সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ১০২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1020 ۔ سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم دو دن ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو اذان دینے کا اس وقت حکم دیا جب سورج ڈھل چکا تھا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انھیں حکم دیا انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند روشن اور چمک دار تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے مغرب کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہوچکا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق طلوع ہوچکی تھی۔

جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کیرں تو انھوں نے اسے ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی کہ تو انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند تھا، لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن پہلے دن کے مقابلے میں اس نماز کو ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی تو انھوں نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب ابھی شفق غروب نہیں ہوئی تھی ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے فجر کے لیے اقامت کہی اس وقت جب روشنی پھیل چکی تھی ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے و الاشخص کہاں ہے ؟ تو اس شخص نے آپ کو جواب دیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہاری نماز کے اوقات ان دونوں کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔
1020 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ وَعَلِىُّ بْنُ شُعَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَوْنٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِشْكَابَ. وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ « صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ». قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِى أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِى كَانَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ ». فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَقْتُ صَلاَتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1021 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1021 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا مُخْتَصَرًا فِى وَقْتَىِ الْمَغْرِبِ.وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بِنِ الْمُسْتَامِ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1022 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب سورج غروب ہوچکا تھا پھر اگلے دن مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب شفق ابھی غروب نہیں ہوئی تھی۔
1022 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِىٌّ حَدَّثَنَا حَرَمِىُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1023 ۔ ابوبکر بن موسیٰ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ واقعہ نقل کرتے ہیں : ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے یں سوال کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے حضرت بلال کو ہدایت کی تو انھوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق ہوچکی تھی، اور اس وقت کوئی شخص اندھیرے کی وجہ سے ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتا تھا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج ڈھل چکا تھا، اور آدمی یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نصف النہار ہوچکا ہے ، یا نہیں ہوا ہے۔ ویسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے بارے میں زیادہ علم تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے عصر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج بلند ہوچکا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہوچکا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی ۔

پھر اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ سورج طلوع ہوچکا ہے یا ہونے والا ہے ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز کا تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ اسے پہلے دن کی عصر کی نماز کے قریب میں ادا کیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا جب آپ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا، سورج سرخ ہوچکا ہے (یعنی دھوپ ماند پڑچکی ہے) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ وہ شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز کو اتنی تاخیر سے ادا کیا ایک تہائی رات گزرچکی تھی اگلے دن صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کرنے والے شخص کو بلوایا اور فرمایا : ان دونوں کے درمیان (ان نمازوں کا) وقت ہے۔
1023 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لاَ يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ انْتَصَفَ النَّهَارُ أَوْ لَمْ وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ثُمَّ أَصْبَحَ فَبَعَثَ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ « الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1024 ۔ ابوبکر بن ابوموسی اپنے والد حضرت ابوموسی اشعری (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں کے بارے میں دریافت کیا تواپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو ہدایت کی تو انھوں نے صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جب صبح صادق ہوچکی تھی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ نماز ادا کی پھر نبی کے حکم کے تحت انھوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج ڈھل چکا ہے یا ابھی نہیں ڈھلا، ویسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے بارے میں زیادہ علم ہے ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب سورج ابھی بلند تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہوچکا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی۔

راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب آدمی یہ سوچتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے یا ابھی نہیں نکلا، ویسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں زیادہ پتا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جس وقت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے دن میں عصر کی نماز ادا کی تھی جب اپ نے عصر کی نماز ادا کی تو آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج توسرخ ہوچکا ہے، یعنی دھوپ ماند پڑگئی ہے ) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر عشاء کی نماز آپ نے ایک تہائی رات گزرجانے کے بعد ادا کی پھر آپ نے دریافت کیا، سوال کرنے والاشخص کہاں ہے ؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان (نمازوں کا مخصوص) وقت ہے۔
1024 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَةَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ - وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ - وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ قَالَ وَصَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ يَقُولُ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ - وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ - وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الأَوَّلَ ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ الْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1025 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابوبکر بن موسیٰ کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے راوی نے اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :

'' تو انھوں نے مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہوچکا تھا '' راوی کہتے ہیں پھر اگلے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ شفق غروب ہونے کے قریب تھی۔

قاضی نامی راوی نے اسے اسی طرح مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
1025 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِىُّ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ كَذَا قَالَ الْقَاضِى مُخْتَصَرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
1026 ۔ عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : مغرب کی نماز کے علاوہ ہراذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت (نفل یاسنت) ادا کی جائیں گی۔
1026 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ رَكْعَتَيْنِ مَا خَلاَ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1027 ۔ حیان بن عبیداللہ عدوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضر عبداللہ بن بریدہ (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے موذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی جب حضرت عبداللہ (رض) نے اذان سنی تو فرمایا، اٹھو اور اقامت سے پہلے دونفل ادا کرو کیونکہ میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : مغرب کی اذان کے علاوہ ہر دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت کے درمیان) اقامت سے پہلے دو رکعت ادا کی جائیں گی۔ عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو مغرب کے وقت بھی ان دو رکعت کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ انھیں کسی بھی حالت میں ترک نہیں کرتے تھے۔

راوی بیان کرتے ہیں : ہم اٹھے اور ہم نے اقامت سے پہلے دو رکعت ادا کرلیں پھر ہم انتظا ر کرنے لگے یہاں تک کہ امام تشریف لائے تو ہم نے ان کی اقتداء میں فرض نماز ادا کی۔

حسین معلم، سعید جریری، کہمس بن حسن، نے ان کے برخلاف روایت نقل کی ہے ، یہ تمام راوی ثقہ ہیں ، جبکہ حیان بن عبیداللہ نامی راوی زیادہ مستند نہیں ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
1027 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِىُّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ صَلاَةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا سَمِعَ الأَذَانَ قَالَ قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الإِقَامَةِ فَإِنَّ أَبِى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الإِقَامَةِ مَا خَلاَ أَذَانَ الْمَغْرِبِ ». قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ لَقَدْ أَدْرَكْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُصَلِّى تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْمَغْرِبِ لاَ يَدَعُهُمَا عَلَى حَالٍ قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الإِقَامَةِ ثُمَّ انْتَظَرْنَا حَتَّى خَرَجَ الإِمَامُ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ الْمَكْتُوبَةَ. خَالَفَهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِىُّ وَكَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَحَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِقَوِىٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1028 ۔ عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ مزنی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے مغرب کے فرائض سے پہلے دو رکعت نوافل ادا کرلو، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا، مغرب کے فرائض سے پہلے دو رکعت ادا کرلو، یہ حکم اس کے لیے جو چاہے ۔ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اندیشے کے تحت یہ فرمایا کہیں لوگ اسے سنت کے طور پر اختیار نہ کرلیں۔

(امام دارقطنی فرماتے ہیں) یہ روایت پہلے والی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
1028 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ». ثُمَّ قَالَ « صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ». ثُمَّ قَالَ « صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ ». خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً. هَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِى قَبْلَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1029 ۔ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہراذان اور اقامت کے درمیان (نفل) نماز ادا کی جائے گی، (یہ جملہ آپ نے دو مرتبہ دہرایا) اور پھر فرمایا یہ حکم اس کے لیے ہے جوا نہیں ادا کرنا چاہے۔
1029 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ - مَرَّتَيْنِ - لِمَنْ شَاءَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1030 ۔ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو چاہے وہ اذان اور اقامت کے درمیان (نفل) نماز ادا کرے۔
1030 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنِى أَبِى سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ لِمَنْ شَاءَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1031 ۔ حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہراذان اور اقامت کے درمیان (نفل) نماز ادا کی جائے گی ، ہراذان اور اقامت کے درمیان نفل نماز ادا کی جائے ہراذان اور اقامت کے درمیان جو چاہے نفل ادا کرے۔
1031 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ وَكَهْمَسٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ مَا بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ مَا بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ لِمَنْ شَاءَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1032 ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، ہر فرض نماز سے پہلے دو رکعت (سنت یانفل) ادا کی جائیں گی۔

یہ الفاظ ابن داؤد نامی راوی کے ہیں : اسماعیل نامی راوی نے لفظ، مکتوبۃ، کی جگہ لفظ ، مفروضۃ ، نقل کیا ہے۔
1032 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التُّرْقُفِىُّ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا مِنْ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ إِلاَّ بَيْنَ يَدَيْهَا رَكْعَتَانِ ». لَفْظُ ابْنِ أَبِى دَاوُدَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ « مَا مِنْ صَلاَةٍ مَفْرُوضَةٍ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1033 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : بعض اوقات کوئی اجنبی شخص مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوتا اور وہاں لوگ مغرب کے وقت نماز ادا کررہے ہوتے تویوں محسوس ہوتا کہ شاید لوگ نماز (باجماعت ) ادا کرچکے ہیں۔ کیونکہ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت ادا کرنے والے لوگ اتنے زیادہ ہوتے تھے۔
1033 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَدَّادٍ الْجُدَيْدِىُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنْ كَانَ الْغَرِيبُ لَيَدْخُلُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَقَدْ نُودِىَ بِالْمَغْرِبِ فَيُرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1034 ۔ عبدالعزیز لبنانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب موذن مغرب کی اذان دیتا تو وہ تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے تاکہ مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کرلیں، اگر کوئی شخص اس وقت وہاں ہوتا تواتنی تعداد میں ان دونوافل ادا کرنے والے لوگوں کو دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ شاید فرض نماز ادا کی جاچکی ہے۔
1034 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنِيعٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْبُنَانِىُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِىَ يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَيَجِىءُ الْجَائِى فَيَظُنُّ أَنَّهُمْ قَدْ صَلَّوُا الْمَكْتُوبَةَ لِكَثْرَةِ مَنْ يَرَى مَنْ يُصَلِّيهَا .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1035 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : صحابہ کرام جب مغرب کی اذان سنتے تھے تو وہ اٹھ کر نوافل ادا کرنے لگتے تھے یوں جیسے یہ فرض ہیں۔
1035 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانُوا إِذَا سَمِعُوا أَذَانَ الْمَغْرِبِ قَامُوا يُصَلُّونَ كَأَنَّهَا فَرِيضَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1036 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں مغرب سے پہلے دونوافل ادا کیا کرتے تھے ۔

راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت انس سے دریافت کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ لوگوں کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ تو حضرت انس نے فرمایا نبی نے ہمیں یہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن آپ نے ہمیں یہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا اور نہ اس سے کبھی منع کیا تھا۔
1036 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُّوذِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِى الأَسْوَدِ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قُلْنَا لأَنَسٍ رَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ رَآنَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1037 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ہمارا یہ معمول تھا جب مغرب کی اذان دی جاتی تھی توہم لوگ تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے اور دو رکعت (فرض سے پہلے نوافل کے طور پر) ادا کرتے تھے یہاں تک کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں داخل ہوتا تو اسے یہی محسوس ہوتا کہ شاید نماز ادا کی جاچکی ہے ، کیونکہ ان دو رکعت کو ادا کرنے والے کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔
1037 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ إِذَا أُذِّنَ بِالْمَغْرِبِ ابْتَدَرَ الْقَوْمُ السَّوَارِىَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيُرَى أَنَّ الصَّلاَةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهَا .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1038 ۔ شیخ ابوالخیر بیان کرتے ہیں : شیخ ابوتمیم جیشانی اٹھ کر نماز مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کرنے لگے تو میں نے حضرت عقبہ بن عامر سے کہا ان کی طرف توجہ کریں : یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ حضرت عقبہ (رض) نے ان کی طرف متوجہ ہو کرا نہیں دیکھا اور بولے یہ وہ نماز ہے جو ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ادا کیا کرتے تھے۔
1038 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَخْبَرَنِى عَلِىُّ بْنُ عُثْمَانَ النُّفَيْلِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِىَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ انْظُرْ إِلَى هَذَا أَىُّ صَلاَةٍ يُصَلِّى فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ فَقَالَ هَذِهِ صَلاَةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
1039 ۔ محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : صبح صادق دوقسم کی ہوتی ہے ، ایک وہ صبح صادق ہوتی ہے جو سانپ کی دم کی طرح (چوڑائی کی سمت میں ) پھیلتی ہے ، ایسے وقت میں (فجر کی نماز) ادا کرنا جائز نہیں ہوتا اور سحری کرنے والے کے لیے کھانا حرام نہیں ہوتا، البتہ جو (روشنی ) افق میں لمبائی کی سمت میں پھیلتی ہے وہ (فجر کی) نماز کو حلال کردیتی ہے (یعنی اس وقت نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے ) اور سحری کرنے والے کے لیے کھانے کو حرام کردیتی ہے۔ (یعنی اس وقت سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے) ۔
1039 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِى يَكُونُ كَذَنَبِ السِّرْحَانِ فَلاَ يُحِلُّ الصَّلاَةَ وَلاَ يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَأَمَّا الَّذِى يَذْهَبُ مُسْتَطِيلاً فِى الأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلاَةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ ».
tahqiq

তাহকীক: