মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩১১ টি
হাদীস নং: ৩৬৩১১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣١٢) حضرت ابوقحذم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حصرت ابن زیاد کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں کھجور کی گٹھلی کے برابر گندم کے دانے تھے۔ اور یہ تھیلی خاندانِ کسریٰ میں سے بعض کے گھر میں پائی گئی تھی اور اس کے ہمراہ یہ تحریر تھی۔ یہ فلاں، فلاں زمانہ کی پیداوار ہے یعنی وہ اس زمانہ میں پیدا ہوئی تھی جس میں خدا کی فرمان برداری کی جاتی تھی۔
(۳۶۳۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی قَحْذَمٍ ، قَالَ : أُتِیَ ابْنُ زِیَادٍ بِصُرَّۃٍ فِیہَا حَبُّ حِنْطَۃٍ أَمْثَالُ النَّوَی وُجِدَتْ فِی بَعْضِ بُیُوتِ آل کِسْرَی مَکْتُوبٌ مَعَہَا : ہَذَا نَبْتُ زَمَانٍ کَذَا وَکَذَا ، یَعْنِی : نَبْتُ زَمَانٍ کَانَ یُعْمَلُ فِیہِ بِطَاعَۃِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣١٣) حضرت خالد ربعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی۔ ایک رات اس کو یہ خیال آیا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو۔ انھیں تو میری ایجاد کا علم نہیں ہے۔ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو میری اس پیدا کردہ بدعت کا علم نہیں ہے ؟ کہتے ہیں وہ اپنی توبہ میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی کو جلا لیا اور اس میں ایک رسی ڈال کر مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا۔ میں اس کو تب تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ میری توبہ قبول نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ آپ فلاں سے کہہ دو ۔ اگر تیرا گناہ میرے، تیرے درمیان ہوتا تو میں تجھے معاف کردیتا لیکن میرے جن بندوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیا ہوگا ؟ چنانچہ وہ جہنم میں داخل ہوا۔
(۳۶۳۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الرَّبَعِیِّ ، قَالَ : کَانَ فِی بَنِی إسْرَائِیلَ رَجُلٌ ، وَکَانَ مَغْمُورًا فِی الْعِلْمِ ، وَأَنَّہُ ابْتَدَعَ بِدْعَۃً ، فَدَعَا النَّاسَ فَاتُّبِعَ ، وَأَنَّہُ تَذَکَّرَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، فَقَالَ : ہَبْ ہَؤُلاَئِ النَّاسُ لاَ یَعْلَمُونَ مَا ابْتَدَعْت ، أَلَیْسَ اللَّہُ قَدْ عَلِمَ مَا ابْتَدَعْت ، قَالَ : فَبَلَغَ مِنْ تَوْبَتِہِ أَنْ حَرَقَ تَرْقُوَتَہُ ، وَجَعَلَ فِیہَا سِلْسِلَۃً وَرَبَطَہَا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ ، قَالَ : لاَ أَنْزِعُہَا حَتَّی یُتَابَ عَلَیَّ ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَی نَبِیٍّ مِنْ أَنْبِیَائِ بَنِی إسْرَائِیلَ ، وَکَانَ لاَ یَسْتَنْکِرُ بِالْوَحْیِ : أَنْ قُلْ لِفُلاَنٍ : لَوْ أَنَّ ذَنْبَک کَانَ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَکَ لَغَفَرْت لَک ، وَلَکِنْ کَیْفَ بِمَنْ أَضْلَلْت مِنْ عِبَادِی ، فَدَخَلَ النَّارَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلق بن حبیب کا کلام
(٣٦٣١٤) حضرت عبداللہ بن مروان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابوخلیل صالح کو ارشادِ خداوندی {إنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ } کے بارے میں سنا۔ انھوں نے فرمایا : خدا کا سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ خوف کھانے والا ہوتا ہے۔
(۳۶۳۱۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَرْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَالِحًا أَبَا الْخَلِیلِ یَقُولُ فِی قَوْلِ اللہِ : {إنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ} قَالَ : أَعْلَمُہُمْ بِہِ أَشَدُّہُمْ خَشْیَۃً لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣١٥) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک راہب کے پاس سے گزرا اور پوچھا۔ اے راہب ! تیرا موت کو یاد کرنا کیسا ہے ؟ اس راہب نے کہا۔ میں جو قدم رکھتا ہوں یا اٹھاتا ہوں تو خود کو مردہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا۔ تیری نشاط کی حالت کیسی ہے ؟ راہب نے کہا : میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی آدمی جنت، جہنم کا ذکر سنے اور اس پر ایک گھڑی بھی ایسی آئے کہ وہ نماز نہ پڑھے۔ اس پر اس آدمی نے کہا : میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور روتا ہوں یہاں تک کہ میرے آنسوؤں سے سبزی اگتی ہے۔ راہب نے کہا۔ اگر تم ہنسو جبکہ تم اللہ کے سامنے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہو تو یہ عمل اس سے بہتر ہے کہ تم رو رہے ہو جبکہ تم اپنے عمل پر گھمنڈ میں مبتلا ہو۔ بیشک گھمنڈ کرنے والے کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں جاتی۔ پھر آدمی نے کہا : تم مجھے وصیت کردو۔ تو راہب نے کہا : تم دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو اور اہل دنیا سے دنیا نہ چھینو اور شہد کی مکھی کی طرح ہوجاؤ کہ اگر کھاتی ہے تو طیب کھاتی ہے اور اگر نکالتی ہے تو طیب نکالتی ہے اور اگر کسی شے پر گرتی ہے تو نہ اس کو نقصان دیتی ہے اور نہ اس کو توڑتی ہے۔ اور اللہ کے لیے ایسی خیر خواہی رکھ جیسی کتا، اپنے اہل کے ساتھ رکھتا ہے۔ کہ وہ اس کو بھوکا رکھتے ہیں اور اس کو مارتے ہیں مگر وہ ان کے لیے خیر خواہی اور حفاظت ہی کرتا ہے۔
(۳۶۳۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الصَّنْعَائِ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ بِرَاہِبٍ ، فَقَالَ : یَا رَاہِبُ ، کَیْفَ ذِکْرُک لِلْمَوْتِ ، قَالَ : مَا أَرْفَعُ قَدَمًا ، وَلاَ أَضَعُ أُخْرَی إِلاَّ رَأَیْت أَنِّی مَیِّتٌ ، قَالَ : کَیْفَ دَأْبُ نَشَاطِکَ ، قَالَ : مَا کُنْت أَرَی أن أَحَدًا سَمِعَ بِذِکْرِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ تَأْتِی عَلَیْہِ سَاعَۃً لاَ یُصَلِّی ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إنِّی لأُصَلِّی فَأَبْکِی حَتَّی یَنْبُتَ الْبَقْلُ مِنْ دُمُوعِی ، فَقَالَ الرَّاہِبُ : إنَّک إنْ تَضْحَکْ وَأَنْتَ مُعْتَرِفٌ لِلَّہِ بِخَطِیئَتِکَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَبْکِیَ وَأَنْتَ مُدْلٍ بِعَمَلِکَ ، إنَّ صَلاَۃَ الْمُدْلِ لاَ تَصْعَدُ فَوْقَہُ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَوْصِنِی ، فَقَالَ الرَّاہِبُ : عَلَیْک بِالزُّہْدِ فِی الدُّنْیَا ، وَلاَ تُنَازِعُہَا أَہْلَہَا ، وَکُنْ کَالنَّحْلَۃِ إنْ أُکِلَتْ أُکِلَتْ طَیِّبًا ، وَإِنْ وَضَعَتْ وَضَعَتْ طَیِّبًا ، وَإِنْ وَقَعَتْ عَلَی شَیْئٍ لَمْ تَضُرَّہُ وَلَمْ تَکْسِرْہُ ، وَانْصَحْ لِلَّہِ کَنُصْحِ الْکَلْبِ أَہْلَہُ فإنہم یُجِیعُونہُ وَیَضْرِبُونہُ ، وَیَأْبَی إِلاَّ نُصْحًا لَہُمْ وَحِفظًا عَلَیْہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣١٦) حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت ابن منبہ کہا کرتے تھے۔ اخلاق میں سے سب سے بڑا معاون دین کے لیے دنیا میں بےرغبتی ہے۔ اور دین کے لیے سب سے زیادہ ردی بات، خواہشات کی پیروی ہے۔ اور خواہشات کی پیروی سے دنیا میں رغبت ہے اور دنیا میں رغبت سے مال وجاہ کی محبت ہے اور مال وجاہ کی محبت سے حرام کا حلال سمجھنا ہے اور حرام کو حلال سمجھنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور غضب خداوندی ایسی بیماری ہے جس کی رضا خداوندی کے علاوہ کوئی دوائی نہیں ہے۔ یہ ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی جو آدمی اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کو ناراض کرے اور جو اپنے نفس کو ناراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے رب کو راضی نہیں کرپاتا۔ اگر انسان دین کی بوجھ محسوس ہونے والی چیز چھوڑ دے گا تو قریب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔
(۳۶۳۱۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ ابْنَ مُنَبِّہٍ کَانَ یَقُولُ : أَعْوَنُ الأَخْلاَقِ عَلَی الدِّینِ الزَّہَادَۃُ فِی الدُّنْیَا ، وَأَوْشَکُہَا رَدًی اتِّبَاعُ الْہَوَی ، وَمِنَ اتِّبَاعِ الْہَوَی الرَّغْبَۃُ فِی الدُّنْیَا ، وَمِنَ الرَّغْبَۃِ فِی الدُّنْیَا حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ ، وَمِنْ حُبِّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ اسْتِحْلاَلُ الْمَحَارِمِ ، وَمِنَ اسْتِحْلاَلِ الْمَحَارِمِ یَغْضَبُ اللَّہُ ، وَغَضَبُ اللہِ الدَّائُ الَّذِی لاَ دَوَائَ لَہُ إِلاَّ رِضْوَانَ اللہِ ، وَرِضْوَانُ اللہِ دَوَائٌ لاَ یَضُرُّ مَعَہُ دَائٌ ، وَمَنْ یُرِیدُ أَنْ یُرْضِیَ رَبَّہُ یُسْخِطُ نَفْسَہُ ، وَمَنْ لاَ یُسْخِطُ نَفْسَہُ لاَ یُرْضِی رَبَّہُ ، إنْ کَانَ کُلَّمَا ثَقُلَ عَلَی الإِنْسَاْن شَیْئٌ مِنْ دِینِہِ تَرَکَہُ أَوْشَکَ أَنْ لاَ یَبْقَی مَعَہُ شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣١٧) حضرت قاسم بن ابوبزہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن منبہ کو کہتے سنا کہ ہم نے (سابقہ) کتب میں یہ بات پائی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ابن آدم ! تم جب تک میری عبادت کرو اور مجھ سے امید رکھو تو جیسا بھی ہو میں تمہیں معاف کردوں گا اور یہ بات مجھ پر حق ہے کہ میں اپنے اس بندے کو گمراہ نہ کروں جو بندہ ہدایت کا حریص ہو۔ میں حکم ہوں۔
(۳۶۳۱۷) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مُنَبِّہٍ یَقُولُ : إنَّا نَجِدُ فِی الْکُتُبِ ، أَنَّ اللَّہَ یَقُولُ : یَا ابْنَ آدَمَ إنَّک مَا عَبَدْتنِی وَرَجَوْتنِی فَإِنِّی غَافِرٌ لَک عَلَی مَا کَانَ ، وَحَقٌّ عَلَیَّ أَنْ لاَ أُضِلَّ عَبْدِی وَہُوَ حَرِیصٌ عَلَی الْہُدَی وَأَنَا الْحَکَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣١٨) حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی بغیر عمل کے دعا کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو کمان کے بغیر تیر پھینکتا ہے۔
(۳۶۳۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِی یَدْعُو بِغَیْرِ عَمَلٍ مَثَلُ الَّذِی یَرْمِی بِغَیْرِ وَتْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣١٩) حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کی طرف وحی کی۔ اے عزیر ! تم مجھ پر جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹی قسم کھاتا ہے میں اس سے راضی نہیں ہوتا۔ اے عزیر ! تم اپنے والدین کی فرمان برداری کرو۔ کیونکہ جو آدمی اپنے والدین کی فرمان برداری کرتا ہے۔ میں اس سے راضی ہوتا ہوں اور جب میں راضی ہوتا ہوں، برکت دیتا ہوں۔ اور جب میں برکت دیتا ہوں تو چوتھی نسل تک پہنچتی ہے۔ اے عزیر ! تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ تو میں (اس سے) ناراض ہوتا ہوں اور جب میں ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور جب میں لعنت کرتا ہوں تو وہ چوتھی نسل تک جاتی ہے۔
(۳۶۳۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَیْمَانَ الضُّبَعِیِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : أَوْحَی اللہ إِلَی عُزَیْرٍ یَا عُزَیْرُ ، لاَ تَحْلِفْ بِی کَاذِبًا فَإِنِّی لاَ أَرْضَی عَمَّنْ یَحْلِفُ بِی کَاذِبًا ، یَا عُزَیْرُ بِرَّ ، وَالِدَیْک فَإِنَّہُ مَنْ بَرَّ وَالِدَیْہِ رَضِیت ، وَإِذَا رَضِیت بَارَکْت ، وَإِذَا بَارَکْت بَلَغَت النَّسْلَ الرَّابِعَ ، یَا عُزَیْرُ ، لاَ تَعُقَّ وَالِدَیْک فَإِنَّہُ مَنْ یَعُقُّ وَالِدَیْہِ غَضِبْت وَإِذَا غَضِبْت لَعَنْت ، وَإِذَا لَعَنْت بَلَغَت النَّسْلَ الرَّابِعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢٠) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد نے عرض کیا۔ اے پروردگار ! آدم کے بیٹے کے ہر بال کے نیچے بھی آپ کی نعمت ہے اور اس کے اوپر بھی ایک نعمت ہے۔ پس وہ آپ کو، آپ کی عطاؤں کا بدلہ کہاں سے دیں گے ؟ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو وحی کی۔ بیشک میں کثیر عطا کرتا ہوں اور تھوڑے پر راضی ہوجاتا ہوں۔ میری ان نعمتوں کا ادائے شکر یہ ہے کہ یہ بات معلوم کی جائے کہ جو کوئی بھی نعمت ہے وہ میری طرف سے ہے۔
(۳۶۳۲۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحٌ الْفَزَارِیّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ، قَالَ : قَالَ دَاوُد : یَا رَبِ ، ابْنُ آدَمَ لَیْسَ مِنْہُ شَعْرَۃٌ إِلاَّ تَحْتَہَا مِنْک نِعْمَۃٌ ، وَفَوْقَہَا مِنْک نِعْمَۃٌ ، فَمِنْ أَیْنَ یُکَافِؤکَ بِمَا أَعْطَیْتَہُ ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إلَیْہِ : یَا دَاوُد ، إنِّی أُعْطِی الْکَثِیرَ وَأَرْضَی بِالْیَسِیرِ ، أداء شَکَرَ ذَلِکَ لِی أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ مَا بِہِ مِنْ نِعْمَۃٍ مِنِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢١) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ایسا نور دیا تھا جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر موسیٰ نے حضرت ہارون کو بلایا اور کہا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا نور عطا کیا ہے جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ مجھے ہدیہ کیا تھا اور میں یہ تم دونوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ہارون کے دونوں بیٹے بنی اسرائیل کے لیے قربانی کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کوئی بات نئی نکال دی تو آگ اتری اور ان کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان سے کہا گیا۔ اے موسیٰ و ہارون ! میرے اہل طاعت میں سے جو میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کرتا ہوں۔ تو پھر میں اپنے نافرمانوں میں سے نافرمانی کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کروں گا ؟ “
(۳۶۳۲۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : أَعْطَی اللَّہُ مُوسَی نُورًا یَکُونُ لِغَیْرِہِ نَارًا ، قَالَ : فَدَعَا مُوسَی ہَارُونَ ، فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ وَہَبَ لِی نُورًا یَکُونُ لِغَیْرِی نَارًا ، وَإِنَّ مُوسَی وَہَبَہُ لِی ، وَإِنِّی أَہَبُہُ لَکُمَا قَالَ : فَکَانَ ابْنَا ہَارُونَ یُقَرِّبَانِ الْقُرْبَانَ لِبَنِی إسْرَائِیلَ ، قَالَ : فأحدثا شَیْئًا فَنَزَلَتِ النَّارُ فَاحْتَرَقَا ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُمَا : یَا مُوسَی وَہَارُونُ ، کَذَا أَصْنَعُ بِمَنْ عَصَانِی مِنْ أَہْلِ طَاعَتِی فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِمَنْ عَصَانِی مِنْ أَہْلِ مَعْصِیَتِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢٢) حضرت ابن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اس نے ایک زمانہ اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت مانگی اور اس نے اللہ کے لیے ساٹھ ہفتے روزے رکھے۔ ہر ہفتہ گیارہ مرتبہ کھاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے اللہ سے کوئی حاجت مانگی اور اللہ تعالیٰ نے وہ حاجت اس کو نہ دی۔ چنانچہ وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا۔ اے نفس ! تیری وجہ سے مجھے دیا جاتا ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی خیر ہوتی تو تجھے تیری حاجت دے دی جاتی۔ لیکن تیرے پاس کوئی خیر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس اسی وقت ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے اس آدمی کو کہا۔ اے آدم کے بیٹے ! تیری یہ گھڑی جس میں تو نے اپنے نفس پر عتاب کیا وہ تیری سابقہ ساری عبادت سے بہتر ہے۔ تحقیق تجھے اللہ تعالیٰ نے تیری حاجت دے دی ہے۔
(۳۶۳۲۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ صَاحِبُ الزِّیَادِیِّ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ عَبَدَ اللَّہَ زَمَانًا ، ثُمَّ طَلَبَ إِلَی اللہِ حَاجَۃً وَصَامَ لِلَّہِ سَبْعِینَ سَبْتًا یَأْکُلُ کُلَّ سَبْتٍ إحْدَی عَشَرَ مَرَّۃً ، قَالَ : وَطَلَبَ إِلَی اللہِ حَاجَتَہُ فَلَمْ یُعْطَہَا ، فَأَقْبَلَ عَلَی نَفْسِہِ ، فَقَالَ : أَیَّتُہَا النَّفْسُ مِنْ قِبَلِکَ أُتِیتُ ، لَوْ کَانَ عِنْدَکِ خَیْرٌ لأُعْطِیتِ حَاجَتَکَ ، وَلَکِنْ لَیْسَ عِنْدَکِ خَیْرٌ ، قَالَ : فَنَزَلَ إلَیْہِ سَاعَتَئِذٍ مَلَکٌ ، فَقَالَ لَہُ : یَا ابْنَ آدَمَ ، إنَّ سَاعَتَکَ ہَذِہِ الَّتِی أزریت عَلَی نَفْسِکَ فِیہَا خَیْرٌ مِنْ عِبَادَتِکَ کُلِّہَا الَّتِی مَضَتْ ، وَقَدْ أَعْطَاک اللَّہُ حَاجَتَکَ الَّتِی سَأَلْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢٣) حضرت ابن منبہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ، طاؤس اور ان جیسے اور اس زمانہ کے لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپس میں اس بات کا ذکر چھیڑا کہ کون سا امر خداوندی سب سے تیز تھا ؟ تو ان میں سے بعض نے کہا : ارشاد خداوندی کَلَمْحِ الْبَصَرِ اور بعض نے کہا۔ تخت جب حضرت سلیمان کے پاس لایا گیا اس پر حضرت ابن منبہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے تیز ترین یہ تھا کہ حصرت یونس، کشتی کے کنارے پہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے مصر کے نیل کی مچھلی کو حکم دیا۔ ابن منبہ کہتے ہیں۔ پس وہ کشتی کے کنارے سے مچھلی کے پیٹ میں جا کر گرے۔
(۳۶۳۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، أَنَّہُ جَلَسَ ہُوَ وَطَاوُسٌ وَنَحْوُہُمَا مِنْ أَہْلِ ذَلِکَ الزَّمَانِ فَذَکَرُوا أَیُّ أَمْرِ اللہِ أَسْرَعُ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : قَوْلُ اللہِ کَلَمْحِ الْبَصَرِ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ : السَّرِیرُ حِینَ أُتِیَ بِہِ سُلَیْمَانُ ، فَقَالَ : ابْنُ مُنَبِّہٍ : أَسْرَعُ أَمْرِ اللہِ ، أَنَّ یُونُسَ عَلَی حَافَّۃِ السَّفِینَۃِ إذْ أَوْحَی اللَّہُ إِلَی نُونٍ فِی نِیلِ مِصْرَ ، قَالَ : فَمَا خَرَّ مِنْ حَافَّتِہَا إِلاَّ فِی جَوْفِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢٤) حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس دن موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے درخت کے پاس مناجات کی تھی اس دن انھوں نے اون کا جبہ، اُون کا جان گیا اور اون کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔
(۳۶۳۲۴) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْعَبْسِیِّ، عَنْ إدْرِیسَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ جَدِّہ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ، قَالَ: کَانَ عَلَی مُوسَی یَوْمَ نَاجَی رَبَّہُ عِنْدَ الشَّجَرَۃِ جُبَّۃٌ مِنْ صُوفٍ وَتُبَّانٌ مِنْ صُوفٍ وَقَلَنْسُوَۃٌ مِنْ صُوفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن منبہ کا کلام
(٣٦٣٢٥) حضرت ابن عوف سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن منبہ نے فرمایا : منافق کی خصلتوں میں سے یہ بات ہے کہ وہ تعریف کو پسند کرتا ہے اور مذمت کو ناپسند کرتا ہے۔
(۳۶۳۲۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ مُنَبِّہٍ : مِنْ خِصَالِ الْمُنَافِقِ أَنْ یُحِبَّ الْحَمْدَ وَیُبْغِضَ الذَّمَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٢٦) حضرت ابوقلابہ کی تحریر میں یہ بات تھی۔ فرمایا : علماء کی مثال، ان ستاروں کی مانند ہے جن سے راہ نمائی لی جاتی ہے۔ اور ان نشانیوں کی طرح ہے جن سے راہ یابی حاصل کی جاتی ہے۔ جب یہ ستارے لوگوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں اور جب وہ ان ستاروں کو چھوڑ دیتے ہیں تو گمراہ ہوجاتے ہیں۔
(۳۶۳۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ کِتَابِ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : مَثَلُ الْعُلَمَائِ مَثَلُ النُّجُومِ الَّتِی یُہْتَدَی بِہَا ، وَالأَعْلاَمِ الَّتِی یُقْتَدَی بِہَا ، إذَا تَغَیَّبَتْ عَنْہُمْ تَحَیَّرُوا ، وَإِذَا تَرَکُوہَا ضَلُّوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٢٧) حضرت ابوقلابہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں آپ سے طیبات کا سوال کرتا ہوں اور ترک منکرات کا سوال کرتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ آپ میری توبہ قبول کرلیں اور جب آپ اپنے بندوں کے ساتھ کسی آزمائش کا ارادہ کریں تو مجھے فتنہ میں مبتلا کیے بغیر موت دے دینا۔
(۳۶۳۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، أَنَّہُ قَالَ فِی دُعَائِہِ : اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک الطَّیِّبَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَیَّ ، وَإِذَا أَرَدْت بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَتَوَفَّانِی غَیْرَ مَفْتُونٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٢٨) حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے ملعون قرار دیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک مہلت دے دی۔ ابلیس نے کہا : تیری عزت کی قسم ! میں آدم کے بیٹے کے پیٹ یا دل میں تب تک رہوں گا جب تک اس میں روح ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میری عزت کی قسم ! جب تک اس میں روح ہوگی میں اس سے توبہ بند نہیں کروں گا۔
(۳۶۳۲۸) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ لَمَّا لَعَنَ إبْلِیسَ سَأَلَہُ النَّظِرَۃَ ، فَأَنْظَرَہُ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ ، قَالَ : وَعِزَّتِکَ لاَ أَخْرُجُ مِنْ جَوْفِ ، أَوْ مِنْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ مَا دَامَ فِیہِ الرُّوحُ ، قَالَ : وَعِزَّتِی لاَ أَحْجُب عَنْہُ التَّوْبَۃَ مَا دَامَ فِیہِ الرُّوحُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٢٩) حضرت مسلم بن یسار کہتے ہیں کہ اگر حضرت ابوقلابہ عجمیوں میں سے ہوتے تو قاضی القضاۃ ہوتے۔
(۳۶۳۲۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَیُّوبُ قَالَ : قَالَ مُسْلِمُ بْنُ یَسَارٍ : لَوْ کَانَ أَبُو قِلاَبَۃَ مِنَ الْعُجْمِ کَانَ موبز موبزان۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٣٠) حضرت حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ایوب کو کہتے سنا اور وہ حضرت ابوقلابہ کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا : خدا کی قسم ! وہ ذی عقل اور فقہاء میں سے تھے۔
(۳۶۳۳۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ سَمِعْت أَیُّوبَ وَذَکَرَ أَبَا قِلاَبَۃَ ، فَقَالَ : کَانَ وَاللہِ مِنَ الْفُقَہَائِ وَذَوِی الأَلْبَابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقلابہ کا کلام
(٣٦٣٣١) حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ تمہارے کاموں میں سے بہترین کام درمیانہ کام ہے۔
(۳۶۳۳۱) حَدَّثَنَا یَعْمُرُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : خَیْرُ أُمُورِکُمْ أَوْسَاطُہَا۔ (ابو نعیم ۲۸۶)
তাহকীক: