মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬২৩১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٢) حضرت عمر بن ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) سے زیادہ خوفِ خدا والا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
(۳۶۲۳۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، قَالَ : مَا رَأَیْت أَحَدًا أَرَی ، أَنَّہُ أَشَدُّ خَوْفًا لِلَّہِ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٣) حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مقام عرفہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ کہا : اے لوگو ! تم دور اور قریب سے آئے ہو، چنانچہ تم نے جانور بھی لاغر کردیے ہیں اور کپڑے بھی پرانے کرلیے ہیں لیکن خوش بخت وہ آدمی نہیں ہے جس کی سواری آگے نکل گئی بلکہ خوش بخت وہ ہے جس کی قبولیت ہوگئی۔
(۳۶۲۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَۃَ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّکُمْ جِئْتُمْ مِنَ الْقَرِیبِ وَالْبَعِید ، فَأَنْضَیْتُمَ الظَّہْرَ وَأَخْلَقْتُمَ الثِّیَابَ ، وَلَیْسَ السَّعِیدُ مَنْ سَبَقَتْ دَابَّتُہُ ، أَوْ رَاحِلَتُہُ ، وَلَکِنَّ السَّعِیدَ مَنْ تُقُبِّلَ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٤) حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : نعمتوں کا ذکر کرنا بھی ان کا شکر ہے۔
(۳۶۲۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : ذِکْرُ النِّعَمِ شُکْرُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٥) حضرت عمرو بن مہاجر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قمیص اور آپ کے کپڑے ٹخنوں اور تسمہ باندھنے کی جگہ کے درمیان تھے۔
(۳۶۲۳۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُہَاجِرٍ قَالَ : کَانَ قَمِیصُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وثیابہ فِیمَا بَیْنَ الْکَعْبِ وَالشِّرَاکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٦) حضرت مہلب بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خطبہ دیتے تو فرماتے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین کاموں میں تونگری کی حالت میں میانہ روی اور قدرت کے وقت معافی اور اختیار کے وقت نرمی ہے۔ جو بندہ بھی کسی بندہ کے ساتھ دنیا میں نرمی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے ساتھ نرمی کریں گے۔
(۳۶۲۳۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ الْمُہَلَّبِ بْنِ عُقْبَۃَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَخْطُبُ یَقُولُ : إنَّ مِنْ أَحَبِّ الأُمُورِ إِلَی اللہِ الْقَصْدَ فِی الْجِدَّۃِ ، وَالْعَفْوَ فِی الْمَقْدِرَۃِ ، وَالرِّفْقَ فِی الْوِلاَیَۃِ ، وَمَا رَفَقَ عَبْدٌ بِعَبْدٍ فِی الدُّنْیَا إِلاَّ رَفَقَ اللَّہُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٧) حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! اس آدمی کو درست کردے جس کی درستگی میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔ اور اے اللہ ! اس آدمی کو ہلاک کردے جس کی ہلاکت میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔
(۳۶۲۳۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، قَالَ کَانَ عُمَرُ بْنُ عبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَصْلِحْ مَنْ کَانَ فِی صَلاَحِہِ صَلاَحٌ لأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اللَّہُمَّ وَأَہْلِکْ مَنْ کَانَ فِی ہَلاَکِہِ صَلاَحٌ لأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٨) حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں وقوف کرتے دیکھا تھا اور آپ (رض) دعا کر رہے تھے۔ اور آپ اپنی انگلی سے یوں اشارہ کررہے تھے۔ اے اللہ ! اُمت محمد 5! کے ساتھ اچھائی کرنے والے کی اچھائی کو اور زیادہ کر اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ برائی کرنے والے کو توبہ کی طرف پھیر دے پھر آپ (رض) نے اپنی انگلی کو پھیرا۔ اے اللہ ! اور تو ان کے پیچھے سے اپنی رحمت کا احاطہ فرما لے۔
(۳۶۲۳۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ رَأَی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ وَہُوَ یَدْعُو وَہُوَ یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ ہَکَذَا ، یَعْنِی یُشِیرُ بِہَا : اللَّہُمَّ زِدْ مُحْسِنَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ إحْسَانًا ، وَرَاجِعْ بِمُسِیئِہِمْ إِلَی التَّوْبَۃِ ، ثُمَّ یَقُولُ : ہَکَذَا ، ثُمَّ یُدِیرُ إصْبَعَہُ : اللَّہُمَّ وَحُطَّ مِنْ وَرَائِہِمْ بِرَحْمَتِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٣٩) حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو اپنے ارادہ کے پورے کرنے سے کیا شے رکاوٹ ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میرے اور آپ کے ذریعہ ہانڈیاں ابلیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ بات تیری طرف سے درست ہے ؟ عبدالملک نے کہا : جی ہاں، خدا کی قسم ! آپ (رض) نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو حکم خداوندی میں میری معاونت کرتا ہے۔ اے میرے بیٹے ! اگر میں یہ بات جو تم نے کہی ہے۔ لوگوں کے پاس اچانک لے کر آتا تو ان کی طرف سے اس بات کے انکار سے مجھے امن نہیں تھا۔ پھر جب وہ انکار کرتے تو میرے لیے تلوار کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اور ایسی خیر میں کوئی بہتری نہیں ہے جو تلوار کے ذریعہ آئے۔ اے میرے بیٹے ! میں لوگوں کے ساتھ مشکل سے قابو آنے والی اونٹنی کو قابو کرنے کی طرح کا معاملہ کررہا ہوں۔ چنانچہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے کسی چیز کو نافذ کر دے گا اور اگر مجھ پر موت نے حملہ کردیا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے ارادہ کو جانتے ہیں۔
(۳۶۲۳۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَرَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، مَا یَمْنَعُک أَنْ تمضی لِلَّذِی تُرِیدُ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، مَا أُبَالِی لَوْ غَلَتْ بِی وَبِکَ فِیہِ الْقُدُورُ ، قَالَ : وَحَقٌّ ہَذَا مِنْک یَا بُنَیَّ ، قَالَ : نَعَمْ وَاللہِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ لِی مِنْ ذُرِّیَّتِی مَنْ یُعِینُنِی عَلَی أَمْرِ رَبِّی ، یَا بُنَی ، لَوْ بَدَہْت النَّاسَ بِالَّذِی تَقُولُ لَمْ آمَنْ أَنْ یُنْکِرُوہَا ، فَإِذَا أَنْکَرُوہَا لَمْ أَجِدْ بُدًّا مِنَ السَّیْفِ ، وَلاَ خَیْرَ فِی خَیْرٍ لاَ یَأْتِی إِلاَّ بِالسَّیْفِ ، یَا بُنَی ، إنِّی أُرَوِّضُ النَّاسَ رِیَاضَۃَ الصَّعْبِ ، فَإِنْ یَطُلْ بِی عُمْرٌ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُنْفِذَ اللَّہُ لِی شَیْئًا ، وَإِنْ تَعَدَّ عَلَیَّ مَنِیَّۃٌ فَقَدْ عَلِمَ اللَّہُ الَّذِی أُرِیدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٠) حضرت اسماعیل بن عبدالحکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کو غصہ آیا اور ان کا غصہ شدید ہوگیا اور اس میں کچھ تیزی بھی تھی۔ آپ کا بیٹا عبدالملک موجود تھا۔ چنانچہ جب اس نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے تو اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ، اپنے اوپر خدا کی نعمت کی قدر کریں اور جس جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رکھا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت کا اختیار دیا ہے تو بندوں کے معاملہ میں آپ کا غصہ جہاں تک پہنچا تھا آپ کو اس کا اختیار نہیں جو میں دیکھتا ہوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : تم نے کیسے یہ بات کہی ؟ چنانچہ عبدالملک نے بات دہرائی۔ حضرت عمر نے پوچھا : اے عبدالملک ! تمہیں غصہ نہیں آتا ؟ انھوں نے فرمایا : میری اس وسعت قلبی کا کیا فائدہ ؟ اگر میں اپنے غصہ کو واپس نہ کروں تاکہ اس کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر نہ ہو ؟ “
(۳۶۲۴۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ ، قَالَ : غَضِبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَوْمًا فَاشْتَدَّ غَضَبُہُ ، وَکَانَتْ فِیہِ حِدَۃٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِکِ ابْنُہُ حَاضِرٌ ، فَلَمَّا رَأَوْہُ قَدْ سَکَنَ غَضَبُہُ ، قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَنْتَ فِی قَدْرِ نِعْمَۃِ اللہِ عَلَیْک ، وَفِی مَوْضِعِکَ الَّذِی وَضَعَک اللَّہُ فیہ ، وَمَا وَلاَّک اللَّہُ مِنْ أَمْرِ عِبَادِہِ یَبْلُغُ بِکَ الْغَضَبُ مَا أَرَی ، قَالَ : کَیْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَیْہِ کَلاَمُہُ ، فَقَالَ : أَمَا تَغْضَبُ یَا عَبْدَ الْمَلِکِ ، قَالَ : مَا یُغْنِی عَنِّی سَعَۃُ جَوْفِی إنْ لَمْ أُرَدِّدْ فِیہِ الْغَضَبَ حَتَّی لاَ یَظْہَرَ مِنْہُ شَیْئٌ أَکْرَہُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤١) حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے خط لکھا۔ اما بعد ! بیشک کچھ لوگ آخرت کے عمل سے دنیا کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ قصہ گو لوگوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح اپنے خلفاء اور امراء پر درود بھیجنے کی بدعت نکال لی ہے۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو حکم دے کہ وہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء پر درود بھیجیں۔ اور عام مسلمان لوگوں کے لیے دعا ہے اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیں۔
(۳۶۲۴۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ النَّاسِ الْتَمَسُوا الدُّنْیَا بِعَمَلِ الآخِرَۃِ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْقُصَّاصِ قَدْ أَحْدَثُوا مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَی خُلَفَائِہِمْ وَأُمَرَائِہِمْ عِدْلَ صَلاَتِہِمْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَتَاک کِتَابِی ہَذَا فَمُرْہُمْ أَنْ تَکُونَ صَلاَتُہُمْ عَلَی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وعلی النَّبِیّینَ وَدُعَاؤُہُمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً ، وَیَدَعُوا مَا سِوَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٢) حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر بھی نعمت کرتا ہے پھر اس کو اس آدمی سے واپس لے لیتا ہے اور جس سے واپس لیتا ہے اس کو صبر دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو جو صبر دیا ہوتا ہے وہ واپس لی ہوئی نعمت سے بہتر ہوتا ہے۔
(۳۶۲۴۲) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْت عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ : مَا أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَی عَبْدٍ مِنْ نِعْمَۃٍ فَانْتَزَعَہَا مِنْہُ فَعَاضَہُ مِمَّا انْتَزَعَ مِنْہُ صَبْرًا إِلاَّ کَانَ الَّذِی عَاضَہُ خَیْرًا مِمَّا انْتَزَعَ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٣) حضرت صالح بن سعید مؤذن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) کے ہمراہ مقام سویداء میں تھا۔ چنانچہ میں نے عشاء کی اذان دی اور انھوں نے نماز ادا کی پھر محل میں چلے گئے۔ پھر تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ باہر آگئے پھر دوہل کی سی رکعتیں پڑھیں اور پھر گھٹنے اٹھا کر (احتباء کی حالت میں) بیٹھ گئے۔ اور سورة انفال پڑھنا شروع کردی۔ آپ (رض) مسلسل سورة انفال دہراتے رہے اور پڑھتے رہے۔ جب بھی کسی تخویف والی آیت سے گزرتے عاجزی کرتے اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے دعا کرتے۔ یہاں تک کہ میں نے فجر کی اذان دے دی۔
(۳۶۲۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہ بْنِ مَوْہَبٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَعِیدٍ الْمُؤَذِّنِ ، قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِالسُّوَیْدَائِ فَأَذَّنْت لِلْعِشَائِ ، فَصَلَّی ، ثُمَّ دَخَلَ الْقَصْرَ فَقَلَّمَا لَبِثَ أَنْ خَرَجَ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ فَاحْتَبَی ، فَافْتَتَحَ الأَنْفَالَ فَمَا زَالَ یُرَدِّدُہَا وَیَقْرَأ ، کُلَّمَا مَرَّ بِآیَۃِ تَخْوِیفٍ تَضَرَّعَ ، وَکُلَّمَا مَرَّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ دَعَا حَتَّی أَذَّنْتُ لِلْفَجْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٤) حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس حضرت عبدالاعلیٰ بن ہلال تشریف لائے اور کہا : اے امیر المومنین ! جب تک باقی رہنا آپ کے لیے بہتر ہو۔ اللہ آپ کو باقی رکھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : اے ابوالنضر ! اس دعا سے تو فراغت ہوچکی ہے۔ لیکن تم یہ دعا کرو۔ اللہ تمہیں طیب زندگی عطا کرے اور تمہیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔
(۳۶۲۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَدَخَلَ عَلَیْہِ عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ ہِلاَلٍ ، فَقَالَ : أَبْقَاک اللَّہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا دَامَ الْبَقَائُ خَیْرًا لَک ، قَالَ : قَدْ فُرِغَ مِنْ ذَلِکَ یَا أَبَا النَّضْرِ ، وَلَکِنْ قُلْ : أَحْیَاک اللَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً ، وَتَوَفَّاک مَعَ الأَبْرَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٥) حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں کرتے۔ لیکن جب گناہ سرعام ہوتے ہیں اور ان پر انکار نہیں کیا جاتا تو پھر سب لوگ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
(۳۶۲۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ، قَالَ: إنَّ اللَّہَ لاَ یُؤَاخِذُ الْعَامَّۃَ بِعَمَلٍ فِی الْخَاصَّۃِ ، فَإِذَا الْمَعَاصِی ظَہَرَتْ فَلَمْ تُنْکَرَ اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَۃَ جَمِیعًا۔ (مالک ۹۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٦) حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی، اپنے کلام کو اپنے عمل سے شمار نہیں کرتا اس کی خطائیں زیادہ ہوتی ہیں اور جو آدمی علم کے بغیر عمل کرتا ہے تو اس کے خراب عمل اس کے صحیح عملوں سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔
(۳۶۲۴۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : مَنْ لَمْ یَعُدْ کَلاَمُہُ مِنْ عَمَلِہِ کَثُرَتْ خَطَایَاہُ ، وَمَنْ عَمِلَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ مَا یَفْسُدُ أَکْثَرَ مِمَّا یَصْلُحُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٧) حضرت علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ میں دیکھا تھا۔ وہ سب سے خوبصورت لباس والے تھے۔ اور سب سے عمدہ خوشبو والے تھے۔ اور اپنی چال میں سب سے زیادہ نخرے والے تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد راہبوں کی سی چال چلتے (بھی) دیکھا ہے۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ چال انسان کی فطری عادت ہے تو اس کی عمر بن عبد العزیز کے بعد تصدیق نہ کرنا۔
(۳۶۲۴۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : ذَکَرَ أَبُو إسْرَائِیلَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ بَذِیمَۃَ، قَالَ : رَأَیْتہ بِالْمَدِینَۃِ وَہُوَ أَحْسَنُ النَّاسِ لِبَاسًا وَأَطْیَبُ النَّاسِ رِیحًا وَمِنْ أَخْیَل النَّاسِ فِی مِشْیَتِہِ ، أَوْ أَخْیَلَ النَّاسِ فِی مِشْیَتِہِ ، ثُمَّ رَأَیْتہ بَعْدُ یَمْشِی مِشْیَۃَ الرُّہْبَانِ ، فَمَنْ حَدَّثَک أَنَّ الْمَشْیَ سَجِیَّۃٌ فَلاَ تُصَدِّقْہُ بَعْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٨) حضرت غیلان بن میسرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں نے کھیتی کاشت کی تھی لیکن اس کے پاس سے اہل شام کا لشکر گزرا اور اس نے کھیتی خراب کردی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس آدمی کو دس ہزار معاوضہ ادا کیا۔
(۳۶۲۴۸) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، أَنَّ رَجُلاً أَتَی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : زَرَعْت زَرْعًا فَمَرَّ بِہِ جَیْشٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَأَفْسَدُوہُ ، قَالَ : فَعَوَّضَہُ مِنْہُ عَشْرَۃَ آلاَفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٤٩) حضرت اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے اپنے عامل کو سفر جہاد میں یہ وصیت کی تھی کہ وہ صرف ایسی سواری پر ہی سوار ہو جس کی رفتار کو لشکر میں موجود کمزور ترین سواری بھی پاسکے۔
(۳۶۲۴۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَوْصَی عَامِلَہُ فِی الْغَزْوِ أَنْ لاَ یَرْکَبَ دَابَّۃً إِلاَّ دَابَّۃً یَضْبِطُ سَیْرَہَا أَضْعَفَ دَابَّۃٍ فِی الْجَیْشِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٥٠) حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز قاصد روانہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر کے ایک آزاد کردہ غلام نے آپ کی اجازت کے بغیر ایک آدمی کو ڈاک کے گھوڑے پر سوار کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ چنانچہ آپ (رض) نے اس کو بلایا اور فرمایا : تم اسی طرح رہو یہاں تک کہ تم اس کی قیمت لگاؤ اور پھر اس کو بیت المال میں جمع کرو۔
(۳۶۲۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ یُبْرِدُ ، قَالَ : فَحَمَلَ مَوْلًی لَہُ رَجُلاً عَلَی الْبَرِیدِ بِغَیْرِ إذْنِہِ ، قَالَ : فَدَعَاہُ ، فَقَالَ : لاَ تَبْرَحْ حَتَّی تُقَوِّمَہُ ، ثُمَّ تَجْعَلَہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
(٣٦٢٥١) حضرت جمیع بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قاصد کو اس بات سے منع فرمایا کہ لاٹھی کے ایک جانب لوہا لگایا جائے جس کے ذریعہ جانور کو مارا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ نے بھاری لگاموں سے بھی منع کیا۔
(۳۶۲۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُقْرِئِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ نَہَی الْبَرِیدَ أَنْ یَجْعَلَ فِی طَرَفِ السَّوْطِ حَدِیدَۃً یَنْخُسُ بِہَا الدَّابَّۃَ ، قَالَ : وَنَہَی عَنِ اللُّجُمِ الثِّقَالَ۔
তাহকীক: