মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩১১ টি

হাদীস নং: ৩৬৩৫১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٢) حضرت حسن سے {إنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں جان لو کہ ہر قرض خواہ، اپنے مقروض کی جان چھوڑ دیتا ہے۔ سوائے جہنم کے غریم (قرض خواہ) کے۔
(۳۶۳۵۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ : {إنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا} قَالَ : عَلِمُوا أَنَّ کُلَّ غَرِیمٍ مُفَارِقٌ غَرِیمَہُ إِلاَّ غَرِیمَ جَہَنَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٣) حضرت قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو کہتے سنا : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ } فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے گندے عملوں کی وجہ سے خشک اور تر زمین میں ان کے لیے فساد برپا کردیا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ یعنی ان کے بعد والے رجوع کریں۔
(۳۶۳۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ قُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : {ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ} قَالَ : أَفْسَدَہُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِہِمْ فِی بَرِّ الأَرْضِ وَبَحْرِہَا بِأَعْمَالِہِمُ الْخَبِیثَۃِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ یَرْجِعُ مَنْ بَعْدَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٤) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کی (کسی) کتاب میں ہے آدم کے بیٹے ! میں نے دو چیزیں تیرے لیے کردی ہیں لیکن وہ تیرے لیے نہیں ہیں۔ تیرے مال میں معروف طریقہ سے وصیت۔ جبکہ ملکیت غیر کو حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کا تیرے لیے دعا کرنا۔ جبکہ تو ایسی جگہ ہوتا ہے نہ تو تو کسی برائی کی وجہ سے تھکتا ہے اور نہ کسی اچھائی میں بڑھتا ہے۔
(۳۶۳۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : بَلَغَنِی ، أَنَّ فِی کِتَابِ اللہِ : ابْنَ آدَمَ ثِنْتَانِ جَعَلْتُہُمَا لَک وَلَمْ یَکُونَا لَک : وَصِیَّۃٌ فِی مَالِکَ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ صَارَ الْمِلْکُ لِغَیْرِکَ ، وَدَعْوَۃُ الْمُسْلِمِینَ لَک وَأَنْتَ فِی مَنْزِلٍ لاَ تَسْتَعْتِبُ فِیہِ مِنْ سء ، وَلاَ تَزِیدُ فِی حَسَنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٥) حضرت یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعید بن حسن کی وفات ہوئی تو حضرت حسن پر اس کی وجہ سے بہت گہرا غم ہوا۔ چنانچہ ان سے اس حوالہ سے بات کی گئی۔ تو فرمایا : میں نے وہ حالت سن رکھی ہے جو اللہ نے حضرت یعقوب کے غم کے بارے بیان کی ہے۔
(۳۶۳۵۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ یُونُسَ، فَقَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ سَعِیدُ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ وَجَدَ عَلَیْہِ الْحَسَنُ وَجْدًا شَدِیدًا، فَکُلِّمَ فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ: مَا سَمِعْت اللَّہَ عَابَ الْحُزْنَ عَلَی یَعْقُوبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٦) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص قبرستان میں جائے اور یہ کہے : اے اللہ ! اے بوسیدہ جسموں کے پروردگار ! اور ان بوسیدہ ہڈیوں کے پروردگار جو دنیا سے اس حالت میں نکلی تھیں کہ آپ پر ایمان رکھتی تھیں۔ آپ ان پر اپنی طرف سے رحمت اور سلامتی نازل فرما۔ تو ایسے آدمی کے لیے پیدائش سے تب تک مرنے والا ہر مومن استغفار کرتا ہے۔
(۳۶۳۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الأَسَدِیُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : مَنْ دَخَلَ الْمَقَابِرَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ رَبَّ الأَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ الَّتِی خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ بِکَ مُؤْمِنَۃٌ : أَدْخِلْ عَلَیْہَا رَوْحًا مِنْ عِنْدِکَ وَسَلاَمًا منی اسْتَغْفَرَ لَہُ کُلُّ مُؤْمِنٍ مَاتَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٧) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک مومن اپنے نفس پر نگران ہوتا ہے اور وہ خدا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنے نفسوں کا محاسبہ کریں گے اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر مشکل ہوگا جو اس بات کا محاسبہ نہیں کرتے۔ بیشک مومن کے پاس کوئی چیز اچانک آتی ہے تو وہ اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کہتا ہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تمہاری چاہت تھی۔ اور بیشک تم میری ضرورت کی چیز ہو۔ لیکن خدا کی قسم ! تیری طرف کوئی رابطہ نہیں تھا۔

اور ایمان والے سے کوئی چیز ضائع ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں نے تو اس کا ارادہ نہیں کیا تھا ؟ مجھے اس سے کیا غرض ہے ؟ میرے پاس اس کے علاوہ بھی ایک تعداد ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ یقیناً اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کو قرآن نے پختہ کیا ہے اور ان کے اور ان کے ہلاک شدہ سامان کے درمیان حائل ہے۔ مومن دنیا میں قیدی ہوتا ہے جو اپنی گردن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے تک کسی شے سے مامون نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس سب میں قابل مواخذہ ہے۔
(۳۶۳۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إنَّ الْمُؤْمِنَ قَوَّامٌ عَلَی نَفْسِہِ یُحَاسِبُ نَفْسَہُ لِلَّہِ ، وَإِنَّمَا خَفَّ الْحِسَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی قَوْمٍ حَاسَبُوا أَنْفُسَہُمْ فِی الدُّنْیَا ، وَإِنَّمَا شَقَّ الْحِسَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی قَوْمٍ أَخَذُوا ہَذَا الأَمْرَ عن غَیْرِ مُحَاسَبَۃٍ ، إنَّ الْمُؤْمِنَ یَفْجَؤُہُ الشَّیْئُ فَیُعْجِبُہُ فَیَقُولُ : وَاللہِ إنِّی لأشْتَہِیک وَإِنَّک لَمِنْ حَاجَتِی ، وَلَکِنْ وَاللہِ مَا مِنْ وُصْلَۃٍ إلَیْک ، ہَیْہَاتَ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ ، وَیَفْرُطُ مِنْہُ الشَّیْئُ فَیَرْجِعُ إِلَی نَفْسِہِ فَیَقُولُ : مَا أَرَدْت إِلَی ہَذَا ، مَا لِی وَلِہَذَا ، مَا لِی عدد غیر ہذا وَاللہِ لاَ أَعُودُ إِلَی ہَذَا أَبَدًا إنْ شَائَ اللَّہُ ، إنَّ الْمُؤْمِنِینَ قَوْمٌ أَوْثَقَہُمُ الْقُرْآنُ وَحَالَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ ہَلَکَتِہِمْ ، إنَّ الْمُؤْمِنَ أَسِیرٌ فِی الدُّنْیَا یَسْعَی فِی فِکَاکِ رَقَبَتِہِ ، لاَ یَأْمَنُ شَیْئًا حَتَّی یَلْقَی اللَّہَ ، یَعْلَمُ أَنَّہُ مَأْخُوذٌ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ کُلِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٨) حضرت حسن فرماتے ہیں مومن دنیا میں مسافر کی طرح ہے جو دنیا کی عزت میں رغبت نہیں کرتا اور اس کی ذلت پر جزع نہیں کرتا۔ لوگوں کی ایک حالت ہوتی ہے اور اس کی بھی ایک حالت ہوتی ہے۔ ان برتریوں کو جس طرف اللہ نے متوجہ کیا ہے تم بھی ان کو اسی طرف متوجہ کردو۔
(۳۶۳۵۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ سَمِعْت عَبْدَ رَبِّہِ أَبَا کَعْبٍ یَقُولُ : سَمِعْت الْحَسَنَ یَقُولُ : الْمُؤْمِنُ فِی الدُّنْیَا کَالْغَرِیبِ لاَ یُنَافِسُ فِی عِزِّہَا ، وَلاَ یَجْزَعُ مِنْ ذُلِّہَا ، لِلنَّاسِ حَالٌ وَلَہُ حَالٌ ، وَجِّہُوا ہَذِہِ الْفُضُولَ حَیْثُ وَجَّہَہَا اللَّہُ۔

حدثنا أبو عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٥٩) حضرت زکریا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) کو کہتے سنا کہ بیشک ایمان زینت اور تمنی کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں بیٹھ جائے اور اس کی تصدیق عمل کرتا ہو۔
(۳۶۳۵۹) حَدَّثَنَا عَفَّان ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : إنَّ الإِیمَانَ لَیْسَ بِالتَّحَلِّی ، وَلاَ بِالتَّمَنِّی ، إنَّ الإِیمَانَ مَا وَقَرَ فِی الْقَلْبِ وَصَدَّقَہُ الْعَمَلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٠) حضرت محمد بن جحادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن کے پاس سے ایک غیر عربی گھوڑا ناز ونخرے سے چلتا ہوا گزرا تو آپ نے فرمایا : اوہ ! کیا تو جانتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو غم کے ساتھ آئے گی۔
(۳۶۳۶۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ ، قَالَ ، مَرَّ عَلَی الْحَسَنِ بِرْذَوْنٌ یُہَمْلِجُ ، فَقَالَ : أَوَّہُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ السَّاعَۃَ إذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِغَمٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦١) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اہل ایمان کے لیے دنیا میں پہلے ہی خوف مل جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن امن میں رکھے گا۔ اور بیشک منافقین نے خوف کو دنیا سے مؤخر کردیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن خوفزدہ کریں گے۔
(۳۶۳۶۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إنَّ الْمُؤْمِنِینَ عَجَّلُوا الْخَوْفَ فِی الدُّنْیَا فَأَمَّنَہُمَ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَإِنَّ الْمُنَافِقِینَ أَخَّرُوا الْخَوْفَ فِی الدُّنْیَا فَأَخَافَہُمَ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬১
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٢) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عمل کیا لیکن انھوں نے تمنا نہیں کی۔
(۳۶۳۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : عَمِلَ الْقَوْمُ وَلَمْ یَتَمَنَّوْا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬২
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٣) حضرت مبارک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو کہتے سنا۔ بیشک کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی آنکھیں روتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں روتے۔ پس جس آدمی کی آنکھیں روئیں تو اس کا دل بھی رونا چاہیے۔
(۳۶۳۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : إنَّ أَقْوَامًا بَکَتْ أَعْیُنُہُمْ وَلَمْ تَبْکِ قُلُوبُہُمْ، فَمَنْ بَکَتْ عَیْنَاہُ فَلْیَبْکِ قَلْبُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৩
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٤) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں عقلمند ترین انسان وہ ہوتا تھا جو روتا تھا۔
(۳۶۳۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَکْیَسُہُمْ مَنْ بَکَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৪
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٥) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اپنے اوراق خرچ کرتے تھے اور اپنی زبانیں محفوظ رکھتے تھے۔ پھر میں نے ان کے بعد ایسے لوگوں کو پایا جو اپنے اوراق کو محفوظ رکھتے تھے اور اپنی زبانوں کو بھیجتے تھے۔
(۳۶۳۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَدْرَکْت أَقْوَامًا یَبْذُلُونَ أَوْرَاقَہُمْ وَیَخْزُنُونَ أَلْسِنَتَہُمْ ، ثُمَّ أَدْرَکْت مِنْ بَعْدِہِمْ أَقْوَامًا خَزَّنُوا أَوْرَاقَہُمْ وَأَرْسَلُوا أَلْسِنَتَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৫
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٦) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حلماء (ایسے ہوتے ہیں کہ) اگر ان کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ بیوقوفی نہیں کرتے۔ یہ تو ان کا دن ہے۔ اور ان کی رات کیسی ہوتی ہے ؟ بہترین رات۔ وہ اپنے آنسو، اپنی گالوں پر بہاتے ہیں اور اپنے قدموں سے صفیں بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی گردنوں کے چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(۳۶۳۶۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حلَمَائُ إنْ جُہِلَ عَلَیْہِمْ لَمْ یَسْفَہُوا ، ہَذَا نَہَارُہُمْ فَکَیْفَ لَیْلُہُمْ ، خَیْرُ لَیْلٍ أَجْرُوا دُمُوعَہُمْ عَلَی خُدُودِہِمْ وَصَفُّوا أَقْدَامَہُمْ یَطْلُبُونَ إِلَی اللہِ فِی فِکَاکِ رِقَابِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৬
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٧) حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو کبھی کسی شعر کو مثال بیان کرتے نہیں سنا۔ سوائے اس شعر کے

صرف وہی میت نہیں جو مرگیا اور راحت پا گیا

میت تو وہ ہوتا ہے جو زندہ میں میت ہوتا ہے

پھر راوی کہنے لگے : خدا کی قسم ! آپ نے سچ کہا۔ آپ زندہ تھے لیکن دل مردہ تھا۔
(۳۶۳۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : مَا سَمِعْت الْحَسَنَ یَتَمَثَّلُ بِبَیْتِ شِعْرٍ إِلاَّ ہَذَا الْبَیْتَ : لَیْسَ مَنْ مَاتَ فَاسْتَرَاحَ بِمَیِّتٍ إنَّمَا الْمَیِّتُ مَیِّتُ الأَحْیَائِ۔

ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ وَاللہِ ، إِنَّہُ لَیَکُونُ حَی وَہُوَ مَیِّتُ الْقَلْبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৭
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٨) حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن مسلسل حکمت کو تلاش کرتے رہتے تھے۔ جب انھیں حکمت کی بات حاصل ہوتی تو اسے بیان فرماتے۔
(۳۶۳۶۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : مَا زَالَ الْحَسَنُ یَبْتَغِی الْحِکْمَۃَ حَتَّی نَطَقَ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৮
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٦٩) حضرت حسن سے ارشاد خداوندی { لَـکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُونَ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! یہ ہر جھوٹے واصف کے لیے قیامت تک ویل وادی ہے۔
(۳۶۳۶۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حدثنا أَیُّوبُ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی قَوْلِہِ : {لَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُونَ} قَالَ : ہِیَ وَاللہِ لِکُلِّ وَاصِفٍ کَذُوبٍ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الْوَیْلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৯
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٧٠) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی اولاد کو پیدا فرمایا۔ تو فرشتوں نے کہا : یہ لوگ زمین میں نہیں سما سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں موت کو بھی پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا : تب تو پھر ان کی زندگی میں خوشگواری نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں امید کو پیدا کرنے والا ہوں۔
(۳۶۳۷۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ وَذُرِّیَّتَہُ ، قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ : إنَّ الأَرْضَ لاَ تَسَعُہُمْ ، فَقَالَ : إنِّی جَاعِلٌ مَوْتًا ، قَالَ : إذًا لاَ یُہَنِّئُہُمَ الْعَیْشُ ، قَالَ : إنِّی جَاعِلٌ أَمَلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭০
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسن بصری کا کلام
(٣٦٣٧١) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک گھڑی کا غور وفکر رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔
(۳۶۳۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : تَفَکُّرُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِنْ قِیَامِ لَیْلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক: