কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৬৮১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26818 ۔۔۔ ابوقلابہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا اور اس کے پاؤں پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی تھی اسے پانی نہیں پہنچا تھا آپ نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26818- عن أبي قلابة أن عمر بن الخطاب "رأى رجلا توضأ وبظهر قدمه لمعة لم يصبها الماء فقال له: أعد الوضوء والصلاة". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26819 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر کا مسح ایک بار کیا ہے۔ (رواہ ابن ماجہ)
26819- عن علي أن "رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح رأسه مرة". "هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26820 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وضو کیا اور سر کا ایک ہی بار مسح کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26820- "عن علي أنه توضأ فمسح رأسه مسحة واحدة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26821 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ یزید بن براء بن عازب کی روایت ہے کہ میرے والد حضرت براء (رض) نے بیٹوں سے کہا : اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے ۔ چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے اور گھر والے جمع کیے وضو کے لیے پانی منگوایا تین بار کلی کی ، تین بار ناک میں پانی ڈالا اور تین بار چہرہ دھویا پہلے تین بار دایاں ہاتھ دھویا پھر تین بار بایاں ہاتھ دھویا ، پھر سر کا مسح کیا اور ظاہر و باطن سے کانوں کا مسح کیا پہلے دایاں پاؤں تین بار دھویا پھر تین ہی بار بایاں پاؤں دھویا اور پھر فرمایا : اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26821- "مسند البراء بن عازب" عن يزيد بن البراء بن عازب قال أبي: "اجتمعوا فلأرينكم كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ وكيف كان يصلي فجمع بنيه وأهله ودعا بوضوء فتمضمض واستنشق وغسل وجهه ثلاثا ويده اليمنى ثلاثا ويده اليسرى ثلاثا، ثم مسح رأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما، وغسل رجله اليمنى ثلاثا ورجله اليسرى ثلاثا ثم قال: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26822 ۔۔۔ ” مسند تمیم بن زید مازنی “ عباد بن تمیم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا آپ نے پانی سے داڑھی اور پاؤں پر مسح کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والبخاری فی تاریخہ والعدنی والبغوی والباوردی والطبرانی وابو نعیم قال فی الاصابۃ رجالہ ثقات) فائدہ : ۔۔۔ پاؤں پر مسح کیا یعنی موزوں پر مسح کیا موزوں پر مسح کرنا پاؤں پر مسح کرنا ہے یا یہ لغوی وضو تھا۔
26822- "مسند تميم بن زيد المازني" عن عباد بن تميم عن أبيه قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ومسح بالماء على لحيته ورجليه". "ش حم خ في تاريخه والعدني والبغوي والباوردي، طب وأبو نعيم قال في الإصابة رجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26823 ۔۔۔ شہر بن حوشب کی روایت ہے کہ میں حضرت ابو امامہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا انھوں نے فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے اگر میں نے آپ کو ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار۔ حتی کہ سات بار تک پہنچے نہ سنا ہوتا میں زیادہ حقدار تھا کہ تمہیں یہ حدیث نہ سناؤں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ مسلمان اچھی طرح سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے چلا جاتا ہے۔
26823- "عن شهر بن حوشب قال: دخلت على أبي أمامة فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين أو ثلاثة أو أربعة حتى انتهى إلى سبع كنت خليقا أن لا أحدثكموه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا توضأ العبد المسلم فأحسن الوضوء، ثم انطلق إلى الصلاة خرجت ذنوبه من سمعه وبصره ويديه ورجليه"، فقال أبو طيبة وهو جالس معنا: سمعت عمرو بن عبسة يحدث هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حدثنا أبو أمامة، وزاد فيه: وإذا أوى الرجل إلى فراشه طاهرا على ذكر، ثم توسد يمينه ثم تعار من الليل لم يسأل الله من خير الدنيا والآخرة شيئا إلا أعطاه إياه". "ابن زنجويه ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26824 ۔۔۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو بتایا پھر حضرت معاویہ (رض) نے سر کا مسح کیا حتی کہ ان کے سر سے پانی ٹپکنے لگا۔ (رواہ ابن عساکر)
26824- عن معاوية بن أبي سفيان أنه "ذكر لهم وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم إنه مسح رأسه حتى قطر الماء عن رأسه أو كان يقطر". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
25 268 ۔۔۔ قاسم بن معاویہ ثقفی کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو کرنے کا طریقہ سکھایا جب سر کے مسح پر پہنچے تو انھوں نے دونوں ہتھلیاں سر کے اگلے حصہ پر رکھیں بھی انھیں پھیرتے ہوئے گدی تک لے گئے پھر ہتھیلیاں واپس کیں اور وہاں لے آئے جہاں سے ابتداء کی تھی ۔ (رواہ ابن عساکر)
26825- عن القاسم بن معاوية الثقفي عن معاوية أنه" أراهم وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما بلغ مسح رأسه وضع كفيه على مقدم رأسه ثم مر بهما حتى بلغا القفا، ثم ردهما حتى بلغا المكان الذي منه بدأ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26826 ۔۔۔ عثمان بن ابی سعید نے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) سے پاؤں پر مسح کرنے کا تذکرہ کیا عمر بن عبدالعزیز (رح) نے فرمایا : مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے خبر پہنچی ہے ان میں سے ایک تمہارے چچا زاد بھائی مغیرہ بن شعبہ بھی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاؤں دھوئے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
26826- عن عثمان بن أبي سعيد أنه "ذكر لعمر بن عبد العزيز المسح على القدمين، فقال: لقد بلغني عن ثلاثة من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أدناهم ابن عمك المغيرة بن شعبة أن النبي صلى الله عليه وسلم غسل قدميه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26827 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جھانک کر دیکھا ہم (جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) وضو کر رہے تھے آپ نے فرمایا : ایڑیوں کے لیے دوزخ کی آگ سے خرابی ہے چنانچہ میں نے اہتمام کے ساتھ ایڑیوں کو دھونا اور رگڑنا شروع کردیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26827- عن أبي ذر قال: "أشرف علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتوضأ، فقال: "ويل للعراقيب من النار"، فطفقت أغسلها غسلا وأدلكها دلكا". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26828 ۔۔۔ ابو رافع کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین تین بار بھی وضو کرتے دیکھا ہے اور ایک ایک بار بھی وضو کرے دیکھا ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26828- عن أبي رافع قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ ثلاثا ثلاثا ورأيته يتوضأ مرة مرة."ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26829 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ کانوں کا تعلق سر سے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
26829- عن أبي هريرة قال: "الأذنان من الرأس". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26830 ۔۔۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے ایک مرتبہ وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک بار دھویا پھر فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ فائدہ : ۔۔۔ کم از کم ایک ایک بار ہر عضو کو دھونا فرض ہے ، ابن عباس (رض) نے فرضیت بیان کی ہے جبکہ تین تین بار ہر عضو کو دھونا مسنون ہے جیسا کہ بعد میں آنے والی حدیث سے یہ امربالکل واضح ہوجاتا ہے۔
26830- عن عطاء بن يسار عن ابن عباس أنه "توضأ فغسل كل عضو منه غسلة واحدة، ثم ذكر النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعله". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26831 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایک چلو وضو کیا (یعنی ہر عضو کو ایک ہی بار ایک ایک چلو سے دھویا) اور پھر فرمایا : اس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا ۔ (رواہ ابن عساکر)
26831- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم "توضأ غرفة غرفة وقال: "لا يقبل الله صلاة إلا به". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26832 ۔۔۔ ” مسند ابی واقد “ ابو واقد (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے یوں سر کا مسح کیا چنانچہ حفص نے طریقہ بتاتے ہوئے ہاتھ سر پر پھیرا اور پیچھے گدی تک لے گئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26832- "مسند أبي واقد" "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم توضأ فمسح رأسه هكذا، وأمر حفص بيده على رأسه حتى مسح قفاه". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26833 ۔۔۔ ان نجار نے درج ذیل سند سے حدیث روایت کی ہے ابو احمد اشقر (سرخ رنگ والا) اپنی کتاب میں ، ابو الفضل اشیب (بڈھا) کہتے ہیں مجھے ابو قاسم زمن (لنجا) نے خط لکھا کہ میرے والد ابو عبداللہ مقعد (اپاہج) نے خبر کی ہے محمد بن ابی خراساں مفلوج ، اخرم ، (ٹوٹے ہوئے دانتوں والا) حسن بن مہران بن ولید ابو سعید اصبہانی ، احدب (کبڑا) اصم (بہرہ) ضریر (چندیا) اعمش (کمزور آنکھوں والا) اعور (کانا) اعرج (لنگڑا) اعمی (نابینا) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایک بار وضو کیا ۔ یعنی ہر عضو کو ایک بار دھویا ، احدب سے مراد عبداللہ بن حسن قاضی مصیصہ مراد ہے۔ اصم عبداللہ بن نصر انطا کی ہے ضریر ابو معاویہ ہیں ، اعمش سلیمان بن مہران ہیں ، اعور ابراہیم نعی ہیں اور اعرج سے مراد حکم ہے اور اعمی حضرت عبداللہ عباس ہیں۔
26833- قال ابن النجار: أنبأنا أبو أحمد الأشقر في كتابه أن أبا الفضل الأشيب أخبره قال: كتب إلى أبو قاسم الزمن، أنبأنا والدي أبو عبد الله المقعد قال: حدثني محمد بن أبي خراسان المفلوج، حدثنا الأثرم ببغداد، حدثنا الحسن بن مهران بن الوليد أبو سعيد الأصبهاني، حدثنا الأحدب، حدثنا الأصم، حدثنا الضرير عن الأعمش عن الأعور عن الأعرج عن الأعمى أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ مرة مرة". الأحدب عبد الله ابن الحسن قاضي المصيصة، والأصم عبد الله بن نصر الأنطاكي، والضرير أبو معاوية، والأعمش سليمان بن مهران، والأعور إبراهيم النخعي، والأعرج الحكم، والأعمى عبد الله بن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26834 ۔۔۔ عماراہ بن خزیمہ کی روایت ہے کہ ابن فاکہ کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا چنانچہ آپ نے ایک ایک بار وضو کیا (رواہ ابن النجار) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 2973 ۔
26834- عن عمارة بن خزيمة عن ابن الفاكه قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ مرة مرة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26835 ۔۔۔ ” مسند الربیع بنت معوذ “ ربیع بنت معوذ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس کثرت سے تشریف لاتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے لوٹے میں وضو کے لیے پانی رکھا آپ نے وضو کیا اور سر کا مسح کیا اور ہاتھ سر پر رکھ کر پیچھے لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے لے آئے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26835- "مسند الربيع بنت معوذ" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتينا فيكثر فأتانا فوضعنا له الميضأة، فتوضأ ومسح رأسه بدأ بمؤخره ثم رد يديه على ناصيته". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26836 ۔۔۔ ” ایضا “ ربیع کہتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور وضو سے بچے ہوئے پانی سے سر کا مسح کیا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26836- "أيضا الربيع" "أتانا النبي صلى الله عليه وسلم فتوضأ ومسح رأسه بما بقي من وضوئه". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے فرائض :
26837 ۔۔۔ ” ایضا “ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب کہتے ہیں ربیع بنت معوذ بن عفراء کے پاس گیا میں نے کہا : میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق دریافت کروں ربیع بولی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ ملاقات کرنے ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے اور اس برتن میں وضو کرتے تھے وہ برتن مد کے لگ بھگ تھا ایک روایت میں ہے کہ وہ برتن مد یا سوا مد کے برابر تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے ہاتھوں کو دھوتے تھے تین بار کلی کرتے ، تین بار ناک میں پانی ڈالتے پھر تین بار چہرہ دھوتے تین تین بار ہاتھ دھوتے پھر دو مرتبہ یعنی آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے سر کا مسح کرتے ، ظاہر و باطن سے کانوں کا مسح کرتے پاؤں کو تین تین بار دھوتے پھر ربیع بولی : ایک مرتبہ ابن عباس (رض) ہمارے ہاں تشریف لائے اور اس حدیث کے متعلق پوچھا میں نے انھیں یہ حدیث بتائی تھی ابن عباس (رض) بولے : لوگ پاؤں کو دھونے کے سوا کسی چیز کا نام نہیں لیتے جبکہ ہم کتاب اللہ میں پاؤں پر مسح کرنے کا حکم پاتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ)
26837- "أيضا" عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب قال: "طدخلت على الربيع بنت معوذ بن عفراء فقلت: جئت أسألك عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلنا ويزورنا وكان يتوضأ في هذا الإناء أو في مثل هذا الإناء وهو نحو من مد، وفي لفظ: يكون مدا أو مدا وربعا، فكان يبدأ بغسل يديه قبل أن يدخلهما الإناء ويمضمض ثلاثا، ويستنشق ثلاثا، ثم يغسل وجهه ثلاثا، ثم يغسل يديه ثلاثا ثلاثا، ثم يمسح برأسه مقبلا ومدبرا مرتين، ويمسح بأذنيه ظاهرهما وباطنهما، ويغسل قدميه ثلاثا ثلاثا، ثم قالت: إن ابن عباس قد دخل علي يسألني عن هذا الحديث فأخبرته، فقال: يأبى الناس إلا الغسل، ونجد في كتاب الله المسح على القدمين". "عب، ص، ش، د، ت، ن، هـ".
tahqiq

তাহকীক: