কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

خرید وفروخت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৬৩ টি

হাদীস নং: ৯৪৭৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9470 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے ایسی بکر خریدلی جو زیادہ دودھ دینے والی لگتی تھی، تواب اگر اس کو ناپسند ہے تو اس کو واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار کے برابر کھجوریں بھی دے دے “۔ (طبرانی بروایت عبدالرحمن بن ابی لیلی عن ابیہ (رض))
9474- "من اشترى شاة مصراة فإن كرهها فليردها وصاعا من تمر". "طب عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9471 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کسی نے ایسی اونٹنی خریدلی جو بہت دودھ دینے والی لگتی تھی تو اگر وہ راضی ہے توٹھیک ورنہ واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار کھجوریں بھی دے دے “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
9475- "من اشترى ناقة مصراة فإن رضيها وإلا ردها ومعها صاعا من تمر". "طب عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9472 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے ایسی بکری خریدی جو زیادہ دودھ دینے والی لگتی تھی اور اسے دوھتا بھی ہے تین دن تک، لہٰذا راضی ہے تو ٹھیک ورنہ واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار کھجوریں بھی دے دے “۔ (مصنف عبد الرزاق بروایت حضرت حسن (رض))
9476- "من اشترى شاة مصراة فإنه يحلبها ثلاثة أيام فإن رضيها وإلا ردها ورد معها صاعا من تمر". "عب عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9473 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے ایسی اونٹنی یا بکری خریدی جو زیادہ دودھ دینے والی لگتی تھی تو اس کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے اگر چاہے تو واپس دے دے اور ساتھ ایک برتن پھر کھانے کی کوئی چیز بھی دے دے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
9477- "من اشترى لقحة مصراة أو شاة مصراة فهو بأحد النظرين: إن شاء ردها وإناء من طعام". "ق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9474 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے ایسی بکری اونٹنی خریدی جو زیادہ دودھ دینے والی لگتی تھی تو اب اس کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، یا تو واپس کردے اور ساتھ برتن بھرکھانے کی کوئی چیز بھی دے دے اور اگر چاہے تو اسی کو رکھ لے “۔ (متفق علیہ بروایت حسن مرسلاً )
9478- "من اشترى مصراة أو لقحة مصراة فهو بأحد النظرين: بين أن يردها وإناء من طعام، أو يأخذها". "ق عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9475 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے ایسی بکری خریدی جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تواب بکری والے کو دودھ دوھنے کا حق ہے، پھر اگر وہ راضی ہو تو اسی کو رکھ لے ورنہ پھر واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار کھجوریں بھی دے دے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت انس (رض) اور بروایت حسن مرسلاً )
9479- "من اشترى شاة محفلة فإن لصاحبها أن يحتلبها، فإن رضيها فليمسكها، وإلا فليردها وصاعا من تمر". "ق عن الحسن مرسلا عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکملہ
9476 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے لوگو ! تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز بازار سے نہ ملے، اور نہ ہی کوئی مہاجر کسی اعرابی (دیہاتی) کے لیے کچھ بیچے، اور جس نے ایسا جانور خریدا جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس کو تین دن تک اختیار ہے، اگر چاہے تو واپس کردے اور ساتھ اتنا ہی (یعنی جتنا اس جانور کا دودھ تھا) یا فرمایا اس سے دو گنا مقدار میں گیہوں کے دانے دے “۔ (طبرانی، متفق علیہ، وصعفہ عن ابی عمر (رض))
9480- "يا أيها الناس لا يتلقين أحد منكم سوقا، ولا يبيعن مهاجر لأعرابي، ومن ابتاع محفلة فهو بالخيار ثلاثة أيام، فإن ردها ردها معها مثل، أو قال مثلى لبنها قمحا". "طب ق وضعفه عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیع کی متفرق ممنوعہ اقسام کا تکلملہ
9477 ۔۔۔ فرمایا کہ ” پتھروں کے ساتھ نہ بیچو، اور نہ نجش کرو، اور نہ ہی لمس کے طریقے سے بیچو، اور اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے، اور اس جانور کو ناپسند کرے تو چاہیے کہ واپس کردے اور ساتھ ایک صاع کی مقدار برابر کھانے کی کوئی چیز دے دے “۔

فائدہ :۔۔۔” پتھروں کے ساتھ نہ بیچو “ عرب میں یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ فروخت کئے جانے والے مال کو گاہکوں کے سامنے پھیلا کر رکھ دیا جاتا تھا اور وہ اس پر کنکر پھینکتے تھے، جس چیز پر کنکر گرجاتا وہ چیز گاہک کو خریدنی پڑتی تھی خواہ وہ کچھ ہو اور کیسی ہی حالت کیوں نہ ہو، اس طرح کی خریدو فروخت کو عربی میں ” بیع الحصاۃ “ کہا جاتا ہے چونکہ اس میں ایک قسم کی زبردستی اور بےبسی وعدم رضا مندی یا جبری رضامندی کا عنصر پایا جاتا ہے لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خریدو فروخت کے اس طریقے کو ممنوع فرمایا ہے۔

” نجش “ یہ بھی ایک اصطلاحی لفظ ہے، عرب میں خریدو فروخت کا ایک طریقہ یہ بھی رائج تھا کہ بیچنے والا اپنے مال کی بولی لگواتا، لوگ بڑھ چڑھ کر بولیاں دینے لگتے، ان ہی لوگوں میں بیچنے والے کے اپنے ملازم بھی خریداروں کے بھیس میں موجود ہوتے جو بولیوں کو بڑھاتے رہتے تھے “ مثلاًاگر ایک شخص نے بولی لگائی میں یہ چیز دس روپے میں خریدتا ہوں اور دوسرے نے بارہ روپے کی بولی لگائی، توبیچنے والے کا ملازم (جو خریدار کے بھیس میں وہاں موجود ہوتا) وہ پندرہ روپے کی بولی لگا لیتا، مجبوراً خریدار کو بولی بڑھانی پڑتی۔ چونکہ اس میں بھی ایک قسم کا دھوکا ہے لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قسم کو بھی ممنوع قراردیا۔

لمس، یہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے چھونا، عرب میں خریدو فروخت کا ایک یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ بیچنے والا اپنا سامان گا ہگوں کے سامنے رکھ دیتا اور گاہک پاس کھڑے ہو کر سامان وغیرہ دیکھتے رہتے، اور اگر اس دوران کسی گاہک کا ہاتھ یعنی کسی چیز سے چھو جاتا تو وہ چیز گاہک کو لازماً خریدنی پڑتی، چونکہ اس میں بھی زبردستی اور جبری رضا مندی ہے لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ممنوع فرمادیا۔ (مترجم)
9481- "لا تبايعوا بالحصى، ولا تناجشوا، ولا تبايعوا بالملامسة، ومن اشترى محفلة كرهها فليردها، وليرد معها صاعا من طعام". "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیع کی متفرق ممنوعہ اقسام کا تکلملہ
9478 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دیہاتیوں سے لین دین نہ کرو، خواہ وہ تم میں سے کسی کا بھائی یا باپ یا ماں ہی کیوں نہ ہو “۔ (طبرانی بروایت حضرت سمرہ (رض))
9482- "لا تبايعوا الأعراب وإن كان أخا أحدكم أو أباه، أو أمه". "طب عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیع کی متفرق ممنوعہ اقسام کا تکلملہ
9479 ۔۔۔ فرمایا کہ ” لمس کے طریقے سے خریدو فروخت نہ کرو، نجش نہ کرو، دھوکے خریدو فروخت نہ کرو، اور کوئی موجود کسی غائب (دیہاتی) کے لیے خریدو فروخت نہ کرلے، اور جس کسی نے ایسی جانور خریدا جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو تین دن تک اسے دوھے، پھر اگر اس جانور کو واپس کرے تو ایک صاع کے بقدر کھجوروں کے ساتھ “۔ (بروایت حضرت انس (رض))
9483- "لا تلامسوا، ولا تناجشوا، ولا تبايعوا الغرر، ولا يبيعن حاضر لباد ومن اشترى محفلة فليحلبها ثلاثة أيام، فإن ردها فليردها بصاع من تمر". "ع عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیع کی متفرق ممنوعہ اقسام کا تکلملہ
9480 ۔۔۔ تم میں سے کوئی اپنے نر گھوڑے کو ہرگز نہ بیچے۔ اس سے مراد گھوڑیوں میں موجود نر ہے۔ (سمویہ عن انس)
9484- "لا يبيعن أحدكم فحلة فرسه". "سمويه عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیع کی متفرق ممنوعہ اقسام کا تکلملہ
9481 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ جس مال (گندم وغیرہ) کا ناپ تول معلوم ہوچکا ہو اسے تخمینے سے نہ لے جب تک کہ اس کے مالک کو نہ بتادے مصنف عبدالرزاق عن اوزاعی۔ نوٹ۔۔۔ اس کی سند معضل ہے یعنی سند میں دو سے زائدراوی غائب ہیں۔
9485- "لا يحل لرجل أن يحل طعاما جزافا قد علم كيله حتى يعلم صاحبه". "عب عن الأوزاعي"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9482 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے کے دوران اپنا سودا نہ شروع کردے، اور نہ ہی اپنے کسی (مسلمان) بھائی کے رشتے پر اپنا رشتہ بھیجے۔ (بروایت حضرت سمرۃ (رض))
9486- "لا يزد الرجل على بيع أخيه، ولا يخطب على خطبته". "ط عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9483 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے کے دوران سودا نہ کرلے، اور نہ ہی اپنے (مسلمان) بھائی کے رشتے پر رشتہ بھیجے اور نجش نہ کرو اور پتھر پھینک کر خریدو فروخت نہ کرو، اور جو کوئی کسی کو اجرت پر رکھے تو اس کو اجرت بتادے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
9487- "لا يساوم الرجل على سوم أخيه، ولا يخطب على خطبته، ولا تناجشوا ولا تبايعوا بإلقاء الحجر، ومن استأجر أجيرا فليعلمه أجره". "ق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9484 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے سودے پر سودانہ کرے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
9488- "لا يسم المسلم على سوم المسلم". "ق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9485 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ان کو میری طرف سے چار خاصیات کی اطلاع دے دو ۔ ایک سودے میں دوشرطیں نہیں لگائی جاسکتیں۔ جو چیز ملکیت میں نہ ہو اس کی فروخت نہیں ہوسکتی۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابن عمر (رض))
9489- "بلغهم عني أربع خصال: أنه لا يصلح شرطان في بيع، ولا بيع وسلف، ولا بيع ما لم تملك، ولا ربح ما لم تضمن". "ق عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9486 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ان کو بتادے کہ ایک، بیع میں دو سودے جائز نہیں “ اور نہ ہی اس چیز کی بیع جائز ہے جو ملکیت میں نہ ہو، اور نہ بیع اور قرضہ ایک ساتھ اور نہ ہی ایک بیع میں دوشرطیں لگائی جاسکتی ہیں “۔ (مستدرک حاکم بروایت حضرت ابن عمر رضی
9490- "أخبرهم أنه لا يجوز بيعان في بيع، ولا بيع ما لا تملك، ولا سلف وبيع ولا شرطان في بيع". "ك عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9487 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کیا تو اپنی قوم کو وہ بات پہنچا دے گا جس کا میں تجھے حکم دوں گا ؟ ان سے کہہ دے کہ ان میں سے کوئی بھی بیع اور قرضے کو جمع نہ کرے اور ان میں سے کوئی شخص ایسی چیز نہ بیچے جو ان کے پاس نہ ہو “۔ (طبرانی بروایت حضرت عناب بن اسید (رض))
9491- "هل أنت مبلغ قومك ما آمرك به؟ قل لهم: لا يجمع أحدهم بيعا ولا سلفا، ولا يبع أحدهم بيع غرر ولا يبع أحد ما ليس عنده". "طب عن عتاب بن أسيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9488 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میں نے تمہیں حکم دے دیا ہے کہ اللہ والوں کے بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا، ان میں سے کوئی ایسا فائدہ نہ کھائے جس کا وہ ضامن نہ ہو، اور منع کردے ان کو بیع اور قرضے سے، اور ایک بیع دوسروں سے اور اس سے بھی (منع کردے) کہ ان میں سے کوئی ایسی چیز بیچے جو اس کے پاس نہ ہو “۔ متفق علیہ بروایت حضرت یعلی بن امیہ (رض))
9492- "إني قد أمرتك، على أهل الله بتقوى الله عز وجل، ولا يأكل أحد منهم بربح ما لم يضمن، وانههم عن سلف وبيع، وعن الصفقتين في البيع الواحد، وأن يبيع أحدهم ما ليس عنده". "ق عن يعلى بن أمية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھاؤ پر بھاؤ کرنے کی ممانعت
9489 ۔۔۔ یقیناً میں نے تجھے اللہ والوں اور مکہ والوں کی طرف بھیجا ہے، لہٰذا ان کو اس چیز کے بیچنے سے منع کردے جو ان کے پاس نہ ہو، اور ایسا فائدہ لینے سے جس کا وہ ضامن نہ ہو اور ادھار اور بیع سے، اور بیع میں شرط لگانے سے اور بیع اور قرضے سے۔ (متفق علیہ عن ابن عباس (رض))
9493- "إني قد بعثتك إلى أهل الله وأهل مكة، فانههم عن بيع ما لم يقبضوا، وربح ما لم يضمنوا، وعن قرض وبيع، وعن شرط في بيع وعن بيع وسلف". "ق عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক: