সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ৯৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
960 ۔ سیدہ ام فروہ (رض) بیان کرتی ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والاعمل یہ ہے نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرلیا جائے۔
960 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِىِّ أَخْبَرَنِى الْقَاسِمُ بْنُ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَفْضَلُ الأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ الصَّلاَةُ فِى أَوَّلِ وَقْتِهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
961 ۔ سیدہ ام فروہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں دا کرلینا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ بات بھی مذکور ہے : سیدہ ام فروہ (رض) ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی تھی۔
961 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ « الصَّلاَةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا ».

وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ الْعُمَرِىِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ - وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ تَحْتَ الشَّجَرَةِ - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. حَدَّثَنَا ابْنُ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
962 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ ام فروہ (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
962 - وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ الدُّنْيَا عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
963 ۔ سیدہ ام فروہ (رض) جوان خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
963 -حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِى إِيَاسٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ الدُّنْيَا أُمِّ أَبِيهِ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُ الأَعْمَالَ يَوْمًا فَقَالَ « إِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَعْجِيلُ الصَّلاَةِ لأَوَّلِ وَقْتِهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
964 ۔ سیدہ ام فروہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا میں یہ بات سن رہی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
964 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْعَتَكِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ - كَذَا قَالَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ أَفْضَلِ الأَعْمَالِ فَقَالَ « الصَّلاَةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
965 ۔ سیدہ ام فروہ (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے ۔

روایت کے یہ الفاظ عمری نامی راوی کے ہیں۔
965 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- تَحْتَ الشَّجَرَةِ ح.وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَبِيبٍ حَدَّثَنِى أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِىُّ حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلاَةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا ». لَفْظُ الْعُمَرِىِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
966 ۔ قاسم بن غنام، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خاتون کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے /تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا، عرض کی گئی ، یارسول اللہ پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔
966 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِىُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِى الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ الْبَيَاضِىِّ عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ « الإِيمَانُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ » قِيلَ ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
967 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کوئی شخص نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کرلیتا ہے لیکن اس کے ابتدائی وقت میں ادا نہیں کرتا (جس نے اس نماز کو ادا کیا) اس شخص کے لیے اس کے اہل خانہ اور مال سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
967 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنِ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُصَلِّى الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا وَقَدْ تَرَكَ مِنَ الْوَقْتِ الأَوَّلِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
968 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زندگی بھر کبھی بھی نماز آخری وقت میں ادا نہیں کی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا صرف دو مرتبہ ایسا ہوا۔
968 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِلاَلٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا الآخِرِ إِلاَّ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
969 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی نماز آخری وقت میں ادا نہیں کی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
969 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِىُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا الآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
970 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : میں نے کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نماز آخری وقت میں ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
970 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ.

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ وَثَّابٍ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَخَّرَ صَلاَةً إِلَى الْوَقْتِ الآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
971 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرت ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرلینا اللہ کی رضامندی کے حصول کا باعث ہے اور آخری وقت میں ادا کرنا اللہ کی طرف سے ملنے والی معافی کا باعث ہے۔
971 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَالْوَقْتُ الآخِرُ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
972 ۔ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : نماز کا) ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی (کے حصول کا باعث) ہے اور اس کا اخری وقت اللہ کی (معافی کے ملنے کا) باعث ہے۔
972 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ حَدَّثَنِى فَرَجُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُهَلَّبِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِى حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
973 ۔ ابراہیم بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا ہے (نماز کا) ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی، درمیانہ وقت اللہ کی رحمت اور آخری وقت اللہ کی معافی (کے حصول کا باعث ہوتا ہے) ۔
973 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى الْفَامِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا مِنْ أَهْلِ عَبْدَسِىِّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ - قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَوَسَطُ الْوَقْتِ رَحْمَةُ اللَّهِ وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
974 ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے (یعنی خطبہ دے رہے تھے) انھوں نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کردی ، توعروہ بن زبیر بولے : حضرت جبرائیل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تھا، عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا : آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، توعروہ نے کہا : میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابومسعود انصاری (رض) کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے انھوں نے یہ فرمایا ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے تو انھوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ساتھ (اگلی نماز) ادا کی پھر میں ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی ، انھوں نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب لگا کر بتایا۔

(حضرت ابومسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں : ) مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کرلیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا البتہ جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کردیا کرتے تھے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی نہیں آئی ہوتی تھی (یعنی دھوپ ماند نہیں ہوئی تھی) اور کوئی شخص نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا تھا عشاء کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ادا کرتے تھے ، جب افق سیاہ ہوجاتا تھا، بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اتنی دیر تک موخر کردیتے تھے تاکہ لوگ اکٹھے ہوجائیں۔

(راوی کہتے ہیں : ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) صبح کی نماز کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندھیرے میں ادا کرلیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کیا کرتے تھے لیکن پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اندھیرے میں ہی ادا کرنا شروع کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال تک یہی معمول رہا دوبارہ آپ نے کبھی روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔
974 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رضى الله عنه كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلاَةَ الْعَصْرِ شَيْئًا فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِوَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ . قَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِى مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَنِى بِوَقْتِ الصَّلاَةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ». يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاَةِ فَيَأْتِى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّى الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّى الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ - قَالَ الرَّبِيعُ سَقَطَ مِنْ كِتَابِى حَتَّى فَقَطْ - وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلاَتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
975 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :

جب آپ عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج روشن اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص چلتا ہواجاتا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ سکتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : صبح کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے پھر کسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے روشنی میں بھی ادا کرلیتے تھے (لیکن پھر اس کے بعد آپ نے اسے اندھیرے میں ہی ادا کرنے کا معمول اختیار کیا) دوبارہ کبھی روشنی میں آپ نے یہ نماز ادا نہیں کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔
975 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ وَيُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِى الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا وَيُصَلِّى الصُّبْحَ فَيُغَلِّسُ بِهَا ثُمَّ صَلاَّهَا يَوْمًا آخَرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
976 ۔ زیادہ بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت علی (رض) کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے کوفہ ان دنوں اخصاص تھا، موذن ان کے پاس آیا اور بولا امیر المومنین : عصر کی نماز کا وقت ہوگیا ہے ، حضرت علی (رض) نے فرمایا بیٹھ جاؤ : وہ بیٹھ گیا، اس نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو حضرت علی (رض) نے فرمایا یہ گدھا ہمیں سنت کی تعلیم دے گا پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے انھوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر اسی جگہ پر آکر بیٹھ گئے ، جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے ۔ پھر ہم نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ سورج غروب تو نہیں ہوگیا۔

اس روایت کا راوی زیاد بن عبداللہ نخعی مجہول ہے ، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے۔
976 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِى الْقَطَّانَ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِىُّ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِىِّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِىٍّ رضى الله عنه فِى الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ الصَّلاَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ فَقَالَ اجْلِسْ. فَجَلَسَ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ فَقَامَ عَلِىٌّ رضى الله عنه فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِى كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزُولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَاءَاهَا. زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِىُّ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
977 ۔ عبدالواحد بن نافع بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوا تو موذن نے عصر کی اذان دی، راوی بیان کرتے ہیں وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے موزن کو ملامت کی اور یہ بولے : میرے والد نے مجھے یہ بات بتلائی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان بزرگ کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت عبداللہ بن رافع بن خدیج ہیں (یعنی صحابی رسول حضرت رافع بن خدیج کے صاحبزادے ہیں) ۔

امام دارقطنی کہتے ہی : حضرت رافع کے یہ صاحبزادے قوی نہیں ہیں موسیٰ بن اسماعیل نامی راوی نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ہے : ان کی کنیت ابورماح تھی، اسی طرح ان کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے ، بعض راویوں نے ان کا نام عبدالرحمن نقل کیا ہے۔
977 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بِالْعَصْرِ - قَالَ - وَشَيْخٌ جَالِسٌ فَلاَمَهُ وَقَالَ إِنَّ أَبِى أَخْبَرَنِى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلاَةِ قَالَ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ. ابْنُ رَافِعٍ هَذَا لَيْسَ بِقَوِىٍّ.

وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ فَكَنَّاهُ أَبَا الرِّمَاحِ وَخَالَفَ فِى اسْمِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
978 ۔ عبدالرحمن بن رافع کے بارے میں منقول ہے : ایک مرتبہ موذن نے عصر کی اذان دی ، اس نے اذان ذرا جلدی دے دی، تو حضرت عبدالرحمن بن رافع نے اسے ملامت کرتے ہوئے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ! میرے والد نے (جو صحابی رسول تھے ) مجھے یہ بات بتائی ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ، جبکہ بعض دیگر صحابہ کرام سے اس کے برعکس منقول ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کی ہدایت کی ہے ، حضرت رافع بن خدیج کے حوالے سے صحیح روایت یہ (درج ذیل) ہے۔
978 -حَدَّثَنَا بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَبَا الرِّمَاحِ الْكِلاَبِىَّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ بِصَلاَةِ الْعَصْرِ فَكَأَنَّهُ عَجَّلَهَا فَلاَمَهُ وَقَالَ وَيْحَكَ أَخْبَرَنِى أَبِى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ. وَرَوَاهُ حَرَمِىُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا وَقَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نُفَيْعٍ خَالَفَ فِى نَسَبِهِ وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإِسْنَادِ مِنْ جِهَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا لأَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ غَيْرُهُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِى اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ هَذَا وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَافِعٍ وَلاَ عَنْ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ. وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ضِدُّ هَذَا وَهُوَ التَّعْجِيلُ بِصَلاَةِ الْعَصْرِ وَالتَّبْكِيرُ بِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
979 ۔ ابونجاشی بیان کرتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج (رض) نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے وہ فرماتے ہیں : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز اد ا کرتے تھے پھر اس کے بعد اونٹ قربان کیا جاتا تھا، اس کے گوشت کے دس حصے کیے جاتے تھے پھرا نہیں پکایاجاتا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم بھنا ہوا گوشت کھا بھی لیتے تھے۔

ابونجاشی نامی راوی کا نام عطاء بن صہیب ہے ، یہ ثقہ اور مشہور ہے ، یہ چھ سال تک حضرت رافع بن خدیج کی خدمت میں رہا ہے ، اس کے حوالے سے عکرمہ بن عمار، امام اوزاعی ، ایوب اور دیگر حضرات نے احادیث نقل کی ہیں۔

اس راوی کی نقل کردہ روایت جو حضرت رافع بن خدیج سے منقول ہے ، یہ اس روایت سے زیادہ بہتر ہے ، جسے عبدالواحد نامی راوی نے حضرت رافع کے صاحبزادے حوالے سے نقل کیا ہے باقی اللہ بہترجانتا ہے۔
979 - فَأَمَّا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ. فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنِى عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِى أَبِى قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِىَّ حَدَّثَنِى أَبُو النَّجَاشِىِّ حَدَّثَنِى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ وَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ. أَبُو النَّجَاشِىِّ هَذَا اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ صَحِبَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ وَرَوَى عَنْهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ وَالأَوْزَاعِىُّ وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَغَيْرُهُمْ وَحَدِيثُهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَوْلَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنِ ابْنِ رَافِعٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
tahqiq

তাহকীক: