সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ১০০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1000 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں اوقات میں نماز پڑھائی ایک دن اس وقت میں اور ایک دن اس وقت میں اور ارشاد فرمایا : نماز کے بارے میں دریافت کرنے والاشخص کہاں ہے ؟ ان دونوں اوقات کے درمیان (نمازوں کا مخصوص وقت ) ہے۔
1000 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِى الْمُخَارِقِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ يَسْأَلُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ يَوْمًا بِهَذَا وَيَوْمًا بِهَذَا ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاَةِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1001 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ مجھے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں دوسرے دن کے بارے میں انھوں نے یہ بات نقل کی ہے :
(نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں) انھوں نے مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ افطاری کرلیتا ہے یہ ایک ہی وقت تھا۔
(نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں) انھوں نے مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ افطاری کرلیتا ہے یہ ایک ہی وقت تھا۔
1001 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِىُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ وَمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّنِى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى « وَصَلَّى بِىَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَقْتًا وَاحِدًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1002 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام نمازیں دواوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی) ۔
1002 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِىُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى أُوَيْسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ إِلاَّ الْمَغْرِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1003 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
1003 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِى زِيَادٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا بِطُولِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1004 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات بیان کی ہے : جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے مجھے مکہ میں دو مرتبہ نماز پڑھائی پہلی مرتبہ وہ میرے پاس آئے پھر انھوں نے نماز کے اوقات کا ذکر کیا (اس کے بعد روایت میں یہ الفاظ ہیں):
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا انھوں نے مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اس طرح دوسرے دن بھی اسی وقت میں پڑھائی جو ایک ہی وقت تھا۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا انھوں نے مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اس طرح دوسرے دن بھی اسی وقت میں پڑھائی جو ایک ہی وقت تھا۔
1004 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا جَدِّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّنِى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَجَاءَنِى فِى أَوَّلِ مَرَّةٍ ». فَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ وَقَالَ « ثُمَّ جَاءَنِى حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِىَ الْمَغْرِبَ وَكَذَلِكَ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى وَقْتًا وَاحِدًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1005 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) میرے پاس اس قت آئے جب صبح صادق ہوچکی تھی۔ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے) ۔
مغرب کی نماز کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا پھر وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا اور بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے ، تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کرلیں پھر وہ اگلے دن میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا اور بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کیں۔
راوی نے اس روایت کو طویل حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔
مغرب کی نماز کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا پھر وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا اور بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے ، تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کرلیں پھر وہ اگلے دن میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا اور بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کیں۔
راوی نے اس روایت کو طویل حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔
1005 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ وَاقِدٍ مَوْلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَتَانِى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِى وَقْتِ الْمَغْرِبِ « ثُمَّ أَتَانِى حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَتَانِى مِنَ الْغَدِ حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ ». وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1006 ۔ حضرت امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام محمد باقر (رض)) کے حوالے سے حضرت جابر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کھانایا کوئی اور مصروفیت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغرب کی نماز میں تاخیر نہیں کرتے تھے۔
1006 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُلْهِيهِ عَنْ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ طَعَامٌ وَلاَ غَيْرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1007 ۔ امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام محمد باقر (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے حضرت جابر سے رات کے کھانے کی وجہ سے مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت جابر (رض) نے بتایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانے یا کسی بھی اور کام کی وجہ سے (مغرب کی) نماز تاخیر سے ادا نہیں کرتے تھے۔
1007 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِىُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَكَرْتُ لِجَابِرٍ تَأْخِيرَ الْمَغْرِبِ مِنْ أَجْلِ عَشَائِهِ فَقَالَ جَابِرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَكُنْ يُؤَخِّرُ صَلاَةً لِطَعَامٍ وَلاَ غَيْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1008 ۔ حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ستارے نکلنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز ادا کرلو۔
1008 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِى عِمْرَانَ التُّجِيبِىِّ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِى أَيُّوبَ الأَنْصَارِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « بَادِرُوا بِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ طُلُوعَ النَّجْمِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1009 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) مکہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب سورج ڈھل چکا تھا انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں یہ اس وقت کی بات ہے جب نماز لوگوں پر فرض ہوگئی تھی ، حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ کے آگے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ راوی بیان کرتے ہیں انھوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں قرات نہیں کی، لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے پھر اس کے بعد وقت گزرا جب عصر کا وقت آیا تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان لوگوں کو چار رکعت پڑھائیں انھوں نے اس میں بھی بلند آواز میں قرات نہیں کی، مسلمان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے ، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو انھوں نے لوگوں کو تین رکعات پڑھائیں جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قرات کی اور تیسری رکعت میں بلند آواز میں قرات نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی ، تو انھوں نے لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قرات کی اور آخری دو رکعت میں بلند آواز میں قرات نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہوئی تو انھوں نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور انھوں نے ان دو رکعت میں بلند آواز میں قرات کی۔
1009 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ إِدْرِيسُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَنَّاقٍ الْفَرَّاءُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جِدَارٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَكَّةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلاَةِ حِينَ فُرِضَتْ عَلَيْهِمْ فَقَامَ جِبْرِيلُ أَمَامَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْهَرُ فِيهَا بِقِرَاءَةٍ يَأْتَمُّ النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِجِبْرِيلَ ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا جَاءَ وَقْتُ الْعَصْرِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ يَأْتَمُّ الْمُسْلِمُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِجِبْرِيلَ ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّى بِهِمْ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِى رَكْعَتَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلاَ يَجْهَرُ فِى الثَّالِثَةِ ثُمَّ أَمْهَلَهُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِى الأُولَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلاَ يَجْهَرُ فِى الأُخْرَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1010 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
1010 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِهِ مُرْسَلاً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1011 ۔ حضرت مجمع بن جاریہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے پہلے ابتدائی وقت میں نماز ادا کی، پھر آخری وقت میں نماز ادا کی اور فرمایا : ان دونوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
1011 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِى عُثْمَانَ الطَّيَالِسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التَّوَّزِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نَمِرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَقَدَّمَ ثُمَّ أَخَّرَ وَقَالَ « بَيْنَهُمَا وَقْتٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1012 ۔ حضرت ابومسعود (رض) کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا (اس کے بعد راوی نے اس میں نمازوں کے اوقات کا ذکر کیا ہے انھوں نے یہ بات بیان کی ہے :) ۔
پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غرو ب ہوچکا تھا، اور بولے اٹھیے اور نماز ادا کیجئے، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی ، پھر وہ اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا (یعنی مغرب کی نماز کا) وقت ایک ہی تھا وہ بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی۔
پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غرو ب ہوچکا تھا، اور بولے اٹھیے اور نماز ادا کیجئے، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی ، پھر وہ اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا (یعنی مغرب کی نماز کا) وقت ایک ہی تھا وہ بولے : اٹھیے اور نماز ادا کیجئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا کی۔
1012 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدُوَيْهِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ ابْنِ أَبِى مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ - يَعْنِى زَالَتْ - ثُمَّ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ - وَقَالَ ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ. فَصَلَّى ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ. فَصَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1013 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : یہ جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) تھے جو تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے پھر آپ نے نماز ادا کی۔
اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات سے متعلق روایت ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا۔ دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہ بات نقل کی ہے : پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوئے اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا۔
اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات سے متعلق روایت ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا۔ دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہ بات نقل کی ہے : پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوئے اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہوچکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا۔
1013 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ » فَصَلَّى. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ الْمَوَاقِيتِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِى وَقْتٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1014 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر وہ اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو مغرب کی نماز ایک ہی وقت میں پڑھائی جب سورج غروب ہوچکا تھا اور جس وقت روزہ دار کے لیے افطاری کرنا جائز ہوجاتا ہے۔
1014 - حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى لَهُ الْمَغْرِبَ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1015 ۔ محمد بن عمار نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، انھوں نے اس بات کا تذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ بات بتائی : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور تمام نمازیں مختلف اوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی) ۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مغرب کے وقت میرے پاس آئے اور مجھے اس وقت نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوچکا تھا پھر وہ میرے پاس آئے (یعنی راوی کہتے ہیں : اگلے دن) مغرب کی نماز کے وقت انھوں نے اسی ایک وقت میں نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوا تھا اسمیں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مغرب کے وقت میرے پاس آئے اور مجھے اس وقت نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوچکا تھا پھر وہ میرے پاس آئے (یعنی راوی کہتے ہیں : اگلے دن) مغرب کی نماز کے وقت انھوں نے اسی ایک وقت میں نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوا تھا اسمیں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
1015 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَهُمْ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَاهُ فَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلاَّ الْمَغْرِبَ قَالَ « فَجَاءَنِى فِى الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِى سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ جَاءَنِى - يَعْنِى مِنَ الْغَدِ - فِى الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِى سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ ». لَمْ يُغَيِّرْهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1016 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : جب نماز فرض ہوگئی تو حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات کا تذکرہ کیا جس میں یہ الفاظ ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا تھا ۔ دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا تھا۔
1016 - حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّوَّافِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ فَهْدِ بْنِ حَمَّادٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا فُرِضَتِ الصَّلاَةُ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ وَقَالَ فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ. وَقَالَ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1017 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے ، ظہر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے ، عصر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب وہ شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد ہوجاتا ہے ، مغرب کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج غروب ہوجاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب شفق غائب ہوجاتا ہے عشاء کا ابتدائی وقت وہ ہے جب شفق غائب ہوجاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب نصف رات گزرجاتی ہے فجر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب صبح صادق ہوجاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل آتا ہے۔
یہ روایت مسند ہونے کے طور پر مستند نہیں ہے دیگرراویوں نے اسے مجاہد کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
یہ روایت مسند ہونے کے طور پر مستند نہیں ہے دیگرراویوں نے اسے مجاہد کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
1017 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ لِلصَّلاَةِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ». هَذَا لاَ يَصِحُّ مُسْنَدًا وَهِمَ فِى إِسْنَادِهِ ابْنُ فُضَيْلٍ وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلاً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1018 ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں : یہ بات بیان کی گئی ہے : نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے۔ پھر انھوں نے یہ حدیث ذکر کی ہے۔ یہ روایت پہلے نقل کردہ روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
1018 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ يُقَالُ إِنَّ لِلصَّلاَةِ أَوَّلاً وَآخِرًا. ثُمَّ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ قَوْلِ ابْنِ فُضَيْلٍ. وَقَدْ تَابَعَ زَائِدَةَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1019 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مجاہد کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : عصر کا ابتدائی وقت وہ ہوتا ہے جب سورج چمکدار ہوتا ہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت آجائے۔
1019 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنِى أَبُو زُبَيْدٍ - وَهُوَ عَبْثَرٌ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ « أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ بَيْضَاءُ إِلَى أَنْ تَحْضُرَ الْمَغْرِبُ ».
তাহকীক: