মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬১৭১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیثمہ بن عبدالرحمن
(٣٦١٧٢) حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ قرآن مجید میں جو { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا } کے الفاظ پڑھتے ہو تو توراۃ میں اس کی جگہ یَا أَیُّہَا الْمَسَاکِینُ کے الفاظ ہیں۔
(۳۶۱۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : مَا تَقْرَؤُونَ فِی الْقُرْآنِ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا} فَإِنَّ مَوْضِعَہُ فِی التَّوْرَاۃِ : یَا أَیُّہَا الْمَسَاکِینُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ کہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
(۳۶۱۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، أَحَبُّ إلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں یعنی سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ ۔
(۳۶۱۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَلِمَتَانِ خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیلَتَانِ فِی الْمِیزَانِ حَبِیبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَن : سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٥) حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اگر سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ اور اللَّہُ أَکْبَرُ کہوں تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کی تعداد کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
(۳۶۱۷۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لأنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِعَدَدِہَا دَنَانِیرَ فِی سَبِیلِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٦) حضرت ثابت بنانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے ایک نے مجھے اس ستون کے پاس یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا : جو آدمی سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إلَیْہِ کہتا ہے تو اس کو ایک کاغذ میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اس پر مشک کی ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس کو قیامت کے دن تک توڑا جائے گا جب اس آدمی کو اس کا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔
(۳۶۱۷۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ہَذِہِ السَّارِیَۃِ ، قَالَ : مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إلَیْہِ کُتِبَتْ فِی رِقٍّ ، ثُمَّ طُبِعَ عَلَیْہَا طَابِعٌ مِنْ مِسْکٍ فَلَمْ تُکْسَرْ حَتَّی یُوَافِیَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٧) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کلمات کہوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں ان کی تعداد کے بقدر لگام لگے ہوئے گھوڑوں کو (راہِ خدا میں) بھیجوں۔
(۳۶۱۷۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لأَنْ أَقُولَہَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَ عَلَی عَدَدِہَا خَیْلاً بِأَرْسَانِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٨) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مومن کے صحیفہ میں خدا کی حمد کی ایک تسبیح اس سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں یا بہیں۔
(۳۶۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : تَسْبِیحَۃٌ بِحَمْدِ اللہِ فِی صَحِیفَۃِ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَسِیرَ ، أَوْ تَسِیلَ مَعَہُ جِبَالُ الدُّنْیَا ذَہَبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٧٩) حضرت ولید، ابوالاحوص کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالاحوص کو کہتے سنا۔ حاجت کی طلب میں ایک تسبیح دودھ والی منتخب اونٹنی سے بہتر ہے جو شدت والے سال میں مہیا ہو۔
(۳۶۱۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ الْعَیْزَارِ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : تَسْبِیحَۃٌ فِی طَلَبِ الْحَاجَۃِ خَیْرٌ مِنْ لَقُوحٍ صَفِیٍّ فِی عَامٍ أَزِبَۃَ ، أَوَ قَالَ : لَزِبَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٠) حضرت عبید فرماتے ہیں کہ میں چند تسبیحات کرلوں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کی گنتی کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
(۳۶۱۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لأَنْ أُسَبِّحَ تَسْبِیحَاتٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُنْفِقَ عَدَدَہُنَّ دَنَانِیرَ فِی سَبِیلِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨١) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں جب بندہ سُبْحَانَ اللہِ کہتا ہے تو فرشتے وَبِحَمْدِہِ کہتے ہیں اور جب بندہ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ کہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
(۳۶۱۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَۃَ: سَمِعْت مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ یَقُولُ: إذَا قَالَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَ اللہِ ، قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ : وَبِحَمْدِہِ ، وَإذَا قَالَ: سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ صَلَّوْا عَلَیْہِ ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَۃَ : صَلَّتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٢) حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا کہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے۔ میں (اس کو) کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کو میری کثیر رحمت لکھو اور جب بندہ کہتا ہے سُبْحَانَ اللہِ کَثِیرًا۔ تو فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری کثیر رحمت لکھو۔ اور جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا۔ فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری بڑی رحمت لکھو۔
(۳۶۱۸۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : إذَا قَالَ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا ، قَالَ الْمَلَکُ : کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ فَیَقُولُ اکْتُبْ لَہُ رَحْمَتِی کَثِیرًا ، وَإذَا قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ کَثِیرًا ، قَالَ الْمَلَک ، کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ فَیَقُولُ : اکْتُبْ رَحْمَتِی کَثِیرًا ، وَإذَا قَالَ اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، قَالَ الْمَلَک ، کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ فَیَقُولُ : اکْتُبْ لَہُ رَحْمَتِی کَبِیرًا ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٣) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ایک سو مرتبہ تسبیح پڑھے کہ اس کے لیے ہزار نیکیاں ہوں۔
(۳۶۱۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عفاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یُسَبِّحَ مِئَۃَ تَسْبِیحَۃٍ فَتَکُونَ لَہُ بِأَلْفُ حَسَنَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٤) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ قرآن سے کچھ نہیں لے سکتا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی ایسی چیز کا سوال کیا جو قرآن کی طرف سے کفایت کرجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کہا : ” تم کہو ! سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔
(۳۶۱۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی ، قَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَنَّہُ لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَأْخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئًا ، وَسَأَلَہُ شَیْئًا یُجْزِئُ عن الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَہُ : قُلْ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٥) حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ ہیبت خداوندی کی وجہ سے خدا کی تسبیح، تحمید اور تہلیل پڑھتے ہیں تو ان کی یہ تسبیحات عرش کے گرد منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان تسبیحات کی شہد کی مکھیوں کی طرح کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو یاد کرتی ہیں کیا تم میں سے کوئی ایک یہ بات پسند نہیں کرتا کہ رحمن کے پاس کوئی چیز ہو جو اس کو مسلسل یاد کرتی رہے ؟ “
(۳۶۱۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مسلم ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَوْ عَنْ أَخِیہِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الَّذِینَ یَذْکُرُونَ مِنْ جَلالِ اللَّہ مِنْ تَسْبِیحِہِ وَتَحْمِیدِہِ وَتَہْلِیلِہِ یَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَہُنَّ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ ، یُذَکِّرْنَ بِصَاحِبِہِنَّ ، أَوَلاَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ لاَ یَزَالَ عِنْدَ الرَّحْمَن شَیْئٌ یُذَکِّرُ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٦) حضرت یسیرہ ۔۔۔ جو ہجرت کرنے والیوں میں سے ایک تھیں ۔۔۔ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : ” تم پر تسبیح، تکبیر اور تقدیس لازم ہے اور تم انگلیوں کے ساتھ شمار کرو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیونکہ یہ انگلیاں قیامت کے دن بلوائی جائیں گی اور پوچھی جائیں گی۔ تم غافل نہ ہونا کہ پھر رحمت سے بھلا دی جاؤ۔
(۳۶۱۸۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ہَانِیئَ بْنَ عُثْمَانَ یُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّہِ حُمَیْضَۃَ ابْنَۃِ یَاسِرٍ ، عَنْ جَدَّتِہَا یُسَیْرَۃَ ، وَکَانَتْ إحْدَی الْمُہَاجِرَاتِ ، قَالَتْ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُنَّ بِالتَّسْبِیحِ وَالتَّکْبِیرِ ، والتقدیس واعقدن بالأنامل فإنہن یأتین یوم القیامۃ مسؤولات مستنطقات وَلاَ تَغْفُلْنَ فَتَنْسَیْنَ الرَّحْمَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٧) حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ 5! غنی لوگ تو اجر لے گئے۔ جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور جس طرح ہم حج کرتے ہیں وہ بھی یوں ہی حج کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں جبکہ ہمیں صدقہ کرنے کو کچھ نہیں ملتا۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ بتادوں کہ جب تم اس کو کرو تو تم خود پر سبقت کرنے والے کو پالو اور تمہارے بعد والے تمہیں نہ پاسکیں گے مگر اسی عمل کے ذریعہ جو تم نے کیا ہوگا ؟ تم لوگ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔
(۳۶۱۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ سَمِعَہُ مِنْ أَبِی عُمَرَ الصینی ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ذَہَبَ الأَغْنِیَائُ بِالأَجْرِ ، یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّی ، وَیَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ ، وَیَحُجُّونَ کَمَا نَحُجُّ ، وَیَتَصَدَّقُونَ ، وَلاَ نَجِدُ مَا نَتَصَدَّقُ ، قَالَ : فَقَالَ : أَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إذَا فَعَلْتُمُوہُ أَدْرَکْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ ، وَلاَ یُدْرِکُکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ إِلاَّ مَنْ عَمِلَ بِالَّذِی تَعْمَلُونَ بِہِ : تُسَبِّحُونَ اللَّہَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ ، وَتَحْمَدُونَہُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ ، وَتُکَبِّرُونَہُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِینَ دُبُرَ کُلِّ صَلاَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٨) حضرت ابوالدرداء (رض) بھی جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی ہی روایت کرتے ہیں۔
(۳۶۱۸۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، وَأَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٨٩) حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : میں چند تسبیحات پڑھ لوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کی تعداد کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
(۳۶۱۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لأَنْ أُسَبِّحَ تَسْبِیحَاتٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُنْفِقَ عِدَّتَہُنَّ دَنَانِیرَ فِی سَبِیلِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٩٠) حضرت ابوذر، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر تسبیح کے بدلہ میں صدقہ ہوتا ہے۔
(۳۶۱۹۰) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیٌّ بْنُ مَیْمُون ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَُرَ ، عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ الدَّیلِیِّ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بِکُلِّ تَسْبِیحَۃٍ صَدَقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৯০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح اور حمد کے ثواب کے بارے میں
(٣٦١٩١) حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام نہ بتاؤں ؟ “ ابوذر (رض) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ 5! کیوں نہیں۔ آپ مجھے خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام بتادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔
(۳۶۱۹۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْجَسْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أُخْبِرُک بِأَحَبِّ الْکَلاَمِ إِلَی اللہِ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَی ، یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَخْبِرْنِی بِأَحَبِّ الْکَلاَمِ إِلَی اللہِ ، قَالَ : أَحَبُّ الْکَلاَمُ إِلَی اللہِ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ۔
তাহকীক: