সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ১২৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1239 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1239 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَشَاذَانُ وَأَبُو غَسَّانَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ ح.

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1240 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں جو شخص امام کی اقتداء میں قرات کرے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔
1240 - حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِىِّ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِىِّ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1241 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس کی سند مستند نہیں ہے۔
1241 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ مِثْلَهُ. خَالَفَهُ قَيْسٌ وَابْنُ أَبِى لَيْلَى عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِىِّ وَلاَ يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1242 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص امام کی اقتداء میں قرات کرتا ہے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ۔
1242 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا عَمِّى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِىِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى قَالَ قَالَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1243 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص امام کی اقتداء میں قرات کرتا ہے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی یہی روایت ایک اور حوالے سے منقول ہے تاہم یہ مستند نہیں ہے۔
1243 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى لَيْلَى قَالَ قَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ. خَالَفَهُ ابْنُ أَبِى لَيْلَى فَقَالَ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِىِّ عَنِ الْمُخْتَارِ عَنْ عَلِىٍّ وَلاَ يَصِحُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1244 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں امام کی اقتداء میں وہ شخص قرات کرے گا جو سنت پر عمل پیرا نہ ہو۔
1244 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَأَبُو شِهَابٍ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِىِّ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ إِنَّمَا يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مَنْ لَيْسَ عَلَى الْفِطْرَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1245 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : تمہارے لیے امام کا قرات کرنا کافی ہے۔
1245 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الصَّاغَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى أَخْبَرَنِى رَجُلٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ يَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1246 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت علی (رض) کے حوالے سے منقول ہے۔
1246 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى أَخْبَرَنِى رَجُلٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِىٍّ مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1247 ۔ حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کیا ہر نماز میں قرات کی جائے گی ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی : تو یہ واجب ہوگئی۔ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا میں کیونکہ حاضرین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا ، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) امام جب لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو اس کا قرات کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔

راوی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے تاہم زیدنامی راوی کو اس میں وہم ہوا ہے۔ (سابقہ روایت کی درست شکل یہ ہے ) حضرت ابودرداء نے یہ بات ارشاد فرمائی : میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کا قرات کر لیناان سب لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔
1247 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ وَغَيْرُهُ قَالُوا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِى أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَفِى كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ قَالَ « نَعَمْ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَجَبَتْ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِى وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ « مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ ». كَذَا قَالَ. وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ.

وَالصَّوَابُ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مَا أَرَى الإِمَامَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1248 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابودرداء نے ارشاد فرمایا اے کثیر : میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کا قرات کرلینا ان سب کے لیے کافی ہوگا۔
1248 -حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى مُعَاوِيَةُ بِهَذَا وَقَالَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا كَثِيرُ مَا أَرَى الإِمَامَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1249 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جس شخص کا امام ہو تو امام کا قرات کرنا اس کا قرات کرنا شمار ہوگا۔

ابویحییٰ تیمی اور محمد بن عبادیہ دونوں ضعیف ہیں۔
1249 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى التَّيْمِىُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ ». أَبُو يَحْيَى التَّيْمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ضَعِيفَانِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1250 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی جب آپ نے اسے مکمل کرلیا تو دریافت کیا کیا تم میں سے کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن کی قرات کی ہے ؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی : میں نے یارسول اللہ ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ قرات میں کون میرا مقابلہ کررہا ہے جب میں پست آواز میں قرات کررہاہوں تو تم بھی میرے ساتھ قرات کرلیاکرو اور جب میں بلند آواز میں قرات کروں تو کوئی شخص میرے ساتھ قرات نہ کرے ۔

اس روایت کو نقل کرنے میں زکریا نامی راوی منفرد ہے اور یہ شخص منکرالحدیث ہے اور متروک ہے۔
1250 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةً فَلَمَّا قَضَاهَا قَالَ « هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِى بِشَىْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ إِذَا أَسْرَرْتُ بِقِرَاءَتِى فَاقْرَءُوا مَعِى وَإِذَا جَهَرْتُ بِقِرَاءَتِى فَلاَ يَقْرَأَنَّ مَعِى أَحَدٌ ». تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا الْوَقَارُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1251 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : تمہارے لیے امام کا قرات کرلینا کافی ہے خواہ وہ پست آواز میں قرات کرے یا بلند آواز میں کرے۔

ابوموسی نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول قرات کے بارے میں اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا یہ روایت منکر ہے۔
1251 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِى سُهَيْلٍ عَنْ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ خَافَتَ أَوْ قَرَأَ ». قَالَ أَبُو مُوسَى قُلْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا فِى الْقِرَاءَةِ فَقَالَ هَذَا مُنْكَرٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
1252 ۔ حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب امام '' غیرالمغضوب علیھم ولاالضآلین '' پڑھے تو وہ آمین کہے اور اس میں آواز کو کھینچے۔

ابوبکرنامی راوی بیان کرتے ہیں ایساکرناسنت ہے اس روایت کو نقل کرنے میں اہل کوفہ منفرد ہیں۔ یہ روایت مستند ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی مستند ہے۔
1252 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ السِّجِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَالْمُحَارِبِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ أَبِى الْعَنْبَسِ وَهُوَ ابْنُ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَالَ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ) قَالَ « آمِينَ ». يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ. هَذَا صَحِيحٌ وَالَّذِى بَعْدَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1253 ۔ حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلند آواز میں آمین کہتے ہوئے سنا ہے جب آپ نے '' غیرالمغضوب علیہ ھم والاالضالین '' پڑھا تھا۔
1253 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ سَمِعَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِآمِينَ إِذَا قَالَ ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ )
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1254 ۔ حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ، غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین، پڑھا تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آمین کہا آپ نے اس میں آواز کو کھینچا (یعنی بلند کیا) ۔

اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن کہتے ہیں : اس بارے میں زیادہ شدید یہ ہے ایک شخص نے (اس روایت کے دوسرے راوی) سفیان سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو میرا یہ خیال ہے سفیان نے اس کے بعض حصے کے بارے میں کلام کیا اور اس شخص نے دوسرے حصے کے بارے میں کلام کیا ۔ شعبہ نامی راوی نے اس کی سند اور متن میں اختلاف نقل کیا ہے۔
1254 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ قَالَ سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَرَأَ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ) فَقَالَ « آمِينَ » . وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَشَدُّ شَىْءٍ فِيهِ أَنَّ رَجُلاً كَانَ يَسْأَلُ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَظُنُّ سُفْيَانَ تَكَلَّمَ بِبَعْضِهِ وَالرَّجُلَ بِبَعْضِهِ. خَالَفَهُ شُعْبَةُ فِى إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1255 ۔ حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا، جب آپ نے ، غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین، پڑھا تو آپ نے آمین کہا آپ نے اس کو اپنی آواز کو پست رکھا۔ نماز کے دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں ہاتھ پر رکھا تھا اور آپ نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا۔

شعبہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پست آوا زمین آمین کہی تھی۔ ایک قول کے مطابق اس روایت میں انھیں وہم ہوا ہے کیونکہ دیگر راویوں نے اسے سلمہ نامی راوی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہی بات نقل کی ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز میں آمین کہی تھی اور یہی روایت درست ہے۔
1255 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ أَبِى الْعَنْبَسِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَائِلٌ أَوْ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَمِعْتُهُ حِينَ قَالَ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ) قَالَ « آمِينَ ». وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ. كَذَا قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ وَيُقَالُ إِنَّهُ وَهِمَ فِيهِ لأَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِىَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَغَيْرَهُمَا رَوَوْهُ عَنْ سَلَمَةَ فَقَالُوا وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِآمِينَ. وَهُوَ الصَّوَابُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1256 ۔ حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ، ولاالضالین، پڑھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آمین کہا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں آواز کو بلند کیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
1256 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى شُعَيْبٍ يَعْنِى الْحَرَّانِىَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَلَمَّا قَالَ (وَلاَ الضَّالِّينَ) قَالَ « آمِينَ ».

مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1257 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ، ولاالضالین، پڑھتے تھے تو آمین کہتے تھے اور بلند آواز میں کہتے تھے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ۔

سابقہ روایت کا راوی بحر ثقہ ضعیف ہے۔
1257 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الدَّقَّاقِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا بَحْرٌ السَّقَّاءُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا قَالَ (وَلاَ الضَّالِّينَ) قَالَ « آمِينَ ». يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.

وَعَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ. بَحْرٌ السَّقَّاءُ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1258 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سورة فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو بلند آواز میں آمین کہتے تھے۔ اس روایت کی سند، حسن، ہے۔
1258 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِىِّ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ وَسَعِيدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَقَالَ « آمِينَ ». هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক: