সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ৯৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
980 ۔ عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : حضرت ابومسعود انصاری (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج چمکدار اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا۔
حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں ، وہ عصر کی نماز کو موخر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گائے کے منہ مارنے کی طرح سے ادا کرتا ہے۔
حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں ، وہ عصر کی نماز کو موخر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گائے کے منہ مارنے کی طرح سے ادا کرتا ہے۔
980 - وَكَذَلِكَ رُوِىَ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِى مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْهَا إِلَى ذِى الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنِى أَبِى أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ أَبِى النَّجَاشِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ الْمُنَافِقِ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ كَثَرْبِ الْبَقَرَةِ صَلاَّهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
981 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز اس وقت ادا کیا کرتے تھے جب سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا تھا اور کوئی شخص مدینہ منورہ کے کسی نواحی علاقے میں جاتے ہوئے وہاں پہنچ بھی جاتا تھا، اور سورج پھر بھی بلند ہوتا تھا مدینہ منورہ کانواحی علاقہ چھ میل کے فاصلے پر تھا۔
یہی روایت بعض دیگرراویوں کے حوالے سے حضرت انس (رض) سے منقول ہے۔
یہی روایت بعض دیگرراویوں کے حوالے سے حضرت انس (رض) سے منقول ہے۔
981 - وَكَذَلِكَ رُوِىَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى تَعْجِيلِ الْعَصْرِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ الْبَاهِلِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِى عَبْلَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِى فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَالْعَوَالِى مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِىُّ وَعُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَاللَّيْثُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِى حَمْزَةَ وَابْنُ أَبِى ذِئْبٍ وَابْنُ أَخِى الزُّهْرِىِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ وَمَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى زِيَادٍ الرُّصَافِىُّ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ وَالزُّبَيْدِىُّ وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
982 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ادا کرلیتے تھے پھر کوئی شخص قبا چلاجاتا تھا۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ شخص وہاں پہنچتا تو وہ لوگ ابھی نماز ادا کررہے ہوتے تھے۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس وقت سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔
982 - وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءَ. قَالَ أَحَدُهُمَا فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَالَ الآخَرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ. حَدَّثَنَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَالِكٍ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
983 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز عصر ادا کی تو سورج ابھی روشن تھا پھر میں اپنے خاندان میں آیا ، وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نماز ادا کرچکے ہیں۔
983 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قِرَاءَةً وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِىُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىٍّ عَنْ أَبِى الأَبْيَضِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ فَآتِى عَشِيرَتِى وَهُمْ جُلُوسٌ فَأَقُولُ مَا يُجْلِسُكُمْ صَلُّوا فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
984 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا دی جبکہ سورج ابھی روشن اور چمک دار تھا، پھر میں اپنے خاندان والوں کے پاس آیا، وہ مدینہ منورہ کے کنارے میں بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی تھی ، میں نے کہا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہوِ ، اٹھو، نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نماز ادا کرچکے ہیں۔
984 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِى الأَبْيَضِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ ثُمَّ آتِى عَشِيرَتِى وَهُمْ فِى نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ جُلُوسٌ لَمْ يُصَلُّوا فَأَقُولُ مَا يُجْلِسُكُمْ قُومُوا صَلُّوا فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
985 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : انصار میں سے سب سے زیادہ دور حضرت ابولبابہ کا گھر تھا، جو قباء میں تھا اور ابوعمیس کا گھر جو بنوحارثہ کے محلے میں تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے پھر اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے تھے تو ان لوگوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد یہ نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔
985 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَارًا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَأَهْلُهُ بِقُبَاءَ وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ وَمَسْكَنُهُ فِى بَنِى حَارِثَةَ فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
986 ۔ حضرت انس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں ، وہ سورج کی طرف دیکھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہوجاتا ہے اور شیطان کے دوسینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔
986 - وَقَالَ الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ الْمُنَافِقِ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
987 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس (رض) کے حوالے سے منقول ہے۔
987 -وَقَالَ حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
988 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ادا کرلیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی میرے حجرے میں باقی ہوتی تھی اور سایہ ڈھلا نہیں ہوتا تھا۔
988 - وَقَالَ الزُّهْرِىُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِى حُجْرَتِى لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
989 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کی ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ختم کرلی تو بنوسلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے پاس ایک اونٹ ہے میں اسے قربان کرنا چاہتاہوں میں یہ چاہتاہوں کہ آپ بھی وہاں موجود ہوں ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے روانہ ہوئے ہم بھی چل پڑے ، پھر اس اونٹ کو قربان کیا گیا پھرا سے ہمارے لیے تیار کیا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہم نے اس کا گوشت بھی کھالیا۔ (حضرت انس (رض) کہتے ہیں) ہم لوگ عصر کی نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں ادا کرتے تھے اس کے بعد کوئی شخص چھ میل کا فاصلہ سورج غروب ہونے سے پہلے طے کرلیا کرتا تھا۔
989 - حَدَّثَنَا الْقَاضِيَانِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِى جَزُورًا أُرِيدُ أَنْ أَنْحَرَهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَانْصَرَفْنَا فَنُحِرَتِ الْجَزُورُ وَصُنِعَ لَنَا مِنْهَا وَطَعِمْنَا مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ وَكُنَّا نُصَلِّى الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَسِيرُ الرَّاكِبُ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
990 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنوسلمہ سے تعلق رکھنے والاایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ٹھیک ہے : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھرا سے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھرا سے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔
990 - حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِىَّ حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا. قَالَ « نَعَمْ ». فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
991 ۔ ابوقلابہ کہتے ہیں : عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیاجاتا ہے۔
991 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ قَالَ إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرَ لأَنَّهَا تَعْصِرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
992 ۔ خالد حذاء بیان کرتے ہیں : حسن بصری ، ابن سیرین اور ابوقلابہ تاخیر سے عصر ادا کرتے تھے۔
992 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ أَنَّ الْحَسَنَ وَابْنَ سِيرِينَ وَأَبَا قِلاَبَةَ كَانُوا يُمْسُونَ بِالْعَصْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
993 ۔ محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں : عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیاجاتا ہے۔
993 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ حَدَّثَنَا عَمِّى كَثِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرَ لِتَعْصِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
994 ۔ ایک مرتبہ طاؤس نے عصر کی نماز تاخیر سے ادا کی ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو وہ بولے : عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیاجاتا ہے۔
994 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ أَخَّرَ طَاوُسٌ الْعَصْرَ جِدًّا فَقِيلَ لَهُ فِى ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرَ لِتَعْصِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
995 ۔ عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کیا کرتے تھے۔
995 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَعَلِىُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
996 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اور بولے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔
پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہوجائے تو وہ عصر کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) بولے : اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے یہ نماز اسوقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہوچکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہوگئی، تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور بولے اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی ، پھر جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہوچکی تھی ، وہ بولے ، اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیے اور نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی ، اگلے دن حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہوچکا تھا، اور بولے : اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہوچکا ہوتا ہے اور بولے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے : آپ اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزرچکی تھی اور بولے اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نماز ادا کی ، پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی ، اور بولے : اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجئے ، پھر انھوں نے بتایا : ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔
پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہوجائے تو وہ عصر کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) بولے : اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے یہ نماز اسوقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہوچکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہوگئی، تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور بولے اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی ، پھر جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہوچکی تھی ، وہ بولے ، اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیے اور نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی ، اگلے دن حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہوچکا تھا، اور بولے : اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہوچکا ہوتا ہے اور بولے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے : آپ اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزرچکی تھی اور بولے اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نماز ادا کی ، پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی ، اور بولے : اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجئے ، پھر انھوں نے بتایا : ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔
996 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَخْبَرَنِى وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَجَاءَهُ الْعَصْرَ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلاَّهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلاَّهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ قَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ « مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
997 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے
997 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَخْبَرَنِى وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
998 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا، حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے کھڑے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔
اس کے بعد انھوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
اگلے دن حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا حضرت جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔
اس روایت کے آخر میں یہ ہے : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کہا ، ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک مربتہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کے بارے میں دریافت کرنے والاشخص کہاں ہے ؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
اس کے بعد انھوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
اگلے دن حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا حضرت جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔
اس روایت کے آخر میں یہ ہے : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کہا ، ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک مربتہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کے بارے میں دریافت کرنے والاشخص کہاں ہے ؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
998 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يُعَلِّمُهُ الصَّلاَةَ فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مِثْلَ قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِى حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَقَالَ فِى آخِرِهِ ثُمَّ قَالَ « مَا بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ وَقْتٌ ». قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الصَّلاَةِ فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاَةِ مَا بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ وَقْتٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
999 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جبرائیل نے مکہ میں مجھے دو بار نماز پڑھائی۔ اس کے بعد انھوں نے حدیث ذکر کی ہے ، جس میں ان کے یہ الفاظ ہیں :
اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا، اگلے دن بھی مغرب کی نماز اس وقت میں ادا کی جس وقت میں پہلے دن ادا کی تھی۔
اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا، اگلے دن بھی مغرب کی نماز اس وقت میں ادا کی جس وقت میں پہلے دن ادا کی تھی۔
999 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِى حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِى الْمُخَارِقِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّنِى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ « وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى فِى وَقْتِهَا بِالأَمْسِ ». حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ مَالِكٍ مُخْتَصَرٌ كَتَبْتُهُ بِلَفْظِهِ بَعْدَ أَحَادِيثَ.
তাহকীক: