কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪০৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4032: کثیر بن سلیم سے مروی ہے رسول اللہ ! نے ارشاد فرمایا : اے بیٹے ! قرآن کی قرآءت سے غفلت نہ کرو۔ قرآن دل کو زندہ کرتا ہے فاحشات اور برے کاموں سے اور بدکاری سے روکتا ہے۔ قرآن کے ساتھ پہاڑ بھی چل پڑتے ہیں۔

اے بیٹے ! موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرو۔ دنیا سے بےرغبتی ہوجائے گی اور آخرت میں دل لگ جائے گا۔ بیشک آخرت دائمی ٹھکانا ہے اور دنیا دھوکے کا گھر ہے اس کے لیے جو اس کے ساتھ دھوکا میں پڑجائے۔ رواہ الدیلمی
4032 - عن كثير بن سليم قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا بني لا تغفل عن قراءة القرآن، فإن القرآن يحيي القلب، وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي، وبالقرآن تسير الجبال، يا بني أكثر ذكر الموت فإنك إذا أكثرت ذكر الموت زهدت في الدنيا، ورغبت في الآخرة فإن الآخرة دار قرار، والدنيا غرارة لأهلها من اغتر بها". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4033: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رمضان میں جبرائیل (علیہ السلام) کو قرآن سناتے تھے۔ جس رات آپ قرآن سناتے تھے۔ اس کی صبح کو آپ خوشگوار ہوا سے زیادہ سختی ہوتے تھے، اس دن آپ سے جو سوال کیا جاتا آپ اس کو پورا کرتے تھے (رواہ ابن جریر)
4033 – "ابن عباس" عن ابن عباس قال "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض الكتاب في كل رمضان على جبريل، فيصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليلة التي يعرض فيها ما يعرض وهو أجود من الريح المرسلة، لا يسأل شيئا إلا أعطاه". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4034: ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک مرتبہ درود پڑھا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ نیز فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص بازار سے گھر کی طرف لوٹے تو قرآن کھول کر اس کی تلاوت کرے، بیشک اس کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (رواہ ابن ابی داود)

اس میں ایک راوی نور ہے مولی جعدہ بن ہبیرہ۔
4034 – "ابن عمر" عن ابن عمر قال: "من صلى على النبي صلى الله عليه وسلم كتبت له عشر حسنات، وقال: إذا رجع أحدكم من سوقه إلى منزله فلينشر المصحف فليقرأ القرآن فإن له بكل حرف عشر حسنات". "ابن أبي داود" وفيه ثور مولى جعدة بن هبيرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت تلاوت رفع درجات کا سبب ہے۔
4035: ابن عمر (رض) فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنے گھر واپس آئے تو قرآن پاک کھول کر اس کی تلاوت کرے ۔ اللہ اس کے لیے ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھیں گے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف کے بدلے دس نیکیاں ہیں، لام کے بدلے دس نیکیاں یں اور میم کے بدلے دس نیکیاں ہیں۔ رواہ ابن ابی داود۔
4035 - عن ابن عمر قال: "إذا خرج الرجل ثم رجع إلى أهله فليأت المصحف فليفتحه فيقرأ فيه، فإن الله سيكتب له بكل حرف عشر حسنات أما إني لا أقول: آلم، ولكن أقول: الألف عشر، واللام عشر والميم عشر". "ابن أبي داود" وفيه ثور أيضا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4036: حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے یں جس نے قرآن کے ایک حرف کا انکار اس نے سارے قرآن کا انکار کیا اور جس قرآن کی قسم اس پر ہر آیت کے مقابلے میں ایک قسم لازم ہوگئی۔ مصنف عبدالرزاق۔
4036 – "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "من كفر بحرف من القرآن فقد كفر به أجمع، ومن حلف بالقرآن فعليه بكل آية منه يمين". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4037: حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں قرآن سفارشی ہے اور اس کی سفارش قبول ہے اور قرآن جھگڑا کرنے والا ہے اور اس کا جھگڑا تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس نے اس کو امام مانا یہ اس کو جنت میں داخل کردے گا اور جس نے اس کو پیچھے رکھا یہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4037 - عن ابن مسعود قال: "القرآن شافع مشفع وماحل مصدق، فمن جعله إمامه قاده إلى الجنة، ومن جعله خلفه قاده إلى النار". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4038: (نعمان (رض) بن بشیر) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کچھ لوگ کچھ لوگ اللہ کے گھر والے ہیں۔ پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : وہ اہل قرآن ہیں۔ رواہ ابن النجار۔
4038 – "نعمان بن بشير" عن النعمان بن بشير قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لله عز وجل أهلين من الناس، قال من هم يا رسول الله؟ قال هم أهل القرآن ". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4039: (ابو ذر (رض)) حضرت ابو ذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لوگوں میں سب سے مالدار کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا سفیان بن حرب، کسی نے کہا عبدالرحمن بن عوف، کسی نے کہا عثمان بن عفان، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ مالدار لوگ حاملین قرآن (قرآن کے وہ حافظ جو اس کو سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں) جن کے پیٹ میں اللہ نے قرآن رکھ دیا ہے۔ رواہ ابن عساکر۔
4039 – "أبو ذر" عن أبي ذر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأصحابه: " أي الناس أغنى؟ قالوا: سفيان بن حرب قال آخر: عبد الرحمن بن عوف قال آخر: عثمان بن عفان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أغنى الناس حملة القرآن من جعله الله في جوفه ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4040: ابو القمراء (رض) فرماتے ہیں : ہم مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں گروہ در گروہ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کسی حجرے سے نکل کر مسجد میں تشریف لائے اور حلقوں کی طرف دیکھا پھر قرآن (پڑھنے ) والوں کے حلقے میں بیٹھ گئے اور فرمایا : اسی مجلس میں بیٹھنے کا حکم ملا۔ (ابو عمرو الدانی فی طبقات القراء و ابن مندہ)
4040 - أبو القمراء قال: "كنا في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم خلقا نتحدث إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم من بعض حجره، فنظر إلى الحلق، ثم جلس إلى أصحاب القرآن وقال: بهذا المجلس أمرت ". "أبو عمرو" الداني في طبقات القراء وابن منده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔
4041: (مراسیل محمد (رح) بن علی (رض) بن حسین (رض)) ابو جعفر محمد بن علی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : جب بھی دو آدمی حسب و نسب اور دینداری میں برابر ہوتے ہیں تو ان میں عنداللہ افضل زیادہ ادب کرنے والا ہوتا ہے۔ (یعنی لوگوں کے نزدیک بھی مودب اور عبادات میں بھی مودب)

ابو جعفر سے پوچھا گیا : کہ اس کا ادب تو لوگوں کے نزدیک محفل و مجلس و معتبر ہوتا ہے، اللہ عزوجل کے ہاں فضیلت کس بناء پر حاصل ہوئی ؟ فرمایا : وہ قرآن کو ادب کے ساتھ اسی طرح پڑھتا ہے جس طرح وہ نازل ہوا اور اسی طرح صاف صاف الفاظ کے ساتھ وہ اللہ سے دعا بھی کرتا ہے چونکہ بسا اوقات آدمی غلط پڑھ جاتا ہے تو اللہ کے پاس اس کا عمل نہیں پہنچتا۔ رواہ ابن عساکر۔
4041 – "من مراسيل محمد بن علي بن الحسين" عن أبي جعفر محمد بن علي قال: "ما استوى رجلان في حسب ودين قط إلا كان أفضلهما عند الله آدابهما، قيل قد علم فضله عند الناس، وفي النادي والمجلس فما فضله عند الله جل جلاله؟ قال: بقرآته القرآن من حيث أنزل ودعاؤه الله من حيث لا يلحن، وذلك أن الرجل ليلحن فلا يصعد إلى الله". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القرآن
4042: حضرت انس (رض) فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللہ کی وحی لکھتا تھا۔ جب آپ اس کو سمیعا لکھواتے تو وہ سمیعا علیما لکھ دیتا۔ اور جب سمیعا لکھواتے تو سمیعا بصیرا لکھ دیتا۔ اس شخص نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھ رکھی تھی ۔ اس نے سارا قرآن پڑھ رکھا تھا۔ لیکن (معاذ اللہ ! ) پھر یہ شخص نصرانی ہوگیا۔ اور کہنے لگا : میں محمد کے ہاں جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا۔ پھر اس کا انتقال ہوا تو دفن کیا گیا لیکن زمین نے اس کو باہر پھینک دیا۔ پھر دفن کیا گیا تو پھر پھینک دیا۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہ (رض) نے بتایا کہ میں نے خود اس کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا۔ ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
4042 - عن أنس "أن رجلا كان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي فكان إذا أملى عليه سميعا كتب سميعا عليما، وإذا أملى عليه سميعا عليما كتب سميعا بصيرا، وكان قد قرأ البقرة وآل عمران، وكان من قرأهما قرأ قرآنا كثيرا، فتنصر الرجل، فقال: إنما كنت أكتب ما شئت عند محمد، فمات فدفن، فلفظته الأرض، ثم دفن فلفظته الأرض، قال أنس قال أبو طلحة: فأنا رأيته منبوذا على وجه الأرض". "ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القرآن
4043: حضرت ثابت (بنانی (رح)) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : ہم میں ایک شخص قبیلہ نجات کا تھا جس نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھ رکھی تھی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وحی لکھا کرتا تھا۔ پھر وہ بھاگ گیا اور اہل کتاب کے ساتھ مل گیا ۔ اہل کتاب نے اس کو آگے کیا اور کہنے لگے دیکھو یہ شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وحی لکھتا تھا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا ابھی کچھ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ نے ان لوگوں کے درمیان اس کی گردن توڑ دی۔ لوگوں نے اس کے لیے گڑھا کھودا۔ اور اس میں ڈال دیا لیکن زمین نے اس کو باہر پھینک دیا۔ (ایسا کئی بار ہوا تو) تو آخر لوگوں نے اس کو باہر پڑا ہوا چھوڑ دیا۔ (فی کتاب عذاب القبر)
4043 - عن ثابت عن أنس قال "كان منا رجل من بني النجار قد قرأ البقرة وآل عمران، وكان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فانطلق هاربا حتى لحق بأهل الكتاب فرفعوه، قالوا: هذا كان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم فأعجبوا به، فما لبث أن قصم الله عنقه فيهم، فحفروا له فواروه فأصبحت الأرض قد نبذته على وجهها فتركوه منبوذا". "ق في كتاب عذاب القبر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کو زمین نے قبول نہیں کیا :
4044: حمید الطویل روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے فرمایا : ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی لکھا کرتا تھا۔ اس شخص نے سورة بقرہ پڑھ رکھی تھی۔ اور ہم میں جب کوئی سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھ لیتا تھا تو بہتر معتبر سمجھا جاتا تھا۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو لکھواتے غفور ا رحیما تو وہ کہتا علیما حکیما لکھوں ؟ آپ فرماتے لکھو جو چاہو۔ آپ اس کو علیما حکیما لکھواتے تو وہ پوچھتا سمیعا بصیرا لکھوں ؟ آپ فرماتے جیسے چاہو لکھو ۔ پھر وہ شخص اسلام سے پھر گیا اور مشرکوں کے ساتھ جا ملا۔ وہاں جا کر کہنے لگا میں محمد کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ میں اس کے پاس جو چاہتا لکھ دیتا تھا۔

پھر وہ شخص مرگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زمین اس کو قبول نہ کرے گی۔

حضرت انس (رض) فرماتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہ (رض) نے بتایا کہ وہ اس جگہ گئے جہاں وہ مرا تھا تو اس کو زمین پر پڑا ہوا پایا۔ حضرت ابو طلحہ (رض) نے لوگوں سے پوچھا یہ اس کا کیا حال ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم نے کئی بار اس کو دفن کرلیا مگر زمین اس کو قبول ہی نہیں کرتی۔
4044 - عن حميد الطويل عن أنس "أن رجلا كان يكتب للنبي صلى الله عليه وسلم وكان قد قرأ البقرة، وكان الرجل إذا قرأ البقرة وآل عمران جد فينا فكان النبي صلى الله عليه وسلم يملي عليه غفورا رحيما، فيقول: أكتب عليما حكيما؟ فيقول له النبي صلى الله عليه وسلم: أكتب كيف شئت، ويملي عليه عليما حكيما، فيقول: أكتب سميعا بصيرا؟ فيقول له النبي صلى الله عليه وسلم: أكتب كيف شئت، فارتد ذلك الرجل عن الإسلام، ولحق بالمشركين فقال: أنا أعلمكم بمحمد، إن كنت لأكتب كيف شئت، فمات ذلك الرجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الأرض لا تقبله، قال أنس فحدثني أبو طلحة أنه أتى الأرض التي مات فيها، فوجده منبوذا، فقال أبو طلحة ما بال هذا الرجل قالوا دفناه مرارا فلم تقبله الأرض". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ سورتوں اور آیات کے بیان میں

بسم اللہ کے فضائل
4045: (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) کا ارشاد ہے : ایک شخص نے یقین کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی تو اس کی مغفرت کردی گئی۔ الجامع للبیہقی۔
4045 – "مسند علي" عن علي رضي الله عنه قال: "تنوق رجل في بسم الله الرحمن الرحيم فغفر له"."هب في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ کے فضائل
4046: ابن جریح رحم اللہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کے ساتھ نازل نہیں ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کسی موقع پر نہیں لکھوایا حتی کہ جب یہ آیات نازل ہوئی :

انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ لکھوائی۔ فرمایا اب تک اس کی حقیقت معلوم نہ ہوئی اب پتہ چلا کہ یہ قرآن کی آیت ہے۔ (مصنف عبدالرزاق)
4046 - عن ابن جريح قال: "بلغني أن بسم الله الرحمن الرحيم لم تنزل مع القرآن، وأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكتبها حتى نزل: {إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ، فكتبها حينئذ، قال: ما بلغني ذلك ما هي إلا آية من القرآن" "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ کے فضائل
4047: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے متعلق سوال کیا : جواب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کے اور اللہ کے سب سے بڑے نام کے درمیان کوئی چیز نہیں جس طرح آنکھ کی سیاہ سفید پتلی کے درمیان کچھ نہیں۔ رواہ ابن النجار۔
4047 - عن ابن عباس أن عثمان بن عفان "سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بسم الله الرحمن الرحيم؟ فقال: "هو اسم من أسماء الله تعالى وما بينه وبين اسم الله الأكبر إلا كما بين سواد العين وبياضها". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ کے فضائل
4048: عبد خیر فرماتے ہیں حضرت علی (رض) سے السبع المثانی (سات بار بار پڑھی جانے والی آیات) کے بارے میں سوال کیا گیا حضرت علی رضی الہ عنہ نے فرمایا : الحمد للہ رب العالمین (یعنی السبع المثانی سورة فاتحہ ہے) کہا گیا کہ سورة فاتحہ تو چھ آیات کی ہے تو آپ (رض) نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی آیت ہے۔ (یعنی اس کو بھی یہ فضیلت حاصل ہے کہ یہ بار بار پڑھی جاتی ہے) ۔ (الدار قطنی، بخاری و مسلم، ابن البشران فی امالیہ) ۔
4048 - عن عبد خير قال "سئل علي عن السبع المثاني؟ فقال:الحمد لله رب العالمين، فقيل له إنما هي ست آيات آيات فقال: بسم الله الرحمن الرحيم آية". "قط ق وابن بشران في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ کے فضائل
4049: حضرت علی (رض) نماز میں جب کوئی سورت شروع فرماتے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ نیز فرمایا کرتے تھے : جس نے اس کو نہیں پڑھا اس نے (ہر سورت کو) ادھورا چھوڑ دیا۔ اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ بسم اللہ السبع المثانی کا تتمہ ہے۔ الثعلبی۔
4049 - عن علي إنه كان إذا افتتح السورة في الصلاة يقرأ: "بسم الله الرحمن الرحيم وكان يقول: من ترك قراءتها فقد نقص، وكان يقول هي تمام السبع المثاني". "الثعلبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4050: (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے فاتحہ الکتاب (سورة فاتحہ چونکہ یہ بھی کتاب اللہ کا افتتاح ہے اس لیے اس کو فاتح کہا گیا ہے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : وہ سورت عرش کے نیچے کے خزانے سے نازل کی گئی ہے۔ ابن راہویہ۔
4050 – "مسند علي رضي الله عنه" عن علي أنه سئل عن فاتحة الكتاب؟ فقال: "حدثني نبي الله صلى الله عليه وسلم أنها أنزلت من كنز تحت العرش". "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4051: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : سورة فاتحہ مکہ میں تحت العرش خزانے سے نازل کی گئی ہے۔ الثعلبی والواحدی۔
4051 - عن علي قال: "نزلت فاتحة الكتاب بمكة من كنز تحت العرش". "الثعلبي والواحدي".
tahqiq

তাহকীক: