মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৬২৯১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٢) حضرت معلی بن زیاد بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت مورق عجلی فرماتے ہیں کہ ایک کام ہے جس کو میں دس سال سے تلاش کررہا ہوں لیکن میں اس پر قادر نہیں ہوا۔ اور میں اس کی تلاش کو ترک کرنے والا بھی نہیں۔ معلی نے پوچھا : اے ابوالمعتمر ! وہ کیا ہے ؟ مؤرق نے فرمایا : بےفائدہ کلام سے سکوت۔
(۳۶۲۹۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : قَالَ مُوَرِّقٌ الْعِجْلِیّ : أَمْرٌ أَنَا فِی طَلَبِہِ مُنْذُ عَشْرِ سِنِینَ لَمْ أَقْدِرْ عَلَیْہِ ، وَلَسْت بِتَارِکٍ طَلَبَہُ أَبَدًا ، قَالَ ، وَمَا ہُوَ یَا أَبَا الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ : الصَّمْتُ عَمَّا لاَ یَعْنِینِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٣) حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت مورق ہماری ملاقات کو آتے تھے۔ چنانچہ وہ ایک دن ہمیں ملنے آئے اور انھوں نے سلام کیا۔ میں نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ کہتی ہیں۔ پھر انھوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور میں نے ان سے کچھ پوچھا۔ میں نے پوچھا۔ آپ کے اہل خانہ کیسے ہیں ؟ اور آپ کے بچے کیسے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا وہ خوب ہیں۔ میں نے کہا۔ پھر تو آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں۔ انھوں نے فرمایا : خدا کی قسم ! میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے ہلاکت پر محبوس نہ کردیں۔
(۳۶۲۹۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ ، قَالَتْ : کَانَ مُوَرِّقٌ یَزُورُنَا ، فَزَارَنَا یَوْمًا فَسَلَّمَ فَرَدَدْت عَلَیْہِ السَّلاَمَ ، قَالَتْ : ثُمَّ سَأَلَنِی وَسَأَلْتُہُ ، قُلْتُ : کَیْفَ أَہْلُک کَیْفَ وَلَدُک ؟ قَالَ : إنَّہُمْ لَمُتَوَافِرُونَ ، قُلْتُ : فَاحْمَدْ رَبَّک ، قَالَ : إنِّی وَاللہِ قَدْ خَشِیت أَنْ یَحْبِسُونِی عَلَی ہَلَکَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٤) حضرت جعفر بن سلیمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے بعض اصحاب نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ حضرت مؤرق عجلی تجارت کرتے تھے اور انھیں مال حاصل ہوتا تھا۔ لیکن پھر ان پر ایک جمعہ بھی نہیں گزرتا تھا کہ ان کے پاس اس مال میں سے کچھ موجود ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے بھائیوں میں سے کوئی بھائی ان کو ملتا تو یہ اس کو چار سو، پانچ سو یا تین سو دے دیتے اور کہتے۔ اس کو تم اپنے پاس ہمارے لیے رکھ لو۔ یہاں تک کہ ہمیں اس کی ضرورت پڑے۔ پھر اس کے بعد اس سے ملتے تو فرماتے۔ یہ تم لے لو۔ دوسرا آدمی کہتا۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر یہ کہتے۔ خدا کی قسم ! ہم یہ پیسے کبھی بھی نہیں لیں گے۔ یہ تم لے لو۔
(۳۶۲۹۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا ، قَالَ : کَانَ مُوَرِّقٌ الْعِجْلِیّ یَتْجُرُ فَیُصِیبُ الْمَالَ ، فَلاَ تَأْتِی عَلَیْہِ جُمُعَۃٌ وَعِنْدَہُ مِنْہُ شَیْئٌ ، قَالَ : کَانَ یَلْقَی الأَخَ مِنْ إخْوَانِہِ فَیُعْطِیہِ أَرْبَعَ مِئَۃٍ خَمْسَ مِئَۃٍ ثَلاَث مِئَۃٍ ، فَیَقُولُ : ضَعْہَا لَنَا عِنْدَکَ حَتَّی نَحْتَاجَ إلَیْہَا ، ثُمَّ یَلْقَاہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَیَقُولُ : شَأْنُک بِہَا ، وَیَقُولُ الآخَرُ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہَا ، فَیَقُولُ : إنَّا وَاللہِ مَا نَحْنُ بِآخِذِیہَا أَبَدًا ، شَأْنُک بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٥) حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مؤرق عجلی فرماتے ہیں۔ میں نے دنیا میں مومن کی مثال اس آدمی کی طرح دیکھی ہے جو سمندر میں ایک تختہ پر بیٹھا ہوا کہہ رہا ہو۔ اے اللہ، اے اللہ، شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیں۔
(۳۶۲۹۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : قَالَ مُوَرِّقٌ الْعِجْلِیّ : مَا وَجَدْت لِلْمُؤْمِنِ فِی الدُّنْیَا مَثَلاً إِلاَّ کَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَی خَشَبَۃٍ فِی الْبَحْرِ وَہُوَ یَقُولُ : یَا رَبِّ یَا رَبِّ لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُنْجِیَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٦) حضرت مؤرق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا کی اطاعت کے ساتھ تمسک کرنے والا جب لوگ اس سے بزدل ہوجاتے ہیں، بھاگنے کے بعد دوبارہ حملہ کرنے والے کی طرح ہے۔
(۳۶۲۹۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، قَالَ : الْمُتَمَسِّکُ بِطَاعَۃِ اللہِ إذَا جَبُنَ النَّاسُ عنہا کَالْکَارِّ بَعْدَ الْفَارِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٧) حضرت عاصم احول سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مؤرق عجلی کو کہتے سنا۔ میں نے کوئی آدمی اپنی بزرگی میں سمجھ داری کرنے والا اور سمجھ داری میں بزرگی کرنے والا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل نہیں دیکھا۔
(۳۶۲۹۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوَرِّقًا الْعِجْلِیّ یَقُولُ : مَا رَأَیْت رَجُلاً أَفْقَہَ فِی وَرَعِہِ ، وَلاَ أَوْرَعَ فِی فِقْہِہِ مِنْ مُحَمَّدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطرف ابن شخیر
(٣٦٢٩٨) حضرت مؤرق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی باتیں، اشارۃً بات کرنا ہوتا تھا۔
(۳۶۲۹۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ یَزِیدَ أَبُو زَیْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، قَالَ : إنَّمَا کَانَ حَدِیثُہُمْ تَعْرِیضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٢٩٩) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان بن محرز فرماتے تھے۔ میں جب روٹی کھاتا ہوں تو (مقصد یہ ہوتا ہے کہ) میں اس کے ذریعہ اپنی کمر کو سیدھا رکھوں اور پانی کا کوزہ پیتا ہوں۔ دنیا اور اہل دنیا پر ہلاکت آنے والی ہے۔
(۳۶۲۹۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ : إذَا أَکَلْتُ رَغِیفًا أَشُدُّ بِہِ صُلْبِی وَشَرِبْتُ کُوزًا مِنْ مَائٍ فَعَلَی الدُّنْیَا وَأَہْلِہَا الْعَفَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৯৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٣٠٠) حضرت غیلان بن جریر، حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور باہم گفتگو کرتے۔ لیکن وہ رقت کے آثار نہ دیکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ کہتے۔ اے صفوان ! آپ اپنے ساتھیوں سے کوئی گفتگو کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت صفوان کہتے۔ الحمد للہ۔ اس پر لوگوں پر رقت طاری ہوجاتی اور ان کے آنسو یوں بہہ پڑتے۔ گویا کہ مشکیزوں کے منہ ہیں۔
(۳۶۳۰۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : وَکَانُوا یَجْتَمِعُونَ ہُوَ وَإِخْوَانُہُ وَیَتَحَدَّثُونَ فَلاَ یَرَوْنَ تِلْکَ الرِّقَّۃَ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : یَا صَفْوَانُ ، حَدِّثْ أَصْحَابَک ، قَالَ : فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، قَالَ : فَیَرِقُّ الْقَوْمُ وَتَسِیلُ دُمُوعُہُمْ کَأَنَّہَا أَفْوَاہُ الْمَزَادۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٣٠١) حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتے تو روپڑتے یہاں تک کہ ان کا سینہ پسیج جاتا تھا۔ ” اور ظالم لوگ عن قریب جان لیں گے کہ وہ کس راستے پر چل رہے تھے۔ “
(۳۶۳۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ بَکَی ، حتی أری لقد اندق َّ قَضیض زَوْرِۃ: {وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٣٠٢) حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت صفوان بن محرز کا کانے کا ایک کمرہ تھا جس میں شہتیر تھا۔ پھر شہتیر ٹوٹ گیا تو ان سے کہا گیا۔ آپ اس کو درست کیوں نہیں کرلیتے ؟ انھوں نے فرمایا : تم اس کو چھوڑو۔ کیونکہ میں نے بھی کل مرجانا ہے۔
(۳۶۳۰۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مُحْرِزٍ کَانَ لَہُ خُصٌّ فِیہِ جِذْعٌ ، فَانْکَسَرَ الْجِذْعُ ، فَقِیلَ لَہُ : أَلاَ تُصْلِحُہُ ؟ فَقَالَ : دَعْہُ فَإِنَّمَا أَمُوتُ غَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٣٠٣) حضرت صفوان بن محرز سے ارشادِ خداوندی : {إنَّا أَنْشَأْنَاہُنَّ إنْشَائً فَجَعَلْنَاہُنَّ أَبْکَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! ان میں سے کچھ بوڑھیاں ہوں گی۔ انھیں اللہ تعالیٰ ایسا کردے گا جیسا کہ تم نے سنا۔
(۳۶۳۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدٌ قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ فِی قَوْلِہِ : {إنَّا أَنْشَأْنَاہُنَّ إنْشَائً فَجَعَلْنَاہُنَّ أَبْکَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا} قَالَ : وَاللہِ إنَّ مِنْہُنَّ الْعُجُزَ الزُّحُفَ صَیَّرَہُنَّ اللَّہُ کَمَا تَسْمَعُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفوان بن محرز کا کلام
(٣٦٣٠٤) حضرت معلی بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت صفوان بن محرز کا ایک تہہ خانہ تھا۔ جس میں وہ رویا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے اگر نفس چاہے تو میں شہادت کا مکان دیکھ سکتا ہوں۔
(۳۶۳۰۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُعَلَّی بْنَ زِیَادٍ ، قَالَ : کَانَ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِیِّ سِرْبٌ یَبْکِی فِیہِ ، وَکَانَ یَقُولُ : قَدْ أَرَی مَکَانَ الشَّہَادَۃِ لَوْ تَشَاء ، یَعْنِی نَفْسِہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣٠٥) حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں چار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس کو دی جائیں تو اس کو دنیا، آخرت کی خیر دی گئی۔ جس آدمی کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور مصائب پر صبر کرنے والا جسم اور ایسی صاحب ایمان بیوی ملے جو اپنے بارے میں شوہر کے ساتھ کوئی خیانت نہ کرے۔
(۳۶۳۰۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : قَالَ حدثنا مسعر قَالَ : حدَّثَنِی عُتْبَۃُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، قَالَ: أرْبَعٌ مَنْ أُوتِیَہُنَّ أُوتِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ : مَنْ أُوتِیَ لِسَانًا ذَاکِرًا ، وَقَلْبًا شَاکِرًا ، وَجَسَدًا عَلَی الْبَلاَئِ صَابِرًا ، وَزَوْجًا مُؤْمِنَۃً لاَ تَبْغِیہِ فِی نَفْسِہَا خَوْنًا۔ (ابن ابی الدنیا ۳۴۔ طبرانی ۱۱۲۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣٠٦) حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے حقوق اس سے وزنی ہیں کہ بندے ان کو قائم کریں اور خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے ان کو شمار کریں۔ لہٰذا تم صبح کو بھی توبہ کرو اور شام کو بھی توبہ کرو۔
(۳۶۳۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، قَالَ : إنَّ حُقُوقَ اللہِ أَثْقَلُ مِنْ أَنْ یَقُومَ بِہَا الْعِبَادُ ، وَإِنَّ نِعَمَ اللہِ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ یُحْصِیَہَا الْعِبَادُ ، وَلَکِنْ أَصْبِحُوا تَوَّابِینَ وَأَمْسُوا تَوَّابِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣٠٧) حضرت کلثوم بن جبر کہتے ہیں کہ بصرہ میں متمنی کہتا تھا۔ طلق بن حبیب کی عبادت، عبادت ہے اور مسلم بن یسار کا حلم ہے۔
(۳۶۳۰۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا کُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ ، قَالَ : کَانَ الْمُتَمَنِّی بِالْبَصْرَۃِ یَقُولُ : عِبَادَۃُ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، وَحِلْمُ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣٠٨) حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت طلق بن حبیب سے کہا آپ ہمیں تقویٰ کے بارے میں بتائیں۔ فرمایا : تقویٰ خدا کی فرمان برداری کا عمل ہے۔ اس کی رحمت کی امید پر اور اس کے نور کی روشنی میں اور تقویٰ خدا کی نافرمانی کو خدا کے خوف سے خدائی نور کی وجہ سے ترک کرنے کا نام ہے۔
(۳۶۳۰۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : قلْنَا لِطَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ : صِفْ لَنَا التَّقْوَی ، قَالَ : التَّقْوَی عَمَلٌ بِطَاعَۃِ اللہِ رَجَائَ رَحْمَۃِ اللہِ عَلَی نُورٍ مِنَ اللہِ ، وَالتَّقْوَی تَرْکُ مَعْصِیَۃِ اللہِ مَخَافَۃَ اللہِ عَلَی نُورٍ مِنَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣٠٩) حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے فرمایا : اس آدمی کی مثال جو وعظ کہتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے اس چراغ کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے اور اپنا آپ کو جلاتا ہے۔ چاہیے کہ تم میں سے (ہر) ایک اپنے پیٹ میں جانے والی چیز کو دیکھے۔ کیونکہ جب جانور مرجاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ پھٹتا ہے۔ اور تم میں سے (ہر) ایک، اپنے اور جنت کے درمیان خون مسلم کی ایک مٹھی کے بھی حائل ہونے سے ڈرے۔
(۳۶۳۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، قَالَ : حدَّثَنِی صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ ، قَالَ : قَالَ جُنْدُبٌ : مَثَلُ الَّذِی یَعِظُ وَیَنْسَی نَفْسَہُ مَثَلُ الْمِصْبَاحِ یَفِیئُ لِغَیْرِہِ وَیُحْرِقُ نَفْسَہُ ، لِیُبْصِرْ أَحَدُکُمْ مَا یُجْعَلُ فِی بَطْنِہِ، فَإِنَّ الدَّابَّۃَ إذَا مَاتَتْ کَانَ أَوَّلَ مَا یَنْفَتِقُ مِنْہَا بَطْنُہَا ، وَلْیَتَّقِ أَحَدُکُمْ أَنْ یَحُولَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ مِلْئُ کَفٍّ مِنْ دَمِ مُسْلِمٍ۔ (عبدالرزاق ۱۸۲۵۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩০৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣١٠) قبیلہ عرینہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بجلی، اپنے ایک سفر میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ بھی نکلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان میں سے بعض نے بعض کو الوداع کہا۔ تو جندب نے کہا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے۔ محروب وہ ہوتا ہے جس کے دین پر حملہ ہوا ہو اور مسلوب وہ ہے جس کا دین سلب ہوا ہو۔ خبردار ! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ہے اور جہنم کے بعد کوئی غناء نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ جہنم کا قیدی رہائی نہیں پاتا اور اس کا فقیر، غنی نہیں ہوپاتا۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔
(۳۶۳۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ ، قَالَ : خَرَجَ جُنْدُبٌ الْبَجَلِیُّ فِی سَفَرٍ لَہُ ، فَخَرَجَ مَعَہُ نَاسٌ مِنْ قَوْمِہِ حَتَّی إذَا کَانُوا فِی الْمَکَانِ الَّذِی یُوَدِّعُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، قَالَ : أَلاَ تَرَی ، الْمَحْرُوبُ مَنْ حُرِبَ دِینُہُ وَإِنَّ الْمَسْلُوبَ مَنْ سُلِبَ دِینُہُ ، أَلاَ ، إِنَّہُ لاَ فَقْرَ بَعْدَ الْجَنَّۃِ ، وَلاَ غِنَی بَعْدَ النَّارِ ، أَلاَ إنَّ النَّارَ لاَ یُفَکُّ أَسِیرُہَا ، وَلاَ یَسْتَغْنِی فَقِیرُہَا ، ثُمَّ رَکِبَ الْجَادَّۃَ وَانْطَلَقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩১০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣١١) مسجد منی میں اہل شام کے فقہاء میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اور زمین میں موجود درختوں کو پیدا فرمایا۔ اور اولادِ آدم میں سے جو کوئی بھی ان درختوں میں سے کسی درخت کے پاس آتا تھا تو وہ اس درخت سے خیر ہی پاتا تھا۔ یا اس کے لیے یہ بہتر ہی ہوتا تھا چنانچہ درختوں کی مسلسل یہی حالت رہی یہاں تک کہ اولادِ آدم میں سے فجار نے یہ بڑی بات بولی کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔ اس پر زمین کانپ اٹھی اور درختوں میں کانٹے پیدا ہوگئے۔
(۳۶۳۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ غَالِبِ بْنِ عَجْرَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ فُقَہَائِ أَہْلِ الشَّامِ فِی مَسْجِدِ مِنًی ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ خَلَقَ الأَرْضَ ، وَخَلَقَ مَا فِیہَا مِنَ الشَّجَرِ ، وَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنْ بَنِی آدَمَ یَأْتِی شَجَرَۃً مِنْ تِلْکَ الشَّجَرِ إِلاَّ أَصَابَ مِنْہَا خَیْرًا ، أَوْ کَانَ لَہُ خَیْرٌ ، فَلَمْ یَزَلَ الشَّجَرَ کَذَلِکَ حَتَّی تَکَلَّمَتْ فَجَرَۃُ بَنِی آدَمَ بِالْکَلِمَۃِ الْعَظِیمَۃِ قَوْلُہُمْ (اتَّخَذَ اللَّہُ وَلَدًا) فَاقْشَعَرَّتِ الأَرْضُ فَشَاکَ الشَّجَرُ۔
tahqiq

তাহকীক: