কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪০৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4052: (ابی بن کعب) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاتحہ الکتاب پڑھی پھر فرمایا : تمہارا پروردگار ارشاد فرماتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ پر سات آیا نازل کی ہیں۔ تین میرے لیے ہیں تین تیرے لیے اور ایک میرے اور تیرے درمیان ہے۔ میرے لیے الحمد للہ رب العالمین، الرحمن الرحیم اور مالک یوم الدین ہیں۔ اور میرے تیرے درمیان مشترک آیت یہ ہے ایاک نعبد وایاک نستعین۔ یعنی تو عبادت کرے اور میں تیری مدد کروں۔ اور تیرے لیے آخری تین آیات یہ ہیں اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ الاوسط للطبرانی، بخاری، مسلم۔
اس روایت کو زہری سے صرف سلیمان بن ارقم روایت کرتے ہیں۔
فائدہ : سبحان اللہ ! کیا خدا کلام حکمت سے بھرا ہے پہلی تین آیات خدا کی تعریف پر ہیں چوتھی آیت کا پہلا حصہ جو تین آیتوں سے ملا ہوا ہے وہ بھی خدا کی تعریف ہے ایاک نعبد ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ وایاک نستعین اور ہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں بندہ کے کام کے لیے ہے پھر اسی نسب سے آخری تین آیات بندہ کے لیے دعائیں ہیں۔ اس طرح اول ساڑھے تین آیات خدا کے لیے ہوئیں اور آخری سارھے تین آیات بندے کے لیے۔ وللہ الحمد والمنۃ۔
اس روایت کو زہری سے صرف سلیمان بن ارقم روایت کرتے ہیں۔
فائدہ : سبحان اللہ ! کیا خدا کلام حکمت سے بھرا ہے پہلی تین آیات خدا کی تعریف پر ہیں چوتھی آیت کا پہلا حصہ جو تین آیتوں سے ملا ہوا ہے وہ بھی خدا کی تعریف ہے ایاک نعبد ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ وایاک نستعین اور ہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں بندہ کے کام کے لیے ہے پھر اسی نسب سے آخری تین آیات بندہ کے لیے دعائیں ہیں۔ اس طرح اول ساڑھے تین آیات خدا کے لیے ہوئیں اور آخری سارھے تین آیات بندے کے لیے۔ وللہ الحمد والمنۃ۔
4052 – "أبي بن كعب" قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتحة الكتاب ثم قال: "قال ربكم: ابن آدم أنزلت عليك سبع آيات، ثلاث لي وثلاث لك، وواحدة بيني وبينك، فأما التي لي فالحمد لله رب العالمين، الرحمن الرحيم مالك يوم الدين، والتي بيني وبينك، إياك نعبد وإياك نستعين منك العبادة: وعلي العون لك، وأما التي لك إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين". "طس ق" وقال ولم يروه عن الزهري إلا سليمان بن أرقم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4053: ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تجھے ایسی سورت نہ سکھاؤں جو توراۃ میں نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں نازل کی گئی ؟ میں نے عرض کیا : ضرور ! فرمایا میری خواہش ہے کہ تم اس (سامنے غالبا مسجد نبوی کے) دروازے سے نہ نکلو حتی کہ وہ سورت سیکھ لو۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے بات کرتے رہے جبکہ میرا ہاتھ آپ کے دس مبارک میں تھا۔ میں جان بوجھ کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا کہ کہیں آپ مجھے وہ سورت بتانے سے پہلے دروازے سے نکل نہ جائیں۔ جب میں دروازے کے قریب پہنچ گیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو ؟ میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر سنا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولقد اتینا سبعا من المثانی والقران العظیم۔ اور ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھنے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا۔ یہ مجھے ہی عطا کی گئی۔ (بخاری و مسلم فی کتاب وجوب القرآن فی الصلاۃ)
4053 - عن أبي بن كعب قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أعلمك سورة ما أنزل في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزبور ولا في القرآن مثلها؟ قلت: بلى، قال: إني لأرجو أن لا تخرج من ذلك الباب حتى تعلمها، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقمت معه فجعل يحدثني ويدي في يده فجعلت أتباطأ كراهة أن يخرج قبل أن يخبرني بها فلما دنوت من الباب قلت: يا رسول الله السورة التي وعدتني، فقال كيف تقرأ إذا قمت إلى الصلاة فقرأت فاتحة الكتاب، فقال: هي هي، وهي السبع المثاني التي قال الله تعالى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} الذي أعطيت ". "ق في كتاب وجوب القراءة في الصلاة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4054: (ابن عباس (رض)) ولقد اتیناک سبعا من المثانی کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ام القرآن بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ساتویں آیت ہے (جبکہ چھ آیات سورة فاتحہ کی ہیں) ان کو اللہ نے خصوصیت سے تمہارے لیے نازل کیا ہے اور تم سے قبل کسی امت کے لیے نازل نہیں کیا۔ عبدالرزاق فی المصنف۔
4054 – "ابن عباس" عن ابن عباس في قوله تعالى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي} قال: "أم القرآن بسم الله الرحمن الرحيم، الآية السابعة قد أخرجها الله لكم فما أخرجها لأحد قبلكم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کی فضیلت
4055: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اللہ نے مجھ پر ایسی سورت نازل فرمائی ہے، جو مجھ سے پہلے انبیاء ومرسلین میں سے کسی پر نازل نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے نماز میں سورة فاتحہ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان مشترک رکھی ہے۔ پس بندہ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے مجھے دو لطیف اور خوبصورت ناموں کے ساتھ پکارا ہے۔ ایک دوسرے سے زیادہ لطیف ہے۔ الرحیم زیادہ لطیف ہے بنسبت الرحمن کے۔ اور دونوں ہی لطیف المعانی ہیں۔ پھر جب بندہ پڑھتا ہے : الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میرا شکر ادا کا کیا اور میری حمد کی ہے۔ پھر بندہ کہتا ہے : رب العالمین : تو اللہ پاک فرماتے ہیں : میرا بندہ گواہی دیتا ہے کہ میں رب العالمین (تمام جہانوں کا پروردگار) ہوں۔ جن، انس، ملائکہ اور شیطاین اور تمام مخلوات کا رب ہوں، ہر چیز کا رب اور ہر چیز کا خالق ہوں۔ پس جب بندہ کہتا ہے : الرحمن الرحیم، تو پروردگار فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ بندہ جب کہتا ہے : مالک یوم الدین : (یعنی اللہ قیامت کے دن کا مالک ہے) تو پروردگار فرماتے ہیں : میرے بندے نے گواہی دی ہے کہ قیامت کے دن کا میرے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔ اور یون میرے بندے نے میری ثناء و بڑائی بیان کی ہے۔
جب بندہ کہتا ہے : ایاک نعبد (یعنی تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں) تو اللہ پاک فرماتے ہیں یہ میرے اور بندے دونوں کے لی ہے ایاک نعبد میرے لیے ہے اور ایاک نستعین اس کے لیے ۔ پس ابن بندہ جو بھی مانگے گا میں اس کو دوں گا۔ اھدنا الصراط المستقیم یعنی ہمیں اسلام کا سیدھا راستہ دکھا۔ کیونکہ اسلام کے علاوہ کوئی راستہ سیدھا نہیں جو توحید سے خالی ہو۔ صراط الذین انعمت علیہم یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر انعام کیا یعنی نبیوں اور مومنوں کا راستہ۔ کیونکہ انہی پر نبوت اور ایمان کا انعام ہوا ہے۔ غیر المغضوب علیہم۔ یعنی جن لوگوں پر تیرا غضب ہوا ہے ان کے علاوہ لوگوں کا راستہ دکھا۔ اور وہ لوگ یہود ہیں۔ ولا الضالین۔ یہ نصاری ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کے بعد گمراہ کردیا۔ پس ان کی معصیت کے سبب اللہ نے ان پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بندر، خنزیر اور شیطان کے پیروکار بنا دیے۔ یہ لوگ دنیا و آخرت میں بد ترین لوگ ہیں جو جہنمی ٹھکانے والے ہیں۔ سیدھے راستے سے گمراہ ہیں جو کہ مومنین کا راستہ ہے۔ پس جب امام کہے ولا الضالین تو تم کہو آمین۔ تو اللہ پاک تمہاری یہ دعا قبول فرمائیں گے۔
میرے رب نے مجھے فرمایا : اے محمد ! یہ (سورت) تیری اور تیری پیروکار امت کے لیے جہنم سے نجات کا سبب ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
کلام : اس روایت کی سنت میں ضعف اور انقطاع ہے جس کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے نیز اس روایت میں ابن عباس کے اوال کو بھی مرفوع حدیث میں درج کردیا گیا ہے۔
اللہ نے مجھ پر ایسی سورت نازل فرمائی ہے، جو مجھ سے پہلے انبیاء ومرسلین میں سے کسی پر نازل نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے نماز میں سورة فاتحہ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان مشترک رکھی ہے۔ پس بندہ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے مجھے دو لطیف اور خوبصورت ناموں کے ساتھ پکارا ہے۔ ایک دوسرے سے زیادہ لطیف ہے۔ الرحیم زیادہ لطیف ہے بنسبت الرحمن کے۔ اور دونوں ہی لطیف المعانی ہیں۔ پھر جب بندہ پڑھتا ہے : الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میرا شکر ادا کا کیا اور میری حمد کی ہے۔ پھر بندہ کہتا ہے : رب العالمین : تو اللہ پاک فرماتے ہیں : میرا بندہ گواہی دیتا ہے کہ میں رب العالمین (تمام جہانوں کا پروردگار) ہوں۔ جن، انس، ملائکہ اور شیطاین اور تمام مخلوات کا رب ہوں، ہر چیز کا رب اور ہر چیز کا خالق ہوں۔ پس جب بندہ کہتا ہے : الرحمن الرحیم، تو پروردگار فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ بندہ جب کہتا ہے : مالک یوم الدین : (یعنی اللہ قیامت کے دن کا مالک ہے) تو پروردگار فرماتے ہیں : میرے بندے نے گواہی دی ہے کہ قیامت کے دن کا میرے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔ اور یون میرے بندے نے میری ثناء و بڑائی بیان کی ہے۔
جب بندہ کہتا ہے : ایاک نعبد (یعنی تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں) تو اللہ پاک فرماتے ہیں یہ میرے اور بندے دونوں کے لی ہے ایاک نعبد میرے لیے ہے اور ایاک نستعین اس کے لیے ۔ پس ابن بندہ جو بھی مانگے گا میں اس کو دوں گا۔ اھدنا الصراط المستقیم یعنی ہمیں اسلام کا سیدھا راستہ دکھا۔ کیونکہ اسلام کے علاوہ کوئی راستہ سیدھا نہیں جو توحید سے خالی ہو۔ صراط الذین انعمت علیہم یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر انعام کیا یعنی نبیوں اور مومنوں کا راستہ۔ کیونکہ انہی پر نبوت اور ایمان کا انعام ہوا ہے۔ غیر المغضوب علیہم۔ یعنی جن لوگوں پر تیرا غضب ہوا ہے ان کے علاوہ لوگوں کا راستہ دکھا۔ اور وہ لوگ یہود ہیں۔ ولا الضالین۔ یہ نصاری ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کے بعد گمراہ کردیا۔ پس ان کی معصیت کے سبب اللہ نے ان پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بندر، خنزیر اور شیطان کے پیروکار بنا دیے۔ یہ لوگ دنیا و آخرت میں بد ترین لوگ ہیں جو جہنمی ٹھکانے والے ہیں۔ سیدھے راستے سے گمراہ ہیں جو کہ مومنین کا راستہ ہے۔ پس جب امام کہے ولا الضالین تو تم کہو آمین۔ تو اللہ پاک تمہاری یہ دعا قبول فرمائیں گے۔
میرے رب نے مجھے فرمایا : اے محمد ! یہ (سورت) تیری اور تیری پیروکار امت کے لیے جہنم سے نجات کا سبب ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
کلام : اس روایت کی سنت میں ضعف اور انقطاع ہے جس کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے نیز اس روایت میں ابن عباس کے اوال کو بھی مرفوع حدیث میں درج کردیا گیا ہے۔
4055 - عن ابن عباس قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، "إن الله قد أنزل علي سورة لم ينزلها على أحد من الأنبياء والمرسلين قبلي، قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبادي فاتحة الكتاب جعلت نصفها لي ونصفها لهم، وآية بيني وبينهم، فإذا قال العبد: بسم الله الرحمن الرحيم قال الله: عبدي دعاني باسمين رقيقين، أحدهما أرق من الآخر، فالرحيم أرق من الرحمن، وكلاهما رقيقان، فإذا قال العبد: الحمد لله، قال شكرني عبدي وحمدني، فإذا قال: رب العالمين، قال الله: شهد عبدي أني رب العالمين، يعني برب العالمين، رب الجن والإنس والملائكة والشياطين وسائر الخلق، ورب كل شيء، وخالق كل شيء، فإذا قال: الرحمن الرحيم، قال مجدني عبدي، فإذا قال: مالك يوم الدين، يعني بيوم الدين يوم الحساب، قال الله شهد عبدي أنه لا مالك ليوم الحساب أحد غيري وإذا قال: مالك يوم الدين، فقد أثنى علي عبدي، إياك نعبد، يعني الله أعبد وأوحد، وإياك نستعين، قال الله هذا بيني وبين عبدي، إياك نعبد فهذه لي، وإياك نستعين، فهذه له، ولعبدي بعد ما سأل، بقية هذه السورة: إهدنا، أرشدنا الصراط المستقيم، يعني دين الإسلام لأن كل دين غير الإسلام فليس بمستقيم الذي ليس فيه التوحيد، صراط الذين أنعمت عليهم، يعني به النبيين والمؤمنين الذين أنعم الله عليهم بالإسلام والنبوة، غير المغضوب عليهم، يقول: أرشدنا غير دين هؤلاء الذين غضبت عليهم، وهم اليهود، ولا الضالين، وهم النصارى، أضلهم الله بعد الهدى، فبمعصيتهم غضب الله عليهم، فجعل منهم القردة والخنازير وعبد الطاغوت، يعني الشيطان، أولئك شر مكانا في الدنيا والآخرة يعني شر منزلا من النار، وأضل عن سواء السبيل، من المؤمنين يعني أضل عن قصد السبيل المهدي من المسلمين، فإذا قال الإمام: ولا الضالين فقولوا: آمين يجبكم الله، قال لي يا محمد هذه نجاتك ونجاة أمتك ومن اتبعك على دينك من النار". "هب" وفي سنده ضعف وانقطاع ويظهر لي أن فيه ألفاظا مدرجة من قول ابن عباس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4056: (آیۃ الکرسی) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی منبر کی لکڑیوں پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جس نے ہر نماز کے آیت الکرسی پڑھی اس کو جنت میں جانے سے موت کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور جس نے بستر پر لیٹتے وقت پڑھا اللہ پاک اس کے گھر، اس کے پڑوسی کے گھر اور اس کے ارد گرد کے گھروں کی حفاظت فرمائے گا۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4056 - "آية الكرسي" "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على أعواد هذا المنبر، يقول " من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة لم يمنعه من دخول الجنة إلا الموت، ومن قرأها حين يأخذ مضجعه آمنه الله على داره ودار جاره وأهل دويرات حوله". "هب" وقال إسناده ضعيف
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4057: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : آیات قرآنیہ کی سردار، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم، ہے۔ یعنی آیت الکرسی۔ ابن الانباری فی المصاحف، مصنف عبدالرزاق۔
4057 - عن علي قال: "سيد آي القرآن: {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} ". "ابن الأنباري في المصاحف عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4058: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اسلام میں پیدا ہو یا صاحب عقل ہے اور آیۃ الکرسی الہ لا الہ الا ھو الحی القیوم الخ پڑھے بغیر کوئی رات گذارے۔ کاش ! تم کو اس کی اہمیت معلوم ہوتی۔ یہ آیت تمہارے نبی کو عرش کے نیچے خزانے سے عطا کی گئی ہے۔ تمہارے نبی سے قبل یہ آیت کسی کو عطا نہیں کی گئی اور میں کبھی کوئی رات بسر نہیں کرتا مگر تین دفعہ آیت الکرسی ضرور پڑھتا ہوں۔ ایک مرتبہ عشاء کے بعد دو رکعتوں میں (سے کسی ایک میں) دوسری مرتبہ وتر میں اور تیسری مرتبہ جب بستر پر جاتا ہوں۔ تب پڑھتا ہوں۔ ابو عبید فی فضائلہ، مصنف ابن ابی شیبہ، الدارمی، محمد بن نصر، ابن الضریس۔
4058 - عن علي قال: "ما أرى رجلا ولد في الإسلام، أو أدرك عقله يبيت أبدا، حتى يقرأ هذه الآية {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} ولو تعلمون ما هي، إنما أعطيها نبيكم من كنز تحت العرش، ولم يعطها أحد قبل نبيكم، وما بت ليلة قط، حتى أقرأها ثلاث مرات أقرأها في الركعتين بعد العشاء الآخرة، وفي وترى، وحين آخذ مضجعي من فراشي". "أبو عبيد في فضائله ش والدارمي ومحمد بن نصر وابن الضريس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4059: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں کسی کو عقل مند نہیں سمجھتا جب تک کہ وہ ہر رات آیۃ الکرسی نہ پڑھے۔ اگر تم کو معلوم ہوجاتا کہ اس میں کیا کچھ ہے تو تم کبھی اس کو نہ چھوڑتے۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : مجھے آیۃ الکرسی عرش کے نیچے خزانے سے عطا کی گئی ہے اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : پس میں نے جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمان سنا تب سے اس کو پڑھے بغیر کبھی کوئی رات نہیں گزاری۔ (الدیلمی، شیخ شیوخنا الحافظ شمس الدین بن الجزری فی کتاب اسنی المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب مسلسلا)
کلام : اس روایت کا ہر راوی کا کہنا ہے کہ جب سے میں نے یہ روایت سنی ہے کسی رات اس کو نہیں چھوڑا۔ اور یہ روایت صالح الاسناد ہے۔ اللہ پاک ہم کو بھی اس روایت کے تسلسل اور اس کی لڑی میں ایک مہرہ بنا دے۔ آمین۔
کلام : اس روایت کا ہر راوی کا کہنا ہے کہ جب سے میں نے یہ روایت سنی ہے کسی رات اس کو نہیں چھوڑا۔ اور یہ روایت صالح الاسناد ہے۔ اللہ پاک ہم کو بھی اس روایت کے تسلسل اور اس کی لڑی میں ایک مہرہ بنا دے۔ آمین۔
4059 - عن علي قال: "ما أرى رجلا أدرك عقله يبيت حتى يقرأ هذه الآية: {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} ولو تعلمون ما فيها لما تركتموها على حال، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أعطيت آية الكرسي من كنز تحت العرش، ولم يؤتها نبي قبلي، قال علي: فما بت ليلة قط منذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أقرأها. "الديلمي وشيخ شيوخنا الحافظ شمس الدين بن الجزري في كتاب أسنى المطالب في مناقب علي بن أبي طالب مسلسلا" يقول كل راو من رواته، ما تركت قراءتها كل ليلة منذ بلغني هذا الحديث وقال صالح الإسناد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4060: شعبی (رح) عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر بن خطاب (رض) کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ ہمارے درمیان فضائل قرآن پر گفتگو چل پڑی۔ (کہ سب سے افضل سورت یا آیت کون سی ہے) ایک شخص نے کہا سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کسی نے کہا : کفھیعص اور طہ۔ کسی نے کہا : یس اور تبارک الذی۔ یونہی آگے پیچھے بات کرتے رہے۔ حاضرین مجلس میں ایک علی بن ابی طالب (رض) بھی تھے۔ آپ نے کوئی بات نہیں فرمائی۔ آخر آپ (رض) نے فرمایا : جب سب خاموش ہوگئے ؟ تم کو آیت الکرسی نہیں معلوم کیا ؟ عبداللہ کہتے ہیں : ہم نے کہا : اے ابو الحسن اس کے بارے میں آپ نے جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہو ہمیں بھی سنائیے ! حضرت علی (رض) نے فرمایا :
میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :
انبیاء کے سردار آدم ہیں۔ عرب کے سردار محمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارس کے سردار مسلمان ہیں، روم کے سردار صہیب ہیں، حبشہ کے سردار بلال ہیں، درختوں کا سردار بیری کا درخت ہے، مہینوں کا سردار حرم والے ماہ ہیں، (رجب ، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) جب کہ بعد میں شرعی حرمت ختم کردی گئی تھی اور ماہ صیام کو سب سے زیادہ افضل قرار دیا گیا) دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، کلاموں کا سردار قرآن ہے، قرآن کی سردار سورة البقرہ ہے۔ اور سورة البقرہ کی سردار آیت آیت الکرسی ہے۔ اس میں پچاس کلمہ ہیں اور ہر کلمہ میں پچاس برکتیں ہیں۔ (ابو عبداللہ منصور بن احمد الہروی فی حدیثہ والدیلمی)
ابن عساکر نے اس کو حضرت علی (رض) سے مختصرا روایت کیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم آیۃ الکرسی کی فضیلت نہیں جانتے ؟ اس میں پچاس کلمے ہیں اور ہر کلمہ میں ستر برکات ہیں۔
روایت میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے، امام احمد (رح) فرماتے ہیں، لیس بشیء، ان کا کچھ اعتبار نہیں۔ اور کئی ایک محدثین نے کہا ہے یہ ضعیف ہے۔
میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :
انبیاء کے سردار آدم ہیں۔ عرب کے سردار محمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارس کے سردار مسلمان ہیں، روم کے سردار صہیب ہیں، حبشہ کے سردار بلال ہیں، درختوں کا سردار بیری کا درخت ہے، مہینوں کا سردار حرم والے ماہ ہیں، (رجب ، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) جب کہ بعد میں شرعی حرمت ختم کردی گئی تھی اور ماہ صیام کو سب سے زیادہ افضل قرار دیا گیا) دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، کلاموں کا سردار قرآن ہے، قرآن کی سردار سورة البقرہ ہے۔ اور سورة البقرہ کی سردار آیت آیت الکرسی ہے۔ اس میں پچاس کلمہ ہیں اور ہر کلمہ میں پچاس برکتیں ہیں۔ (ابو عبداللہ منصور بن احمد الہروی فی حدیثہ والدیلمی)
ابن عساکر نے اس کو حضرت علی (رض) سے مختصرا روایت کیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم آیۃ الکرسی کی فضیلت نہیں جانتے ؟ اس میں پچاس کلمے ہیں اور ہر کلمہ میں ستر برکات ہیں۔
روایت میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے، امام احمد (رح) فرماتے ہیں، لیس بشیء، ان کا کچھ اعتبار نہیں۔ اور کئی ایک محدثین نے کہا ہے یہ ضعیف ہے۔
4060 - عن الشعبي عن عبد الله بن عبد الله قال: "كنا جلوسا مع عمر ابن الخطاب فتذاكرنا فضائل القرآن، فقال رجل: خاتمة1 بني إسرائيل وقال آخر: كهيعص وطه، وقال آخر: يس وتبارك، فقدموا وأخروا وفي القوم علي بن أبي طالب لا يحير2 جوابا، فقال: أين أنتم من آية الكرسي؟ فقلنا يا أبا الحسن، حدثنا بما سمعت فيها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " سيد النبيين آدم، وسيد العرب محمد، وسيد فارس سلمان، وسيد الروم صهيب، وسيد الحبشة بلال، وسيد الشجر السدر، وسيد الأشهر أشهر الحرم، وسيد الأيام يوم الجمعة، وسيد الكلام القرآن، وسيد القرآن البقرة، وسيد البقرة آية الكرسي، أما إن فيها خمسين كلمة، في كل كلمة خمسون بركة". "أبو عبد الله منصور بن أحمد الهروي في حديثه والديلمي" ورواه "كر" مختصرا بلفظ فقال علي: فأين أنتم عن فضيلة آية الكرسي؟ أما إنها خمسون كلمة في كل كلمة سبعون بركة، وفي الإسناد مجالد بن سعيد قال: حم ليس بشيء وقال غير واحد ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4061: ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میری ایک (کھجوریں سکھانے کی) جگہ تھی۔ جہاں ہر روز جاتا تھا ایک مرتبہ کھجوریں کم پائیں تو میں نے ایک رات وہاں چوکیداری کی۔ دیکھا کہ ایک جانور ہے جو لڑکے کی مانند دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے اس کو سلام کیا اس نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا تو جن ہے یا انسان ؟ اس نے کہا : جن۔ میں نے اس کو اپنا ہاتھ پکڑانے کو کہا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ کی مانند تھا۔ اور اس کے بال بھی کتے کے بال کی طرح تھے ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا جنوں کے جسم ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ اس نے میرے جواب کے بجائے کہا : جنوں کو یہ بات معلوم ہے کہ میں ان میں اس وقت سب سے زیادہ قوت والا ہوں۔ میں نے اس سے اس چوری کی وجہ پوچھی تو بولا : ہم نے سنا تھا آپ صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں تو ہم کو خواہش ہوئی کہ آپ کا طعام کھانا چاہیے۔ آیۃ الکرسی جو سورة بقرہ میں ہے۔ جس نے اس کو شام سے پڑھا صبح تک ہم سے حفاظت میں رہا اور جس نے صبح پڑھا شام تک ہم سے حفاظت میں رہا۔
حضرت ابی (رض) صبح کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا سارا ماجرا کہہ سنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدق اخبث، خبیث نے سچ کہا۔ (نسائی، الحارث، مستدرک الحاکم، الرویانی ، العظمۃ لابی الشیخ، الکبیر للطبرانی، الحاکم وابو نعیم فی الدلائل، السنن لسعید بن منصور)
حضرت ابی (رض) صبح کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا سارا ماجرا کہہ سنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدق اخبث، خبیث نے سچ کہا۔ (نسائی، الحارث، مستدرک الحاکم، الرویانی ، العظمۃ لابی الشیخ، الکبیر للطبرانی، الحاکم وابو نعیم فی الدلائل، السنن لسعید بن منصور)
4061 - عن أبي بن كعب أنه كان له جرين فيه تمر وكان يتعاهده فوجده ينقص فحرسه ذات ليلة، فإذا هو بدابة شبه الغلام المحتلم قال فسلمت فرد السلام، فقلت: ما أنت جني أم أنسي؟ فقال: جني فقلت ناولني يدك فناولني، فإذا يده يد كلب، وشعره شعر كلب فقلت هكذا خلق الجن قال لقد علمت الجن أنه ما فيهم من هو أشد مني قلت ما حملك على ما صنعت؟ قال بلغنا أنك رجل تحب الصدقة، فأحببنا أن نصيب من طعامك، قلت فما الذي يجيرنا منكم؟ قال هذه الآية، آية الكرسي، التي في سورة البقرة، من قالها حين يمسي أجير منا حتى يصبح، ومن قالها حين يصبح أجير منا حتى يمسي، فلما أصبح أبي غدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال صدق الخبيث". "ن والحارث ك والروياني وأبو الشيخ في العظمة طب ك وأبو نعيم ق معا في الدلائل ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة بقرہ۔
4062: حضرت ابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا : کتاب اللہ میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ ابی (رض) نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ان سے یہ سوال کیا حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں۔ آخر میں نے عرض کیا : اللہ لا الہ الا اھو الحی القیوم۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اے ابو المنذر ! تم کو علم مبارک ہو۔ مسلم۔
4062 - عن أبي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: "أي آية في كتاب الله أعظم؟ قال قلت الله ورسوله أعلم، حتى أعادها عليه ثلاثا، ثم قلت: {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} فضرب صدري وقال ليهنك العلم أبا المنذر ". "م".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4063: حضرت ابی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کتاب اللہ کی کونسی آیت تم کو سب سے زیادہ عظمت والی معلوم ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی (رض) کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تجھ کو علم مبارک ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی ایک زبان ہے اور دو ہونٹ ہیں، یہ عرش کے پائے کے پاس کھڑی ہو کر مالک الملک کی پاکی بیان کرتی ہے۔ (ابن الضریس فی فضائلہ، الرویانی، ابن حبان، ابو الشیخ فی العظمۃ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم)
4063 - عن أبي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا المنذر أي آية معك من كتاب اللهأعظم؟ قلت: {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} فضرب في صدري؟ فقال ليهنك العلم، فو الذي نفسي بيده، إن لها للسانا وشفتين، تقدس الملك عند ساق العرش". "ابن الضريس في فضائله والروياني حب وأبو الشيخ في العظمة طب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4064: (اسقع البکری (رض)) ابن ماکولا اسقع البکری (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ اسقع (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس مہاجرین کی اوطاق میں تشریف لائے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قرآن میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے ؟ فرمایا : اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ التاریخ للبخاری، الکبیر للطبرانی، المعرفۃ لابی نعیم۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اس کو عبدان (رح) نے بھی اسقع (رض) سے روایت کیا ہے۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اس کو عبدان (رح) نے بھی اسقع (رض) سے روایت کیا ہے۔
4064 – "أسقع البكري" قال ابن ماكولا بالفاء عن أسقع البكري أن النبي صلى الله عليه وسلم، جاءهم في صفة المهاجرين، فسألهم إنسان أي آية في القرآن أعظم؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: {اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} الآية. "خ في تاريخه طب وأبو نعيم في المعرفة" ورجاله ثقات ورواه عبدان فقال عن ابن الأسقع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4065: (سورة بقرہ کی آخری آیات) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں کسی کو عقل مند نہیں سمجھتا کہ وہ بغیر سورة بقرہ کی آیات پڑھے سو جائے۔ بیشک وہ آیات عرش کے خزانے سے نازل کی گئی ہیں۔ الدارمی، مسدد، محمد بن نصر، ابن الضریس، ابن مردویہ)
فائدہ : سورة بقرہ کی آخری آیات سے مراد آمن الرسول سے آخر تک ہے۔
فائدہ : سورة بقرہ کی آخری آیات سے مراد آمن الرسول سے آخر تک ہے۔
4065 – "خواتيم البقرة" "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "ما كنت أرى أحدا يعقل ينام حتى يقرأ الآيات الأواخر من سورة البقرة فإنهن من كنز تحت العرش". "الدارمي ومسدد ومحمد بن نصر وابن الضريس وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4066: (آل عمران) عثمان (رض) عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں : جس نے کسی رات آل عمران کا آخری حصہ پڑا اس کے لیے وہ رات عبادت میں گذاری ہوئی لکھی جائے گی۔ رواہ الدارمی۔
فائدہ : سورة آل عمران کے آخری حصہ سے مراد آخری رکوع ہے جو آیت نمبر 190 ان فی خلق السموات سے آخر سورت تک ہے۔
فائدہ : سورة آل عمران کے آخری حصہ سے مراد آخری رکوع ہے جو آیت نمبر 190 ان فی خلق السموات سے آخر سورت تک ہے۔
4066 – "آل عمران" "عثمان" عن عثمان بن عفان رضي الله عنه، قال: "من قرأ آخر آل عمران في ليلة كتب له قيام ليلة". "الدارمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4067: (الزہراوان) (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جس نے بقرہ آل عمران اور نساء یہ تینوں ایک رات میں پڑھ لی اس کو قانتین (خدا کے تابعداروں ) میں لکھ دیا جائے گا۔ (ابو عبید، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، شعب الایمان للبیہقی)
4067 – "الزهراوان" "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب، قال: "من قرأ البقرة وآل عمران والنساء في ليلة كتب من القانتين". "أبو عبيد ص وعبد بن حميد هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4068: (الانعام) (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : سورة الانعام قرآن کا مغز ہے۔ (ابو عبدی فی فضائل القرآن، الدارمی، محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ اب والشیخ فی تفسیرہ)
4068 – "الأنعام" "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "الأنعام من نواجب القرآن". "أبو عبيد في فضائل القرآن والدارمي ومحمد بن نصر في كتاب الصلاة وأبو الشيخ في تفسيره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4069: (علی (رض)) ابو الفضل بزیع بن عبید بن بزیع الہزاری المقری، سلیمان بن موسیٰ، سلیم بن عیسیٰ، حمزہ بن حبیب الزیات، سلیمان الامش، یحییٰ بن عثاب، ابو عبدالرحمن السمی، علی بن ابی طالب۔
ہر ایک راوی سے بیان کرنے والا پانچ آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور سننے والے سے پوچھتا ہے کیا کافی ہے ؟ لیکن وہ جواب میں زیادتی کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو وہ یہی بات اپنے محدث کی طرف منسوب کرتا ہے آخر میں :
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں تجھے یہ کافی ہونا چاہیے اسی طرح قرآن پانچ پانچ آیتیں ہو کر نازل ہوا ہے۔ اور جس نے پانچ پانچ آیتیں کرکے قرآن یاد کیا وہ اس کو نہیں بھولے گا سوائے سورة انعام کے، یہ پوری پوری نازل ہوئی تھی۔ اس کو لے کر ہزار فرشتے آئے تھے اور بھی کسی بیماری پر پڑھی گئی اس کو ضرور شفاء نصیب ہوئی۔ شعب الایمان للبیہقی، الخطیب فی التاریخ، ابن النجار۔
کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں اس میں غیر معروف راوی ہیں۔ میزان میں ہے کہ ھذا موضوع علی سلیم۔ کیہ یہ روایت امام سلیم (رح) کی طرف منسوب کرکے گھڑی گئی ہے۔ نیز بزیع غیر معروف راوی ہے۔ میزان 1/307 ۔
ہر ایک راوی سے بیان کرنے والا پانچ آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور سننے والے سے پوچھتا ہے کیا کافی ہے ؟ لیکن وہ جواب میں زیادتی کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو وہ یہی بات اپنے محدث کی طرف منسوب کرتا ہے آخر میں :
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں تجھے یہ کافی ہونا چاہیے اسی طرح قرآن پانچ پانچ آیتیں ہو کر نازل ہوا ہے۔ اور جس نے پانچ پانچ آیتیں کرکے قرآن یاد کیا وہ اس کو نہیں بھولے گا سوائے سورة انعام کے، یہ پوری پوری نازل ہوئی تھی۔ اس کو لے کر ہزار فرشتے آئے تھے اور بھی کسی بیماری پر پڑھی گئی اس کو ضرور شفاء نصیب ہوئی۔ شعب الایمان للبیہقی، الخطیب فی التاریخ، ابن النجار۔
کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں اس میں غیر معروف راوی ہیں۔ میزان میں ہے کہ ھذا موضوع علی سلیم۔ کیہ یہ روایت امام سلیم (رح) کی طرف منسوب کرکے گھڑی گئی ہے۔ نیز بزیع غیر معروف راوی ہے۔ میزان 1/307 ۔
4069 – "علي" عن أبي الفضيل بزيع بن عبيد بن بزيع البزار المقرئ قال: "قرأت على سليمان بن موسى فأخذ علي خمسا يعقده بيده، ثم قال: حسبك؟ فقلت زدني، فقال قرأت على سليم بن عيسى1 فأخذ علي خمسا ثم قال لي حسبك؟ فقلت زدني، فقال لي قرأت على حمزة بن حبيب الزيات فأخذ علي خمسا، فقال لي حسبك؟ فقلت زدني، فقال قرأت على سليمان الأعمش، فأخذ علي خمسا، فقال لي حسبك؟ فقلت زدني، فقال: قرأت على يحيى بن وثاب فأخذ علي خمسا، فقال لي حسبك؟ فقلت زدني فقال لي قرأت على أبي عبد الرحمن السلمي، فأخذ علي خمسا ثم قال لي حسبك فقلت زدني، فقال لي قرأت على علي بن أبي طالب، فأخذ علي خمسا ثم قال لي حسبك؟ فقلت يا أمير المؤمنين زدني، فقال لي حسبك هكذا أنزل القرآن خمسا خمسا، ومن حفظ خمسا خمسا لم ينسه إلا سورة الأنعام، فإنها نزلت جملة في ألف فشيعها من كل سماء سبعون ملكا، حتى أدوها إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما قرئت على عليل قط إلا شفاه الله عز وجل". "هب وقال في إسناده من لا نعرفه خط وابن النجار" قال في الميزان هذا موضوع على سليم وبزيع لا يعرف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4070: (سورة المومنون) (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی تو آپ کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند آواز سنائی دیتی۔ (اسی طرح ایک مرتبہ) ہم کچھ دیر ٹھہرے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبلہ رو ہوئے اور اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی :
اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا وارضنا۔
اے اللہ ہم میں زیادتی فرما، کمی نہ فرما، ہمارا اکرام فرما، ہمیں توہین کے حوالہ نہ کرے، ہمیں عطا کر، محروم نہ کر، ہمیں ترجیح دے، ہم پر کسی کو ترجیح نہ دے، ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں بھی راضی کردے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں۔ جس نے ان پر عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قد افلح المومنون پڑھنا شروع کی حتی کہ دس آیات ختم فرما دیں۔ عبد بن حمید، عبدالرزاق، مسند احمد، ترمذی، نسائی۔
امام نسائی فرماتے ہیں یہ روایت منکر ہے۔ (ابن المنذر بالعقیلی فی الضعفاء مستدرک الحاکم، البیہقی فی الدلائل، ابن مردویہ، السنن لسعید بن منصور) ۔
اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا وارضنا۔
اے اللہ ہم میں زیادتی فرما، کمی نہ فرما، ہمارا اکرام فرما، ہمیں توہین کے حوالہ نہ کرے، ہمیں عطا کر، محروم نہ کر، ہمیں ترجیح دے، ہم پر کسی کو ترجیح نہ دے، ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں بھی راضی کردے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں۔ جس نے ان پر عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قد افلح المومنون پڑھنا شروع کی حتی کہ دس آیات ختم فرما دیں۔ عبد بن حمید، عبدالرزاق، مسند احمد، ترمذی، نسائی۔
امام نسائی فرماتے ہیں یہ روایت منکر ہے۔ (ابن المنذر بالعقیلی فی الضعفاء مستدرک الحاکم، البیہقی فی الدلائل، ابن مردویہ، السنن لسعید بن منصور) ۔
4070 – "المؤمنون" "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال "كان إذا نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي يسمع عند وجهه كدوي النحل، فمكثنا ساعة، فاستقبل القبلة، ورفع يديه فقال: اللهم زدنا ولا تنقصنا، وأكرمنا ولا تهنا، وأعطنا ولا تحرمنا، وآثرنا ولا تؤثر علينا، وارض عنا وارضنا، ثم قال: لقد أنزلت علي عشر آيات من أقامهن دخل الجنة، ثم قرأ علينا: {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} حتى ختم العشر". "عب حم وعبد بن حميد ت ن وقال منكر وابن المنذر عق ك ق في الدلائل وابن مردويه ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4071: حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
جس نے قد افلح المومنون (یعنی سورة مومنون) کی پہلی دس آیات پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ (رواہ ابن مردویہ)
جس نے قد افلح المومنون (یعنی سورة مومنون) کی پہلی دس آیات پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ (رواہ ابن مردویہ)
4071 - عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قرأ من {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} عشر آيات بنى الله له بيتا في الجنة". "ابن مردويه".
তাহকীক: