কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3972: حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کو یوں اعاذہ کرتے تھے : اعیذکما بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ۔

اے میں تم دونوں کو شیطان، وسوسہ انداز اور ہر بری نگاہ سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ حلیۃ الاولیاء۔
3972 - عن عمر بن الخطاب "أن النبي صلى الله عليه وسلم، كان يعوذ حسنا وحسينا يقول: "أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة". "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3973: (علی (رض)) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جس شخص نے صبح کی نماز کے بعد دس بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگی تو اللہ پاک اس کے پاس دو فرشتے بھیجیں گے جو اس کے گھر کی حفاظت کریں گے حتی کہ شام ہوجائے۔ اور جس نے مغرب کے بعد تعوذ پڑھا اس کو بھی صبح تک یہ فائدہ رہے گا۔ ابو عمرو الزاھد محمد بن عبدالواحد فی فوائدہ۔

کلام : اس روایت میں ایک راوی حارث بن عمران حمل جعفری ہیں، جن کے متعلق امام ابن حبان فرماتے ہیں یہ حدیث گھڑتے ہیں۔
3973 – "علي" عن علي رضي الله عنه، قال: "من تعوذ من الشيطان عشر مرات في دبر صلاة الغداة، بعث الله إليه ملكين يحرسان بيته حتى يمسي ومن قالها بعد المغرب فمثلها حتى يصبح". "أبو عمرو الزاهد محمد بن عبد الواحد في فوائده" وفيه الحارث بن عمران الحمصي الجعفري قال "حب" كان يضع الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3974: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آٹھ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے : رنج ، غم، عجز، سستی، بزدلی، بخل، قرض کے بوجھ اور دشمن کے غلبہ سے۔ رواہ ابن عساکر۔
3974 - عن أنس "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من ثمان: من الهم والحزن، والعجز والكسل، ومن الجبن والبخل، ومن ضلع الدين1 ومن غلبة العدو. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3975: (مسند زید بن ثابت) (زید (رض) بن ثابت سے مروی ہے کہ) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے، ہم نے کہا ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، پھر فرمایا : اللہ کی پناہ مانگو قبر کے عذاب سے، کھلے اور چھپے فتنوں کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے۔ ہم نے کہا (ہم ان سب فتنوں سے) اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
3975 – "مسند زيد بن ثابت" قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تعوذوا بالله من عذاب النار ثلاثا"، قلنا: نعوذ بالله من عذاب النار "وتعوذوا بالله من عذاب القبر، تعوذوا بالله من عذاب الفتن ما ظهر منها وما بطن، تعوذوا بالله من فتنة الدجال"، قلنا نعوذ بالله من فتنة الدجال". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3976: (مسند ابن عباس (رض)) ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد یوں تعوذ فرمایا (پناہ مانگا) کرتے تھے۔

اللہم انی اعوذبک من عذاب القبر و اعوذبک من عذاب النار واعوذبک من الفتن باطنہا وظارہا واعوذبک من الاعور الکذاب۔

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں پوشیدہ اور ظاہری فتنوں سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں کانے جھوٹے (دجال) سے۔ رواہ ابن جریر۔
3976 – "مسند ابن عباس" عن ابن عباس "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ في دبر الصلاة يقول: "اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار، وأعوذ بك من الفتن باطنها وظاهرها وأعوذ بك من الأعور الكذاب". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التعوذ
3977: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب، خفیہ اور کھلے فتنوں سے اور دجال سے۔ رواہ ابن جریر۔
3977 - عن ابن عباس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يتعوذ في دبر صلاته من أربع، يقول: "أعوذ بالله من عذاب القبر، وأعوذ بالله من عذاب النار، وأعوذ بالله من الفتن، ما ظهر منها، وما بطن، وأعوذ بالله من الأعور الكذاب". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن ، آسیب وغیرہ کے اثرات سے تعوذ
3978: (ابی بن کعب (رض)) حضرت ابی (رض) بن کعب فرماتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا ایک دیہاتی آیات اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میرا ایک بھائی ہے جس کو کچھ تکلیف ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا تکلیف ہے ؟ عرض کیا : اس پر اثرات ہیں ! فرمایا اس کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ اعرابی اپنے بھائی کو لایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بٹھا دیا۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سورة فاتحہ سورة بقرہ کی اول چار آیات والہکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم، آیۃ الکرسی، سورة بقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی یہ مکمل آیت، شہدا للہ انہ لا الہ الا ھو سورة اعراف کی یہ مکلم آیت، ان ربکم اللہ، سورة المومنون کی آخرت آیات فتعالی اللہ الملک الحق سے آخر تک، سورة جن کی یہ مکمل آیات، وانہ تعالیٰ جد ربنا، سورة صافات کی پہلی، دس آیات، سورة حشر کی آخری تین آیات، سورة اخلاص اور معوذتین پڑھ کر دم کیں۔

چنانچہ آدمی یوں چنگا بھلا کھڑا ہوگیا گویا اس کو کبھی کوئی تکلیف ہی نہ تھی (مسند احمد، مستدرک الحاکم، الترمذی فی الدعوات)
3978 – "أبي بن كعب" "كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي فقال: يا نبي الله إن لي أخا وبه وجع، قال: وما وجعه؟ قال به لمم، قال: فأتني به فوضعه بين يديه، فعوذه النبي صلى الله عليه

وسلم بفاتحة الكتاب وأربع آيات من أول سورة البقرة وهاتين الآيتين {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ} وآية الكرسي وثلاث آيات من آخر سورة البقرة، وآية من آل عمران {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} وآية من الأعراف {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ} وآخر سورة المؤمنين {فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ} وآية من سورة الجن {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا} وعشر آيات من أول الصافات، وثلاث آيات من آخر سورة الحشر، و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} والمعوذتين، فقام الرجل كأنه لم يشك قط". "حم ك ت في الدعوات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن ، آسیب وغیرہ کے اثرات سے تعوذ
3979: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بزدلی، بخل، زندگی و موت کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
3979 - عن أنس "كان النبي صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجبن والبخل وفتنة المحيا والممات ومن عذاب القبر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن ، آسیب وغیرہ کے اثرات سے تعوذ
3980: (مراسیل مکحول) حضرت مکحول (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو جن آپ پر انگار پھینکنے لگے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! ان کلمات کے ساتھ تعوذ (پناہ مانگو) (چنانچہ آپ نے ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگی تو) جن و شیاطین سے آپ کی حفاظت ہوگئی۔ وہ کلمات یہ ہیں :

أعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها ومن شر الليل والنهار ومن شر کل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن

میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے تام ان کلمات کے ساتھ تمام مخلوق کے شر سے جن کلمات کو کوئی نیک تجاوز کرسکتا اور نہ بد۔ اور ہر اس شر سے جو آسمان سے اترے اور جو آسمان میں چڑھے۔ ہر اس شر سے جو زمین میں پھیلے اور جو زمین سے نکلے، رات اور دن کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر کے ساتھ آئے۔ یا رحمن۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔

فائدہ : مکحول ثہ ہیں۔ کئی صحابہ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسلا (صحابی کا واسطہ چھوڑ کر) روایت کرتے ہیں۔
3980 – "مراسيل مكحول"1 عن مكحول "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما دخل مكة تلقته الجن يرمونه بالشرر، فقال جبريل تعوذ يا محمد فتعوذ بهذه الكلمات فزجروا عنه، فقال: "أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها ومن شر الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3981: (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی آپ (رض) فرماتے ہیں : میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود تھا۔ ایک شخص آیا اور سلام عرض کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سلام کا جواب دیا، خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس کے جانے کے بعد 9 فرمایا : اے ابوبکر یہ تمام اہل ارض کے عمل کے مقابلہ میں عمل کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا : وہ کیسے ؟ فرمایا یہ شخص ہر صبح کو مجھ پر ساری مخلوق کے بقدر مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں نے پھر عرض کیا : وہ کیسے ؟ فرمایا : یہ درود پڑھتا ہے :

اللہم صل علی محمد النبی عدد من صلی علیہ من خلقک و صل علی محمد النبی کما ینبغی لنا ان نصلی علیہ و صل علی محمد النبی کما امرتنا ان نصلی علیہ۔

اے اللہ ! محمد پیغمبر پر اس قدر درود نازل فرما جس قدر تیری تمام مخلوق اس پر درود بھیجتی ہے۔ محمد پر ایسا درود نازل فرما جیسا کہ ہمارے لیے درود بھیجنا مناسب ہے اور محمد پیغمبر پر اس طرح درود نازل فرما جس طرح آپ نے ہم کو حکم دیاے۔ الدار قطنی فی الافراد ، التاریخ لابن النجار۔

کلام : امام دار قطنی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے۔ سلیمان بن الربیع الہذی اس کو کا دح بن روحہ سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ امام ذہبی (رح) میزان میں فرماتے ہیں یہ سلیمان بن الربیع متروک راوی ہیں۔ جب کہ کا دح کے متعلق ارواح وغیرہ فرماتے ہیں یہ کذاب ہے۔ حافظ ابن حجر " اللسان " میں فرماتے ہیں، ابن عدی کہتے ہیں اس شخص کی عام احادیث غیر محفوظ ہیں، اس کی مسندات میں کوئی تابع ہے اور نہ متون میں۔ امام حاکم (رح) فرماتے ہیں، یہ شخص مسعر (رح) اور ثوری (رح) کی طرف منسوب کرکے موضوع احادیث روایت کرتا ہے میں نے اس حدیث کو کتاب الموضوعات میں داخل کیا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اگر اس حدیث کا کوئی تابع یا شاہد (نظیر) موجود ہو تو یہ روایت موضوع ہونے کے کلام سے نکل جائے گی۔ (لیکن بہر صورت ضعیف ہے) ۔
3981 – "من مسند الصديق" عن أبي بكر قال "كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه رجل فسلم فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم، وأطلق وجهه وأجلسه إلى جنبه، فلما قضى الرجل حاجته، نهض فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر هذا رجل يرفع له كل يوم كعمل أهل الأرض" قلت: ولم ذاك؟ قال، "إنه كلما أصبح صلى علي عشر مرات كصلاة الخلق أجمع"، قلت وما ذاك؟ قال: "يقول اللهم صلى على محمد النبي عدد من صلى عليه من خلقك، وصل على محمد النبي كما ينبغي لنا أن نصلي عليه وصل على محمد النبي كما أمرتنا أن نصلي عليه". "قط في الأفراد وابن النجار في تاريخه" قال قط غريب من حديث أبي بكر تفرد به سليمان بن الربيع النهدي عن كادح بن روحة قال الذهبي في الميزان: سليمان بن الربيع أحد المتروكين، وكادح قال الأزدي وغيره كذاب زاد الحافظ ابن حجر في اللسان، وقال ابن عدي: عامة أحاديثه غير محفوظة ولا يتابع في أسانيده، ولا في متونه، وقال الحاكم وأبو نعيم روى عن مسعر والثوري أحاديث موضوعة انتهى، قلت: وقد أدخلت هذا الحديث في كتاب الموضوعات، فلينظر فإن وجدنا له متابعا أو شاهدا خرج عن حيز الموضوع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3982: حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا گناہوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح آگ پانی کو بجھاتی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجنا غلام آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت رکھنا جانوں کو آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے یا فرمایا : اللہ کی راہ میں تلوار چلانے سے زیادہ افضل ہے۔ التاریخ للخطیب، الترغیب للاصبہانی۔
3982 - عن أبي بكر الصديق قال: "الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار، والسلام على النبي صلى الله عليه وسلم أفضل من عتق الرقاب، وحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل من عتق الأنفس، أو قال: من ضرب السيف في سبيل الله عز وجل". "خط والأصبهاني في الترغيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3983: (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حاجت کے لیے باہر نکلے دیکھا کہ کوئی آپ کے ہمراہ نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) گھبرا گئے۔ چنانچہ پانی سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک برتن لے کر پیچھے گئے۔ قریب پہنچ کر دیکھا گہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چبوترے پر سجدہ ریز ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب سے ہٹ کر پیچھے کھڑے ہوگئے۔ حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا جو مجھے سجدہ میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے تھے اور یہ فرما گئے ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا۔ الاوسط للطبرانی، السنن لسعید بن منصور۔
3983 – "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته، فلم يجد أحدا يتبعه، ففزع عمر، فأتاه بمطهرة جلد، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا في مشربة1 فتنحى عنه من خلفه، حتى رفع النبي صلى الله عليه وسلم رأسه، فقال "أحسنت يا عمر حين وجدتني ساجدا فتنحيت عني إن جبريل أتاني فقال من صلى عليك من أمتك واحدة صلى الله عليه عشرا، ورفعه بها عشر درجات". "طس ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3984: حضرت سعید بن المسیب (جو انتہائی ثقہ تابعی ہیں) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : دعا آسمان اور زمین کے درمیان تھمی رہتی ہے اور اوپر نہیں جاتی حتی کہ آپ پر درود نہ بھیجا جائے۔ ترمذی۔
3984 - عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب قال "إن الدعاء موقوف بين السماء والأرض ولا يصعد منه شيء حتى تصلي على نبيك صلى الله عليه وسلم". "ت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3985: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : مجھے بتایا گیا ہے کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان کی رہتی ہے اور اوپر نہیں جاسکتی جب تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہ پڑھا جائے۔ ابن راھویہ۔

سند صحیح ہے۔
3985 - عن عمر قال: "ذكر لي أن الدعاء يكون بين السماء والأرض لا يصعد منه شيء حتى يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم". "ابن راهويه" بسند صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3986: حضرت عمر (رض) سے مروی ہے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو اس کی دعا آسمان و زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، پس جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتا ہے تو دعا آسمان کی طرف بلند ہوجاتی ہے (الدیلمی، عبدالقادر الرھاوی، فی الاربعین)

کلام : اس مضمون کی روایت جیسا کہ اوپر گزریں حضرت عمر (رض) پر موقوف ہیں اور مرفوع کے حکم میں ہیں اور سندا مرفوع سے زیادہ صحیح ہیں۔
3986 - عن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا دعا الداعي فإن الدعاء موقوف بين السماء والأرض، فإذا صلى على النبي صلى الله عليه وسلم رفع". "الديلمي وعبد القادر الرهاوي في الأربعين" وقال روي عن عمر موقوفا من قوله وهو أصح من المرفوع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3987: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ہر دعا آسمان پر جانے سے رکی رہتی ہے حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا جائے۔ پس جب نبی کریم پر درود پڑھاجاتا ہے تو دعا اوپر بلند ہوجاتی ہے۔ الرھاوی۔
3987 - عن عمر قال "الدعاء كله يحجب دون السماء حتى يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا جاءت الصلاة على النبي رفع الدعاء". "الرهاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3988: (علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہر دعا آسمان پر جانے سے رکی رہتی ہے حتی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا جائے۔ عبیداللہ بن محمد بن حفص العیشی فی حدیثہ، الاربعین لعبد القادر الرھاوی، الاوسط للطبرانی ، شعب الایمان للبیہقی۔
3988 – "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "كل دعاء محجوب عن السماء حتى يصلي على محمد وعلى آل محمد". "عبيد الله بن محمد بن حفص العيشي في حديثه وعبد القادر الرهاوي في الأربعين". "طس هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3989: سلامۃ الکندری (رح) سے مروی ہے حضرت علی (رض) لوگوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ درود پڑھنے کے لیے سکھاتے تھے :

اللهم داحي المدحوات وبارئ المسموکات وجبار أهل القلوب علی خطراتها شقيها وسعيدها إجعل شرائف صلواتک ونوامي برکاتک ورأفة تحننک علی محمد عبدک ورسولک الخاتم لما سبق والفاتح لما أغلق والمعين علی الحق بالحق والواضع والدامغ لجيشات الأباطيل كما حمل فاضطلع بأمرک بطاعتک مستوفزا في مرضاتک غير نکل عن قدم { أن لهم قدم صدق } ) ولا وهن في عزم واعيا لوحيك حافظا لعهدک ماضيا علی نفاذ أمرک حتی أوری قبسا لقابس به هديت القلوب بعد خوضات الفتن والإثم ( بعد قوله والاثم في الحرز المنيع زيادة : وأنهج ) بموضحات الأعلام ومسرات الإسلام ونائرات الأحكام فهو أمينک المأمون و خازن علمک المخزون وشهيدك يوم الدين وبعيثک نعمة ورسولک بالحق رحمة اللهم افسح له مفسحا في عدنک وأجزه مضاعفات الخير من فضلک مهنآت له غير مکدرات من فوز ثوابک المعلول وجزيل عطائك المخزون اللهم أعل علی بناء الناس بناء ه وأكرم مثواه لديك ونزله وأتمم له نوره وأجزه من ابتغائك له مقبول الشهادة ومرضی المقالة ذا منطق عدل و کلام فصل وحجة وبرهان ۔

ترجمہ : اے اللہ ! پست چیزوں کو بچھانے والے ! بلند چیزوں کو اٹھانے والے ! اے بدبخت اور نیک اہل قلوب کو خطرات پر کمبستہ کرنے والے ! اپنے شرف والے درود، اپنی بڑھنے والی برکتیں اور اپنی نرمی و مہربانیاں اپنے اور اپنے رسول محمد خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرما۔ جو بند دروازوں کو کھولنے والے ہیں، حق کے مددگار ہیں، باطل پرستوں کے لشکروں کی بیخ کرنے والے ہیں، ان پر جیسا بھی بوجھ لادا گیا وہ آپ کے حکم کو لے کر کمربستہ ہوگئے، آپ کی رضاء مندی کو حاصل کیا، (خدا کے عطا کردہ) مرتبے سے پیچھے ہٹے اور نہ کسی عزم میں کمزوری دکھائی، آپ کی وحی کو محفوظ کیا، آپ کے عہد کی پاسداری کی، آپ کے حکم کے نفاذ میں (ہر مشکل سے) گذرتے رہے حتی کہ (حق کا) شعلہ جلا دیا۔ آپ کے ذریعہ فتنوں اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے دلوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔

حق کی نشانیاں واضح ہوگئیں، اسلام کے پردے کھل گئے اور احکام خداوندی روشن ہوگئے۔ اے اللہ ! پس وہ (پیغمبر) تیری امانت کا سچا امانت دار ہے، تیرے علم کے خزانے کا خازن ہے، یا مت کے دن تیرا گواہ ہے۔

اے اللہ ! اپنے باغ عدن میں اس کے لیے خوب خوب کشادگی کر، اپنے فضل سے اس کو خیر در خیر عطا کر، اپنے ثواب کی کامیابی اور اپنی عطاء کے خزانے سے نواز کر خوشیاں اور تہنیت اس کے لیے جاری کردے۔

اے اللہ ! سب کو لوگوں کے مرتبے پر اس کا مرتبہ بلند کردے، اپنے پاس اچھا ٹھکانا اور عمدہ مہمانی کے ساتھ اس کا اکرام کر، اپنے نور کو اس کے لیے کامل کردے، اپنی رضا مندی کے صلہ اس کو مقبول الشہادت حق گو اور حجت و دلیل کے ساتھ فیصلہ کن کلام کرنے والا بنا۔ (الاوسط للطبرانی، ابو نعیم فی عوالی سعید بن منصور)
3989 - عن سلامة الكندي قال: "كان علي يعلم الناس الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم داحي المدحوات، وبارئ المسموكات وجبار أهل القلوب على خطراتها شقيها وسعيدها، إجعل شرائف صلواتك ونوامي بركاتك ورأفة تحننك على محمد عبدك ورسولك الخاتم لما سبق، والفاتح لما أغلق، والمعين على الحق بالحق، والواضع والدامغ لجيشات الأباطيل، كما حمل فاضطلع بأمرك بطاعتك مستوفزا في مرضاتك غير نكل عن قدم ولا وهن في عزم، واعيا لوحيك، حافظا لعهدك، ماضيا على نفاذ أمرك، حتى أورى قبسا لقابس به هديت القلوب بعد خوضات الفتن والإثم بموضحات الأعلام، ومسرات الإسلام ونائرات الأحكام، فهو أمينك المأمون وخازن علمك المخزون، وشهيدك يوم الدين، وبعيثك نعمة ورسولك بالحق رحمة، اللهم افسح له مفسحا في عدنك، وأجزه مضاعفات الخير من فضلك، مهنآت له غير مكدرات، من فوز ثوابك المعلول وجزيل عطائك المخزون، اللهم أعل على بناء الناس بناءه، وأكرم مثواه لديك ونزله وأتمم له نوره، وأجزه من ابتغائك له مقبول الشهادة ومرضى المقالة ذا منطق عدل، وكلام فصل، وحجة وبرهان". "طس وأبو نعيم في عوالي سعيد بن منصور".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3990: حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سو مرتبہ درود پڑھا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرہ نور علی نور ہوگا لوگ (مارے رشک کے) کہیں گے : یہ کیا عمل کرتا تھا۔ شعب الایمان للبیہقی۔
3990 - عن علي قال: "من صلى على النبي صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة مائة مرة جاء يوم القيامة وعلى وجهه من النور نور، يقول الناس أي شيء كان يعمل هذا؟ " "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے بیان میں۔
3991: امام حاکم نے علوم الحدیث میں ابوبکر بن ابی حازم حافظ کوفہ، علی بن احمد بن الحسین العجلی، حرب بن الحسن الطحان، یحییٰ بن مساور الخیاط، عمرو بن خالد، زید بن علی بن الحسین بن علی، علی بن الحسین، حسین (رض) ، علی بن ابی طالب پر ایک راوی کہتا ہے مجھ بیان کرنے والے نے میرے یہ کلمات شمار کرائے اس طرح حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ میں شمار کرا کے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے میرے ہاتھ میں یہ کلمات شمار کرائے اور فرمایا : مجھے رب العزت نے اس طرح فرمایا ہے :

اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صليت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم وترحم علی محمد وعلی آل محمد کما ترحمت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم وتحنن علی محمد وعلی آل محمد کما تحننت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم وسلم علی محمد وعلی آل محمد کما سلمت علی إبراهيم وعلی آل إبراهيم إنک حميد مجيد

ترجمہ : اے اللہ محمد اور آل محمد پر درود (رحمت) نازل فرماجس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر درود نازل فرمایا۔ بیشک سزاوار حمد اور بزرگ ہے۔ اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی ہیں۔ بیشک تو لائق حمد اور بزرگ ذات ہے۔ اے اللہ محمد اور آل محمد پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ بیشک تو لائق حمد اور بزرگ ذات ہے۔ اے اللہ محمد اور آل محمد پر مہربانیاں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر مہربانیاں نازل فرمائیں بیشک تو لائق حمد اور بزرگ ذات ہے۔ اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر سلام نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر سلام نازل کیا بیشک تو لائق حمد اور بزرگ ذات ہے۔ شعب الایمان للبیہقی عن الحاکم۔

فائدہ : یہ حدیث قطع نظر اسنادی حیثیت کے جس کو ذیل میں کلام کے عنوان کے تحت بیان کریں گے، حدیث مسلسل ہے، حدیث مسلسل کا مطلب ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرماتے وقت کوئی خاص ہیئت اختیار فرمائی مثلا داڑھی مبارک ہاتھ میں لے لی۔ پھر ہر راوی نے آگے حدیث بیان کرتے ہوئے اس ہیئت کا لحاظ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نقل کرتے ہوئے داڑھی کو اتھ میں لے کر تو یہ حدیث حدیث مسلل باللحیہ کہلائی۔

اسی طرح مذکورہ بالا روایت حدیث مسلسل بالید ہے۔ اس میں جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حدیث سنائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کلمات حدیث کو اپنے ہاتھوں پر شمار کرتے رہے۔ پھر حضور نے آگے بیان فرمائی تو حضرت علی (رض) اپنے ہاتھ پر شمار کرتے رہے۔ اسی طرح آخر راوی تک یہ کیفیت مسلسل رہی اور امام حاکم (رح) آخری راوی نے یونہی روایت نقل کرکے اپنی کتاب علوم الحدیث میں نقل کی، ان سے مولف کتاب ہذا نے نقل کی۔ واللہ اعلم بالصواب۔

کلام : امام حاکم (رح) فرماتے ہیں اس طرح ہم تک یہ روایت پہنچی ہے۔

اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کو تمیمی، ابن النفضل اور ابن مسدی نے اپنی مسلسلات میں تخریج کیا ہے۔ نیز قاضی عیاض نے الشفاء میں اور دیلمی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے عراق (رح) ترمذی کی شرح میں فرماتے ہیں اس روایت کی سند بہ تہی ضعیف ہے۔ عمرو بن خالد کوفی کذاب اور حدیثیں بنانے والا انسان ہے۔ یحییٰ بن مسافر ازدی (رح) نے تکذیب کی ہے حرب بن الحسن الطحان کو ازدی (رح) نے ضعفاء میں شمار کیا ہے اور فرمایا اس کی یہ حدیث کوئی سندی حیثیت سے اہمیت نہیں رکھتی۔ حافظ ابن حجر اپنی امالی میں فرماتے ہیں : میرا اعتاد ہے کہ یہ حدیث کسی کی خود ساختہ ہے۔ نیز اس میں مسلسل تین راوی ضعیف ہیں۔ ایک وضاع (گھڑنے والے) کہا گیا ہے دوسرا کذاب (جھوٹ) کے ساتھ متہم ہے اور تیسرا متروک (ناابل اعتبار) ہے۔

علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں آخری دو راوی ایسے ہیں جن کے مثل دوسرے مستند رواۃ بھی حدیث نقل کرتے ہیں یعنی ان کی متابعت کی جاتی ہے۔

چنانچہ امام بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں یہ سند ذکر کی ہے :

قال نبانا ابو عبدالرحمن السلمی، ابو الفضل، محمد بن عبداللہ الشیبانی، ابو القاسم علی بن محمد بن الحسن بن لابی، تطا جدی لابی سلیمان بن ابراہیم بن عبید المحاربی، نصر بن مزاحم المنقری، ابراہیم بن زبرقان، عمرو بن خالد۔ یہ سب حضرات مذکورہ سند کی طرح کہتے ہیں ہم سے بیان کرنے والے نے بیان کیا اور میرے ہاتھ پر وہ کلمات شمار کرائے۔

ابراہیم بن زبران کو ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ جبکہ ابو حاتم (رح) فرماتے ہیں اس کے ساتھ دلیل نہیں پکڑی جاسکتی لیکن متابعت میں اس کو درست قرار دیا جاسکتا ہے۔ مولف علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں میں نے یہی روایت ایک دوسرے طریق سے بھی پائی ہے جو انس (رض) سے مروی ہے۔ اور یہ سند انس (رض) کے ذیل میں عنقریب آئے گی۔

نوٹ : 3998: رقم الحدیث پر یہ روایت حضرت انس (رض) سے مروی ہے ملاحظہ فرمائیں۔ٍ
3991 - قال الحاكم في علوم الحديث عدهن في يدي أبو بكر ابن أبي حازم الحافظ بالكوفة، وقال: "عدهن في يدي علي بن أحمد بن الحسين العجلي وقال عدهن في يدي حرب بن الحسن الطحان، وقال لي عدهن في يدي يحيى بن مساور الخياط، وقال: لي عدهن في يدي عمرو بن خالد، وقال: لي عدهن في يدي زيد بن علي بن الحسين بن علي وقال: لي عدهن في يدي أبي علي بن الحسين، وقال لي عدهن في يدي أبي الحسين بن علي وقال لي عدهن في يدي علي بن أبي طالب، وقال لي عدهن في يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "عدهن في يدي جبريل، وقال جبريل: هكذا نزلت بهن من عند رب العزة اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم وترحم على محمد وعلى آل محمد، كما ترحمت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم وتحنن على محمد وعلى آل محمد، كما تحننت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم وسلم على محمد وعلى آل محمد، كما سلمت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد". "هب عن الحاكم"
tahqiq

তাহকীক: