কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح کے بیان میں
3952: (ازمسند عمر (رض)) مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے دو آدمیوں کو بطور سزا کے کوڑے) مارنے کا حکم دیا۔ ان میں سے ایک بسم اللہ کہنے لگا اور دوسرا سبحان اللہ۔ حضرت عمر (رض) نے مارنے والے کو فرمایا :

افسوس تجھ پر ! تسبیح کرنے والے پر (ہاتھ) ہلکا رکھ بیشک تسبیح صرف مومن ہی کے دل میں ٹھہر سکتی ہے۔ شعب الایمان۔
3952 – "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر أنه أمر بضرب رجلين فجعل أحدهما يقول بسم الله، والآخر يقول سبحان الله فقال: "ويحك خفف عن المسبح، فإن التسبيح لا يستقر إلا في قلب مؤمن". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح کے بیان میں
3953: سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو دیکھا کہ تسبیح (کے دانوں) پر تسبیح کررہا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کے بجائے اس کے لیے یہ بہتر تھا کہ وہ ان کلمات کو پڑھ لیتا۔

سبحان اللہ ملء السموت وملء الارض وملء ما شاء من شیء بعد۔

الحمد للہ ملء السموات وملء الارض وملء ماشاء من شیء بعد۔

اللہ اکبر ملء السموات والارض و ملء ماشاء من شیء بعد۔

سبحان اللہ، آسمانوں، زمین اور ان کے بعد جو رب چاہے سب کے بقدر،

الحمد اللہ، آسمانوں، زمین اور ان کے بعد جو رب چاہے سب کے بقدر،

اللہ اکبر آسمانوں، زمین اور ان کے بعد جو رب چاہے سب کے بقدر۔

اللہ اکبر آسمانوں، زمین اور ان کے بعد جو رب چاہے سب کے بقدر۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
3953 - عن سعيد بن جبير قال: "رأى عمر بن الخطاب إنسانا يسبح بمسابح معه فقال عمر إنما يجزيه من ذلك أن يقول سبحان الله ملء السموات وملء الأرض وملء ما شاء من شيء بعد ويقول الحمد لله ملء السموات وملء الأرض وملء ما شاء من شيء بعد، ويقول: الله أكبر ملء السموات والأرض وملء ما شاء من شيء بعد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسبیح کے بیان میں
3954: حسین بن خیر بن حوثرہ بن یعیش الموفق بن ابی النعمان الطائی الحمصی، اپنی اس سند کے ساتھ، ابو القاسم عبدالرحمن بن یحییٰ بن ابی النفاقش ، عبداللہ بن عبدالجبار الخبائری، الحکم بن عبداللہ بن خطاف، الزیدی، ابی واقد روایت کرتے ہیں :

جب حضرت عمر بن خطاب (رض) (ملک شام کے سفر میں) مقام جابیہ پر اترے تو آپ (رض) کے پاس قبیلہ بنی ثعلب کا ایک شخص حاضر خدمت ہوا۔ جس کا نام روح بن حبیب تھا۔ وہ اپنے ساتھ ایک پنجرہ میں شیر کو قید کرکے لایا تھا۔ اس نے وہ پنجرہ حضرت عمر (رض) کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اس کے ناب (نوکیلے دانت) اور پنجے توڑ دیے ہیں ؟ لوگوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے الحمد للہ پڑھا اور فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے جب بھی کوئی جانور اپنی تسبیح میں کمی کردیتا ہے اس کو شکار کرلیا جاتا ہے۔

پھر آپ (رض) نے شیر کو حکم دیا : اے قسورۃ ! (شیر) اللہ کی عبادت کر۔ پھر آپ (رض) نے اس کو آزاد کردیا۔

کلام : اس روایت میں حکم اور ان سے روایت کرنے والے عبداللہ بن عبدالجبار الخفائری دونوں ضعیف راوی ہیں۔ جبکہ ان سے قبل مذکور شروع کے دو راوی مجہول ہیں۔
3954 - عن الحسين بن خير بن حوثرة بن يعيش الموفق بن أبي النعمان الطائي الحمصي، حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن يحيى بن أبي النقاش حدثنا عبد الله بن عبد الجبار الخبائري، ثنا الحكم بن عبد الله بن خطاف ثنا الزهري عن أبي واقد، قال "لما نزل عمر بن الخطاب بالجابية أتاه رجل من بني تغلب يقال له روح بن حبيب بأسد في تابوت حتى وضعه بين يديه، فقال هل كسرتم له نابا أو مخلبا؟ فقالوا: لا فقال الحمد لله سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما صيد مصيد إلا بنقص في تسبيحه، يا قسورة اعبد الله، ثم خلي سبيله"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3955: اسی مذکورہ مسند کے ساتھ مروی ہے حضرت ابو واقد (رض) فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر مجلس تھا، آپ (رض) کی خدمت میں ایک کوا لایا گیا۔ آپ (رض) نے اس کو سالم پروں کے ساتھ دیکھا تو الحمد للہ پڑھا۔ پھر فرمایا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔

کوئی شکار شکار نہیں ہوتا مگر تسبیح میں کمی کی وجہ سے، ورنہ اللہ پاک (اگر وہ تسبیح کرتا ہے تو ) اس کے ناب (نوکیلے دانت یا پنجے وغیرہ) اگا دیتے ہیں اور ایک فرشتہ اس پر نگراں مقرر کردیتے ہیں جو اس کی تسبیح (روز و شب) شمار کرتا رہتا ہے۔ حتی کہ قیامت کو وہ (اپنی تسبیحات کے ساتھ) پیش ہو۔ اور نہ کوئی ریشہ دار درخت کاٹا جاتا ہے۔ (مگر اس کے تسبیح چھوڑ دینے کی وجہ سے) اور اکثر و بیشتر اللہ پاک معاف کرتے رہتے ہیں۔

پھر آپ (رض) نے فرمایا اے کوے ! اللہ کی عبادت کیا کر ! پھر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ رواہ ابن عساکر۔

کلام : یہ روایت منکر (ناقابل اعتبار ہے) کیونکہ روایت میں شروع کے مذکور دو راوی مجہول الحال ہیں اور ان کے بعد کے دو راوی حکم بن عبداللہ اور الخبائری ضعیف ہیں۔
3955 - وبه عن أبي واقد قال: بينا أنا عند أبي بكر، إذا أتي بغراب، فلما رآه بجناحين حمد الله، ثم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما صيد مصيد إلا بنقص من تسبيح، إلا أنبت الله نابه وإلا وكل به ملكا يحصي تسبيحها حتى يأتي يوم القيامة ولا عضد من شجرة وشيجة، وما عفا الله أكثر، يا غراب اعبد الله، ثم خلى سبيله". "كر" وقال هذا حديث منكر والحكم بن عبد الله بن خطاف ضعيف والخبائري ضعيف والرجلان اللذان قبلهما حمصيان مجهولان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3956: (حضرت علی (رض)) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم کو سبحان اللہ اور لا الہ الا اللہ کا تو علم ہے لیکن الحمد للہ کیا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ ایسا کلمہ ہے جو اللہ پاک نے اپنے لیے پسند کرلیا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس کو خوب کہا جائے۔
3956 – "علي" عن ابن عباس قال: "قال عمر قد علمنا سبحان الله ولا إله إلا الله فما الحمد لله؟ فقال علي: كلمة رضيها الله لنفسه وأحب أن تقال". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3957: ابی ظبیان (رح) سے مروی ہے کہ ابن الکواء (رح) نے حضرت علی (رض) سے سبحان اللہ کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے جواب میں فرمایا : یہ ایسا کلمہ ہے جس پر اللہ پاک اپنے لیے راضی ہوگئے ہیں اور اس میں ہر برائی سے اللہ کی پاکی کا بیان ہے۔ (العسکری فی الامثال)
3957 - عن أبي ظبيان أن ابن الكواء سأل عليا عن سبحان الله، فقال: "كلمة رضيها الله لنفسه تنزيه الله عن السوء". "العسكري في الأمثال".1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3958: ابی ظبیان (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن الکواء (رح) نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا : لا الہ الا اللہ اور الحمد للہ کو تو ہم جان گئے باقی سبحان اللہ کیا شے ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا یہ ایسا کلمہ ہے جو اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ہے۔ (ابو الحسن البکائی)
3958 - عن أبي ظبيان قال: قال ابن الكواء لعلي: "لا إله إلا الله والحمد لله قد عرفناهما، فما سبحان الله؟ قال: كلمة رضيها الله لنفسه". "أبو الحسن البكاي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3959: (سعد (رض)) حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ دن میں ہزار نیکیاں روز کرلیا کرے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی (دن میں) ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ؟ فرمایا : ہر روز سو بار سبحان اللہ (وغیرہ) کہہ لیا کرے تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی۔ مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، عبد بن حمید، مسلم، ترمذی، ابن حبان، ابو نعیم۔
3959 – "سعد" عن سعد قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "أيعجز أحدكم أن يكسب في اليوم ألف حسنة؟ قالوا: وكيف يكسب أحدنا في اليوم ألف حسنة؟ قال: يسبح الله في اليوم مائة تسبيحة فيكتب له بها ألف حسنة، ويحط عنه بها ألف خطيئة". "ش حم وعبد بن حميد م ت حب وأبو نعيم". صحيح مسلم كتاب الذكر رقم/2698/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3960: (انس بن مالک (رض)) حضرت اعمش (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلا جا رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ایک درخت کے پاس سے ہوا، جس کے پتے سوکھ چکے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لاٹھی جو آپ کے ساتھ تھی درخت پر ماری، جس سے درخت کے پتے گرنے لگے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

سبحان اللہ، الحمد للہ، اور لا الہ الا اللہ، گناہوں کو ایسے گراتے ہیں جیسے یہ درخت پتوں کو گرا رہا ہے۔ ترمذی۔
3960 – "أنس بن مالك" عن الأعمش عن أنس، قال: "خرجت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمر بشجرة قد يبس ورقها فضربها النبي صلى الله عليه وسلم بعصا كانت معه فتساقط ورقها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم "إن سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر يساقطن الذنوب كما تساقط هذه الشجرة ورقها". "ت". كتاب الدعوات رقم/3527/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3961: (عمار (رض)) حضرت عمار (رض) سے مروی ہے کہ یہ کتنا اچھا ہے کہ بندہ یہ کلمہ کہے : سبحان اللہ عدد کل ما خلق اللہ۔ اللہ کی تمام مخلوقات کے بقدر سبحان اللہ۔ رواہ ابن عساکر۔
3961 – "عمار" عن عمار قال "ما أحسن أن يقول العبد: سبحان الله عدد كل ما خلق الله فيثبت كما قال". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ میں مصائب سے حفاظت
3962: (ابو امامۃ الباہلی) حضرت ابو اماۃ الباہلی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حال میں دیکھا کہ میرے (کچھ پڑھنے کی وجہ سے) ہونٹ ہل رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں ہونٹ ہلا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہ اہوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ وہ اس سے زیادہ ثواب والی ہو کہ اگر تم رات بھر ذکر کرتے رہو حتی کہ دن کردو اور دن بھر ذکر کرتے رہو حتی کہ رات کردو۔ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے نبی ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یوں کہو :

الحمد للہ عدد ما خلق والحمد اللہ ملء خلق والحمد للہ عدد ما فی السموات والارض

والحمد للہ عدد ما احصی کتابہ والحمد للہ عدد کل شیء والحمد للہ ملء کل شیء

سبحان اللہ عدد ما خلق و سبحان اللہ ملء ما خلق و سبحان اللہ عدد ما فی السموت والارض

و سبحان اللہ عدد ما اصحی کتابہ و سبحان اللہ عدد کل شیء و سبحان اللہ ملء کل شیء۔

حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں یہ کلمات اپنے بعد آنے والوں کو بھی سکھاؤں۔ (الرویانی، ابن عساکر) ۔
3962 – "أبو أمامة الباهلي" عن أبي أمامة الباهلي، قال: "رآني النبي صلى الله عليه وسلم، وأنا أحرك شفتي فقال "لم تحرك شفتيك"؟ فقلت أذكر الله تعالى، قال "أفلا أدلك على شيء هو أكبر من ذكرك الليل مع النهار والنهار مع الليل"؟ قلت: بلى يا نبي الله، قال "قل الحمد لله عدد ما خلق والحمد لله ملء ما خلق، والحمد لله عدد ما في السموات والأرض والحمد لله عدد ما أحصى كتابه، والحمد لله عدد كل شيء، والحمد لله ملء كل شيء، سبحان الله عدد كل شيء وسبحان الله عدد ما خلق وسبحان الله ملء ما خلق، وسبحان الله عدد ما في السموات والأرض وسبحان الله عدد ما أحصى كتابه وسبحان الله عدد كل شيء وسبحان الله ملء كل شيء"، قال أبو أمامة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أمرني أن أعلمهن عقبي من بعدي". "الروياني كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب استغفار اور تعوذ کے بیان میں۔

استغفار۔
3963: (ازمسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو استغفر اللہ واتوب الیہ کہتے سنا تو فرمایا : افسوس تجھ پر ان کے ساتھ ان کی بہن کو بھی ملا۔ فاغفر لی و تب علی ۔ احمد فی الزھد، ھناد۔

فائدہ : استغفر اللہ واتوبہ الیہ کا معنی ہے اے اللہ ! میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں لہٰذا اس کے بعد یہ کہنا ضروری ہے۔ فاغفرلی و تب علی۔ میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما۔
3963 – "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر أنه سمع رجلا يقول: "أستغفر الله وأتوب إليه، فقال: ويحك اتبعها أختها فاغفر لي وتب علي". "حم في الزهد وهناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار۔
3964: (علی (رض)) علی بن ربیعہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں مجھے حضرت علی (رض) نے اپنے پیچھے سواری پر سوار کرایا اور حرہ کی جانب مجھے لے چلے ۔ (راستے میں) اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھا کر کہنے لگے :

اللہم اغفر لی ذنوبی انہ لا یغفر الذنوب احد غیرک۔

اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما، بیشک تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔

پھر حضرت علی (رض) میری طرف متوجہ ہوئے اور ہنسنے لگے۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ نے اپنے رب سے استغفار کیا پھر میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مجھے (ایک مرتبہ) اپنے پیچھے سوار کرایا پھر حرہ کی طرف لے چلے۔ پھر آسمان کی طرف سر اقدس اٹھا کر یہی دعا کی :

اللہم اغفر لی ذنوبی فانہ لا یغفر الزنوب احد غیرک۔

پھر میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگے ؟ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اپنے رب کے ہنسنے کی وجہ سے ہنس پڑا ، رب تعالیٰ اپنے بندے پر تعجب (اور فخر) کرتے وئے ہنستے ہیں کہ بندہ جانتا ہے اس کے سوا کوئی اس کے گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن منیع۔

یہ حدیث صحیح ہے۔
3964 – "علي رضي الله عنه" عن علي بن ربيعة، قال: "حملني علي خلفه، ثم سار بي إلى جانب الحرة، ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: اللهم اغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك، ثم التفت إلي فضحك، فقلت: يا أمير المؤمنين استغفارك ربك والتفاتك إلي تضحك؟ فقال حملني رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه، ثم سار بي إلى جانب الحرة ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: "اللهم اغفر لي ذنوبي فإنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك"، ثم التفت إلي فضحك، فقلت: يا رسول الله استغفارك ربك والتفاتك إلي تضحك؟ قال: "ضحكت لضحك ربي لعجبه لعبده، إنه يعلم أنه لا يغفر الذنوب أحد غيره" "ش وابن منيع" وصحح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3965: شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا :

مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو نجات کے باوجود ہلاک ہوجائے۔ پوچھا گیا نجات کیا ہے ؟ فرمایا : استغفار۔ الدینوری۔
3965 - عن الشعبي قال قال علي: "عجبت لمن يهلك والنجاة معه قيل له ما هي؟ قال: الاستغفار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3966: " الفرج بعد الشدۃ " کتاب میں ابو علی التنوخی فرماتے ہیں : ایوب بن عباس بن حسن جن کے والد عباس خلیفہ مکتفی کے اہواز پر وزیر تھے فرماتے ہیں ہم سے علی بن ہمام نے ایک سند کے ساتھ جس کو میں بھول گیا بیان کیا کہ ایک دیہاتی شخص نے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے زندگی کی تنگی، مال کی کمی اور اہل و عیال کی کثرت کی شکایت کی۔ حضرت علی (رض) نے اس کو فرمایا : تم استغفار کو لازم پکڑو۔ کیونکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں :

استغفروا ربکم انہ کان غفارا :

اپنے رب سے استغفار کرو بیشک وہ مغفرت کرنے والا ہے۔

چنانچہ (اعرابی چلا گیا اور کچھ دنوں بعد اعرابی واپس آیا اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! اللہ سے بہت استغفار کیا لیکن میں) جن حالات کا شکار ہوں ان سے خلاصی کی صورت نہ نکلی۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : شاید تم نے اچھی طرح استغفار نہ کیا ہوگا ؟ اعرابی نے عرض کیا : پھر آپ ہی مجھے سکھا دیجیے ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : اپنی نیت خالص رکھو اپنے پروردگار کی فرمان برداری کرو اور یوں کہو :

اللهم إني أستغفرک من کل ذنب قوي عليه بدني بعافيتك أو نالته قدرتي بفضل نعمتک أو بسطت إليه يدي بسابغ رزقک أو اتکلت فيه عند خوفي منک علی أناتک أو وثقت بحلمک أو عولت فيه علی کرم عفوک اللهم إني أستغفرک من کل ذنب خنت فيه أمانتي أو بخست فيه نفسي أو قدمت فيه لذاتي أو آثرت فيه شهواتي أو سعيت فيه لغيري أو استغريت فيه من تبعني أو غلبت فيه بفضل حيلتي إذا حلت فيه عليك مولاي فلم تغلبني ( فلم تغلبني أي لم تنتقم مني مع أنک تبغض معصيتي و قادر علی الانتقام مني ) علی فعلي إذ كنت سبحانک کا رها لمعصيتي لکن سبقک علمک في اختياري واستعمالي مرادي وإيثاري فحلمت عني فلم تدخلني فيه جبرا ولم تحملني عليه قهرا ولم تظلمني شيئا يا أرحم الراحمين يا صاحبي عند شدتي يا مونسي في وحدتي يا حافظي في نعمتي يا ولي في نفسي يا کاشف کر بتي يا مستمع دعوتي يا راحم عبرتي يا مقيل عثرتي يا إلهي بالتحقيق يا ركني الوثيق يا جاري اللصيق يا مولاي الشفيق يا رب البيت العتيق أخرجني من حلق المضيق إلى سعة الطريق وفرج من عندک قريب وثيق واکشف عني كل شدة وضيق واکفني ما أطيق وما لا أطيق اللهم فرج عني كل هم وغم وأخرجني من کل حزن وکرب يا فارج الهم وکاشف الغم ويا منزل القطر ويا مجيب دعوة المضطرين يا رحمن الدنيا والآخرة ورحيمهما صل علی خيرتک من خلقک محمد النبي صلی اللہ عليه و سلم وآله الطيبين الطاهرين وفرج عني ما قد ضاق به صدري وعيل منه صبري وقلت فيه حيلتي وضعفت له قوتي يا کاشف کل ضر وبلية ويا عالم کل سر وخفية يا أرحم الراحمين أفوض أمري إلى اللہ إن اللہ بصير بالعباد وما توفيقي إلا بالله عليه توکلت وهو رب العرش العظيم۔

ترجمہ : اے اللہ ! میں تیرے حضور معافی مانگتا ہوں اپنے ہر گناہ سے، آپ کی عافیت کی وجہ سے جس پر میرا بدن قوی ہوگیا۔ تیری نعمت کے سبب میں گناہ پر قادر ہوا، تیری نعمت کی کثرت کی وجہ سے میں گناہ کی طرف بڑھا، گناہ کے وقت تیرے خوف کو بھول کر تیری امید پر بھروسہ کر بیٹھا، تیری بردباری پر بھروسہ کرلیا، تیری معافی اور درگذر کی تاویل کرکے گناہ میں غرق ہوگیا۔ اے اللہ ! میں اپنے ہر گناہ سے تیری جناب میں معافی مانگتا ہوں۔ جس میں میں نے اپنی امانت میں خیانت کا ارتکاب کیا، اپنے نفس پر ظلم کیا، اپنی لذتوں کو آگے رکھا، اپنی شہوتوں کو ترجیح دی، دوسرے کے لیے کوشش کی (اور تیری نافرمانی ہوئی) اپنے پیچھے چلنے والوں کی وجہ سے گناہ کے دھوکے میں پڑگیا، حیلے بہانوں کے ساتھ گناہوں میں پڑگیا، لیکن تو نے مجھے پھر بھی اپنے عذاب میں مغلوب نہیں کیا، باوجود اس کے کہ اے پروردگار تو میرے گناہ کو ناپسند کرتا تھا۔ تیرے علم میں پہلے سے تھا کہ میں گناہ کے راستے کو اختیار کروں گا اور بری راہ کو ترجیح دوں گا۔ لیکن تو نے پھر بھی میرے ساتھ بردباری کی۔ اور یقیناً تو نے مجھے جبرا گناہ کی دلدل میں نہیں ڈالا، نہ مجھے زبردستی اس پر مجبور کیا اور نہ ذرہ بھر بھی ظلم کیا اے ارحم الراحمین ! اے ہر مصیبت کے وقت کے ساتھی ! اے تنہائی کے انیس ! اے نعمتوں کے محافظ ! اے میرے اندر کے دوست ! اے کرب و مصیبت کو دور کرنے والے ! اے میری پکار کو سننے والے ! اے میرے آنسوؤں پر رحم کھانے والے ! اے میری لغزش کو درگذر کرنے والے ! اے میرے برحق مولی ! اے میرے مضبوط پشت پناہ ! اے میرے قریب ترین اور میرے اندر جاری ! اے محبت کرنے والے آ۔

اے بیت عتیق کے پروردگار ! مجھے تنگی کے حلقہ سے کشادگی کے راستے کی طرف نکال، اپنے ہاں سے جلد کشادگی و فراخی فرما۔ ہر تنگی و سختی کو مجھ سے دور فرما، ہر چیز میں میری کفایت فرما، میری طاقت میں ہو یا نہیں، اے اللہ ! مجھ سے ہر رنج اور غم کو کھول دے۔ اے بارش برسانے والے ! اے مجبوروں کی پکار سننے والے ! اے دنیا و آخرت کے رحمن و رحیم صلوۃ وسلام نازل فرما اپنی مخلوق کے بہترین شخص حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ کی پاکیزہ آل پر۔ اور جس تنگی میں میرا دل مضطر ہے جس پر میرے صبر کا پیمانہ چھلک رہا ہے، جس میں میری تدبیر کمزور پڑگئی ہے میری قوت جواب دے گئی ہے اس مصیبت و تنگی کو مجھ سے ختم فرما۔ اے ہر نقصان، آزمائش کو ختم کرنے والے ! اے ہر راز و پوشیدہ کو جاننے والے ! یا ارحم الراحمین ! میں اپنا معاملہ تیرے سپرد کرتا ہوں۔ بیشک اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ اور میری توفیق اللہ ہی کے ساتھ ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے۔

اعرابی کہتے ہیں : میں نے اس دعا کو کئی مرتبہ پڑا اور اللہ نے مجھ سے ہر طرح کے غم اور تنگی و مشکل کو ختم کردیا، رزق کو کشادہ کردیا اور مشقت و پریشانی بالکل زائل فرما دی۔ ابن النجار۔
3966 - قال أبو علي التنوخي في كتاب الفرج بعد الشدة حدثني أيوب بن العباس بن الحسن الذي كان أبوه وزيرا للمكتفي من حفظه بالأهواز، ثنا أبو علي بن همام بإسناد لست أحفظه، أن أعرابيا شكى إلى علي بن أبي طالب كرم الله وجهه شدة لحقته، وضيقا في المال وكثرة من العيال، فقال له: "عليك بالاستغفار، فإن الله عز وجل يقول: {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً} الآيات فعاد إليه، فقال: يا أمير المؤمنين إني قد استغفرت الله كثيرا وما أرى فرجا مما أنا فيه، فقال: لعلك لا تحسن أن تستغفر، قال: علمني، قال: أخلص نيتك، وأطع ربك، وقل: اللهم إني أستغفرك من كل ذنب قوي عليه بدني بعافيتك، أو نالته قدرتي بفضل نعمتك، أو بسطت إليه يدي بسابغ رزقك، أو اتكلت فيه عند خوفي منك على أناتك، أو وثقت بحلمك أو عولت فيه على كرم عفوك، اللهم إني أستغفرك من كل ذنب خنت فيه أمانتي، أو بخست فيه نفسي، أو قدمت فيه لذاتي، أو آثرت فيه شهواتي، أو سعيت فيه لغيري، أو استغريت فيه من تبعني أو غلبت فيه بفضل حيلتي إذا حلت فيه عليك مولاي فلم تغلبني على فعلي إذ كنت سبحانك كارها لمعصيتي، لكن سبقك علمك في اختياري واستعمالي مرادي، وإيثاري فحلمت عني فلم تدخلني فيه جبرا ولم تحملني عليه قهرا، ولم تظلمني شيئا، يا أرحم الراحمين، يا صاحبي عند شدتي، يا مؤنسي في وحدتي، يا حافظي في نعمتي، يا ولي في نفسي يا كاشف كربتي، يا مستمع دعوتي، يا راحم عبرتي، يا مقيل عثرتي يا إلهي بالتحقيق، يا ركني الوثيق، يا جاري اللصيق يا مولاي الشفيق يا رب البيت العتيق، أخرجني من حلق المضيق إلى سعة الطريق وفرج من عندك قريب وثيق، واكشف عني كل شدة وضيق واكفني ما أطيق وما لا أطيق، اللهم فرج عني كل هم وغم وأخرجني من كل حزن وكرب يا فارج الهم وكاشف الغم ويا منزل القطر ويا مجيب دعوة المضطرين يا رحمن الدنيا والآخرة ورحيمهما، صل على خيرتك من خلقك محمد النبي صلى الله عليه وسلم وآله الطيبين الطاهرين، وفرج عني ما قد ضاق به صدري وعيل منه صبري وقلت فيه حيلتي وضعفت له قوتي، يا كاشف كل ضر وبلية ويا عالم كل سر وخفية يا أرحم الراحمين أفوض أمري إلى الله، إن الله بصير بالعباد، وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت وهو رب العرش العظيم، قال الأعرابي: فاستغفرت بذلك مرارا فكشف الله عني الغم والضيق ووسع علي في الرزق وأزال المحنة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3967: (انس بن مالک) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : استغفار کرو۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : ہم استغفار کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ستر دفعہ پورا کرو۔ صحابہ (رض) فرماتے ہیں ہم نے (ستر دفعہ) پورا کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے ستر دفعہ استغفار کیا اس کے سات سو گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ تباہ برباد ہوا جو ایک دن و رات میں سات س و گناہ کرے۔ (ابن النجار)
3967 – "أنس بن مالك" عن أنس قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "استغفروا" قالوا: فاستغفرنا، قال: "أكملوا سبعين مرة"، فأكملنا قال: "إنه من استغفر سبعين مرة غفر له سبعمائة ذنب قد خاب وخسر من عمل في يوم وليلة سبعمائة ذنب". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3968: (حذیفہ (رض)) حذیفہ بن الیمان (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ میری زبان بہت تیز ہے ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم استغفار کرنے سے کہاں رہ گئے تھے۔ میں تو دن میں سو سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
3968 – "حذيفة" عن حذيفة بن اليمان، قال: "شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ذرب1 لساني، قال: "أين أنت من الاستغفار إني لأستغفر الله في كل يوم مائة مرة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3969: (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) فرماتے ہیں : خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنے اعمال نامہ میں استغفار کا ذخیرہ پایا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
3969 – "عن أبي الدرداء" قال: "طوبى لمن وجد في صحيفته نبذة من الاستغفار". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار وسعت کا ذریعہ ہے
3970: (ابوہریرہ (رض) عن) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ آپ سے زیادہ استغفر اللہ واتوب الیہ کرتا ہو۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر (رض) ۔
3970 – "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر أن يقول: "أستغفر الله وأتوب إليه"، من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3971: (از مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ چیزوں سے (تعوذ) پناہ مانگا کرتے تھے :

اللہم انی اعوذبک من البخل والجبن و فتنۃ الصدر و عذاب البرو سوء العمر۔

اے اللہ ! میں بخل، بزدلی، دل کے فتنے قبر کے عذاب اور بری عمر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، الشاشی، ابن حبان، ابن جریر، السنن لیوسف، القاضی، مکارم الاخلاق للخرائطی، الدارقطنی فی الافراد، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
3971 – "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ من خمس: "اللهم إني أعوذ بك من البخل والجبن، وفتنة الصدر، وعذاب القبر، وسوء العمر". "ش حم د ن هـ والشاشي حب وابن جرير ويوسف القاضي في سننه والخرائطي في مكارم الأخلاق قط في الأفراد ك ص".
tahqiq

তাহকীক: