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٥٩) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء اس حال میں آئیں گے کہ ان کے نیزے اور ان کی تلواریں خون ٹپکا رہی ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں ان سے کہا جائے گا۔ تم اسی حالت میں رہو یہاں تک کہ تم سے حساب لیا جائے۔ راوی کہتے ہیں وہ عرض کریں گے۔ کیا آپ نے ہمیں کچھ دیا ہے کہ جس کا آپ حساب لیں گے ؟ راوی کہتے ہیں پس اس معاملہ میں دیکھا جائے گا تو ان کے پاس صرف وہ برتن ہوں گے جن میں انھوں نے ہجرت کے سفر میں زاد راہ رکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس یہ لوگ جنت میں باقی لوگوں سے پانچ سو سال قبل داخل ہوں گے۔
(۳۶۱۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : یَجِیئُ فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِینَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَقْطُرُ رِمَاحُہُمْ وَسُیُوفُہُمْ دَمًا ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُمْ : کَمَا أَنْتُمْ حَتَّی تُحَاسَبُوا عَلِیہِ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : وَہَلْ أَعْطَیْتُمُونَا شَیْئًا تُحَاسِبُونَا عَلَیْہِ ، قَالَ : فَیُنْظَرُ فِی ذَلِکَ فَلاَ یُوجَدُ إِلاَّ أَکْوَارُہُمُ الَّتِی ہَاجَرُوا عَلَیْہَا ، قَالَ : فَیَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ النَّاسِ بِخَمْسِ مِئَۃِ عَام۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٦٠) حضرت عبید بن عمیر سے {إِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : اواب : وہ آدمی ہوتا ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے اور پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔
(۳۶۱۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی رَاشِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ {إِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا} الأَوَّابُ الَّذِی یَتَذَکَّرُ ذُنُوبَہُ فِی الْخَلاَئِ فَیَسْتَغْفِرُ مِنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبید بن عمیر کا کلام
(٣٦١٦١) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر سمندر سے پیدا کردہ ابابیلوں کے مثل پرندے بھیجے۔ ان میں سے ہر ایک پرندے نے تین سفید و سیاہ پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ دو پتھر اس کے پنجوں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : پس یہ پرندے آئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان اصحاب الفیل کے سروں پر صف بنا لی پھر چیخ ماری اور اپنی چونچوں اور پنجوں میں موجود پتھروں کو گرا دیا۔ جو پتھر بھی کسی آدمی کے سر پر لگتا وہ اس کی دبر سے باہر نکل آتا اور جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا دوسرے حصہ سے باہر آجاتا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شدید ہوا بھیجی جو پتھروں پر لگی تو اس نے (ان کی) شدت کو اور زیادہ کردیا پس وہ سارے لوگ ہلاک ہوگئے۔
(۳۶۱۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَہْلِکَ أَصْحَابَ الْفِیلِ بَعَثَ عَلَیْہِمْ طَیْرًا أُنْشِئَتْ مِنَ الْبَحْرِ أَمْثَالَ الْخَطَاطِیفِ کُلُّ طَیْرٍ مِنْہَا یَحْمِلُ ثَلاَثَۃَ أَحْجَارٍ مُجَزَّعَۃٍ : حَجَرَیْنِ فِی رِجْلَیْہِ وَحَجَرًا فِی مِنْقَارِہِ ، قَالَ فَجَائَتْ حَتَّی صَفَّتْ عَلَی رُؤُوسہمْ ، ثُمَّ صَاحَتْ وَأَلْقَتْ مَا فِی أَرْجُلِہَا وَمَنَاقِیرِہَا ، فَمَا یَقَعُ حَجَرٌ عَلَی رَأْسِ رَجُلٍ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ دُبُرِہِ ، وَلاَ یَقَعُ عَلَی شَیْئٍ مِنْ جَسَدِہِ إِلاَّ خَرَجَ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ ، قَالَ : وَبَعَثَ اللَّہُ رِیحًا شَدِیدَۃً فَضَرَبَتِ الْحِجَارَۃَ فَزَادَتْہَا شِدَّۃً فَأُہْلِکُوا جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٢) حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے شیطان کہتا ہے : آدم کا بیٹا مجھ پر غالب آتا ہے لیکن تین چیزوں میں مجھ پر غالب نہیں آتا۔ بغیر حق کے مال لے یا حق کے باوجود مال سے روکے یا بغیر حق کے مال کو کہیں لگائے۔
(۳۶۱۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَیْثَمَۃ، قَالَ: کَانَ، یُقَالَ: إنَّ الشَّیْطَانَ یَقُولُ: مَا غَلَبَنِی عَلَیْہِ ابْنُ آدَمَ فَلَنْ یَغْلِبَنِی عَلَی ثَلاَثٍ : أَنْ یَأْخُذَ مَالاً مِنْ غَیْرِ حَقِّہِ ، أَوْ أَنْ یَمْنَعَہُ مِنْ حَقِّہِ ، أَوْ أَنْ یَضَعَہُ فِی غَیْرِ حَقِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٣) حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے وہ کہا کرتے تھے شیطان کہتا ہے : آدم کا بیٹا مجھ پر کس طرح غلبہ پاسکتا ہے۔ جب وہ راضی ہوتا ہے تو میں آتا ہوں یہاں تک کہ میں اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہوں اور جب وہ غضبناک ہوتا ہے تو میں اڑتا ہوں یہاں تک کہ میں اس کے سر میں آجاتا ہوں۔
(۳۶۱۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : کَانَ ، یُقَالُ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَقُولُ : کَیْفَ یَغْلِبُنِی ابْنُ آدَمَ وَإِذَا رَضِیَ جِئْت حَتَّی أَکُونَ فِی قَلْبِہِ ، وَإِذَا غَضِبَ طِرْت حَتَّی أَکُونَ فِی رَأْسِہِ۔ (ھناد ۱۳۰۴۔ احمد ۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٤) حضرت اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خیثمہ کو کہتے سنا ارشاد خداوندی { یَوْمًا یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیبًا } کے بارے میں۔ فرمایا : قیامت کے دن آواز دینے والا آواز دے گا۔ جہنم کے مستحق باہر آجائیں ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ پس اس بات کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔
(۳۶۱۶۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَیْثَمَۃ یَقُولُ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {یَوْمًا یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیبًا} قَالَ : یُنَادِی مُنَادٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَخْرُجُ بَعْثُ النَّارِ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِئَۃٍ وَتِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَمِنْ ذَلِکَ یَشِیبُ الْوِلْدَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٥) حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خیثمہ نے بلایا۔ جب میں آیا تو کچھ دستار اور شال والے لوگ گھوڑوں پر آئے۔ میں نے اپنے کو حقیر سمجھا اور واپس ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد آپ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : میں تو آیا تھا لیکن میں نے دستار اور شال والے لوگ دیکھے جو گھوڑوں پر سوار تھے تو میں نے اپنے آپ کو حقیر جانا۔ اس پر حضرت خیثمہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تم مجھے ان سے زیادہ محبوب ہو۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم لوگ حضرت خیثمہ کے پاس جاتے تھے تو وہ اپنے تخت کے نیچے سے ایک ٹوکری نکالتے اور فرماتے : کھاؤ، خدا کی قسم ! مجھے اس کی خواہش نہیں ہوتی لیکن میں یہ تمہارے لیے تیار کرتا ہوں۔
(۳۶۱۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : دَعَانِی خَیْثَمَۃُ ، فَلَمَّا جِئْت إذَا أَصْحَابُ الْعَمَائِمِ وَالْمَطَارِفِ عَلَی الْخَیْلِ ، فَحَقَّرْت نَفْسِی فَرَجَعْت ، قَالَ: فَلَقِیَنِی بَعْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ: مَا لَک لَمْ تَجِئْ، قَالَ ، قُلْتُ : قَدْ جِئْت وَلَکِنْ قَدْ رَأَیْت أَصْحَابَ الْعَمَائِمِ وَالْمَطَارِفِ عَلَی الْخَیْلِ فَحَقَّرْت نَفْسِی ، قَالَ : فَأَنْتَ وَاللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْہُمْ ، قَالَ : وَکُنَّا إذَا دَخَلْنَا عَلَیْہِ ، قَالَ بِالسَّلَّۃِ مِنْ تَحْتِ السَّرِیرِ ، وَقَالَ : کُلُوا وَاللہِ مَا أَشْتَہِیہِ ، وَلاَ أَصْنَعُہُ إِلاَّ لَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٦) حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کی قوم والے ان کو تکلیف دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا : یہ لوگ مجھے تکلیف دیتے ہیں جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ خدا کی قسم ! ان میں سے کسی نے مجھ سے کوئی ضرورت مانگی ہو مگر یہ کہ میں نے اس کو پورا کیا ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ لیکن (پھر بھی) میں انھیں سیاہ کتے سے بھی بڑھ کر مبغوض ہوں۔ اور یہ لوگ یہ خیال کیوں کرتے ہیں ؟ مگر یہ بات ہے کہ بخدا کسی ایمان والے سے کبھی منافق محبت نہیں کرتا۔
(۳۶۱۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : کَانَ قَوْمُہُ یُؤْذُونَہُ ، فَقَالَ : إنَّ ہَؤُلاَئِ یُؤْذُونَنِی ، وَلاَ وَاللہِ مَا طَلَبَنِی أَحَدٌ مِنْہُمْ بِحَاجَۃٍ إِلاَّ قَضَیْتہَا ، وَلاَ أُدْخِلُ عَلَیَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ أَذًی ، وَلأَنَا أَبْغَضُ فِیہِمْ مِنَ الْکَلْبِ الأَسْوَد ، وَلَمْ یَرَوْنَ ذَاکَ أَلاَ إِنَّہُ وَاللہِ مَا یُحِبُّ مُنَافِقٌ مُؤْمِنًا أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٧) حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! تیرے مومن بندہ سے دنیا دور ہوگئی ہے اور اس کو مصائب کے لیے آگے کردیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے (دوسرے) فرشتوں سے کہا : ان کو مومن کا بدلہ دکھاؤ۔ چنانچہ جب فرشتوں نے مومن کا بدلہ دیکھا تو کہنے لگے : اے پروردگار ! مومن کو دنیا میں جو حالت بھی پہنچے یہ اس کو نقصان دہ نہیں ہے۔ راوی کہتے تھے : اور فرشتوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! تیرے کافر بندے سے مصائب دور ہوگئے اور اس کے لیے دنیا کشادہ ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : حق تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : ان کے لیے کافر کا بدلہ ظاہر کرو۔ چنانچہ جب فرشتوں نے کافر کا بدلہ دیکھا تو کہنے لگا۔ اے پروردگار ! کافر کو دنیا میں جو بھی ملے اس کے لیے نفع مند نہیں ہے۔
(۳۶۱۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : تَقُولُ الْمَلاَئِکَۃُ : یَا رَبِ ، عَبْدُک الْمُؤْمِنُ تَزْوِی عَنْہُ الدُّنْیَا وَتُعَرِّضُہُ لِلْبَلاَئِ ، قَالَ : فَیَقُولُ لِلْمَلاَئِکَۃِ : اکْشِفُوا لَہُمْ عَنْ ثَوَابِہِ ، فَإِذَا رَأَوْا ثَوَابَہُ ، قَالُوا : یَا رَبِ، لاَ یَضُرُّہُ مَا أَصَابَہُ مِنَ الدُّنْیَا ، قَالَ : وَیَقُولُونَ : عَبْدُک الْکَافِرُ تَزْوِی عَنْہُ الْبَلاَئَ وَتَبْسُطُ لَہُ الدُّنْیَا ، قَالَ : فَیَقُولُ لِلْمَلاَئِکَۃِ اکْشِفُوا لَہُمْ عَنْ ثوابہ ، فَإِذَا رَأَوْا ثوابہ ، قَالُوا : یَا رَبِّ لاَ یَنْفَعُہُ مَا أَصَابَہُ مِنَ الدُّنْیَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٨) حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کی وجہ سے شیطان کو کئی گھروں سے دور کردیتے ہیں۔
(۳۶۱۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مَالِکٍ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ لَیَطْرُدُ بِالرَّجُلِ الشَّیْطَانَ مِنَ الآدُرِ۔
(ابن المبارک ۳۳۱)
(ابن المبارک ۳۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٦٩) حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو ان کی قوم کے فقراء کے مقبرہ میں دفن کیا جائے۔
(۳۶۱۶۹) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، أَنَّہُ أَوْصَی أَنْ یُدْفَنَ فِی مَقْبَرَۃِ فُقَرَائِ قَوْمِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٧٠) حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : میں ایک ایسے آدمی کا مکان جانتا ہوں جو سال میں دو مرتبہ موت کی تمنا کرتا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ وہ خود کو مراد لیتے تھے۔
(۳۶۱۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مَالِکٍ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : إنِّی لأَعْلَمُ مَکَانَ رَجُلٍ یَتَمَنَّی الْمَوْتَ فِی السَّنَۃِ مَرَّتَیْنِ ، فَرَأَیْتُ أَنَّہُ یَعْنِی نَفْسَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٧١) حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے لیے بشارت ہے کہ اس کے بعد اس کی نسل کی کس طرح حفاظت کی جاتی ہے۔
(۳۶۱۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : طُوبَی لِلْمُؤْمِنِ کَیْفَ یُحْفَظُ فِی ذُرِّیَّتِہِ مِنْ بَعْدِہِ۔
তাহকীক: