সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ১১৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1199 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ اسی طرح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
'' (یوں لگتا ہے ) گویا تم میرے پیچھے قرات کرتے ہو۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ یارسول اللہ تیزی کے ساتھ ہم قرات کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کرو، البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے۔
'' (یوں لگتا ہے ) گویا تم میرے پیچھے قرات کرتے ہو۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ یارسول اللہ تیزی کے ساتھ ہم قرات کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کرو، البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے۔
1199 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىٍّ الْعَمِّىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ. وَقَالَ « كَأَنَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفِى ». قُلْنَا أَجَلْ هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1200 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1200 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1201 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ منقول ہیں تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
'' نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہو جب وہ بلند آواز سے قرات کررہا ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی جی ہاں یارسول اللہ اللہ کی قسم ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
'' نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہو جب وہ بلند آواز سے قرات کررہا ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی جی ہاں یارسول اللہ اللہ کی قسم ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
1201 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى مَكْحُولٌ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ « إِنِّى لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ ». قُلْنَا أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا.قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1202 ۔ حضرت نافع بن محمود بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) صبح کی نماز میں تاخیر سے پہنچے ابونعیم نامی موذن نے نماز کے لیے اقامت کہہ دی ابونعیم وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی ، ابونعیم لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اسی دوران حضرت عبادہ بن صامت آگئے میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کی اقتداء میں صف قائم کرلی ابونعیم نے بلند آواز میں قرات کرنا شروع کی تو حضرت عبادہ بھی سورة فاتحہ پڑھنے لگے۔
(راوی کہتے ہیں) جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے حضرت عبادہ (رض) سے کہا آپ نے ایک ایساعمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہوسکا کہ کیا یہ سنت ہے ؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کرلیا ہے ؟ حضرت عبادہ نے دریافت کیا وہ کون سا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے آپ کو سورت فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قرات کررہے تھے توحضڑت عبادہ (رض) نے فرمایا ایسا ہی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قرات کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قرات کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا ، جب میں بلند آواز میں قرات کررہا تھا تو کیا تم بھی قرات کررہے تھے ؟ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا ہم نے ایسا کیا ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایسانہ کرو میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے جب میں بلند آواز میں قرات کررہاہوں تو تم قرآن کی قرات نہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
(راوی کہتے ہیں) جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے حضرت عبادہ (رض) سے کہا آپ نے ایک ایساعمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہوسکا کہ کیا یہ سنت ہے ؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کرلیا ہے ؟ حضرت عبادہ نے دریافت کیا وہ کون سا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے آپ کو سورت فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قرات کررہے تھے توحضڑت عبادہ (رض) نے فرمایا ایسا ہی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قرات کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قرات کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا ، جب میں بلند آواز میں قرات کررہا تھا تو کیا تم بھی قرات کررہے تھے ؟ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا ہم نے ایسا کیا ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایسانہ کرو میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے جب میں بلند آواز میں قرات کررہاہوں تو تم قرآن کی قرات نہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1202 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِىُّ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِى زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىِّ قَالَ نَافِعٌ أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ - وَكَانَ أَبُو نُعَيْمٍ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ فِى بَيْتِ الْمَقْدِسِ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِى نُعَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلاَ أَدْرِى أَسُنَّةٌ هِىَ أَمْ سَهْوٌ كَانَ مِنْكَ. قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ أَجَلْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِى يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ « هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ». فَقَالَ بَعْضُنَا إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَلِكَ. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلاَ تَقْرَءُوا بِشَىْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1203 ۔ ابونعیم بیان کرتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کیا ہے کیا تم لوگ میرے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے قرات کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی جی ہاں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کرو ہاں البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1203 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِى نُعَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « هَلْ تَقْرَءُونَ فِى الصَّلاَةِ مَعِى ». قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ». قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ قَوْلُهُ عَنْ أَبِى نُعَيْمٍ إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ عَنْ أَبِى نُعَيْمٍ عَنْ عُبَادَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1204 ۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے دریافت کیا کیا تم لوگ میرے ساتھ قرات کرتے ہو، جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا ہم قرات کرتے ہیں لیکن ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم قرات نہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیاکرو اور وہ بھی دل میں پڑھا کرو۔ یہ روایت مرسل ہے۔
1204 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِى الزُّبَيْدِىُّ قَالَ مَكْحُولٌ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ تَقْرَءُونَ مَعِى وَأَنَا أُصَلِّى ». قُلْنَا إِنَّا نَقْرَأُ نَهُذُّهُ هَذًّا وَنَدْرُسُهُ دَرْسًا . قَالَ « فَلاَ تَقْرَءُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ سِرًّا فِى أَنْفُسِكُمْ ».
هَذَا مُرْسَلٌ.
هَذَا مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1205 ۔ نافع بن محمود بیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) کو (باجماعت نماز میں ) سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، ابونعیم (امام صاحب) بلند آواز سے قرات کررہے تھے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے حضرت عبادہ سے کہا) میں نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایساعمل کرتے ہوئے دیکھا ہے (جس پر مجھے حیرانگی ہوئی ہے) حضرت عبادہ (رض) نے دریافت کیا : وہ کون سا ہے ؟ نافع نے کہا میں نے آپ کو سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ امام بلند آواز میں قرات کررہے تھے تو حضرت عبادہ نے فرمایا جی ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز میں قرات کی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا جب میں بلند آواز میں قرات کررہا تھا کیا تم میں سے کوئی شخص قرآن کی تلاوت کررہا تھا ؟ ہم نے عرض کی جی ہاں۔ یارسول اللہ ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے ، تم میں سے کوئی بھی شخص قرآن کا کوئی بھی حصہ نہ پڑھے اس وقت جب میں بلند آواز میں قرات کررہاہوں البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیاکرو۔
اس روایت کی سند ' حسن ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
اس روایت کی سند ' حسن ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1205 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ وَأَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِىُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِىُّ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ وَمَكْحُولٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ - كَذَا قَالَ - أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِى صَلاَتِكَ شَيْئًا قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ قَالَ نَعَمْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِى يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ « مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ». قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَأَنَا أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ لاَ يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ». هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ. وَرَوَاهُ يَحْيَى الْبَابْلُتِّىُّ عَنْ صَدَقَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِى سَوْدَةَ عَنْ نَا فِعِ بْنِ مَحْمُودٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1206 ۔ نافع بن محمود بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) ۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا) ۔
'' تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز قرات نہ کرے البتہ سورت فاتحہ پڑھ لیاکرے کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
'' تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز قرات نہ کرے البتہ سورت فاتحہ پڑھ لیاکرے کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
1206 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الضَّحَّاكِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِى سَوْدَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ « فَلاَ يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1207 ۔ حضرت محمود بن ربیع انصاری (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت عبادہ بن صامت (رض) میرے ساتھ آکر کھڑے ہوئے اور انھوں نے امام کی اقتداء میں قرات شروع کردی حالانکہ امام بھی اس وقت قرات کررہا تھا جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا ابو ولید ! آپ بھی قرات کرنے لگ پڑے تھے حالانکہ آپ سن رہے تھے کہ امام بلند آواز میں قرات کررہا ہے تو حضرت عبادہ بن صامت نے فرمایا جی ہاں۔ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں اسی طرح قرات کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرات میں دشواری ہوئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبحان اللہ کہا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا کیا کوئی شخص میرے ساتھ قرات کررہا تھا۔ ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی حیران ہورہا تھا میں یہ سوچ رہا تھا کہ کون شخص میرے ساتھ قرآن میں مقابلہ کررہا ہے جب امام قرات کررہاہو تو تم اس کے ساتھ قرات نہ کیا کروالبتہ سورة فاتحہ پڑھ لیاکرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
معاویہ اور اسحاق بن ابوفروہ نامی راوی ضعیف ہیں۔
معاویہ اور اسحاق بن ابوفروہ نامی راوی ضعیف ہیں۔
1207 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الْعَتِيقُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِىُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى فَرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىِّ قَالَ قَامَ إِلَى جَنْبِى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَرَأَ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ أَبَا الْوَلِيدِ تَقْرَأُ وَتَسْمَعُ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ قَالَ نَعَمْ إِنَّا قَرَأْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَغَلِطَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ سَبَّحَ فَقَالَ لَنَا حِينَ انْصَرَفَ « هَلْ قَرَأَ مَعِى أَحَدٌ ». قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ « قَدْ عَجِبْتُ قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِى يُنَازِعُنِى الْقُرْآنَ إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَلاَ تَقْرَءُوا مَعَهُ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ». مُعَاوِيَةُ وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِى فَرْوَةَ ضَعِيفَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1208 ۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص فرض یانفل نماز ادا کررہا ہو، وہ اس میں سورة فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ ایک سورت کی تلاوت کرے اگر وہ صرف سورت فاتحہ پڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے کافی ہوگی، اور جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کررہا ہو جس میں امام بلند آواز سے قرات کررہاہو تو اسے چاہیے کہ امام کے سکوت کے دوران سورة فاتحہ پڑھ لے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نماز نامکمل ہوگی پوری نہیں ہوگی۔
محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر نامی راوی ضعیف ہے۔
محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر نامی راوی ضعیف ہے۔
1208 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ صَلَّى صَلاَةً مَكْتُوبَةً أَوْ تَطَوُّعًا فَلْيَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا فَإِنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَ وَمَنْ صَلَّى صَلاَةً مَعَ إِمَامٍ يَجْهَرُ فَلْيَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِى بَعْضِ سَكَتَاتِهِ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَصَلاَتُهُ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ ». مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1209 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ جاکرلوگوں میں یہ اعلان کریں نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک سورة فاتحہ نہ پڑھ لی جائے اور مزید تلاوت نہ کی جائے۔
1209 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِىُّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ يُنَادِى فِى النَّاسِ أَنْ « لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1210 ۔ محمد بن ربیع بیان کرتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے یہ بات نقل کی ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہیں پڑھتا۔
زیاد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ اس شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو شخص اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھتا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
زیاد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ اس شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو شخص اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھتا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
1210 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِىُّ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ - وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ». وَقَالَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ فِى حَدِيثِهِ « لاَ تُجْزِئُ صَلاَةٌ لاَ يَقْرَأُ الرَّجُلُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ». هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1211 ۔ حضرت محمود بن ربیع، حضرت عبادہ بن صامت (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے '' اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سو رہ فاتحہ نہیں پڑھتا ''۔
(یہ روایت بھی مستند ہے ) یہی روایت بعض دیگرراویوں نے بھی نقل کی ہے۔
(یہ روایت بھی مستند ہے ) یہی روایت بعض دیگرراویوں نے بھی نقل کی ہے۔
1211 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ». وَهَذَا صَحِيحٌ أَيْضًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَمَعْمَرٌ وَالأَوْزَاعِىُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1212 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا امام ضامن ہوتا ہے جو وہ کرتے تم بھی وہ کرو۔
شیخ ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے اس روایت سے ان لوگوں کے موقف کی تصیح ہوتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں امام کی اقتداء میں قرات کی جائے گی۔
شیخ ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے اس روایت سے ان لوگوں کے موقف کی تصیح ہوتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں امام کی اقتداء میں قرات کی جائے گی۔
1212 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الإِمَامُ ضَامِنٌ فَمَا صَنَعَ فَاصْنَعُوا ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ هَذَا تَصْحِيحٌ لِمَنْ قَالَ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1213 ۔ محمود بن ربیع ، حضرت عبادہ بن صامت کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سورة فاتحہ دیگرتمام سورتوں کا عوض ہے ، لیکن کوئی دوسری سورت اس کا عوض نہیں ہوسکتی۔
اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن خلاد نامی راوی منفرد ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن خلاد نامی راوی منفرد ہے۔
1213 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىِّ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الإِسْكَنْدَرَانِىُّ حَدَّثَنَا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِنْ غَيْرِهَا وَلَيْسَ غَيْرُهَا مِنْهَا عِوَضٌ ». تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ عَنْ أَشْهَبَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1214 ۔ حضرت علی (رض) یہ ہدایت کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ فرمایا کرتے تھے ۔ امام کی اقتداء میں پہلی دو رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھا کرو اور آخری دو رکعت میں صرف سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
1214 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رضى الله عنه كَانَ يَأْمُرُ أَوْ يَقُولُ اقْرَأْ خَلْفَ الإِمَامِ فِى الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِى الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1215 ۔ حضرت علی (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اس بات کا حکم دیتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ اس بات کو پسند کرتے تھے ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی ایک سورت پڑھی جائے اور آخری دو رکعت میں صرف سورة فاتحہ پڑھی جائے اس وقت جب انسان امام کی اقتداء میں نماز ادا کررہاہو۔
اس روایت کی سند مستند ہے۔
اس روایت کی سند مستند ہے۔
1215 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِىُّ حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِىَّ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ أَوْ يُحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِى الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِى الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِى الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ.
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ.
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1216 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1216 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. هَذَا صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1217 ۔ حضرت علی (رض) یہ ارشاد فرماتے ہیں ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں امام کی اقتداء میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھا کرو۔ اس کی سند مستند ہے۔
1217 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَافِعٍ قَالَ كَانَ عَلِىٌّ يَقُولُ اقْرَءُوا فِى الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الإِمَامِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
1218 ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی سند کے حوالے سے حضرت جابر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی جس شخص کا امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کی قرات اس شخص کی قرات کی ہوگی۔
اس روایت کو موسیٰ نامی راوی سے صرف امام ابوحنیفہ اور حسن نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔
اس روایت کو موسیٰ نامی راوی سے صرف امام ابوحنیفہ اور حسن نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔
1218 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ أَبِى حَنِيفَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِى عَائِشَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ ». لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِى عَائِشَةَ غَيْرُ أَبِى حَنِيفَةَ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
তাহকীক: