কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

خرید وفروخت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৬৩ টি

হাদীস নং: ৯৫১৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9510 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کسی کے لیے حلال نہیں کہ کوئی چیز بیچے اور اس کے عیب بیان نہ کرے اور نہ ہی ان عیوب کے جاننے والے کے لیے ان کو بیان کئے بغیر چارہ ہے “ (مستدرک حاکم، مصنف عبدالرزاق بروایت حضرت واثلہ بن الاسقع (رض)
9514- "لا يحل لأحد يبيع شيئا إلا بين ما فيه، ولا يحل لمن علم ذلك إلا بينه". "ك عب عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9511 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کھجور اور کچی کھجور نہ ملاؤ “۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت ابو سعید خدری (رض))
9515- "لا تخلطوا الزهو والتمر". "ع عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9512 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیچ اور کہہ کہ کوئی دھوکا نہیں “۔ (مستدرک حاکم بروایت حضرت ابن عمر (رض))
9516- "بع وقل لا خلابة". "ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9513 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دھوکا سے نہ بیچو “۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت انس (رض) اور ابن النجار بروایت حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ (رض))
9517- "لا تبايعوا الغرر". "ع عن أنس" "ابن النجار عن أبي سعيد وأبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9514 ۔۔۔ فرمایا کہ ” نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو دو، جس نے نقصان پہنچایا، اللہ اسے نقصان پہنچائے، اور جس نے سختی کی اللہ اس پر سختی کرے “۔ (مالک بروایت عمر وبن یحی المازنی مرسلا، دارقطنی مستدرک حاکم متفق علیہ، بروایت حضرت ابو سعید خدری (رض))
9518- "لا ضرر ولا ضرار، من ضار ضاره الله، ومن شاق شق الله عليه". "مالك عن عمرو بن يحيى المازني مرسلا" "قط ك ق" "عنه عن أبي سعيد". مر برقم [9167] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9515 ۔۔۔ فرمایا کہ ” نہ نقصان اٹھاؤ نہ کسی کو دو ، اور پڑوسی کی دیوار پر شہتیر رکھنے کا حق ہے اور سات ذراع کے برابر ہے “۔ (مصنف عبدالرزاق، مسند احمد بروایت حضرت ابن عباس (رض))
9519- "لا ضرر ولا ضرار، وللرجل أن يضع خشبه في حائط جاره، والطريق الميثاء 1 سبعة أذرع". "عب حم عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9516 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے کوئی چیز بیچی تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس کے عیوب نہ بتائے، اور جو شخص اس کے عیوب جانتا ہے اس کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ عیوب نہ بتائے۔ (متفق علیہ اور خطیب بروایت حضرت واثلہ (رض))
9520- "من باع شيئا فلا يحل له حتى يبين ما فيه، ولا يحل لمن يعلم ذلك أن لا يبينه". "ق والخطيب عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9517 ۔۔۔ کسی نے دوسرے مومن کو کوئی مال دکھایا اس نے دھوکا بازی کی تو یہ دھوکے بازی ریاء شمار ہوئی۔ (ابن عدی، متفق علیہ عن ابی امامۃ )
9521- "من استرسل إلى مؤمن فغبنه كان غبنه ذلك رياء". "عد ق عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9518 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سنو ! تمہارے اس زمانے کے بعد ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو تنگی کا ہوگا (اس زمانے میں) خوشحال آدمی خرچ ہوجانے کے ڈر سے اپنے مال کو اس مضبوطی سے پکڑ کر رکھے گا جیسے دانتوں میں دبا رکھا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جو کچھ تم نے کسی چیز میں سے خرچ کیا وہی اس کا بدلہ دے گا “۔ (سورة سبا 39)

اور بدترین لوگوں کا سردار وہ ہوگا جو ہر مجبور سے خریدو فروخت کرے گا، سنو ! مجبوروں سے خریدو فروخت کرنا حرام ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اس کی شرمندگی کا باعث بنتا ہے، اگر تمہارے پاس کوئی نیکی ہے تو اس کے ساتھ اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف لوٹو اور اس کے ہلاکت میں مزید ہلاکت کا باعث نہ بنو۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت حذیفہ (رض))

فائدہ :۔۔۔ مجبور سے خریدو فروخت کرنے سے مراد مجبور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہے، ورنہ مجبوری کی حالت میں نیک نیتی کے ساتھ صحیح اسلامی طریقے سے کسی سے خریدو فروخت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
9522- "ألا إن بعد زمانكم هذا زمانا عضوضا يعض الموسر على ما في يده حذار الإنفاق، وقد قال الله تعالى: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ} وسيد شرار الخلق يبايعون كل مضطر، ألا إن بيع المضطرين حرام، المسلم أخو المسلم، لا يظلمه، ولا يخذله، إن كان عندك معروف فعد به على أخيك، ولا تزده هلاكا إلا هلاكه". "ع عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9519 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیچنے کے لیے دودھ میں پانی نہ ملاؤ، ایک آدمی نے دودھ لے کر دو گنا چوگنا اضافہ کردیا، پھر ایک بندر خریدا اور سمندر کے سفر پر روانہ ہوا یہاں تک کہ جب گہرے سمندر میں پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے بندر کے دل میں دیناروں کی تھیلی کا خیال ڈالا، بندر دیناروں کی تھیلی لے کر بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ گیا اور تھیلی کھولی، بندر والا اس کو دیکھ رہا تھا، چنانچہ بندر نے ایک دینار نکالا اور سمندر میں پھینک دیا اور ایک کشتی میں، (اور اسی طرح کرتا رہا۔ مترجم) یہاں تک کہ تمام دینار دو حصوں میں تقسیم کردئیے “۔ (بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابوہریرہ (رض) )

فائدہ :۔۔۔ یہاں گزشتہ امتوں میں سے کسی امت کا تذکرہ مقصود ہے جس میں شراب کی خریدو فروخت جائز ہوگی، جو بہرحال اسلام میں حرام قرار دے دی گئی ہے۔

اور دیناروں کے دو حصوں میں تقسیم کرنے سے مرادیہ ہے کہ جس طرح اس شخص نے دودھ میں ملاوٹ کرکے بیچا

تھا، اسی طرح بندر نے آدھے دینار سمندر میں پھینک دئیے اور آدھے کشتی میں، گویا کہ اس شخص کے ہاتھ میں اتنے ہی دینار آئے جو بغیر پانی ملائے دودھ کی اصل قیمت تھی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
9523- "لا تشوبوا اللبن للبيع، إن رجلا جلب خمرا إلى قرية فشابها بالماء، فأضعف أضعافا، فاشترى قردا، فركب البحر حتى إذا لجج ألهم الله القرد صرة الدنانير، فأخذها فصعد الدقل2، ففتح الصرة وصاحبها ينظر إليه، فأخذ دينارا فرمى به في البحر، ودينارا في السفينة. حتى قسمها نصفين". "عن هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9520 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جو سمندر میں کشتی چلایا کرتا تھا وہ شراب بیچتا تھا اور اس میں پانی ملایا کرتا تھا، کشتی میں اس کے پاس ایک بندر تھا جو اس کی حرکت کو دیکھتا تھا، اور جب وہ کشتی میں موجود ساری شراب ختم کرلیتا تو بندر تھیلی لے کر، بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ جاتا اور ایک دینار سمندر میں اور ایک کشتی میں پھینکنے لگتا یہاں تک کہ دیناروں کو دو حصوں میں تقسیم کردیتا۔ (خطیب بروایت حضرت انس (رض))
9524- "إن رجلا ممن كان قبلكم، له مركب في البحر، وكان يبيع الخمر ويشوبه بالماء، وكان معه في المركب قرد ينظر إلى ما يفعل، فلما استتم ما في المركب من الخمر أخذ القرد الكيس، فصعد الذروة، فجعل يرمي بدينار في البحر، ودينار في المركب، حتى جزأه نصفين". "الخطيب عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9521 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک شخص شراب لے کر کشتی میں سوار ہوا تاکہ شراب بیچے، اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا، وہ شخص جب شراب بیچتا تو اس میں پانی ملایا کرتا تھا اور پھر بیچا کرتا تھا، پھر بندر تھیلی اٹھاتا اور بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ جاتا اور ایک دینار سمندر میں اور ایک کشتی میں پھینکنے لگتا یہاں تک کہ سارے تقسیم کردیتا “۔ (مسند احمد، بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
9525- "إن رجلا حمل معه خمرا في سفينة يبيعه، ومعه قرد فكان الرجل إذا باع الخمر شابه بالماء، ثم باعه، فأخذ القرد الكيس فصعد به فوق الدقل فجعل يطرح دينارا في البحر، ودينارا في السفينة حتى قسمه". "حم هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
9522 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا، اس نے شراب لی اور ہر مشک میں آدھا پانی ڈال لیا، پھر اس کو بیچ دیا، جب (بیچ کر) پیسے جمع کر لیے تو ایک کو ٹری آئی اور تھیلی لے کر بادبان کے ڈنڈے پر جا چڑھی اور ایک سمندر میں اور ایک کشتی میں پھینکنے لگی یہاں تک کہ تھیلی میں موجود سارا مال اسی طرح تقسیم کرکے فارغ ہوگئی “۔ (بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
9526- "إن رجلا كان فيمن قبلكم حمل خمرا، ثم جعل في كل زق نصفا من ماء، ثم باعه، فلما جمع الثمن جاء ثعلب فأخذ الكيس، وصعد الدقل، فجعل يأخذ دينارا فيرمي به في السفينة، ويأخذ دينارا فيرمي به في البحر، حتى فرغ مما في الكيس". "هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9523 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی موجود کسی غیر موجود (دیہاتی یا دوسرے شہر کے باشندے) کے لیے خریدو فروخت نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دواللہ تعالیٰ بعض کے ذریعے بعض کو رزق دیتے ہیں “۔ (مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت جابر (رض))
9527- "لا يبيعن حاضر لباد، دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض". "حم م 4 عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9524 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی موجود کسی غائب کے لیے خریدو فروخت نہ کرے، اور نجش نہ کرے، اور کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے (مسلمان) بھائی کے رشتے پر رشتہ بھیجے اور نہ ہی کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کی خواہشمند ہو کہ (اس طرح) الٹ دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے اور خود نکاح کرلے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بھی وہی لکھ رکھا ہے جو اس کے لیے لکھ رکھا ہے “۔ (بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض)

فائدہ :۔۔۔ نجش کی تعریف پہلے گزرچکی ہے، باقی باتیں واضح ہیں، البتہ عورت کا دوسرے عورت کی طلاق کی خواہش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ایک عورت کسی دوسری کو طلاق دلوا کر اسی آدمی سے خود نکاح کرلے کیونکہ اس آدمی سے جو پہلی عورت کے نصیب میں لکھا تھا وہی اللہ تعالیٰ اس کے لیے بھی لکھ رہا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
9528- "لا يبع حاضر لباد، ولا تناجشوا، ولا يبع الرجل على بيع أخيه، ولا يخطب على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفئ ما في إنائها ولتنكح، فإنما لها ما كتب الله لها". "خ ت ن هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9525 ۔۔۔ فرمایا کہ کوئی حاضر کسی غیر حاضر کے لیے خریدو فروخت نہ کرے چاہے وہ اس کا بھائی ہو یا باپ “۔ (ابوداؤد اور نسائی بروایت حضرت انس (رض))
9529- "لا يبع حاضر لباد، وإن كان أخاه أو أباه". "د ن عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9526 ۔۔۔ بازار سے آگے مت بڑھو اور نہ مجلس لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کے لیے خرچ کرو۔ مسلم ترمذی عن ابن عباس
9530- "لا تستقبلوا السوق، ولا تحفلوا، ولا ينفق بعضكم لبعض". "م ت عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9527 ۔۔۔ فرمایا کہ ” خریدو فروخت کے لیے سواروں سے نہ ملو، اور نہ ہی تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے سودے پر سودا کرے، اور نجش نہ کرو اور کوئی موجود کسی غائب کے لیے بھی خریدو فروخت نہ کرے اور نہ کوئی بکری اس حالت میں بیچے کہ اس کا دودھ دھویا نہ ہو اور اگر اس کو خرید لیا تو دو باتوں کا اختیار ہے اس بکری کو دودھ لینے کے بعد، اگر وہ اسی پر راضی ہو تو اپنے پاس ہی رکھے اور اگر ناراضی (راضی نہ) ہو تو واپس کردے اور ایک صاع کھجوریں بھی ساتھ واپس کرے “۔ بخاری، ابوداؤد، نسائی بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
9531- "لا تلقوا الركبان للبيع، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، ولا تناجشوا ولا يبع حاضر لباد ولا تصروا الغنم، ومن ابتاعها فهو بخير النظرين بعد أن يحلبها، إن رضيها أمسكها، وإن سخط ردها، وصاعا من تمر". "خ د ن عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9528 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سواروں سے نہ ملو اور نہ ہی موجود غائب کے لیے خریدو فروخت کرے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابن مسعود (رض))

فائدہ :۔۔۔ سواروں سے نہ ملنے سے مراد یہی ہے کہ جو شخص دوسرے شہر سے یا دیہات سے اس شہر کی طرف سامان تجارت لیے جارہا ہے، راستے میں مل کر اس سے یہ نہ کہو کہ تمہارا سامان میں لے لوں گا وغیرہ وغیرہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
9532- "لا تلقوا الركبان، ولا يبع حاضر لباد". "ق عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا مضمون۔۔۔ موجود کا غائب کے لیے خرید فروخت کرنا

اور سواروں سے ملاقات کرنے کے بیان میں

فائدہ :۔۔۔ عربی اصطلاح میں اس کو بیع الحاضر للبادی اور تلقی الرکبان کہا جاتا ہے، دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی کوئی دیہاتی یا دوسرے شہر کا آدمی اپنا سامان تجارت لے کر دو
9529 ۔۔۔ فرمایا کہ ” لوگوں کو ایک دوسرے کو کچھ (نفع) پہنچانے دو ، لہٰذا اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کوئی اچھی بات بتاسکتا ہو تو اسے چاہیے کہ بتادے “۔ (طبرانی بروایت ابن ابی السائب (رض))
9533- "دعوا الناس يصب بعضهم من بعض، فإذا استنصح أحدكم أخاه فلينصحه." "طب عن أبي السائب".
tahqiq

তাহকীক: