কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৩৯১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3912: اے سعد ! تو نے اس گھڑی میں ایسے کلمات کے ساتھ دعا کی ہے اگر تو سارے روئے زمین کے لوگوں کے لیے دعا کرتا تب تبھی قبول کرلی جاتی، پس خوشخبری ہو تجھے اے سعد ! اس کلمہ کی :
سبحانک لا الہ الا انت یا ذالجلال والاکرام ۔ لکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)۔
سبحانک لا الہ الا انت یا ذالجلال والاکرام ۔ لکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)۔
3912 – "يا سعد لقد دعوت في ساعة بكلمات، لو دعوت على من بين السموات والأرض لاستجيب لك فأبشر يا سعد يعني سبحانك لا إله إلا أنت، يا ذا الجلال والإكرام" "طب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3913: اے شداد بن اوس جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ سونا چاندی جمع کرنے لگے ہیں تو تو ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا شروع کردے۔
اللهم إني أسألک الثبات في الأمر وأسألک عزيمة الرشد وأسألک شکر نعمتک وأسألک حسن عبادتک وأسألك يقينا صادقا وأسألک قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألک من خير ما تعلم وأعوذ بک من شر ما تعلم واستغفرک لما تعلم إنك أنت علام الغيوب۔
اے اللہ ! میں دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں، مضبوط سیدھے راستے کا سوال کرتا ہوں، تیری نعمت کے شکر کا سوال کرتا ہوں، تیری اچھی عبادت کا سوال کرتا ہوں تجھے سچے یقین کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے۔ اور تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں ان گناہوں سے جو تیرے علم میں ہیں بیشک تو غائب کا جاننے والا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابن سعد، مسند احمد، مسند ابی یعلی، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء، السنن لسعید بن منصور عن شداد بن اوس) ۔
اللهم إني أسألک الثبات في الأمر وأسألک عزيمة الرشد وأسألک شکر نعمتک وأسألک حسن عبادتک وأسألك يقينا صادقا وأسألک قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألک من خير ما تعلم وأعوذ بک من شر ما تعلم واستغفرک لما تعلم إنك أنت علام الغيوب۔
اے اللہ ! میں دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں، مضبوط سیدھے راستے کا سوال کرتا ہوں، تیری نعمت کے شکر کا سوال کرتا ہوں، تیری اچھی عبادت کا سوال کرتا ہوں تجھے سچے یقین کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے۔ اور تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں ان گناہوں سے جو تیرے علم میں ہیں بیشک تو غائب کا جاننے والا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابن سعد، مسند احمد، مسند ابی یعلی، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء، السنن لسعید بن منصور عن شداد بن اوس) ۔
3913 – "يا شداد بن أوس إذا رأيت الناس يكنزون الذهب والفضة، فاكنز أنت هؤلاء الكلمات: اللهم إني أسألك الثبات في الأمر، وأسألك عزيمة الرشد، وأسألك شكر نعمتك، وأسألك حسن عبادتك، وأسألك يقينا صادقا، وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم، واستغفرك لما تعلم إنك أنت علام الغيوب". "ش وابن سعد حم ع حب طب ك حل ص عن شداد بن أوس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3914: اے علی ! کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جب تو ان کو کہے تو تیری مغفرت کردی جائے :
لا إله إلا اللہ العلي العظيم لا إله إلا اللہ الحليم الكريم سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين۔ (مسند احمد، مستدرک الحاکم عن علی (رض))
لا إله إلا اللہ العلي العظيم لا إله إلا اللہ الحليم الكريم سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين۔ (مسند احمد، مستدرک الحاکم عن علی (رض))
3914 – "يا علي ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن غفر لك، على أنه مغفور لك: لا إله إلا الله العلي العظيم، لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين". "حم ك عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3915: اے علی ! کیا میں تجھے ایسی دعا نہ سکھاؤں تو وہ دعا کرے تو اگر چیونٹیوں کے برابر بھی تیرے سر پر گناہ ہوں تب بھی سب معاف کردیے جائیں گے، پس یہ کہا کر :
اللہم لا الہ الا انت الحلیم الکریم تبارکت سبحان رب العرش العظیم۔ (الکبیر للطبرانی عن عمرو بن مرہ و زید بن ارقم معا) ۔
اللہم لا الہ الا انت الحلیم الکریم تبارکت سبحان رب العرش العظیم۔ (الکبیر للطبرانی عن عمرو بن مرہ و زید بن ارقم معا) ۔
3915 – "يا علي ألا أعلمك دعاء تدعو به لو كان عليك مثل عدد الذر ذنوبا لغفرت لك مع أنه مغفور لك قل: اللهم لا إله إلا أنت الحليم الكريم تباركت سبحان رب العرش العظيم". "طب عن عمرو بن مرة وزيد بن أرقم معا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3916: اے عائشہ تو کامل اور جامع کلمات کو تھام لے، یوں کہا کر :
اللهم إني أسألک من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأسألک الجنة وما قرب إليها من قول وعمل وأعوذ من النار وما قرب إليها من قول وعمل وأسألک من خير ما سألک منه عبدک ورسولک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وأستعيذک مما استعاذ منه عبدک ورسولک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وأسألک ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا ۔
اے اللہ ! میں تجھ سے ہر طرح کی خیر کا سوال کرتا ہوں جلد اور بدیر، میرے علم میں ہو اور میرے علم میں نہ ہو اور تیری پناہ مانگتا ہوں ہر طرح کے شر سے جلدی اور بدیر، میرے علم میں ہو اور جو میری علم میں نہ ہو، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت اور ہر اس قول و عمل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے قریب تر کردے۔ اے اللہ ! میں تری پناہ مانگتا ہوں جہنم اور ہر اس قول و عمل سے جو جہنم کے قریب کردے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر وہ خیر مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مانگی اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز سے جس سے تیرے بندے اور تیرے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیری پناہ چاہی۔ اور اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو نے میرے لیے جو بھی فیصلہ کردیا اس کا انجام کار میرے لیے بہتر کردے۔ (مستدرک الحاکم، ابن عساکر، عن عائشہ (رض))
اللهم إني أسألک من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأسألک الجنة وما قرب إليها من قول وعمل وأعوذ من النار وما قرب إليها من قول وعمل وأسألک من خير ما سألک منه عبدک ورسولک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وأستعيذک مما استعاذ منه عبدک ورسولک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وأسألک ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا ۔
اے اللہ ! میں تجھ سے ہر طرح کی خیر کا سوال کرتا ہوں جلد اور بدیر، میرے علم میں ہو اور میرے علم میں نہ ہو اور تیری پناہ مانگتا ہوں ہر طرح کے شر سے جلدی اور بدیر، میرے علم میں ہو اور جو میری علم میں نہ ہو، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت اور ہر اس قول و عمل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے قریب تر کردے۔ اے اللہ ! میں تری پناہ مانگتا ہوں جہنم اور ہر اس قول و عمل سے جو جہنم کے قریب کردے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر وہ خیر مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مانگی اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز سے جس سے تیرے بندے اور تیرے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیری پناہ چاہی۔ اور اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو نے میرے لیے جو بھی فیصلہ کردیا اس کا انجام کار میرے لیے بہتر کردے۔ (مستدرک الحاکم، ابن عساکر، عن عائشہ (رض))
3916 – "يا عائشة عليك بالكوامل الجوامع، قولي: اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم، وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم، وأسألك الجنة، وما قرب إليها من قول وعمل، وأعوذ من النار وما قرب إليها من قول وعمل، وأسألك من خير ما سألك منه عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وآله وسلم، وأستعيذك مما استعاذ منه عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وسلم، وأسألك ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا". "ك وابن عساكر عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3917: اے عائشہ میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو تمام آسمان و زمین والوں کی تسبیح کے برابر ہوں یا ان سے بھی افضل ہوں پس تو یہ کہا کر۔ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ و اضعاف ما یسبحہ جمیع خلقہ، کما یحب و کما یرضی و کما ینبغی لہ۔
پاک ہے اللہ عظمت والا اسی کے لیے تمام تعریفیں سزواریں اور جس قدر تمام مخلوق اس کی تسبیح کرتی ہے، اس سے کئی گناہ اس کی تسبیح کرتا ہوں۔ جسے وہ پسند کرے، جیسے وہ راضی ہو اور جس طرح اس کے لیے مناسب ہو۔ (الدارقطنی فی الافراد عن عائشۃ (رض))
پاک ہے اللہ عظمت والا اسی کے لیے تمام تعریفیں سزواریں اور جس قدر تمام مخلوق اس کی تسبیح کرتی ہے، اس سے کئی گناہ اس کی تسبیح کرتا ہوں۔ جسے وہ پسند کرے، جیسے وہ راضی ہو اور جس طرح اس کے لیے مناسب ہو۔ (الدارقطنی فی الافراد عن عائشۃ (رض))
3917 – "يا عائشة ألا أعلمك كلمات تعدل أو أفضل من تسبيح أهل السموات والأرض، تقولين: سبحان الله العظيم وبحمده وأضعاف ما يسبحه جميع خلقه، كما يحب وكما يرضى وكما ينبغي له". "قط في الأفراد عن عائشة" وقال تفرد به سليمان بن الربيع عن همام بن مسلم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبادت کا حق ادا کرنا۔
3918: اے فاطمہ ! سن جو میں تجھے وصیت کروں، یہ کہا کر :
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث فلا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین واصلح لی شانی کلہ۔
اے زندہ ! اے تھامنے والے ! تیری رحمت کے ساتھ میں فریاد کرتا ہوں پس مجھے اپنے نفس کے حوالہ نہ کر ایک پل کے لیے بھی اور میرے تمام حالات درست کردے۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیہقی، عن انس (رض))
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث فلا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین واصلح لی شانی کلہ۔
اے زندہ ! اے تھامنے والے ! تیری رحمت کے ساتھ میں فریاد کرتا ہوں پس مجھے اپنے نفس کے حوالہ نہ کر ایک پل کے لیے بھی اور میرے تمام حالات درست کردے۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیہقی، عن انس (رض))
3918 – "يا فاطمة ما يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به أن تقولي: يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث، فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله". "عد هب عن أنس".
"تم كتاب الأذكار من قسم الأقوال"
"تم كتاب الأذكار من قسم الأقوال"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان۔ مسند عمر (رض)
3919: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اپنی جانوں کو لوگوں کے ذکر میں مشغول نہ کرو کیونکہ یہ فتنہ ہے بلکہ تم اللہ کے ذکر کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ (ابن ابی الدنیا)
3919 - "من مسند عمر" رضي الله عن عمر قال: "لا تشغلوا أنفسكم بذكر الناس، فإنه بلاء وعليكم بذكر الله". "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان۔ مسند عمر (رض)
3920: ابی حنیفہ روایت کرتے ہیں موسیٰ بن کثیر سے وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرنے والے سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو تسبیح و تہلیل میں مشغول پایا تو (بےساختہ) بول اٹھے۔ یہی ہے یہی ہے رب کعبہ کی قسم ! پوچھا گیا یہی کیا ہے ؟ فرمایا : کلمۃ التقوی وکانوا احق بھا واھلہا۔ یہ ہی کلمہ تقوی ہے اور یہ لوگ اس کے حق دار اور اس کے اہل ہیں۔ (ابن خسرو)
3920 - عن أبي حنيفة عن موسى بن كثير عمن حدثه عن عمر بن الخطاب أنه أبصرهم يهللون ويكبرون، فقال: "هي هي، ورب الكعبة فقيل له وما هي؟ قال: كلمة التقوى، وكانوا أحق بها وأهلها". "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان۔ مسند عمر (رض)
3921: حضرت ابو ذر (رض) سے منقول ہے حضرت عمر (رض) بسا اوقات ایک دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑتے اور فرماتے، ٹھہرو ہم ایمان میں اضافہ کرلیں پھر وہ سب (مل کر) اللہ کا ذکر کرتے۔ اللالکانی فی السنۃ۔
3921 - عن أبي ذر قال: "كان عمر مما يأخذ بيد الرجل والرجلين من أصحابه، فيقول قم بنا نزداد إيمانا، فيذكرون الله عز وجل". "س واللالكائي في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان۔ مسند عمر (رض)
3922: حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم پر اللہ کا ذکر لازم ہے، وہ شفاء ہے اور لوگوں کے ذکر سے بچو وہ بیماری ہے۔ (مسند احمد، فی الزھد، ھناد، ابن ابی الدنیا فی الصمت)
3922 - عن عمر قال: "عليكم بذكر الله فإنه شفاء، وإياكم وذكر الناس فإنه داء". "حم في الزهد وهناد وابن أبي الدنيا في الصمت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان۔ مسند عمر (رض)
3923: حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا : اے پروردگار ! میں چاہتا ہوں کہ مجھے وہ لوگ معلوم ہوجائیں جن سے تو محبت کرتا ہے تاکہ میں بھی ان سے محبت کروں۔ اللہ پاک نے فرمایا : جب تو میرے کسی بندے کو کثرت کے ساتھ میرا ذکر کرتے ہوئے دیکھے تو (سمجھ لے کہ) میں نے اس کو اس کام میں لگایا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ اور جب تو کسی بندے کو دیکھے کہ وہ میرا ذکر نہیں کرتا تو (سمجھ لے کہ) میں نے اس کو اس سے روکا ہے اور میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ العسکری فی المواعظ۔
کلام : اس روایت میں ایک راوی عنبۃ الرشی ہے جو متروک اور ناقابل اعتبار ہے۔
کلام : اس روایت میں ایک راوی عنبۃ الرشی ہے جو متروک اور ناقابل اعتبار ہے۔
3923 - عن عمر "قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا رب وددت إني أعلم من تحب من عبادك فأحبه، قال: إذا رأيت عبدي يكثر ذكري، فأنا أذنت له في ذلك، وأنا أحبه، وإذا رأيت عبدي لا يذكرني فأنا حجبته عن ذلك، وأنا أبغضه". "العسكري في المواعظ وفيه عنبسة القرشي متروك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
3924: (مسند عبداللہ بن عمرو (رض)) (عبداللہ بن عمرو رضی الہ عنہ سے مروی ہے کہ) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! اس کے صیقل کا کیا طریقہ ہے ؟ فرمایا : کتاب اللہ کی کثرت کے ساتھ تلاوت اور ذکر اللہ کی کثرت۔ (ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر)
3924 - "ومن مسند عبد الله بن عمرو" قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد، قيل فما جلاؤها يا رسول الله قال: كثرة تلاوة كتاب الله تعالى وكثرة الذكر لله عز وجل". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
3925: عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : صبح و شام اللہ کا ذکر کرنا اللہ کی راہ میں تلواریں توڑنے اور دن رات مال خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
3925 - "ومن مسند عبد الله بن عمرو" عن عبد الله بن عمرو وقال "ذكر الله بالغداة والعشي أعظم من حطم السيوف في سبيل الله وإعطاء المال سحا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
3926: (مسند عبداللہ بن مسعود) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : کثرت کے ساتھ اللہ عزوجل کا ذکر کرو۔ اور کسی کو ہرگز ساتھی مت بناؤ سوائے اس شخص کے جو اللہ کے ذکر پر تمہاری مدد کرے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
3926 - "ومن مسند ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "أكثروا ذكر الله عز وجل، ولا عليك ألا تصحب أحدا إلا من أعانك على ذكر الله". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
3927: ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ذکر کی مجالس علم کو زندگی بخشنے والی جگہیں ہیں اور یہ مجالس دلوں میں خشیت خداوندی اجاگر کرتی ہیں (رواہ ابن عساکر)
3927 - عن ابن مسعود قال: "مجالس الذكر محياة للعلم، وتحدث للقلوب خشوعا". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
3928: (مسند عبداللہ بن مغفل) ابن النجار فرماتے ہیں ہمیں محمد بن محمد الحداد، عبدالحکیم بن ظفر الثقفی واحمد بن محمد الخی و طاہر بن محمد بن طاہر ابو المعالی تینوں نے خبر دی کہ ہمیں ابو محمد رزق اللہ بن عبدالوہاب التمیمی نے کہا کہ مجے میرے والد ابو الفجر عبدالوہاب نے کہا وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد عبدالعزیز سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد ابوبکر المحارث سے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد اسد سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد اسعود سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد سفیان سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد یزید سے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد عبداللہ سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا :
کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے جمع نہیں ہوتی مگر (اللہ تعالیٰ کے) ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت (خداوندی) ان کو ڈھانپ لیتی ہے۔
کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے جمع نہیں ہوتی مگر (اللہ تعالیٰ کے) ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت (خداوندی) ان کو ڈھانپ لیتی ہے۔
3928 – "ومن مسند عبد الله بن مغفل" قال ابن النجار: أنبأنا محمد بن محمد الحداد بأصبهان أنبأنا عبد الحكم بن ظفر الثقفي وأحمد بن محمد الخرقي وطاهر بن محمد بن طاهر أبو المعالي، قالوا "سمعنا أبا محمد رزق الله بن عبد الوهاب التميمي يقول: سمعت أبي أبا الفرج عبد الوهاب يقول: سمعت أبي عبد العزيز يقول: سمعت أبي أبا بكر الحارث يقول: سمعت أبي أسدا يقول: سمعت أبي الليث يقول: سمعت أبي سلمان يقول: سمعت أبي الأسود يقول: سمعت أبي سفيان يقول: سمعت أبي يزيد يقول سمعت أبي أكينة 1يقول: سمعت أبي الهيثم يقول: سمعت أبي عبد الله يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما اجتمع قوم على ذكر الله إلا حفتهم الملائكة وغشيتهم الرحمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ سے زبان کو تر رکھنا
3929: (مسند معاذ (رض) بن جبل) حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں آخری کلام جس پر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہوا یہ تھا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کون سا عمل بہتر ہے اور اللہ کے نزدیک ترین ہے ؟ فرمایا : یہ کہ تم صبح و شام اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں تر رکھو۔ (ابن النجار)
3929 – "مسند معاذ بن جبل" عن معاذ قال: آخر كلام فارقت عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قلت: يا رسول الله أي العمل خير وأقرب إلى الله؟ قال: "أن تمسي وتصبح ولسانك رطب من ذكر الله عز وجل". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ سے زبان کو تر رکھنا
3930: حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ آخری کلمہ جس کے بعد میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہوا ہے یہ ہے کہ میں نے عرض کیا کون سا عمل بہتر ہے اور اللہ اور اس کے نزدیک کرنے والا ہے ؟ فرمایا : تم صبح و شام اس حال میں گذارو کہ تمہاری زبان اللہ عزوجل کے ذکر میں تر رہے۔ (ابن النجار)
3930 - عن معاذ بن جبل، قال: آخر كلمة فارقت عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفي لفظ: أي الأعمال خير وأقرب إلى الله وإلى رسوله؟ قال "أن تمسي وتصبح ولسانك رطب من ذكر الله عز وجل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ سے زبان کو تر رکھنا
3931: حضرت معاذ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
ہر حال میں کثرت کے ساتھ اللہ عزوجل کا ذکر کرو، بیشک کوئی عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور بندہ کو دنیا و آخرت میں برائیوں سے زیادہ نجات دینے والا اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے۔ پوچھا گیا نہ قتال فی سبیل اللہ ؟ فرمایا : اگر اللہ کا ذکر نہ ہوتا تو قتال فی سبیل اللہ کا حکم بھی نہ دیا جاتا۔ اگر تمام انسانیت اللہ عزوجل کے نزدیک پر جیسا کہ اس کا حکم ہے اکٹھی ہوجائے تو اللہ پاک اپنے بندوں پر قتال فرض نہ کرتے۔ بیشک اللہ کا ذکر تم کو قتال فی سبیل اللہ سے نہیں روکتا بلکہ اس میں تمہاری مدد کرتا ہے۔ پس تم کہو : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ والحمد للہ اور کہو تبارک اللہ، یہ پانچ کلمات ایسے ہیں جن کی ہمسری کوئی شئی نہیں کرسکتی۔ انہی پر اللہ نے ملائکہ کو پیدا کیا، انہی کی وجہ سے اللہ نے آسمان کو بلند کیا، زمین کو بچھایا، انہی کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی جبلت رکھی، اور ان پر اللہ نے اپنے فرائض مقرر کیے۔
اللہ پاک اپنا ذکر صرف اسی سے قبول فرماتے ہیں جو تقوی اختیار کرے اور اپنے دل کو پاک کرے۔ پس تم اللہ کا اکرام کرو (یوں کہ) ایسی باتوں میں اللہ تم کو مشغول نہ دیکھے جن سے تم کو منع کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ کا ذکر ہم کو جہاد سے کافر نہیں ہے ؟ فرمایا : جہاد تو ذکر اللہ سے کافی نہیں ہے اور نہ جہاد ذکر اللہ کے بغیر درست ہوسکتا ۔ جہاد ذکر اللہ کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جو جہاد میں کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے۔ (کیونکہ جہاد کے دوران) ہر کلمہ ستر ہزار نیکیاں رکھتا ہے اور ہر نیکی دس گنا (ہر حال میں) ہوجاتی ہے۔ اور اللہ کے ہاں اس قدر ثواب ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔
لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا ؟ فرمایا : (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا بھی اسی در زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ذکر اللہ سب سے زیادہ آسان عمل ہے، فرمایا : اللہ کریم ہے۔ اس نے لوگوں پر سب سے زیادہ آسان شیء کو فرض کیا ہے لیکن پھر بھی لوگ کفر و ناشکری کرتے ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں نے اللہ کی رحمت (ذکر اللہ کو قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، یہ چیز مومنین پر سخت وگئی اور اللہ نے انجام کار جہاد کو مومن کے لیے بہتر کردیا اور کافروں کو لیے عذاب کردیا۔ (ابن صصری فی امالیہ عن معاذ (رض))
ہر حال میں کثرت کے ساتھ اللہ عزوجل کا ذکر کرو، بیشک کوئی عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور بندہ کو دنیا و آخرت میں برائیوں سے زیادہ نجات دینے والا اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے۔ پوچھا گیا نہ قتال فی سبیل اللہ ؟ فرمایا : اگر اللہ کا ذکر نہ ہوتا تو قتال فی سبیل اللہ کا حکم بھی نہ دیا جاتا۔ اگر تمام انسانیت اللہ عزوجل کے نزدیک پر جیسا کہ اس کا حکم ہے اکٹھی ہوجائے تو اللہ پاک اپنے بندوں پر قتال فرض نہ کرتے۔ بیشک اللہ کا ذکر تم کو قتال فی سبیل اللہ سے نہیں روکتا بلکہ اس میں تمہاری مدد کرتا ہے۔ پس تم کہو : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ والحمد للہ اور کہو تبارک اللہ، یہ پانچ کلمات ایسے ہیں جن کی ہمسری کوئی شئی نہیں کرسکتی۔ انہی پر اللہ نے ملائکہ کو پیدا کیا، انہی کی وجہ سے اللہ نے آسمان کو بلند کیا، زمین کو بچھایا، انہی کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی جبلت رکھی، اور ان پر اللہ نے اپنے فرائض مقرر کیے۔
اللہ پاک اپنا ذکر صرف اسی سے قبول فرماتے ہیں جو تقوی اختیار کرے اور اپنے دل کو پاک کرے۔ پس تم اللہ کا اکرام کرو (یوں کہ) ایسی باتوں میں اللہ تم کو مشغول نہ دیکھے جن سے تم کو منع کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ کا ذکر ہم کو جہاد سے کافر نہیں ہے ؟ فرمایا : جہاد تو ذکر اللہ سے کافی نہیں ہے اور نہ جہاد ذکر اللہ کے بغیر درست ہوسکتا ۔ جہاد ذکر اللہ کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جو جہاد میں کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے۔ (کیونکہ جہاد کے دوران) ہر کلمہ ستر ہزار نیکیاں رکھتا ہے اور ہر نیکی دس گنا (ہر حال میں) ہوجاتی ہے۔ اور اللہ کے ہاں اس قدر ثواب ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔
لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا ؟ فرمایا : (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا بھی اسی در زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ذکر اللہ سب سے زیادہ آسان عمل ہے، فرمایا : اللہ کریم ہے۔ اس نے لوگوں پر سب سے زیادہ آسان شیء کو فرض کیا ہے لیکن پھر بھی لوگ کفر و ناشکری کرتے ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں نے اللہ کی رحمت (ذکر اللہ کو قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، یہ چیز مومنین پر سخت وگئی اور اللہ نے انجام کار جہاد کو مومن کے لیے بہتر کردیا اور کافروں کو لیے عذاب کردیا۔ (ابن صصری فی امالیہ عن معاذ (رض))
3931 – "أكثروا ذكر الله عز وجل على كل حال فإنه ليس عمل أحب إلى الله تعالى، ولا أنجى لعبد من كل سيئة في الدنيا والآخرة من ذكر الله قيل ولا القتال في سبيل الله، قال لولا ذكر الله لم يؤمر بالقتال في سبيل الله ولو اجتمع الناس على ما أمروا به من ذكر الله تعالى ما كتب الله القتال على عباده، فإن ذكر الله تعالى لا يمنعكم من القتال في سبيله بل هو عون لكم على ذلك فقولوا: لا إله إلا الله، والله أكبر وقولوا سبحان الله، والحمد لله، وقولوا تبارك الله فإنهن خمس لا يعدلهن شيء، عليهن فطر الله ملائكته، ومن أجلهن رفع سماءه، ودحا أرضه، وبهن جبل إنسه وجنه، وفرض عليهم فرائضه، ولا يقبل الله ذكره إلا ممن اتقى وطهر قلبه، وأكرموا الله أن يرى منكم ما نهاكم عنه، قالوا يا رسول الله فإن ذكر الله لا يكفينا من الجهاد، قال ولا الجهاد يكفي من ذكر الله، ولا يصلح الجهاد إلا بذكر الله، وإنما الجهاد شعبة من شعب ذكر الله، وطوبى لمن أكثر في الجهاد من ذكر الله، وكل كلمة بسبعين ألف حسنة، كل حسنة بعشر، وعند الله من المزيد ما لا يحصيه غيره، قالوا يا رسول الله والنفقة قال والنفقة على حسب ذلك، قالوا: يا رسول الله إن ذكر الله هو أهون العمل قال إن الله كريم، إنما فرض على الناس أهون العمل، فأبى أكثر الناس إلا كفورا، فلما لم يقبلوا رحمة الله، أمر الله بجهادهم فاشتد ذلك على المؤمنين، وجعل الله لهم العاقبة، وجعل لهم النقمة من الكافرين". "ابن صصري في أماليه عن معاذ".
তাহকীক: