কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین قابل فخر ہیں۔
3932: (معاوی بن سفیان (رض)) خالد بن الحارث سے مروی ہے کہ ہم لوگ نصف النہار کے وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ نے ہم کو دیکھا تو فرمایا :

ہم لوگ بھی نصف النہار کے وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تمہارا پروردگار عزوجل تمہاری وجہ سے اپنے ملائکہ پر فخر فرما رہے ہیں اور کہ رہے ہیں : دیکھو ان بندوں کو یہ میرا ذکر کر رہے ہیں، پس میں نے بھی ان کے لیے جنت واجب کردی۔ (ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر)

کلام : اس روایت میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے جو ضعیف راوی ہے۔
3932 – "معاوية بن أبي سفيان" عن خالد بن الحارث قال: "كنا جلوسا في المسجد قريبا من نصف النهار، فنظر إلينا معاوية فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتانا ونحن جلوس قريبا من نصف النهار، فقال: "إن ربكم عز وجل يباهي بكم الملائكة يقول: انظروا إلى هؤلاء يذكروني فإني قد أوجبت لهم الجنة". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر" وفيه جنادة بن مروان ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین قابل فخر ہیں۔
3933: (مسند ابی الدرداء (رض)) حضرت ابی الدرداء (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو، فردون سبقت لے گئے۔ صحابہ نے عرض کیا : مفردون کون ہیں ؟ فرمایا : جو اللہ کے ذکر میں غرق وجاتے ہیں ( اور ان کو پروا نہیں ہوتی کہ لوگ ان کو کیا کہتے ہیں) ذکر ان سے ان کے گناہوں اور خطاؤں کا بوجھ اتار دیتا ہے۔ پس وہ قیامت کے دن بالکل ہلکے پھلکے ہوں گے۔ ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر۔

کلام : اس روایت میں ایک راوی محمد بن اشرس النیسا بوری ہے جو متروک ہے اور یہ روایت کرتا ہے ابراہیم بن رستم سے جو منکر الحدیث ہے جو روایت کرتا ہے عمر بن راشد سے جو ضعیف ہے۔ (ان رواۃ کی بناء پر روایت ضعیف ہے)
3933 – "مسند أبي الدرداء" عن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سيروا سبق المفردون"، قالوا: وما المفردون قال: "الذين يستهترون في ذكر الله يضع الذكر عنهم أوزارهم وخطاياهم، فيأتون

يوم القيامة خفافا". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر" وفيه محمد بن أشرس النيسابوري متروك عن إبراهيم بن رستم منكر الحديث عن عمر بن راشد ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین قابل فخر ہیں۔
3934: (نامعلوم راوی کی مسند) واصل بن مرزوق الذھلی سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے بنی مخزوم کے ایک شخص نے جس کی کنیت ابو شعل ہے اپنے دادا سے روایت کیا، ان کے دادا اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے تھے۔ وہ فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) سے دریافت فرمایا : اے معاذ ! تم ہر روز کتنا اللہ کا ذکر کرتے ہو ؟ کیا تم دس ہزار بار اللہ کا ذکر کرتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : ہاں اس قدر اللہ کا ذکر کرتا ہوں۔ فرمایا : کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں جو تجھ پر اس سے زیاد آسانوں اور دس ہزار سے زیادہ ثواب رکھتے ہوں اور مزید دس ہزار سے زیادہ ثواب رکھتے ہوں۔ تم یہ پڑھا کرو :

لا إله إلا اللہ عدد کلمات اللہ لا إله إلا اللہ عدد خلقه لا إله إلا اللہ زنة عرشه لا إله إلا اللہ ملأ سمواته لا إله إلا اللہ مثل ذلک معه والله أكبر مثل ذلک معه والحمد لله مثل ذلک معه لا يحصيه ملک ولا غيره ۔

لا الہ الا اللہ کے کلمات کے بقدر، لا الہ الا اللہ کی مخلوق کے بقدر، لا الہ الا اللہ کے عرش کے ہم وزن، لا الہ الا اللہ آسمانوں کو بھر کر، لا الہ الا اللہ اس تمام کے بقدر، اللہ اکبر اس کے بقدر اس کے ساتھ اور الحمد للہ بھی اسی قدر اس کے ساتھ۔ ابن النجار۔
3934 – "مسند من لم يسم" عن واصل بن مرزوق الذهلي حدثني رجل من بني مخزوم يكنى أبا شبل عن جده، وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "يا معاذ كم تذكر كل يوم أتذكر عشرة آلاف مرة؟ فقال كل ذلك أفعل، فقال: ألا أدلك على كلمات؛ هن أهون عليك وأكثر من عشرة آلاف، وعشرة آلاف، أن تقول: لا إله إلا الله عدد كلمات الله، لا إله إلا الله عدد خلقه، لا إله إلا الله زنة عرشه، لا إله إلا الله ملأ سمواته، لا إله إلا الله مثل ذلك معه، والله أكبر، مثل ذلك معه، والحمد لله مثل ذلك معه، لا يحصيه ملك ولا غيره". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین قابل فخر ہیں۔
3935: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے کچھ وصیت فرمائیے ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاصی کو چھوڑ دو ، یہ افضل ترین ہجرت ہے۔ فرائض کی حفاظت کرو، یہ افضل ترین جہاد ہے اللہ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرو، بیشک کل کو تم اللہ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جو اس کو ذکر اللہ کی کثرت سے زیادہ محبوب ہو۔ ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر۔
3935 - عن أم أنس أنها قالت: يا رسول الله أوصني قال: "اهجري المعاصي فإنها أفضل الهجرة وحافظي على الفرائض، فإنها أفضل الجهاد وأكثري من ذكر الله، فإنك لا تأتين الله عز وجل بشيء غدا أحب إلى الله من كثرة ذكره". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین قابل فخر ہیں۔
3936: حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) ! اسلام کو تازہ کرتے رہو لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ۔ رواہ الدیلمی۔
3936 - عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال "يا أبا هريرة: جدد الإسلام أكثر من شهادة أن لا إله إلا الله". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ محبوب ترین عمل ہے۔
3937: (مسند معاذ (رض)) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں :

اے لوگو ! (کثرت کے ساتھ) ہر حال میں اللہ کا ذکر کرو۔ کوئی عمل اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب نہیں اور ہر برائی سے نجات دینے والی دنیا و آخرت میں اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز نہیں۔ ایک کہنے والے نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ کا ذکر نہ ہوتا تو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم بھی نہ ہوتا۔ اگر لوگوں کو جو ذکر اللہ کا حکم ہے تمام انسان اس پر عمل کرتے تو اللہ کو جہاد کا حکم نازل نہ کرنا پڑتا۔ اور اللہ کا ذکر لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے نہیں روکتا۔ بلکہ ان کی مدد کرتا ہے۔ پس کہو : لا الہ الا اللہ اور کہو الحمد للہ، اور کہو : سبحان اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، واللہ اکبر، کوئی چیز ان کلمات کی برابری نہیں کرسکتی، انہی پر اللہ نے ملائکہ کو پیدا کیا، انہی کی وجہ سے اللہ نے آسمانوں کو پھاڑا، زمین کو بچھایا، جن و انس کو پیدا کیا، ان پر فرائض مقرر کیے، اور اللہ پاک اپنا ذکر اسی سے بول فرماتے ہیں جس کے قلب کو پاکیزہ کیا اور اس کو صاف ستھرا کیا۔ پس تم اللہ کا اکرام کرو بایں طور کہ وہ تم کو ایسی حالت میں نہ دیکھے جس سے اس نے منع کیا ہے۔ بیشک اللہ نے اس کا تم سے عد لیا ہے۔ ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر۔

کلام : اس میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے جو متروک ہے۔
3937 – "من مسند معاذ" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أيها الناس اذكروا الله على كل حال، فإنه ليس عمل أحب إلى الله، ولا أنجى لعبد من كل سيئة في الدنيا والآخرة من ذكر الله تعالى، فقال قائل يا رسول الله ولا الجهاد، في سبيل الله؟ فقال: لولا ذكر الله لم يأمر الله بالجهاد في سبيله، ولو أن الناس اجتمعوا على ما أمروا به من ذكر الله لما كتب الله عليهم الجهاد، وإن ذكر الله لا يمنعهم الجهاد في سبيل الله، بل هو عون لهم، فقولوا: لا إله إلا الله، وقولوا: الحمد لله، وقولوا: سبحان الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله، والله أكبر فإنهن لا يعدلهن شيء، عليهن فطر الله ملائكته، ومن أجلهن فتق الله سمواته، ودحا أرضه، وخلق جنه وإنسه، وفرض عليهم فرائضه ولا يقبل ذكره، إلا ممن طهر قلبه وأنقاه، وأكرموا الله بأن لا يرى منكم ما نهاكم عنه، فإنه قد اتخذ ذلك عندكم". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر" وفيه بكر بن خنيس متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین سبت کرنے والے ہیں۔
3938: نیز اسی طرح ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سابقین کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : کچھ لوگ گذر گئے اور کچھ لوگ رہ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر دریافت فرمایا : اللہ کے ذکر کی وجہ سے سبقت کرنے والے کہاں ہیں ؟ جو پسند کرے کہ جنت کے باغات میں چرے وہ کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے۔ ابن شاہین موسیٰ عن عبیدہ الربذی۔

کلام : موسیٰ بن عبیدہ ربذی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، جن کی وفات 153 ھ میں ہوئی، امام احمد (رح) فرماتے ہیں ان کی حدیث نہیں لی جاتی، امام نسائی (رح) وغیرہ فرماتے ہیں یہ ضعیف ہیں۔ میزان الاعتدال 4/213 ۔
3938 - أيضا بينما نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال "أين السابقون؟ فقلت مضى ناس، وتخلف ناس، فقال أين السابقون؟ بذكر الله تعالى من أحب أن يرتع في رياض الجنة فليكثر ذكر الله تعالى".

"ابن شاهين" موسى بن عبيدة الربذي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین سبت کرنے والے ہیں۔
3939: حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں : آخری کلمہ جس پر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہوا تھا یہ تھا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کون سا عمل اللہ کے ہاں محبوب ترین ہے ؟ دوسری روایت میں ہے کون سا عمل بہتر اور اللہ کے ہاں قریب ہے ؟ فرمایا : اس حال میں تری موت آئے کہ تیری زبان اللہ کے ذکر سے ربط اور تر ہو۔ ابن شاہین وابن النجار۔
3939 - عن معاذ بن جبل قال آخر كلمة فارقت عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن قلت يا رسول الله أخبرني بأحب الأعمال إلى الله وفي لفظ: أي الأعمال خير وأقرب إلى الله تعالى؟ قال "أن تموت ولسانك رطب من ذكر الله". "ابن شاهين وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر کے آداب
3940: (ابن عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : اگر تم سے یہ ہوسکے کہ جب بھی اللہ کا ذکر کرو تو پاکیزہ تو ایسا ہی کرو۔ رواہ ابن جریر۔
3940 – "ابن عمر" عن ابن عمر قال: "إن استطعت ألا تذكر الله إلا وأنت طاهر فافعل". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ اللہ کے اسماء حسنی کے بیان میں

فصل۔۔۔ اسم اعظم کے بارے میں۔
3941: ابو القاسم سعید بن محمد المودب، ابی المسعود احمد بن محمد بن المحلبی، ابو منصور محمد بن محمد بن عبدالعزیز العنکری، علی بن احمد احمد الشروطی، وابوسہل محمد، احمد بن الحسین المعدل، ابو عبداللہ محمد بن الفضل الاخباری سلف بن العوامی، محمد بن احمد، الکاتب، احمد بن القاسم، احمد بن ادریس بن احمد بن نصر ابن مزاحم، عبیدا للہ بن اسماعیل، عمرو بن ثابت عن ابیہ ثابت عن البراء بن عازب :

حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں میں نے حضرت امیر المومنین علی (رض) سے دریافت کیا : میں آپ کو اللہ کا اور اس کے رسول کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں۔ مجھے اللہ کا وہ خاص اسم اعظم بتائیے جو خصوصیت کے ساتھ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصیت کے ساتھ جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا تھا۔ اور ان کو رحمن عزوجل نے یہ نام دے کر بھیجا تھا۔

حضرت براء (رض) کی یہ بات سن کر حضرت علی (رض) ہنس دیے پھر فرمایا : اے براء جب تم چاہو کہ اللہ کو اس کے اسم اعظم کے ساتھ پکارو تو سورة حدید کی اول چھ آیات (علیم بذات الصدور) تک اور سورة حشر کی آخری چار آیات پڑھو پھر اپنے اتھ اٹھاؤ اور کہو : یا من ھو ھکذا اسالک بحق ھذہ الاسماء ان تصلی علی محمد وآل محمد۔

اے وہ ذات جو عظیم صفات کے ساتھ متصف ہے میں تجھ سے ان اسماء کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں کہ محمد اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیج (اور میری یہ دعا قبول کر) ۔

اس کے بعد جو تیرا رادہ ہو وہ کہہ۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں تری حاجت ضرور قبول کی جائے گی۔ ابو داود،

کلام : المغنی کتاب میں مولف کتاب (رح) فرماتے ہیں عمرو بن ثابت رافضی (شیعہ) ہیں جو خود اس بات کے قائل ہیں۔
3941 - قال ابن النجار أنبأنا أبو القاسم سعيد بن محمد المؤدب عن أبي المسعود أحمد بن محمد بن المحلي، ثنا أبو منصور محمد بن محمد بن عبد العزيز العكبري أنبأنا علي بن أحمد الشروطي وأبو سهل محمود قالا: حدثنا أحمد بن الحسين المعدل ثنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الأخباري سلف بن العوامي ببغداد، حدثني محمد بن أحمد الكاتب حدثني أحمد بن القاسم، ثنا أحمد بن إدريس بن أحمد بن نصر بن مزاحم، ثنا عبيد الله بن إسماعيل، عن عمرو بن ثابت عن أبيه عن البراء بن عازب، قال: "قلت لعلي يا أمير المؤمنين أسألك بالله ورسوله إلا خصصتني بأعظم ما خصك به رسول الله صلى الله عليه وسلم واختصه به جبريل وأرسله به الرحمن فضحك، ثم قال له يا براء إذا أردت أن تدعو الله عز وجل باسمه الأعظم، فاقرأ من أول سورة الحديد إلى آخر ست آيات منها، إلى {عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} وآخر سورة الحشر يعني أربع آيات، ثم ارفع يديك، فقل: يا من هو هكذا أسألك بحق هذه الأسماء أن تصلي على محمد وآل محمد، وأن تفعل بي كذا وكذا مما تريد فو الذي لا إله غيره لتقبلن بحاجتك إن شاء الله "قال في المغني عمرو بن ثابت رافضي تركوه قاله. "د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسم اعظم کے بارے میں۔
3942: (مسند انس (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا (نماز کے بعد) اس نے دعا مانگی :

اللہم انی اسالک بان لک الحمد لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک المنان بدیع السموت والارض، یا ذالجلال والاکرم یا حی یا قویم۔ اسالک الجنۃ واعوذبک من النار۔ (ابن عساکر۔

اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس طفیل کہ تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے ذوالجلال والاکرام ! اے حی ! اے قیوم ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

اس شخص کی یہ دعا سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے اللہ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے۔ (بخاری و مسلم کے الفاظ ہیں)

قریب تھا کہ یہ شخص اللہ کے اس نام کے ساتھ پکارتا جس کے ساتھ جب بھی کوئی دعا کی گئی قبول ہوئی۔ جب بھی کوئی سوال کیا گیا پورا ہوا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک الحاکم، بخاری و مسلم ، السنن لسعید بن منصور) ۔
3942 - مسند أنس عن أنس أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ورجل يصلي، ثم دعا: "اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، المنان بديع السموات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم زاد "كر" أسألك الجنة وأعوذ بك من النار، فقال النبي صلى الله عليه وسلم، "لقد دعا الله باسمه العظيم"، ولفظ "ق" "لقد كاد يدعو الله باسمه الذي دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى". "ش حم د ت ن هـ حب ك ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسم اعظم کے بارے میں۔
3943: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی عیاش کے پاس سے گذرے وہ نماز پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔

اللہم ان لک الحمد لا الہ الا انت المنان بدیع السموات والارض ذا الجلال والاکرام۔

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : جانتے ہو اس نے کس چیز کے ساتھ دعا کی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے اللہ کے اس نام کے ساتھ دعا مانگی ہے جس کے ساتھ دعا کی گئی تو قبول ہوئی اور جب سوال کیا گیا تو پورا ہوا۔ (رواہ ابن عساکر)
3943 - عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم، مر بأبي عياش1 الزرقي وهو يصلي ويقول: "اللهم إن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تدرون ما دعا به الرجل؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: لقد دعا الله باسمه الذي دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسم اعظم کے بارے میں۔
3944: (ابو طلحہ (رض)) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صحابی کے پاس تشریف لائے وہ یہ دعا مانگ رہے تھے : اللہم انی اسئلک بان لک الحمد، لا الہ الا انت، الحنان المنان بدیع السموت والارض ذو الجلال والاکرام۔

آپ نے اس کو فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس نام کے ساتھ مانگا ہے جس کے ساتھ جب بھی کوئی دعا کی گئی قبول ہوئی اور جب بھی اس کے ساتھ سوال کیا گیا پورا ہوا۔ الکبیر للطبرانی عن ابی طلحہ (رض) ۔
3944 – "أبو طلحة" أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، على رجل وهو يقول "اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت، الحنان المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والاكرام، فقال "لقد سألت الله بالإسم الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى". "طب عن أبي طلحة".1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسم اعظم کے بارے میں۔
3945: محمد (رح) بن الحنیفہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت براء (رض) بن عازب نے حضرت علی (رض) ابن ابی طالب سے سوال کیا میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں مجھے خصوصیت کے ساتھ وہ افضل ترین چیز بتائیں جو خصوصیت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہو۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے خصوصیت کے ساتھ بتائی ہو۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) کو اللہ نے وہ چیز دے کر بھیجا ہو۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے براء جب تم چاہو کہ اللہ کے اس کے اسم اعظم کے ساتھ پکارو تو پہلے سورة حدید کی پہلی (چھ اور چار) آخر سورة حشر آیات تلاوت پھر کہو : اے وہ ذات جو ان صفات والی ہے اور کوئی ایسی نہیں ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد پر درود بھیج اور میرا یہ کام کردے۔ اللہ کی قسم ! اے براء اگر اس تو مجھ پر بھی بد دعا کرے گا مجھے بھی دھنسا دیا جائے گا۔ ابو علی عبدالرحمن بن محمد النیسا بوری فی فوائدہ۔
3945 - عن محمد بن الحنفية أن البراء بن عازب، قال لعلي بن أبي طالب أسألك بالله إلا ما خصصتني بأفضل ما خصك به رسول الله صلى الله عليه وسلم، مما خصه به جبريل، مما بعث إليه به الرحمن، قال:

"يا براء إذا أردت أن تدعو الله باسمه الأعظم، فاقرأ من أول سورة الحديد عشر آيات وآخر الحشر، ثم قل يا من هو هكذا وليس هكذا شيء غيره أسألك أن تصلي على محمد وأن تفعل بي كذا وكذا فوالله يا براء لو دعوت علي لخسف بي". "أبو علي عبد الرحمن بن محمد النيسابوري في فوائده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کے بیان میں۔
3946: (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! جانتے ہو لاحول ولا قوۃ الا باللہ کی تفسیر کیا ہے ؟ معاذ (رض) نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

لاحول عن معصیۃ اللہ والا بقوۃ اللہ، ولا قوۃ علی طاعۃ اللہ الا بعون اللہ۔

اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی قوت کے ساتھ ممکن ہے اور اللہ کی مدد کے ساتھ ممکن ہے۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک حضرت معاذ (رض) کے شانے پر مار کر فرمایا : اے معاذ ! اسی طرح میرے محبوب (فرشتے حضرت) جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ سے روایت کرکے مجھے بتایا ہے (رواہ الدیلمی)

اس روایت کی سند درست ہے۔
3946 – "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، "يا معاذ تدري ما تفسير لا حول ولا قوة إلا بالله؟ قال: الله ورسوله أعلم قال: لا حول عن معصية الله إلا بقوة الله، ولا قوة على طاعة الله إلا بعون الله، ثم ضرب بيده على كتف معاذ، فقال: يا معاذ هكذا حدثني حبيبي جبريل عن رب العزة". "الديلمي" وسنده لا بأس به.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کے بیان میں۔
3947: ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور بیٹھ گیا اور میں نے لاحول ولا قوۃ الا باللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تجھے اس کی تفسیر نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی معصیت سے اجتناب صرف اللہ کی حفاظت سے ہوسکتا ہے اور اللہ کی اطاعت کی قوت صرف اللہ کی مدد کے ساتھ ممکن ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے شانے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اے ام عبد مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے یونہی خبر دی ہے۔ ابن النجار۔
3947 - عن ابن مسعود، قال دخلت المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس فسلمت وجلست، فقلت لا حول ولا قوة إلا بالله، فقال لي صلى الله عليه وسلم، "ألا أخبرك بتفسيرها؟ قلت بلى يا رسول الله قال: لا حول عن معصية الله إلا بعصمة الله، ولا قوة على طاعة الله إلا بعون الله وضرب منكبي وقال هكذا أخبرني جبريل يا أم عبد". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کے بیان میں۔
3948: (ابو ایوب الانصاری (رض)) حضرت ابو ایوب (رض) سے مروی ہے کہ جس رات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کو لے کر حضرت ابراہیم خلیل الرحمن (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا : یہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! اپنی امت کو کہو کہ جنت میں کثرت کے ساتھ درخت لگا لیں، جنت کی زمین بہت وسیع ہے اور اس کی مٹی بھی بہت عمدہ ہے۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کیا : جنت کے درخت کیا ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : لا حول ولا قوۃ الا باللہ، ابو نعیم وابن النجار۔
3948 – "أبو أيوب الأنصاري" عن أبي أيوب "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به مر به جبريل على إبراهيم خليل الرحمن، فقال إبراهيم: لجبريل من هذا الذي معك؟ فقال جبريل: هذا محمد فقال إبراهيم يا محمد مر أمتك، فليكثروا من غراس الجنة، فإن أرضها واسعة، وتربتها طيبة، فقال محمد لإبراهيم وما غراس الجنة، فقال إبراهيم: لا حول ولا قوة إلا بالله" "أبو نعيم وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کے بیان میں۔
3949: (ابو ذر (رض)) یا ابا ذر ! کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتاؤں ؟ وہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔ (الدار قطنی، مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، الرویانی، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی عن ابی ذر (رض) ، مسند احمد، الکبیر للطبرانی عن ابی امامہ (رض))
3949 – "أبو ذر" "يا أبا ذر ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟ لا حول ولا قوة إلا بالله" "ط حم ن هـ ع والروياني حب طب هب عن أبي ذر" "حم طب عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کے بیان میں۔
3950: حضرت ابو ذر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے میرے دوست نے وصیت کی تھی میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا کروں۔ (ابن النجار)

نوٹ : احادیث جلد اول کے تیسرے باب میں 1960، 2964، 1974 اور 1974 نمبرات پر گذر چکی ہیں۔
3950 - عن أبي ذر قال أوصاني خليلي، أن أقول: "لا حول ولا قوة إلا بالله". "ابن النجار".1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ تسبیح کے بیان میں
3951: (ازمسند ابی بکر صدیق (رض))

میمون بن مہران (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں ایک بڑے پروں والا کوا لایا گیا، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کوئی بھی شکار شکار کیا جاتا ہے یا کوئی بھی درخت کاٹا جاتا ہے تو صرف ان کے خدا کی تسبیح چھوڑ دینے کی وجہ سے (مصنف ابن ابی شیبہ، الزھد للامام احمد) ۔
3951 – "مسند الصديق رضي الله عنه" عن ميمون بن مهران قال: أتى أبو بكر بغراب وافر الجناحين، فقال: "ما صيد من صيد ولا عضد من شجرة إلا بما ضيعت من التسبيح". "ش حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক: