কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪০১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ درود پر دس رحمتیں
4012: ابو طلحہ (رض) فرماتے ہیں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا آپ کے چہرہ انور سے خوشی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے اتنا خوش دل اور ہنس مکھ آج سے پہلے آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہ میں خوش ہوا اور میرا چہرہ نہ کھلے جبکہ ابھی جبرائیل (علیہ السلام) مجھ سے جدا ہو کر گئے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا :


اے محمد ! جو آپ کا امتی آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا۔ اللہ پاک اس کے لیے دس نیکیاں لکھیں گے، دس برائیاں مٹائیں گے اور دس درجے بلند فرمائیں گے۔ اور فرشتہ اس شخص کو ویسا ہی جواب دے گا جیسا اس نے آپ کے لیے پڑھا ہوگا۔ میں نے کہا : اے جبرائیل (علیہ السلام) وہ کون سا فرشتہ ہے ؟ فرمایا اللہ پاک نے ایک فرشتہ آپ پر مقرر فرمایا ہے جب سے کہ آپ پیدا ہوئے (قیامت میں) آپ کو اٹھائے جانے تک جب بھی کوئی ایک مرتبہ آپ کا امتی درود پڑھے گا تو وہ فرشتہ اس پڑھنے والے کو کہے گا وانت صلی اللہ علیک۔ اور اللہ تجھ پر بھی رحمت بھیجے۔ الکبیر للطبرانی عن ابی طلحہ (رض) ۔
4012 - عن أبي طلحة أيضا "دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم، وأسارير وجهه تبرق، فقلت يا رسول الله ما رأيتك أطيب نفسا ولا أظهر بشرا منك في يومك، فقال وما لي لا تطيب نفسي ويظهر بشري وإنما فارقني جبريل الساعة فقال يا محمد: من صلى عليك من أمتك صلاة كتب الله له بها عشر حسنات، ومحا عنه عشر سيئات، ورفعه بها عشر درجات، وقال له الملك مثل ما قال لك قلت: يا جبريل وما ذاك الملك؟ قال إن الله تعالى وكل بك ملكا من لدن خلقك إلى أن يبعثك لا يصلي عليك واحد من أمتك إلا قال: وأنت صلى الله عليك ". "طب عن أبي طلحة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ درود پر دس رحمتیں
4013: (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی مجلس میں بیٹھ گئے۔ بشیر بن سعد جو کہ ابو النعمان بن بشیر ہیں انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ نے ہم کو آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ پس ہم کیسے آپ پر درود پڑھیں یا رسول اللہ !

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر خاموش ہوگئے ہم نے دل میں کہا : کاش انھوں نے سوال نہ کیا ہوتا۔ لیکن پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یوں پڑھو :

اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید۔

اور سلامت تم جانتے ہو (یعنی حضوری میں سلام یا رسول اللہ اور ۔۔۔ السلام علی رسول اللہ) (موطا امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، عبد بن حمید، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی)
4013 – "ابن مسعود" "أتانا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فجلس معنا في مجلس سعد بن عبادة، فقال له بشير بن سعد وهو أبو النعمان بن بشير، أمرنا الله أن نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك؟ يا رسول الله؛ فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا أنه لم يسأله، ثم قال قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد، والسلام كما علمتم ". "مالك ش عب وعبد بن حميد م د ت ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ درود پر دس رحمتیں
4014: حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم روشن رات اور روشن دن کو (جمعہ کی رات جمعہ کا دن) آپ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھیں اور جو درود آپ کو محبوب ہو وہی ہم پڑھنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں پڑھا کرو :

اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وآل ابراہیم وارحم محمد وآل محمد کما رحمت ابراہیم وآل ابراہیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمید مجید۔

اور سلام تو تم جانتے ہو۔ رواہ ابن عساکر۔
4014 - عن عائشة قالت "قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله: أمرنا أن نكثر الصلاة عليك في الليلة الغراء واليوم الأزهر وأحب ما صلينا عليك كما تحب، قال قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم وارحم محمدا وآل محمد كما رحمت إبراهيم وآل إبراهيم، وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد، وأما السلام فقد عرفتم كيف هو ". "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4015: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص کثرت کے ساتھ حضرت عمر (رض) کے دروازے پر آیا کرتا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : جا کتاب اللہ (قرآن پاک ) سیکھ۔ چنانچہ وہ شخص چلا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے ایک عرصہ تک اس کو نہ دیکھا۔ پھر وہ آیا اور گویا حضرت عمر (رض) سے خفاء تھا اس نے کہا : میں نے کتاب اللہ سے یہ بات پائی ہے کہ عمر کے دروازے کے بغیر چارہ کار نہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4015 – "من مسند عمر رضي الله عنه" عن الحسن قال: كان رجل يكثر غشيان1 باب عمر، فقال له عمر: إذهب فتعلم كتاب الله فذهب الرجل ففقده عمر، ثم لقيه فكأنه عاتبه، فقال وجدت في كتاب الله ما أغناني عن باب عمر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4016: حضرت عمر (رض) کا فرمان ہے : ہر مسلمان کو چھ سورتیں یاد کرانا ضروری ہیں۔ جن میں سے دو سورتیں صبح کی نماز کے لیے، دو مغرب کی نماز کے لیے اور دو عشاء کی نماز کے لیے۔ مصنف عبدالرزاق۔

فائدہ : عام مسلمان کے لیے بالکل آخری اور لازمی درجہ بیان فرمایا صبح کی نماز میں یعنی دو سنتوں کے لیے پھر مغرب کی دو سنتوں کے لیے اور پھر عشاء کی دو سنتوں کے لیے۔ فرض چونکہ امام کے پیچھے پڑھے گا۔ اور بقیہ سنتوں میں اپنی چھ میں سے پڑھ لے گا۔
4016 - عن عمر قال: "لا بد للرجل المسلم من ست سور يتعلمهن سورتين لصلاة الصبح، وسورتين للمغرب، وسورتين لصلاة العشاء". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4017: قرظۃ بن کعب انصاری فرماتے ہیں : ہم چند لوگوں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) اصرار (مدینہ سے عراق جاتے ہوئے تین میل پر ایک پرانا کنواں تھا) تک ہمیں رخصت کرنے آئے۔ آپ (رض) نے وہاں وضوء کیا اور دو مرتبہ اعضاء وضوء کو دھویا پھر فرمایا : تم جانتے ہو میں کیوں تم کو رخصت کرنے یہاں تک آیا۔ ہم نے عرض کیا : ہاں، ہم چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہیں۔ فرمایا : تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جہاں شہد کی مکھی کی طرح قرآن کی آواز گونجتی رہتی ہے لہٰذا تم لوگ احادیث کے ساتھ ان کو قرآن سے مت روک دینا۔ ان کو قرآن کے ساتھ مشغول رہنے دو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روایات کم سناؤ۔ پس اب جاؤ اور میں بھی تمہارا ساتھی ہوں۔ (ابن سعد (رض))
4017 - عن قرظة بن كعب الأنصاري قال: "أردنا الكوفة فشيعنا عمر إلى صرار فتوضأ فغسل مرتين، ثم قال: تدرون لم شيعتكم؟ قلنا: نعم، نحن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إنكم تأتون أهل قرية لهم دوي بالقرآن كدوي النحل، فلا تصدوهم بالأحاديث فتشغلوهم جردوا القرآن وأقلوا الرواية، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، امضوا وأنا شريككم". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4018: ابی نضرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو فرمایا : ہمیں اپنے رب تعالیٰ کا شوق زندہ کرو۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ (رض) قرآن کی تلاوت فرمانے لگے۔ (کچھ دیر میں ) لوگوں نے عرض کیا : نماز (کا وقت ہوا) حضرت عمر (رض) نے فرمایا کیا ہم نماز میں نہیں ہیں۔ ابن سعد۔
4018 - عن أبي نضرة قال: "قال عمر بن الخطاب لأبي موسى: شوقنا إلى ربنا فقرأ فقالوا: الصلاة فقال عمر: أو لسنا في صلاة". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4019: کنانہ عدوی سے مروی ہے حضرت عمر (رض) نے اجنادہ کے گورنروں کو لکھا : کہ حاملین قرآن (اہل علم) کو میرے پاس بھیجو تاکہ میں ان کو مزید رتبہ اور عطیہ دوں اور ان کو چار دانگ عالم میں بھیجوں تاکہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائیں۔

چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے آپ کو لکھا کہ میرے حاملین قرآن (قرآن کو جاننے اور یاد رکھنے والے) تین سو سے کچھ اوپر ہوگئے ہیں۔

حضرت عمر (رض) نے ان کو یہ خط لکھا :

حضرت عمر (رض) کا خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

از بندہ خدا عمر بطرف عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری (رض)) اور ان کے ہمراہی حاملین قرآن

السلام علیکم :

اما بعد ! یہ قرآن تمہارے لیے باعث اجر ہے اور تمہارے مرتبہ کو بلند کرنے والا ہے اور عنداللہ ذخیرہ اجر ہے۔ تم اس کی اتباع کرو (کہ اس کے احکامات پر عمل کرو) اور یہ تمہاری اتباع نہ کرے (کہ اپنی مرضی کے مطابق اس کو ڈھال لو) بیشک قرآن نے جس کی اتباع کی قرآن اس کو کدی میں مارے گا اور جہنم میں پھینک دے گا۔ اور جس نے قرآن کی اتباع کی قرآن اس کو فردوس کے باغات میں لے جائے گا۔ پس یہ قرآن تمہارا سفارش بننا چاہیے اگر ہوسکے۔ تمہارا مخالف نہ ہونا چاہیے۔ بیشک قرآن کی جس نے سفارش کردی وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اور کتاب ہے۔ اللہ پاک اس کی بدولت اندھی آنکھوں کو کھول دیتا ہے۔ بہرے کانوں اور تالے پڑے ہوئے دلوں کو وا کردیتا ہے۔ جان رکھو ! جب بندہ رات کو اٹھتا ہے، مسواک کرتا ہے اور وضوء کرتا ہے پھر اللہ اکبر کہہ کر قرآن پڑھنا شروع کردیتا ہے تو فرشتہ اس کے منہ پر منہ رکھ کر کہتا ہے : تلاوت کر ، تلاوت کر، تو نے بہت اچھا پڑھا اور تیرے لیے بہت اچھا ہوا اور اگر صرف وضوء کرتا ہے اور مسواک نہیں کرتا تو فرشتہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس سے تجاوز (کرکے اس کے منہ سے منہ) نہیں کرتا۔ یاد رکھو ! نماز کے ساتھ قرآن کی تلاوت (یعنی نماز میں قرآن پڑھنا) چھپا ہوا خزانہ ہے اور بہترین موضوع ہے جس قدر ہوسکے خوب قرآن پڑھو۔

بےشک نماز نور ہے زکوۃ برہان (راہ نما) ہے ، صبر روشن ہے، روزہ ڈھال ہے، اور قرآن تمہارے حق میں حجت ہے یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ پس قرآن کا اکرام کرو اور اس کی اہانت مت کرو۔ بیشک جس نے قرآن کا اکرام کیا اللہ اس کا اکرام کرے گا اور جس نے اس کی اہانت کی اللہ کو ذلیل کردے گا۔ جان لو ! جس نے قرآن کی تلاوت کی، اس کو یاد کیا اس پر عمل کیا ، اور جو کچھ اس میں ہے اس کی اتباع کی تو اللہ کے ہاں اس کی دعا قبول ہے چاہے تو وہ دنیا میں اس کو جلد حاصل کرلے ورنہ وہ اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ ہوجائے گی اور جان لو ! جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ابن زنجویہ۔
4019 - عن كنانة العدوي قال "كتب عمر بن الخطاب إلى أمراء الأجناد أن ارفعوا إلي كل من حمل القرآن، حتى ألحقهم في الشرف من العطاء وأرسلهم في الآفاق، يعلمون الناس، فكتب إليه الأشعري إنه بلغ من قبلي ممن حمل القرآن ثلثمائة وبضع رجال، فكتب عمر إليهم بسم الله الرحمن الرحيم، من عبد الله عمر إلى عبد الله بن قيس ومن معه من حملة القرآن، سلام عليكم، أما بعد فإن هذا القرآن كائن لكم أجرا وكائن لكم شرفا وذخرا، فاتبعوه ولا يتبعنكم، فإنه من اتبعه القرآن زخ في قفاه حتى يقذفه في النار، ومن تبع القرآن ورد به القرآن جنات الفردوس، فليكونن لكم شافعا إن استطعتم، ولا يكونن بكم ماحلا فإنه من شفع له القرآن دخل الجنة، ومن محل به القرآن دخل النار واعلموا أن هذا القرآن ينابيع الهدى، وزهرة العلم، وهو أحدث الكتب عهدا بالرحمن به يفتح الله أعينا عميا، وآذانا صما، وقلوبا غلفا واعلموا أن العبد إذا قام من الليل فتسوك وتوضأ ثم كبر وقرأ وضع الملك فاه على فيه ويقول: أتل أتل فقد طبت وطاب لك، وإن توضأ ولم يستك حفظ عليه ولم يعد ذلك، ألا وإن قراءة القرآن مع الصلاة كنز مكنون وخير موضوع؛ فاستكثروا منه ما استطعتم، فإن الصلاة نور والزكاة برهان والصبر ضياء، والصوم جنة، والقرآن حجة لكم أو عليكم، فأكرموا القرآن ولا تهينوه، فإن الله مكرم من أكرمه ومهين من أهانه، واعلموا أنه من تلاه وحفظه وعمل به واتبع ما فيه كانت له عند الله دعوة مستجابة إن شاء عجلها له في دنياه، وإلا كانت له ذخرا في الآخرة، واعلموا أن ما عند الله خير وأبقى للذين آمنوا وعلى ربهم يتوكلون" "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4020: (مسند عثمان (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف ایک وفد روانہ فرمایا اور ان پر امیر انہی میں سے ایک شخص کو جو سب سے کم سن تھا مقرر فرمایا : لیکن قافلہ رکا اور سفر پر روانہ نہ ہوسکا۔ انہی میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اے فلانے ! تو گیا کیوں نہیں اب تک ؟ اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہمارے امیر کی ٹانگ میں تکلیف ہے۔ چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس امیر کے پاس تشریف لائے اور باسم اللہ وباللہ وبعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما فیہا سات دفعہ پڑھ کر اس پر دم کیا۔ چنانچہ وہ شخص بالکل تندرست ہوگیا۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کو ہم پر امیر بناتے ہیں جو ہم میں سب سے کم سن (کم عمر) ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قرآن یاد رکھنا ذکر کیا۔ تو ایک بوڑھے نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میں قرآن پڑھ کر غفلت کا شکار رہوں گا اور اس کو رات کو اٹھ کر پڑھ نہیں سکون گا تو میں ضرور قرآن یاد کرتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کر بلکہ قرآن سیکھ۔ قرآن کی مثال تھیلی کی ہے جس کو تو نے مشک سے بھر رکھا ہو اور اس کا منہ باندھ دیا ہو۔ پس اگر تم اس کو کھولے گے تو تم کو مشک کی خوشبو ملے گی اور اگر نہ کھولوگے تب بھی مشک رکھی تو رہے گی۔ پس یہی مثال قرآن کی ہے پڑھے یا تیرے سینے میں رہے۔ الدار قطنی فی الافراد الاوسط للطبرانی، البغوی فی مسند عثمان۔

کلام : مولف (رح) فرماتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل سے اس روایت کو ارطاۃ بن حبیب کے علاوہ کسی اور نے بھی روایت کیا ہو۔ نیز محدثین کا خیال خیال ہے کہ یہ حدیث میں انہی کے ساتھ تھے۔ الغرض یہ حدیث ضعیف ہے۔
4020 – "ومن مسند عثمان رضي الله عنه" "بعث النبي صلى الله عليه وسلم وفدا إلى اليمن، فأمر عليهم أميرا منهم وهو أصغرهم، فمكث أياما لم يسر فلقى النبي صلى الله عليه وسلم رجل منهم فقال: يا فلان أما انطلقت فقال: يا رسول الله أميرنا يشتكي رجله، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم ونفث عليه باسم الله وبالله أعوذ بالله وبعزة الله وقدرته من شر ما فيها سبع مرات فبرأ الرجل فقال له رجل يا رسول الله أتؤمره علينا وهو أصغرنا؟ فذكر النبي صلى الله عليه وسلم، قراءته القرآن فقال الشيخ: يا رسول الله لولا أني أخاف أن أتوسده فلا أقوم به لتعلمته فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا تفعل تعلم القرآن فإنما مثل القرآن كجراب ملأته مسكا، ثم ربطت على فيه، فإن فتحته فاح إليك ريح المسك، وإن تركته كان مسكا موضوعا، كذلك مثل القرآن إذا قرأته، أو كان في صدرك ". "قط في الأفراد طس والبغوي في مسند عثمان" قال لا أعلم حدث به عن يحيى بن سلمة بن كهيل غير أرطاة بن حبيب وزعموا أنه كان معه في الحديث وهو حديث غريب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4021: حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں ایک شخص کی تعریف کی گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اس کو قرآن سیکھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ (ابن زنجویہ) اس کی سند حسن ہے۔
4021 - عن عائشة قالت: "ذكر رجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بخير فقال أو لم تره يتعلم القرآن ". "ابن زنجويه" وسنده حسن
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4022: حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں اگر تمہارے دل پاک ہوجائیں تو کبھی کلام اللہ سے سیر نہ ہوں۔ (الامام احمد فی الزہد، ابن عساکر)
4022 - عن عثمان قال "لو طهرت قلوبكم ما شبعتم من كلام الله عز وجل" "حم في الزهد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4023: حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : اگر ہمارے دل پاک ہوجائیں تو کبھی اللہ کے ذکر سے نہ اکتائیں۔ (ابن المبارک فی الزھد)
4023 - عن عثمان قال "لو أن قلوبنا طهرت لم تمل من ذكر الله". "ابن المبارك في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4024: حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سب سے بہترین لوگ اور سب سے افضل لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔ المواعظ للعسکری۔
4024 - عن عثمان قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خياركم وأبراركم وأفاضلكم من تعلم القرآن وعلمه". "العسكري في المواعظ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4025: (علی (رض)) کلیب سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا۔ آپ (رض) نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو فرمایا : خوشخبری ہے ان لوگوں کو، یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ ابن منیع، الاوسط للطبرانی۔
4025 – "علي رضي الله عنه" عن كليب قال كنت مع علي فسمع ضجتهم في المسجد يقرؤون القرآن، "فقال طوبى لهؤلاء كانوا أحب الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن منيع طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4026: فرزدق (مشہور شاعر) کہتے ہیں : میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت علی (رض) نے ان سے پوچھا؛ تم کون ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : میں غالب بن صعصعہ ہوں۔ (فرزدق کا نام ہے) حضرت علی (رض) نے پوچھا۔ بہت سے اونٹوں کے مالک ! عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : اپنے اونٹوں کا کیا کیا ؟ عرض کیا : حقوق اور حوادثات وغیرہ ان کو کھا گئے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : خیر کے راستے میں چلے گئے۔ پھر پوچھا : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ عرض کیا : میرا بیٹا اور یہ (بھی) شاعر ہے۔ اگر آپ چاہیں تو آپ کو کچھ بتائیں ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کو قرآن سکھاؤ، یہ اس کے لیے شعر سے بہتر ہے۔ (ابن الانباری فی المصاحف ، الدینوری)
4026 - عن الفرزدق قال "دخلت على علي بن أبي طالب فقال له من أنت؟ قال أنا غالب بن صعصعة، قال ذو الإبل الكثيرة؟ قال نعم قال فما صنعت إبلك؟ قال دعدعتها1 الحقوق، وأذهبتها النوائب، فقال علي ذلك خير سبيلها، ثم قال: من هذا الذي معك؟ قال ابني وهو شاعر وإن شئت أنشدك، فقال علي: علمه القرآن فهو خير له من الشعر". "ابن الأنباري في المصاحف والدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4027: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : زندگی میں کوئی بھلائی نہیں سوائے سننے اور سن کر یاد کرنے والے کے اور بولنے والے عالم کے۔ اے لوگو ! تم آرام اور سکون کے زمانے میں ہو۔ اور زمانہ تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا ہے۔ اور تم دیکھو رہے ہو کہ دن و رات مل کر ہر نئی شے کو پرانا و بوسیدہ کر رہے ہیں ہر دور کو قریب کر رہے ہیں۔ ہر وعدہ کو قریب لا رہے ہیں۔ پس وسیع میدان کو عبور کرنے کے لیے تیار کرلو۔

حضرت مقداد (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! الھدنہ کیا ہے ؟ مصیبت و آزمائش اور انقطاع۔ پس جب تم پر معاملات مشتبہ ہوجائیں تاریک رات کے حصوں کی طرح تو قرآن کو لازم پکڑ لینا یہ ایسا سفارشی ہے جس کی سفارش قبول ہوئی۔ ایسا جھگڑا کرنے والا ہے جس کی بات مانی جائے جس نے اس کو اپنا امام بنایا یہ اس کو جنت میں داخل کردے گا اور جس نے اس کو پس پشت ڈال دیا یہ اس کو جہنم میں پھینک دے گا۔ یہ خیر کے راستے کی طرف راہ دکھانے والا ہے۔ یہ فیصلہ کن کلام ہے کوئی مذاق نہیں۔ اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، ظاہر حکم ہے اور باطن گہرا علم ہے۔ یہ ایسا سمندر ہے، جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوئے، علماء اس سے بھی سیر نہیں ہوتے ۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے یہ ایسا حق ہے کہ جن بھی اس کے قائل ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ جب انھوں نے اس کو سنا تو (بےساختہ) پکار اٹھے :

انا سمعنا قرا آن عجبا یھدی الی الرشد فامنا بہ۔ ہم نے عجیب قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے، جس نے قرآن کے ساتھ بات کی اس نے سچ کہا۔ جس نے اس پر عمل کیا اجر پایا۔ جس نے قرآن کے ساتھ فیصلہ کیا اس نے عدل کیا جس نے اس پر عمل کیا اسے سیدھے رستے کی ہدایت ملی۔ اس میں ہدایت کے چراغ ہیں، حکمت کے منارے ہیں اور یہ حجت کی راہ دکھانے والا ہے۔ العسکری۔
4027 - عن علي رضي الله عنه قال: "خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال "لا خير في العيش إلا لمستمع واع أو عالم ناطق، أيها الناس إنكم في زمان هدنة، وإن السير بكم سريع وقد رأيتم الليل والنهار يبليان

كل جديد، ويقربان كل بعيد، ويأتيان بكل موعود، فأعدوا الجهاد لبعد المضمار"، فقال المقداد يا نبي الله ما الهدنة؟ قال: "بلاء وانقطاع، فإذا التبست الأمور عليكم كقطع الليل المظلم، فعليكم بالقرآن فإنه شافع مشفع وماحل مصدق ومن جعله إمامه قاده إلى الجنة، ومن جعله خلفه قاده إلى النار، وهو الدليل إلى خير سبيل، وهو الفصل ليس بالهزل له ظهر وبطن فظاهره حكم، وباطنه علم عميق، بحره لا تحصى عجائبه ولا يشبع منه علماؤه، وهو حبل الله المتين، وهو الصراط المستقيم وهو الحق الذي لا يعنى1 الجن إذ سمعته أن قالوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} من قال به صدق، ومن عمل به أجر ومن حكم به عدل، ومن عمل به هدي إلى صراط مستقيم، فيه مصابيح الهدى، ومنار الحكمة ودال على الحجة". "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4028: حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : اس شخص کی مثال جس کو قرآن عطا کیا گیا لیکن ایمان کی دولت سے محروم یا ریحانہ عطا ہوا لیکن اس نے قرآن حاصل نہیں کیا کھجور کی مثال ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ اور خوشبو بھی اعلی۔ اور اس شخص کی مثال جس کو قرآن ملا اور نہ ہی ایمان ایلوے کی ہے جس کا ذائقہ (بدمزہ اور) کڑوا اس کی بھی گندی۔ الفضائل لابی عبید۔
4028 - عن علي قال: "مثل الذي أوتي القرآن ولم يؤت الإيمان كمثل الريحانة، ريحها طيب، ولا طعم لها، مثل الذي أوتي الإيمان ولم يؤت القرآن كمثل التمرة، طعمها طيب، ولا ريح لها، ومثل الذي أوتي القرآن والإيمان كمثل الأترجة، طعمها طيب، وريحها طيب، ومثل الذي لم يؤت القرآن والإيمان كمثل الحنظلة، طعمها مر خبيث، وريحها خبيث". "أبو عبيد في فضائله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل قرآن کے بیان میں۔
4029: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین و انصار صحابہ کرام (رض) کو فرمایا : تم پر قرآن لازم ہے۔ اس کو اپنا امام اور قائد بناؤ۔ بیشک یہ رب العالمین کا کلام ہے، اسی سے نکلا ہے اور اسی کی طرف لوٹے گا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4029 - عن علي قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمهاجرين والأنصار: "عليكم بالقرآن، فاتخذوه إماما وقائدا، فإنه كلام رب العالمين الذي هو منه وإليه يعود". "ابن مردويه" وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4030: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم پر قرآن کی تعلیم اور کثرت کے ساتھ اس کی تلاوت لازم ہے۔ تم اس کے طفیل تم جنت میں بلند درجات اور کثیر عجائبات حاصل کرلوگے ۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا ہمارے درمیان رحم سے متعلق ایک آیت ہے، جس کی بناء پر ہر مومن ہماری محبت رکھتا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے یہ آیت پڑھی : قال لا اسالکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی۔

(اے پیغمبر ! ) کہہ دیجیے میں تم سے اس پر کسی کا سوال نہیں کرتا سوائے رشتہ داری میں محبت کا۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد بنو ہاشم سے تھے، آپ کی والدہ بنی زہرہ سے تھیں اور آپ کی دادی بنی مخزوم سے تھیں پس میری رشتہ داری میں میرا خیال رکھو۔ (ابن مردویہ، ابن عساکر)
4030 - عن علي قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عليكم بتعليم القرآن وكثرة تلاوته، تنالون به الدرجات العلى، وكثرة عجائبه في الجنة" ثم قال علي: وفينا في الرحم آية لا يحفظ مودتنا إلا كل مؤمن، ثم قرأ {قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} قال: كان أبو رسول الله صلى الله عليه وسلم من بني هاشم، وأمه من بني زهرة، وأم أبيه من بني مخزوم، فقال "احفظوني في قرابتي". "ابن مردويه كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4031: ابو القاسم خضر بن حسن بن عبداللہ، ابو القاسم بن ابی علی، بن محمد جبائی، ابو نصر عبدالوہاب بن عبداللہ، ابو محمد عبداللہ بن احمد بن جعفر النہاوند المقری المکی، ابو علی حسین بن بندار، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حفص بن عبید الطنافسی، ابو عمرو المقری حفص بن عمرو الدوری، سواء بن حکم، حماد بن سلمہ، ثابت کی سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے حاملین قرآن ! آسمانوں والے اللہ کے پاس تمہارا ذکر کرتے ہیں پس تم اللہ کی کتاب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرکے اللہ کے ہاں محبوبیت کا درجہ حاصل کرو۔ وہ تم سے محبت کرے گا اور اپنے بندوں کے ہاں تم کو محبوب کردے گا۔ اے حاملین قرآن ! تم اللہ کی رحمت کو خصوصیت کے ساتھ پانے والے ہو، کلام اللہ کو سکھانے والے ہو، اور اللہ کا قرب پانے والے ہو۔ جس نے اہل قرآن سے دوستی کی اس نے اللہ سے دوستی کی جس نے ان کے ساتھ دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ قرآن کے قاری سے دنیا کی مشقت و مصیبت دفع کردی جاتی ہے اور قرآن سننے والے سے آخرت کی مصیبت دفع کردی جاتی ہے۔ پس اے حاملین قرآن ! قرآن کو زیادہ حاصل کرو اور اللہ کے ہاں محبوب بن جاؤ اور اس کے بندوں کے ہاں بھی محبت پاؤ۔
4031 - أنبأنا أبو القاسم الخضر بن الحسن بن عبد الله: أنبأنا أبو القاسم بن أبي العلى: أنبأنا علي بن محمد الجبائي: حدثني أبو نصر عبد الوهاب ابن عبد الله: ثنا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن جعفر النهاوندي المقرئ المكي من حفظه: حدثني أبو علي الحسين بن بندار: ثنا أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حفص بن عبيد الطنافسي: حدثنا أبو عمرو المقرئ حفص ابن عمر الدوري: ثنا سوار بن الحكم عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس بن مالك قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا حملة القرآن، إن أهل السموات يذكرونكم عند الله، تحببوا إلى الله بتوقير كتاب الله يزدكم حبا ويحببكم إلى عباده، يا حملة القرآن، أنتم المخصوصون برحمة الله، المعلمون كلام الله المقربون من الله، من والاهم فقد والى الله، ومن عاداهم فقد عادى الله يدفع عن قارئ القرآن بلاء الدنيا، ويدفع عن مستمع القرآن بلاء الآخرة، يا حملة القرآن فتحببوا إلى الله بتوقير كتابه يزدكم حبا ويحببكم إلى عباده"
tahqiq

তাহকীক: