সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৫৯ টি
হাদীস নং: ১২৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
1259 ۔ حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں : مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ نماز کے دوران دو مرتبہ سکوت کرتے تھے ، ایک اس وقت جب امام نے تکبیر کہہ دی ہو اور قرات شروع کرنی ہو اور دوسرا سکوت اس وقت ہوتا تھا جب آپ سورة فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو ان لوگوں نے مدینہ منورہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) کو اس بارے میں خط لکھا تو انھوں نے حضرت سمرہ (رض) کے بیان کی تصدیق کی۔
حسن بصری کے حضرت سمرہ (رض) سے احادیث کے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے حسن بصری نے ان سے ایک حدیث سنی ہے اور یہ وہ حدیث ہے جو عقیقہ کے بارے میں ہے جسے قریش بن انس نے حبیب نامی راوی سے نقل کیا ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو ان لوگوں نے مدینہ منورہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) کو اس بارے میں خط لکھا تو انھوں نے حضرت سمرہ (رض) کے بیان کی تصدیق کی۔
حسن بصری کے حضرت سمرہ (رض) سے احادیث کے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے حسن بصری نے ان سے ایک حدیث سنی ہے اور یہ وہ حدیث ہے جو عقیقہ کے بارے میں ہے جسے قریش بن انس نے حبیب نامی راوی سے نقل کیا ہے۔
1259 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ وَعَلِىُّ بْنُ إِشْكَابَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْبُسْتَنْبَانِ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الصَّلاَةِ . وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمُرَةُ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَكْتَتَيْنِ فِى الصَّلاَةِ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَدَّقَ سَمُرَةَ. الْحَسَنُ مُخْتَلَفٌ فِى سَمَاعِهِ مِنْ سَمُرَةَ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَدِيثًا وَاحِدًا وَهُوَ حَدِيثُ الْعَقِيقَةِ فِيمَا زَعَمَ قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : امام کا (قرات کے دوران) سکوت کرنا تاکہ مقتدی بھی قرات کرے
1260 ۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں : حضرت سمرہ (رض) نماز کا جب آغاز کرتے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے پھر جب ولاالضالین پڑھ لیتے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے اس بارے میں ان پر اعتراض کیا گیا اس بارے میں حضرت ابی بن کعب (رض) کو خط لکھا گیا تو انھوں نے فرمایا : حکم اسی طرح ہے جیسے سمرہ نے کیا ہے۔
1260 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً وَإِذَا قَرَأَ (وَلاَ الضَّالِّينَ) سَكَتَ سَكْتَةً فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَكُتِبَ فِى ذَلِكَ إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ أَنَّ الأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : امام کا (قرات کے دوران) سکوت کرنا تاکہ مقتدی بھی قرات کرے
1261 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے آغاز میں جب تکبیر کہتے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر کہنے اور قرات کرنے کے درمیان میں کیا پڑھتے تھے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں یہ پڑھتاہوں :
اے اللہ ! تو میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اور اے اللہ مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کردیاجاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھودے۔
اے اللہ ! تو میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اور اے اللہ مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کردیاجاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھودے۔
1261 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا كَبَّرَ فِى الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى مَا تَقُولُ فِى صَلاَتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ « أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِى مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : امام کا (قرات کے دوران) سکوت کرنا تاکہ مقتدی بھی قرات کرے
1262 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ظہر کی نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیام اتناطویل ہوتا ہے جتنی دیر میں تیس آیات تلاوت کی جاسکیں یعنی جتنی سورة سجدہ بڑی ہے یہ اندازہ پہلی دو رکعت کے بارے میں تھا۔ جبکہ آخری دو رکعت میں اس سے نصف ہوتا تھا۔
اسی طرح ہم نے عصر کی پہلی رکعت میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو وہ ظہر کی آخری دو رکعت جتنا ہوتا تھا اور ہم نے عصر کی آخری دو رکعت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کا اندازہ لگایاتو وہ اس کے نصف ہوتا تھا۔
یہ روایت ثابت اور صحیح ہے۔
اسی طرح ہم نے عصر کی پہلی رکعت میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو وہ ظہر کی آخری دو رکعت جتنا ہوتا تھا اور ہم نے عصر کی آخری دو رکعت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کا اندازہ لگایاتو وہ اس کے نصف ہوتا تھا۔
یہ روایت ثابت اور صحیح ہے۔
1262 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِى الصِّدِّيقِ النَّاجِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِى الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِى الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وَفِى الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِى الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِى الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِى الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ. هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ظہر، عصر، فجر میں قرات کی مقدار
1263 ۔ قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کی اقتداء میں بصرہ میں نماز ادا کی ، انھوں نے پہلی رکعت میں سورة فاتحہ پڑھی اور سورة بقرہ کی پہلی آیت پڑھی، پھر وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے سورة فاتحہ پڑھی اور سورة بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر وہ رکوع میں چلے گئے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انھوں نے ہماری طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :
'' تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھ سکو اس کی تلاوت کرلو ''
اس روایت کی سند حسن ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل موجود ہے جو اس بات کے قائل ہیں : اللہ کے اس فرمان تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے پڑھ لو، سے مراد تلاوت ہے جو سو رہ فاتحہ پڑھنے کی بعد کی جاتی ہے باقی اللہ بہترجانتا ہے۔
'' تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھ سکو اس کی تلاوت کرلو ''
اس روایت کی سند حسن ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل موجود ہے جو اس بات کے قائل ہیں : اللہ کے اس فرمان تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے پڑھ لو، سے مراد تلاوت ہے جو سو رہ فاتحہ پڑھنے کی بعد کی جاتی ہے باقی اللہ بہترجانتا ہے۔
1263 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِىُّ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِىُّ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِى حَازِمٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ فَقَرَأَ فِى أَوَّلِ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدِ وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ قَامَ فِى الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ بِالْحَمْدِ وَالآيَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ ( فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ).
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ (فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ) إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ (فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ) إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ظہر، عصر، فجر میں قرات کی مقدار
1264 ۔ حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ : کیا ہر رکعت میں تلاوت کی جائے گی ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ حاضرین میں سے ایک بولے یہ لازم ہوگئی ہے ۔
(اس روایت کے راوی) حضرت ابودرداء نے (اپنے شاگرد سے ) فرمایا اے کثیر :(کثیر کہتے ہیں : میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا ) میں یہ سمجھتاہوں امام جب لوگوں کو نماز پڑھارہوتو اس کا قرات کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ منقول ہے تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کا قرات کرلینا اور ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔
راوی کو اس روایت میں وہم ہوا ہے درست یہ ہے : یہ الفاظ حضرت ابودرداء کے ہیں جیسا کہ ابن وہب نامی راوی نے نقل کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
(اس روایت کے راوی) حضرت ابودرداء نے (اپنے شاگرد سے ) فرمایا اے کثیر :(کثیر کہتے ہیں : میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا ) میں یہ سمجھتاہوں امام جب لوگوں کو نماز پڑھارہوتو اس کا قرات کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ منقول ہے تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کا قرات کرلینا اور ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔
راوی کو اس روایت میں وہم ہوا ہے درست یہ ہے : یہ الفاظ حضرت ابودرداء کے ہیں جیسا کہ ابن وہب نامی راوی نے نقل کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
1264 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِى الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِى كُلِّ صَلاَةٍ قُرْآنٌ قَالَ « نَعَمْ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَ هَذَا. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا كَثِيرُ - وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ - لاَ أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ. رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا أَرَى الإِمَامَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ ». وَوَهِمَ فِى ذَلِكَ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِى الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : ظہر، عصر، فجر میں قرات کی مقدار
1265 ۔ حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھنے کی تعلیم دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رفع یدین کیا اور پھر آپ رکوع میں چلے گئے اور دونوں ہاتھوں کو ملا لیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے۔
راوی کہتے ہیں) اس روایت کا حضرت سعد (رض) کو پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی (حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)) نے ٹھیک کہا ہے ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے لیکن پھر ہمیں اس طرح کرنے کا حکم دیا گیا ، پھر حضرت سعد (رض) نے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھے (اس سے مراد یہ ہے : رکوع میں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ) ۔
راوی کہتے ہیں) اس روایت کا حضرت سعد (رض) کو پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی (حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)) نے ٹھیک کہا ہے ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے لیکن پھر ہمیں اس طرح کرنے کا حکم دیا گیا ، پھر حضرت سعد (رض) نے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھے (اس سے مراد یہ ہے : رکوع میں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ) ۔
1265 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلاَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ وَجَعَلَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِى كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا. وَجَعَلَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَعْنِى فِى الرُّكُوعِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تطبیق اور گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم منسوخ ہے
1266 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
انہوں نے تکبیر کہی، دونوں ہاتھوں کو بلند کیا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ جوڑ کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے۔ حضرت سعد (رض) کو اس بارے میں پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی نے ٹھیک کہا ہے ہم پہلے اسی طرح کیا کرتے تھے لیکن پھر ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیا کریں۔
یہ سند ثابت ہے اور صحیح ہے۔
انہوں نے تکبیر کہی، دونوں ہاتھوں کو بلند کیا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ جوڑ کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے۔ حضرت سعد (رض) کو اس بارے میں پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی نے ٹھیک کہا ہے ہم پہلے اسی طرح کیا کرتے تھے لیکن پھر ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیا کریں۔
یہ سند ثابت ہے اور صحیح ہے۔
1266 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِهَذَا وَقَالَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِى كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا وَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ . هَذَا إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تطبیق اور گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم منسوخ ہے
1267 ۔ علقمہ بن وائل اپنے والد (حضرت وائل بن حجر (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنی انگلیاں کشادہ رکھتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تھے تو پانچوں انگلیاں ملا لیتے تھے۔
یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1267 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمَذَانِىُّ بِهَمَذَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الْخَمْسَ. قَالَ دَعْلَجٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ثُمَّ لَقِيتُ مُوسَى فَحَدَّثَنِى بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : تطبیق اور گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم منسوخ ہے
1268 ۔ عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے بریدہ ! جب تم رکوع سے سراٹھاؤ تو یہ پڑھو :
'' سمع اللہ لمن حمدہ اللھم ربنالک الحمد ملء السماء وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد۔ '' اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی حمد کی اے اللہ اے ہمارے پروردگار ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے جو اتنی ہو جو آسمان کو بھر دے اور زمین کو بھر دے اور ان کے علاوہ جس چیز کو توچا ہے اسے بھی بھردے۔
'' سمع اللہ لمن حمدہ اللھم ربنالک الحمد ملء السماء وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد۔ '' اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی حمد کی اے اللہ اے ہمارے پروردگار ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے جو اتنی ہو جو آسمان کو بھر دے اور زمین کو بھر دے اور ان کے علاوہ جس چیز کو توچا ہے اسے بھی بھردے۔
1268 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ كَعْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شَمِرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « يَا بُرَيْدَةُ إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَقُلْ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1269 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ہم جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے تو آپ، سمع اللہ المن حمدہ، پڑھتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے موجود شخص بھی، سمع اللہ المن حمدہ، پڑھتا تھا۔
1269 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رَاشِدٍ أَبُو الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ يَقُولُ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ». قَالَ مَنْ وَرَاءَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1270 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جب امام سمع اللہ المن حمدہ پڑھے تو پیچھے والاشخص ، اللھم ربنالک ولک الحمد، پڑھے۔ یہ روایت اس سند کے حوالے سے محفوظ ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
1270 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَيْضًا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ عُمَارَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ يَقُولُ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَلْيَقُلْ مَنْ وَرَاءَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ». هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1271 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کرلیا اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ امام کی اقتداء میں قرات کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہمارے درمیان ایک صاحب ہیں جنہوں نے یہ تلاوت کی ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا، سورة فاتحہ پڑھ لیاکرو۔
1271 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِىُّ زَغَاثٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَنْزَةَ الْمَدَائِنِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِىِّ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ « أَتَقْرَءُونَ خَلْفَ الإِمَامِ ». فَقُلْنَا إِنَّ فِينَا مَنْ يَقْرَأُ. قَالَ « فَبِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ». الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِيفٌ. كَذَا رَوَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَخَالَفَهُ سَلاَّمٌ أَبُو الْمُنْذِرِ فَرَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ وَلاَ يَثْبُتُ. وَخَالَفَهُمَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّىُّ وَرَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- . وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَغَيْرُهُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ مُرْسَلاً. وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1272 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ان کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ نماز کے دوران قرات کررہے تھے جب کہ امام قرات کررہا تھا ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو ایک صاحب بولے چند حضرات نے یہ بات بیان کی ہے : ہم نے ایسا ہی کیا ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کیا کرو تم لوگ دل میں سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
یہ الفاظ فارسی نامی راوی کے ہیں۔
یہ الفاظ فارسی نامی راوی کے ہیں۔
1272 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزَّمِّىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّىُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ « أَتَقْرَءُونَ فِى صَلاَتِكُمْ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ ». فَسَكَتُوا قَالَهَا ثَلاَثًا فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ إِنَّا لَنَفْعَلُ. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِى نَفْسِهِ ». لَفْظُ حَدِيثِ الْفَارِسِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1273 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1273 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُوهِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَدِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. لَفْظُ حَدِيثِ الْفَارِسِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1274 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1274 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ جَهُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1275 ۔ حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین سے فرمایا جو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں) بلند آواز میں قرات کررہے تھے (ان سے یہ فرمایا) تم نے میرے لیے تلاوت کرنا مشکل کردیا۔
(حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ) پہلے ہم نماز میں سلام کا جواب (دے دیا کرتے تھے ) پھر ہمیں یہ بتایا گیا : نماز ایک مشغولیت ہے (اس لیے نماز کے درمیان کوئی بات چیت یا کلام نہ کیا جائے) ۔
(حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ) پہلے ہم نماز میں سلام کا جواب (دے دیا کرتے تھے ) پھر ہمیں یہ بتایا گیا : نماز ایک مشغولیت ہے (اس لیے نماز کے درمیان کوئی بات چیت یا کلام نہ کیا جائے) ۔
1275 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِقَوْمٍ كَانُوا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فَيَجْهَرُونَ بِهِ « خَلَّطْتُمْ عَلَىَّ الْقُرْآنَ ». وَكُنَّا نُسَلِّمُ فِى الصَّلاَةِ فَقِيلَ لَنَا « إِنَّ فِى الصَّلاَةِ شُغُلاً ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1276 ۔ سعید بن مسیب بیان کرتے یہں : جب تم کچھ لوگوں کو رکوع کی حالت میں پاؤ تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاؤ، تو وہ ایک تکبیر ہی تمہارے لیے تکبیر تحریمہ اور رکوع میں جانے والی تکبیر کے طور پر کافی ہوگی۔
سعید بن مسیب سے یہ بات بھی نقل کی گئی ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : جو شخص نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ کہنابھول جائے پھر وہ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہے تو ایسا کرنا اس کے لیے کافی ہوگا۔
سعید بن مسیب سے یہ بات بھی نقل کی گئی ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : جو شخص نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ کہنابھول جائے پھر وہ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہے تو ایسا کرنا اس کے لیے کافی ہوگا۔
1276 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ إِذَا أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ رُكُوعًا فَكَبِّرْ وَارْكَعْ فَإِنَّهَا تُجْزِئُكَ وَاحِدَةٌ لِلتَّكْبِيرِ وَالرُّكُوعِ. وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فِيمَنْ نَسِىَ التَّكْبِيرَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
1277 ۔ حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں ، سبحان ربی العظیم وبحمدہ، تین مرتبہ پڑھتے تھے اور سجدے میں ، سبحان ربی الاعلی : تین مرتبہ پڑھتے تھے۔
1277 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ صِلَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ فِى رُكُوعِهِ « سُبْحَانَ رَبِّىَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ». ثَلاَثًا وَفِى سُجُودِهِ « سُبْحَانَ رَبِّىَ الأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ ». ثَلاَثًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نمازی رکوع اور سجدے میں کیا پڑھے
1278 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : یہ بات سنت ہے : آدمی رکوع میں ، سبحان ربی العظیم وبحمدہ، اور سجدے میں سبحان ربی الاعلی وبحمدہ، پڑھے۔
1278 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الأَحْمَسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِىُّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا السَّرِىُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِى رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّىَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ وَفِى سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّىَ الأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ .
তাহকীক: