মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬২৫১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٢) حضرت عامر بن عبد قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں عیش چار چیزوں میں ہے : عورتیں، لباس، کھانا، نیند۔ پس عورتیں تو خدا کی قسم میرے لیے کسی عورت اور کسی بکری کو دیکھنا برابر ہے اور لباس تو خدا کی قسم ! مجھے اپنی ستر چھپانے کو جو کپڑا ملا ہے تو مجھے کسی اور کپڑے کی پروا نہیں ہے۔ اور کھانا اور نیند تو تحقیق یہ دونوں مجھ پر غالب ہیں۔ بخدا ! میں ان دونوں کے ساتھ اپنی مشقت کو تکلیف دوں گا۔ حضرت حسن کہتے ہیں : بخدا ! انھوں نے دونوں کو نقصان دیا۔
(۳۶۲۵۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ قَیْسٍ : الْعَیْشُ فِی أَرْبَعٍ : النِّسَائِ وَاللِّبَاسِ وَالطَّعَامِ وَالنَّوْمِ ، فَأَمَّا النِّسَائُ فَوَاللہِ مَا أُبَالِی امْرَأَۃً رَأَیْت أَمْ عَنْزًا ، وَأَمَّا اللِّبَاسُ فَوَاللہِ مَا أُبَالِی بِمَا وَارَیْت بِہِ عَوْرَتِی ، وَأَمَّا الطَّعَامُ وَالنَّوْمُ فَقَدْ غَلَبَانِی ، وَاللہِ لأُضِرَّنَّ بِہِمَا جَہْدِی ، قَالَ الْحَسَنُ : فَأَضَرَّ وَاللہِ بِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٣) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر کے پاس گھر میں گیا تو ان کے پاس صرف ایک گھڑا تھا جس میں ان کے وضو اور پینے کا پانی تھا یا ایک ٹوکرا تھا جس میں ان کا کھانا تھا۔
(۳۶۲۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ عَامِرٌ فِی الْبَیْتِ وَلَیْسَ مَعَہُ إِلاَّ جَرَّۃٌ فِیہَا شَرَابُہُ وَطُہُورُہُ ، وَسَلَّۃٌ فِیہَا طَعَامُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٤) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبد قیس کے جسم کا جو حصہ زمین کو لگتا تھا وہ اونٹ کے حصہ کی طرح (سخت) تھا۔
(۳۶۲۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ مَا یَلِی الأَرْضَ مِنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ قَیْسٍ مِثْلَ ثَفِنِ الْبَعِیرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٥) حضرت سہم بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عامر بن عبد قیس کے پاس حاضر ہوا اور میں ان کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ پس وہ غسل کرکے باہر آئے تو میں نے کہا : میرے خیال میں آپ کو غسل پسند ہے۔ انھوں نے فرمایا : میں اکثر غسل کرتا ہوں۔ پھر پوچھا : تمہاری کیا ضرورت ہے ؟ میں نے کہا : میں حدیث کے لیے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تمہارا میرے بارے میں یہ خیال ہے کہ مجھے حدیث سے محبت ہے ؟ “
(۳۶۲۵۵) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی الأَشْیَبُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ سَہْمِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ قَیْسٍ فَقَعَدْت عَلَی بَابِہِ فَخَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ ، فَقُلْتُ : إنِّی أَرَی الْغُسْلَ یُعْجِبُک ، فَقَالَ : رُبَّمَا اغْتَسَلْت ، قَالَ : مَا حَاجَتُک ؟ قُلْتُ : جئت للْحَدِیثِ ، قَالَ : وَعَہْدُک بِی أُحِبُّ الْحَدِیثِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٦) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ سے کہا گیا۔ آپ نے شادی کیوں نہیں کی ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے (اس کی) طلب نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس مال ہے۔ چنانچہ میں کسی مسلمان عورت کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
(۳۶۲۵۶) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ ، قَالَ : قِیلَ لِعَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ : أَلاَ تَزَوَّجُ ، قَالَ : مَا عِنْدِی نَشَاطٌ ، وَمَا عِنْدِی مِنْ مَالٍ ، فَمَا أَغُرُّ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٧) حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبد قیس نے اپنے دو چچا زاد بھائیوں سے کہا : تم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو۔
(۳۶۲۵۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ قَیْسٍ لاِبْنَیْ عَمٍّ لَہُ : فَوِّضَا أَمْرَکُمَا إِلَی اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٨) حضرت عامر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بصرہ کی چار باتوں کی وجہ سے غم گین پاتا ہوں۔ اس کے موذنوں کا ایک دوسرے کو جواب دینا۔ اور سخت گرمیوں کی دوپہر کی پیاس، اور یہ کہ وہاں میرے دوست ہیں اور یہ کہ وہ میرا وطن ہے۔
(۳۶۲۵۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَعْضُ مَشْیَخَتِنَا ، قَالَ : قَالَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ : إنَّمَا أَجِدُنِی آسَفُ عَلَی الْبَصْرَۃِ لأَرْبَعِ خِصَالٍ : تَجَاوُبُ مُؤَذِّنِیہَا ، وَظَمَأُ الْہَوَاجِرِ ، وَلأَنَّ بِہَا أَخْدَانِی ، وَلأَنَّ بِہَا وَطَنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٥٩) حضرت سعید جریری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا تو ان کے کچھ بھائی ان کی مشایعت کے لیے نکلے۔ چنانچہ انھوں نے ظہر مربد میں جا کر کہا : میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہنا۔ بھائیوں نے کہا : مانگیں۔ ہم تو خود آپ سے یہی چاہتے ہیں۔ آپ (رض) نے دعا کی : اے اللہ ! جس نے میرے ساتھ برا کیا اور مجھ پر جھوٹ بولا اور مجھے میرے شہر سے جلا وطن کیا اور میرے اور میرے بھائیوں میں جدائی ڈالی، اے اللہ ! تو اس کے مال، اور اس کے اولاد کو زیادہ فرما اور اس کے جسم کو صحت مند رکھ اور اس کی عمر لمبی فرما۔
(۳۶۲۵۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدُ الْجُرَیْرِیُّ ، قَالَ : لَمَّا سُیِّرَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : شَیَّعَہُ إخْوَانُہُ ، فَقَالَ : بِظَہْرِ الْمِرْبَدِ : إنِّی دَاعٍ فَأَمِّنُوا ، فَقَالُوا : ہَاتِ فَقَدْ کُنَّا نَشْتَہِی ہَذَا مِنْک ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ مَنْ سَائَنِی وَکَذَبَ عَلَیَّ وَأَخْرَجَنِی مِنْ مِصْرِی وَفَرَّقَ بَیْنِی وَبَیْنَ إخْوَانِی اللَّہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ وَأَصِحَّ جِسْمَہُ وَأَطِلْ عُمْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٦٠) حضرت مالک بن دینار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے خود عامر بن عبد قیس کو دیکھا تھا کہ انھوں نے زیتون کاتیل منگوایا اور پھر اس کو اپنے ہاتھ میں ڈالا اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر ملا پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : { وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَائَ تَنْبُتُ بِالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِلآکِلِینَ } راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے اپنے سر اور داڑھی پر تیل لگایا۔
(۳۶۲۶۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ رَأَی عَامِرَ بْنَ عَبْدِ قَیْسٍ دَعَا بِزَیْتٍ فَصَبَّہُ فِی یَدِہِ کَذَا وَصَفَ جَعْفَرٌ ، وَمَسَحَ إحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی ، ثُمَّ قَالَ : {وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَائَ تَنْبُتُ بِالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِلآکِلِینَ} قَالَ فَدَہَنَ رَأْسَہُ وَلِحْیَتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٦١) حضرت مالک بن دینار، ایک آدمی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ، اپنے گھر کے صحن میں تھے کہ ایک ذمی پر ظلم ہو رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت عامر نے اپنی چادر پھینک دی اور فرمایا : کیا میں اللہ کے ذمہ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتا رہوں اور میں زندہ رہوں ؟ چنانچہ آپ نے اس کو بچا لیا۔
(۳۶۲۶۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مَالِکُ بْنُ دِینَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی فُلاَنٌ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ کَانَ فِی الرَّحْبَۃِ وَإِذَا ذِمِّیٌّ یُظْلَمُ ، قَالَ : فَأَلْقَی عَامِرٌ رِدَائَہُ وَقَالَ : أَلاَّ أَرَی ذِمَّۃَ اللہِ تخْفَرُون وَأَنَا حَی ، فَاسْتَنْقَذَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٦٢) حضرت فضیل بن زید رقاشی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ لوگ تجھے تیری ذات سے غافل نہ کردیں۔ کیونکہ (تیرا) معاملہ تیرے ساتھ ہوگا نہ کہ ان کے ساتھ اور تم یہ بات نہ کہو۔ آج کا دن ہم سے یوں یوں گزر گیا۔ کیونکہ تم اس میں جو کچھ کرو گے وہ سارا تمہارے اوپر شمار ہوگا اور تم کسی چیز کو اس نیکی سے زیادہ تیز پانے والا اور اچھا طلب کرنے والا نہیں پاؤ گے جو بڑے گناہ کے بعد ہو۔
(۳۶۲۶۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ زَیْدٍ الرَّقَاشِیِّ ، قَالَ : لاَ یہلک النَّاسُ عَنْ نَفْسِکَ ، فَإِنَّ الأَمْرَ یَصِلُ إلَیْک دُونَہُمْ ، وَلاَ تَقُلْ : اقْطَعْ عَنَّا الْیَوْمَ بِکَذَا وَکَذَا ، فَإِنَّہُ مَحْصِیٌّ عَلَیْکَ جَمِیعَ مَا عَمِلْت فِی ذَلِکَ ، وَلَمْ تَرَ شَیْئًا أَسْرَعَ إدْرَاکًا ، وَلاَ أَحْسَنَ طَلَبًا مِنْ حَسَنَۃٍ حَدِیثَۃٍ لِذَنْبٍ عَظیم۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامر بن عبد قیس
(٣٦٢٦٣) حضرت قسامہ بن زہیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دلوں کو راحت پہنچاؤ ذکر کی۔
(۳۶۲۶۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ ، قَالَ : رَوِّحُوا الْقُلُوبَ تَعِ الذِّکْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٤) حضرت ابوغیلان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف ابن الشخیر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں آپ سے بادشاہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس چیز کے شر سے جس پر ان کے قلم چلیں۔ اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات کی کہ میں ایسا حق بولوں جس سے میں آپ کی فرمان برداری کے سوا کچھ طلب کروں اور میں آپ سے مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں لوگوں کے سامنے کسی ایسی چیز کے ذریعہ زینت حاصل کروں جو مجھے آپ کے ہاں بدنما کردے اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے آپ سے آپ کی نافرمانی پر مدد طلب کروں۔ اور میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی کے لیے عبرت بنادیں۔ اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ میرے جاننے والوں میں سے کسی کو مجھ سے زیادہ خوش بخت کردیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے رسوا نہ کرنا۔ کیونکہ آپ مجھے جانتے ہیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے عذاب نہ دینا کیونکہ آپ مجھ پر قادر ہیں۔
(۳۶۲۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی غَیْلاَنَ ، قَالَ : کَانَ مُطَرِّفُ بْنُ الشِّخِّیرِ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ السُّلْطَانِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا تَجْرِی بِہِ أَقْلاَمُہُمْ ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقُولَ بِحَقٍّ أَطْلُبُ بِہِ غَیْرَ طَاعَتِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَتَزَیَّنَ لِلنَّاسِ بِشَیْئٍ یَشِینُنِی عِنْدَکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَسْتَغِیثَ بِشَیْئٍ مِنْ مَعَاصِیک عَلَی ضُرٍّ نَزَلَ بِی، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ تَجْعَلَنِی عِبْرَۃً لأَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ تَجْعَلَ أَحَدًا أَسْعَدَ بِمَا عَلَّمْتہ مِنِّی ، اللَّہُمَّ لاَ تُخْزِنِی فَإِنَّک بِی عَالِمٌ ، اللَّہُمَّ لاَ تُعَذِّبْنِی فَإِنَّک عَلَیَّ قَادِرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٥) حضرت غیلان بن جریر کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا۔ (یوں لگتا ہے) گویا کہ دل ہمارے نہیں ہیں اور گویا کہ حدیث سے مقصود ہمارے سوا کوئی اور ہے۔
(۳۶۲۶۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَّرِفًا یَقُولُ : کَأَنَّ الْقُلُوبَ لَیْسَتْ مِنَّا وَکَأَنَّ الْحَدِیثَ یُعْنَی بِہِ غَیْرَنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٦) حضرت غیلان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا : اگر میرے پاس میرے رب کا کوئی قاصد آئے اور مجھے یہ اختیار دے کہ یا جنت میں جاؤں یا جہنم میں جاؤں یا میں مٹی ہوجاؤں ؟ تو میں مٹی ہونا پسند کروں گا۔
(۳۶۲۶۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مَہْدِیٍّ ، قَالَ : حدَّثَنَا غَیْلاَنُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَّرِفًا یَقُولُ : لَوْ أَتَانِی آتٍ مِنْ رَبِّی فَخَیَّرَنِی ، أَفِی الْجَنَّۃِ أَمْ فِی النَّارِ أَمْ أَصِیرُ تُرَابًا ، اخْتَرْت أَنْ أَصِیرَ تُرَابًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٧) حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ {إنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللہِ وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ } آخر تک۔ فرمایا : یہ قاریوں کی آیت ہے۔
(۳۶۲۶۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ ، عَنْ مُطَرِّفٌ قَالَ : {إنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللہِ وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، قَالَ : ہَذِہِ آیَۃَ الْقُرَّائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٨) حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ کرنے میں بیوقوف ہے۔ لیکن بعض لوگوں کی بیوقوفی بعض سے کم درجہ ہے۔
(۳۶۲۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ مُطَرِّفٌ : مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلاَّ وَہُوَ أَحْمَقُ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَبِّہِ ، وَلَکِنَّ بَعْضَ الْحَمَقِ أَہْوَنُ مِنْ بَعْضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٦٩) حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے۔ اے اللہ ! آپ مجھ سے ایک دن کی نماز قبول فرما لیں، اے اللہ ! آپ مجھ سے ایک دن کا روزہ قبول کرلیں۔ اے اللہ ! آپ میرے لیے نیکی لکھ دیں۔ پھر آپ یہ (تلاوت) فرمایا کرتے۔ ” بیشک اللہ تقویٰ والوں کا عمل قبول کرتا ہے۔ “
(۳۶۲۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : کَانَ مُطَرِّفٌ یَقُولُ : اللَّہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی صَلاَۃَ یَوْمٍ ، اللَّہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی صَوْمَ یَوْمٍ، اللَّہُمَّ اکْتُبْ لِی حَسَنَۃً ، ثُمَّ یَقُولُ: {إنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٧٠) حضرت مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں اگر میرے پاس دو نفس ہوتے تو میں ان میں ایک کو دوسرے سے پہلے آگے بھیجتا۔ پس اگر وہ خیر پر پہنچتا تو میں دوسرے کو بھی اس کے پیچھے کردیتا وگرنہ میں دوسرے کو روک لیتا۔ لیکن نفس تو ایک ہی ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ خیر پر پہنچے گا یا شرپر ؟ “
(۳۶۲۷۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتُ ، أَنَّ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَوْ کَانَتْ لِی نَفْسَانِ لَقَدَّمْت إحْدَاہُمَا قبل الأُخْرَی، فَإِنْ ہَجَمَتْ عَلَی خَیْرٍ أَتْبَعْتُہَا الأُخْرَی، وَإِلاَّ أَمْسَکْتُہا، وَلَکِنْ إنَّمَا ہِیَ نَفْسٌ وَاحِدَۃٌ ، لاَ أَدْرِی عَلَی مَا تَہْجُمُ خَیْرٌ أَمْ شَرٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٧١) حضرت ثابت بیان کرتے ہیں کہ حضرت مطرف نے فرمایا۔ اگر مومن کی امید اور اس کا خوف وزن کیا جائے تو ان میں سے کوئی دوسرے پر غالب نہیں ہوگا۔
(۳۶۲۷۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّ مُطَّرِفًا ، قَالَ : لَوْ وُزِنَ رَجَائُ الْمُؤْمِنِ وخَوْفَہُ مَا رَجَحَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ۔
তাহকীক: