সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ৯৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
940 ۔ حضرت بلال کے بارے میں اسود نے یہ بات بیان کی : حضرت بلال (رض) کی اذان کے آخر میں یہ کلمات ہوتے تھے : اللہ اکبر اللہ اکبرلاالہ الا اللہ۔
940 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ بِلاَلٍ قَالَ آخِرُ أَذَانِ بِلاَلٍ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
941 ۔ اسود بیان کرتے ہیں : حضرت بلال (رض) کی اذان کے آخر میں یہ کلمات ہوتے تھے : اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ۔
941 - حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ بِلاَلٍ قَالَ آخِرُ الأَذَانِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
942 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ حکم دیا : وہ واپس جاکر تین مرتبہ یہ اعلان کریں : خبردار بندہ سوگیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہوئی ہے) وہ واپس گئے اور بلند آواز میں یہ کہا : خبردار بندہ سو گیا تھا۔ یہ کلمات انھوں نے تین مرتبہ کہے۔
ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے ، تاہم یہ راوی ضعیف ہے۔
ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے ، تاہم یہ راوی ضعیف ہے۔
942 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِىَ « أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ». ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَرَجَعَ فَنَادَى أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِىٍّ وَكَانَ ضَعِيفًا عَنْ أَيُّوبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
943 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) کا موذن جس کا نام مسروح تھا، اس نے صبح صادق ہوجانے سے پہلے اذان دے دی تو حضرت عمر (رض) نے اسے حکم دیا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
943 - حَدَّثَنَا ابْنُ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
944 ۔ ایوب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے رات کے وقت اذان دیدی یہ روایت مرسل ہے۔
944 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ أَذَّنَ بِلاَلٌ مَرَّةً بِلَيْلٍ. هَذَا مُرْسَلٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
945 ۔ حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے رات کے وقت ہی اذان دے دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ حکم دیا : وہ اپنی جگہ واپس جاکر بلند آواز میں یہ اعلان کریں : خبردار ! بیشک بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہوگئی ) تو وہ واپس گئے، حضرت بلال (رض) نے یہ کہا : کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔
945 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ لَيْلَةً بِسَوَادٍ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَقَامِهِ فَيُنَادِىَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ لَيْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ وَبُلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
946 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوئے آپ نے انھیں یہ حکم دیا : وہ یہ اعلان کریں : بیشک بندہ سوگیا تھا تو اس پر حضرت بلال (رض) کو بہت افسوس ہوا۔
اس روایت میں عامر نامی راوی کو وہم ہوا ہے ، صحیح روایت وہ ہے جو اس سے پہلے گزرچکی ہے وہ ابن حرب نامی راوی کے حوالے سے نافع کے حوالے سے حضرت عمر (رض) کے موذن کے بارے میں منقول ہے۔
اس روایت میں عامر نامی راوی کو وہم ہوا ہے ، صحیح روایت وہ ہے جو اس سے پہلے گزرچکی ہے وہ ابن حرب نامی راوی کے حوالے سے نافع کے حوالے سے حضرت عمر (رض) کے موذن کے بارے میں منقول ہے۔
946 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَغَضِبَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِىَ « إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ». فَوَجَدَ بِلاَلٌ وَجْدًا شَدِيدًا. وَهِمَ فِيهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ وَالصَّوَابُ قَدْ تَقَدَّمَ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِى رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ مُؤَذِّنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
947 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ حکم دیا : واپس جاکر یہ اعلان کریں : بیشک بندہ سوگیا تھا تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور یہ کہا کاش : بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا اور ان کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔
اس روایت کو نقل کرنے میں ابویوسف نامی راوی منفرد ہیں دیگرراویوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو قتادہ سے منقول ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں ابویوسف نامی راوی منفرد ہیں دیگرراویوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو قتادہ سے منقول ہے۔
947 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ السَّمِيعِ الْهَاشِمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَصْعَدَ فَيُنَادِىَ « إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ». فَفَعَلَ وَقَالَ لَيْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ وَغَيْرُهُ يُرْسِلُهُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
948 ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے اذان دی ، اس کی سند میں حضرت انس (رض) کا تذکرہ نہیں ہے اس کا مرسل ہونادرست ہے۔
948 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَسًا. وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
949 ۔ حسن بصری، حضرت انس بن مالک (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے اذان دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ حکم دیا وہ دوبارہ اس کو دہرائیں، تو حضرت بلال (رض) مینار پرچڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کاش بلال کی مان اسے روتی اور اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ وہ اس جملے کو دہراتے ہوئے مینار پرچڑھے اور یہ کہا : خبردار : بندہ سوگیا تھا انھوں نے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا، پھر جب صبح صادق ہوگئی تو انھوں نے اذان دی۔ اس روایت کا راوی محمد بن قاسم اسدی نہایت ضعیف ہے۔
949 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَذَّنَ بِلاَلٌ فَأَمَرَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُعِيدَ فَرَقِىَ بِلاَلٌ وَهُوَ يَقُولُ لَيْتَ بِلاَلاً ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ. يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَعِدَ ثُمَّ قَالَ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ أَذَّنَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ. مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِىُّ ضَعِيفٌ جِدًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
950 ۔ محمد بن عبداللہ اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف صورتیں اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی آپ نے اس میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا تم یہ بلال کو بتاؤ، انھوں نے حضرت بلال کو بتایا تو حضرت بلال نے اذان دی، حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں انھیں دیکھ رہا تھا، میں خود یہ دینا چاہتا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اقامت کہہ دو۔
950 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَرَادَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَأُرِىَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِى الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ « أَلْقِهِ عَلَى بِلاَلٍ ». فَأَلْقَاهُ عَلَى بِلاَلٍ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ قَالَ « فَأَقِمْ أَنْتَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
951 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ محمد بن عبداللہ بن محمد کے حوالے سے ، حضرت عبداللہ بن زید سے منقول ہے۔
951 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ جَدِّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ فَأَقَامَ جَدِّى.وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو مَدَنِىٌّ وَابْنُ مَهْدِىٍّ لاَ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَصْرِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
952 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : دو دن ایسے ہیں جن میں تم روزے نہ رکھو اور دوگھڑیاں ایسی ہیں جن میں نماز ادا نہ کرو، کیونکہ عیسائی اور یہودی اس وقت (میں عبادت) کے متلاشی ہوتے ہیں ، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا دن (روزہ رکھنے کے لیے منع ہے ) اور صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک (نماز پڑھنامنع ہے) ۔
952 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِىُّ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَوْمَانِ مِنَ الدَّهْرِ لاَ تَصُومُوهُمَا وَسَاعَتَانِ مِنَ النَّهَارِ لاَ تُصَلُّوهُمَا فَإِنَّ النَّصَارَى وَالْيَهُودَ يَتَحَرَّوْنَهُمَا يَوْمُ الْفِطْرِ وَيَوْمُ الأَضْحَى وَبَعْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : فجر کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت
953 ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : صبح صادق ہوجانے کے بعد (نوافل میں) صرف دورکعات (یعنی فجر کی سنتیں ) ادا کی جائیں گی۔
953 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ صَلاَةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : فجر کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت
954 ۔ قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : ہم صبح کی نماز سے پہلے سیدہ عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک دن ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت نماز ادا کررہی تھیں ہم نے ان سے دریافت کیا : یہ کون سی نماز ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا میں رات سو گئی تھی ، اور کچھ نوافل ادا نہ کرسکی تھی تو میں انھیں ترک نہیں کرنا چاہتی تھی۔
954 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ كُنَّا نَأْتِى عَائِشَةَ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَأَتَيْنَاهَا يَوْمًا وَهِىَ تُصَلِّى فَقُلْنَا لَهَا مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ قَالَتْ نِمْتُ عَنْ جُزْئِى اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَكُنْ لأَدَعُهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : فجر کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت
955 ۔ عمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : ہمیں اس گھر کے مالک نے انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے ، لیکن ان کا نام نہیں لیا۔ یہ بات بیان کی ہے : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ، میں نے عرض کیا پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے دریافت کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
(حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں) اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے مزید جواب عطا کرتے۔
(حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں) اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے مزید جواب عطا کرتے۔
955 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِىَّ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُسَمِّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ « الصَّلاَةُ أَوَّلُ وَقْتِهَا ». قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ « الْجِهَادُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ ». قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ « بِرُّ الْوَالِدَيْنِ » وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
956 ۔ ابوعمرو شیبانی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کے حوالے س ے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا سب سے زیادہ فضیلت والاعمل، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نماز اس کے ابتدائی وقت پر ادا کرنا ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نماز اس کے ابتدائی وقت پر ادا کرنا ہے۔
956 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَّنِى قِرَاءَةً عَلَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِى عُبَيْدٌ الْمُكْتِبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِىَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ « أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ». وَقَالَ الْمَعْمَرِىُّ فِى حَدِيثِهِ « الصَّلاَةُ فِى أَوَّلِ وَقْتِهَا » .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
957 ۔ ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : اس گھر کے مالک نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے ان کی مراد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، میں نے عرض کی کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔
957 - حَدَّثَنَا ابْنُ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ سُلَيْمَانَ ذَكَرَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِىَّ قَالَ حَدَّثَنِى رَبُّ هَذِهِ الدَّارِ يَعْنِى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قُلْتُ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ « الصَّلاَةُ لِمِيقَاتِهَا الأَوَّلِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
958 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : بہترین عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
958 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَيْرُ الأَعْمَالِ الصَّلاَةُ فِى أَوَّلِ وَقْتِهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
959 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔
محدثین کی ایک جماعت نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے۔
محدثین کی ایک جماعت نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے۔
959 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى التَّيْمِىُّ عَنْ أَبِى عَقِيلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ « الصَّلاَةُ لِمِيقَاتِهَا الأَوَّلِ ». خَالَفَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْعُمَرِىِّ .
তাহকীক: