সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ১০৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : صبح صادق کی علامت ، شفق کی علامت اور ان کی وجہ سے کون سی نماز فرض ہوتی ہے ؟
1040 ۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) حضرت شداد بن اوس (رض) یہ دونوں حضرات یہ بیان کرتے ہیں : شفق دو طرح کی ہوتی ہے ، سرخی والی ، اور سفیدی والی، جب سرخی والی شفق ڈوب جاتی ہے تو اس وقت نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور اسی طرح صبح صادق دوطرح کی ہوتی ہے ، ایک لمبائی والی اور ایک چوڑائی والی ، جب چوڑائی والی ختم ہوجاتی ہے تو اس وقت نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
1040 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالاَ الشَّفَقُ شَفَقَانِ الْحُمْرَةُ وَالْبَيَاضُ فَإِذَا غَابَتِ الْحُمْرَةُ حَلَّتِ الصَّلاَةُ وَالْفَجْرُ فَجْرَانِ الْمُسْتَطِيلُ وَالْمُعْتَرِضُ فَإِذَا انْصَدَعَ الْمُعْتَرِضُ حَلَّتِ الصَّلاَةُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مغرب اور صبح کا تذکرہ
1041 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : شفق ، سرخی کو کہتے ہیں۔
1041 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مَوْلَى طَلْحَةَ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ أَبِى لَبِيبَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مغرب اور صبح کا تذکرہ
1042 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، شفق سے مراد سرخی ہے ، جب شفق غروب ہوجائے تو نماز فرض ہوجاتی ہے۔ (یعنی اس کا وقت شروع ہوجاتا ہے) ۔
1042 - قَرَأْتُ فِى أَصْلِ كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِىِّ بِخَطِّهِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِىُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ فَإِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَجَبَتِ الصَّلاَةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مغرب اور صبح کا تذکرہ
1043 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : شفق سے مراد سرخی ہے۔
1043 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِىُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : مغرب اور صبح کا تذکرہ
1044 ۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں : میں اس وقت یعنی عشاء کی نماز کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتاہوں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اس وقت ادا کرتے تھے جب تیسری رات کا چاند ڈوب جاتا ہے۔
1044 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ إِنِّى لأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلاَةِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : عشاء کی نماز کا تذکرہ
1045 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :(راوی کو شک ہے ) تیسری رات کا چاند یاچوتھی رات کا چاند (ڈوب جاتا تھا) ۔

بعض دیگرراویوں نے بھی اسے حضرت نعمان (رض) کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور انھوں نے اس میں ، تیسری رات کا چاند : کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
1045 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى بِشْرٍ بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ أَوْ رَابِعَةٍ شَكَّ شُعْبَةُ. وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ وَرَقَبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ حَبِيبٍ عَنِ النُّعْمَانِ وَقَالُوا لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا بَشِيرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : عشاء کی نماز کا تذکرہ
1046 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (مدینہ منورہ کے حساب سے ) مشرق اور مغرب کی درمیانی جگہ قبلہ ہے۔
1046 - حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْخَلاَّلُ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ عُمَرَ - عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1047 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (مدینہ منورہ کے حساب سے ) مشرق اور مغرب کی درمیانی جگہ قبلہ ہے۔
1047 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِىِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1048 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم روانہ کی میں بھی اس میں موجود تھا، ایک مرتبہ انتہائی تاریکی کے اندر ہمیں قبلہ کی سمت کا اندازہ نہیں ہوسکا، تو ہم میں سے کئی لوگوں نے یہ کہا کہ ہمیں قبلہ اندازہ ہوگیا ہے ، وہ اس طرح ہے انھوں نے شمال کی طرف اشارہ کیا انھوں نے اس طرف رخ کرکے نماز ادا کرلی اور یادداشت کے طور پر ادھر ایک لکیر لگادی بعض لوگوں نے کہا قبلہ اس سمت ہے انھوں نے جنوب والی سمت کی طرف اشارہ کیا تھا، انھوں نے اس طرف لکیر لگادی جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو وہ دونوں لکیریں قبلہ کی سمت میں نہیں تھیں جب ہم اپنے سفر سے واپس ہوئے اور ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

'' مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں تم جس طرف بھی رخ کرو گے تو اسی طرف اللہ کی ذات موجود ہوگی ''۔

اس سے مراد یہ ہے ) یعنی تم جہاں کہیں بھی ہوگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں یہ آیت بطور خاص نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی یعنی تمہاری سواری کا رخ جس طرح بھی ہوگا تم اس طرف منہ کرکے نماز پڑھ سکتے ہو۔
1048 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِىُّ قَالَ وَجَدْتُ فِى كِتَابِ أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً كُنْتُ فِيهَا فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَةٌ فَلَمْ نَعْرِفِ الْقِبْلَةَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا قَدْ عَرَفْنَا الْقِبْلَةَ هِىَ هَا هُنَا قِبَلَ الشَّمَالِ فَصَلَّوْا وَخَطُّوا خَطًّا وَقَالَ بَعْضُنَا الْقِبْلَةُ هَا هُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا فَلَمَّا أَصْبَحُوا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْكَ الْخُطُوطُ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَفَلْنَا مِنْ سَفَرِنَا سَأَلْنَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَسَكَتَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ) أَىْ حَيْثُ كُنْتُمْ.

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِىُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِى التَّطَوُّعِ خَاصَّةً حَيْثُ تَوَجَّهَ بِكَ بَعِيرُكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1049 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے اور اسی دوران اندھیرا چھا گیا، ہم بہت پریشان ہوئے قبلہ کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہوگیا ہم میں سے ہر شخص نے اپنی پسندیدہ جہت کی طرف رخ کرکے نماز دا کرلی اور کچھ لوگوں نے اپنے سامنے نشان بھی لگایا، تاکہ ہمیں اپنی جگہ کے بارے میں یاد رہے بعد میں اس کا تذکرہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے ہمیں نماز کو دہرانے کا حکم نہیں دیا، آپ نے یہ ارشاد فرمایا تمہاری نماز درست ہوئی ہے۔

محمد بن سالم نامی راوی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے ، جبکہ بعض دیگرراویوں نے اسے دوسری سند سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔
1049 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِىُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَسِيرٍ أَوْ سَفَرٍ فَأَصَابَنَا غَيْمٌ فَتَحَيَّرْنَا فَاخْتَلَفْنَا فِى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِدَةٍ وَجَعَلَ أَحَدُنَا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِالإِعَادَةِ وَقَالَ « قَدْ أَجْزَأَتْ صَلاَتُكُمْ ». كَذَا قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِىِّ عَنْ عَطَاءٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1050 ۔ عبداللہ بن عامر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ہم نے ایک سفر کے دوران ایک انتہائی تاریک رات میں نماز ادا کی ہمیں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس سمت میں ہے ہم میں سے ہر شخص نے جدھر اس کا رخ تھا ادھر منہ کرکے نماز پڑھ لی اگلے دن ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

'' تم جہاں بھی ہو، وہیں اللہ کی ذات موجود ہوگی ''۔
1050 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ. وَحَدَّثَنَا أَشْعَثُ السَّمَّانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى السَّفَرِ فِى لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ كَيْفَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَنَزَلَتْ (فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1051 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ہم میں سے ہر شخص نے اپنے سامنے کی سمت موجود پتھروں کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرلی جب صبح ہوئی تو ہمارا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا، ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) ۔
1051 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِىُّ بْنُ إِشْكَابَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ بِهَذَا وَقَالَ فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بَيْنَ يَدَيْهِ أَحْجَارًا يُصَلِّى إِلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا نَحْنُ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1052 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1052 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِىُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا مِثْلَ قَوْلِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
1053 ۔ حضرت مالک بن حویرث (رض) بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم جوان لوگ تھے ہماری عمریں ایک دوسرے کے قریب قریب تھیں ہم آپ کی خدمت میں بیس دن ٹھہرے رہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑے مہربان اور نرم طبیعت کے مالک تھے ، آپ کو یہ اندازہ ہوگیا کہ اب ہمارے لیے اپنے گھر سے دوررہنا مشکل ہورہا ہے آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا ہم اپنے گھر میں کیا چھوڑ کر آئے ہیں ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اب اپنے گھرواپس چلے جاؤ، اور وہیں قیام کرو ان لوگوں کو تعلیم دو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو جس طرح تمنے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح نماز ادا کرتے رہنا، جب نماز کا وقت ا جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔
1053 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِى أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ « ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَبِرُّوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِى أُصَلِّى وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمُّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا ؟
1054 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت مالک بن حویرث کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :

'' تم لوگ اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ''
1054 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا « صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِى أُصَلِّى ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا ؟
1055 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ان میں سے کوئی ایک ان کی امامت کروائے، (یعنی انھیں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے) اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہوگا جو قرات اچھے طریقے سے کرسکتا ہو (یا زیادہ آیات کا حافظ ہو) ۔
1055 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَحْوَلُ الْهِلاَلِىُّ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاَثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا ؟
1056 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ کچھ لوگ قباء میں صبح کی نماز ادا کررہے تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا : گزشتہ رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن کا حکم نازل ہوا ہے اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا ہے ، آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیں، تو اے لوگو ! تم بھی اس کی طرف رخ کرلو (راوی کہتے ہیں) اس وقت ان لوگوں کا رخ شام (یعنی بیت المقدس ) کی طرف تھا، تو وہ اسی وقت گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف منہ (کرکے نماز ادا ) کرنے لگے۔
1056 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِى حَيَّةَ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ فِى قُبَاءَ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ أَلاَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُ النَّاسِ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا مُوَجِّهِينَ إِلَى الْكَعْبَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلینا اور نماز کے درمیان قبلہ کی طرف رخ کرنے کا جائز ہونا۔
1057 ۔ حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد تقریبا سولہ ماہ تک ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش سے واقف تھا اس نے یہ آیت نازل کی :

'' ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم راضی ہوجاؤگے تو تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرلو۔ ''

تو اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا : آپ اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرلیں۔ (راوی کہتے ہیں :) ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ہم لوگ اس وقت بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کررہے تھے اس شخص نے بتایا تمہارے نبی نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرلیا ہے (یعنی وہ اس طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے لگے ہیں) تو ہم نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرلیا، حالانکہ ہم اس وقت دو رکعت نماز اد ا کرچکے تھے۔
1057 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ عَلِمَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ هَوَى نَبِيِّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنَزَلَتْ (قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) فَأَمَرَهُ أَنْ يُوَلِّىَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَمَرَّ عَلَيْنَا رَجُلٌ وَنَحْنُ نُصَلِّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ إِنَّ نَبِيَّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ حَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَتَوَجَّهْنَا إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلینا اور نماز کے درمیان قبلہ کی طرف رخ کرنے کا جائز ہونا۔
1058 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک شخص نے یہ اعلان کیا خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اس وقت امام صاحب نماز پڑھا رہے تھے اور وہ دو رکعت ادا کرچکے ، اس اعلان کرنے والے یہ اعلان کیا، اب خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا ہے تو سب لوگوں نے بقیہ دو رکعت خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے ادا کی۔
1058 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو النَّضْرِ الطَّائِىُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ مُنَادِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ وَالإِمَامُ فِى الصَّلاَةِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ الْمُنَادِى قَدْ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ إِلَى الْكَعْبَةِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلینا اور نماز کے درمیان قبلہ کی طرف رخ کرنے کا جائز ہونا۔
1059 ۔ حضرت سہل بن ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں : جب خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا تو ایک شخص قباء کے رہنے والے لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ اس وقت نماز ادا کررہے تھے اس شخص نے ان سے کہا، خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا ہے تو ان لوگوں نے اور ان کے امام نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا۔
1059 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ مَرَّ رَجُلٌ بِأَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ لَهُمْ قَدْ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَاسْتَدَارُوا وَإِمَامُهُمْ نَحْوَ الْكَعْبَةِ .
tahqiq

তাহকীক: