কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪০৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4072: (السبع الطوال) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی رات کچھ تکلیف محسوس کی۔ صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : تکلیف کا اثر آپ کے چہرے پر واضح (کیوں) ہے ؟ فرمایا : الحمد للہ ! تم جس حال پر مجھے دیکھ رہے ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اس رات السبع الطوال (شروع کی سات طویل سورتیں) پڑھی تھیں۔ رواہ ابن جریر۔
4072 – "السبع الطوال" "عن أنس قال وجد رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة شيئا، فلما أصبح قيل يا رسول الله أن أثر الوجع عليك لبين قال: أما إني على ما ترون بحمد الله، قد قرأت البارحة هذه السبع الطوال". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4073: (سورة طہ) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے سب سے پہلے سورة طہ سیکھی تھیں میں جب بھی یہی پڑھتی تھی :
طہ انزلنا علیک القرآن لتشقی۔
طہ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ متقی ہوجائیں۔ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ضرور فرماتے : اے عائشہ ! میں شقی نہیں ہوا۔ (رواہ ابن عساکر)
طہ انزلنا علیک القرآن لتشقی۔
طہ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ متقی ہوجائیں۔ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ضرور فرماتے : اے عائشہ ! میں شقی نہیں ہوا۔ (رواہ ابن عساکر)
4073 – "سورة طه" عن عائشة قالت "أول سورة تعلمتها من القرآن طه فكنت إن قلت: {طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} إلا قال صلى الله عليه وسلم: "لا شقيت يا عائش". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افضل ترین آیت۔
4074: (سورة یس) (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے سورة یس کو سنا اس کے لیے راہ خدا میں بیس دینار خرچ کرنے کا اجر لکھا جائے گا؛۔ اور جس نے سورة یس کو پڑھا اس کے لیے بیس مقبول حج کے برابر ہوگا اور جس نے سوہ یس کو لکھ کر پیا اس کے پیٹ میں سو نور، سو رحمتیں اور سو برکتیں لکھی جائیں گی اور اس کے دل سے ہر طرح کا کھوٹ اور بیماری نکال دی جائے گی۔ رواہ ابن مردویہ۔
کلام : اس روایت کی سند کمزور ہے۔
کلام : اس روایت کی سند کمزور ہے۔
4074 – "يس" "علي" عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من استمع إلى سورة يس عدلت له عشرين دينارا في سبيل الله، ومن قرأها عدلت له عشرين حجة متقبلة، ومن كتبها وشربها أدخلت في جوفه ألف نور، وألف رحمة، وألف بركة، ونزعت من قلبه كل غل وداء". "ابن مردويه" وسنده واه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4075: حضرت علی (رض) سے مروی ہے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یس پڑھ، یس میں دس برکات ہیں۔ جس بھوکے نے اس کو پڑھا سیر ہوا۔ جس پیاسے نے پڑھا سیراب ہوا۔ جس ننگے نے پڑھا ملبوس ہوا۔ جس مجرد (بےنکاحے) نے پڑھا شادی کے بندھن میں جڑا۔ جس خوف زدہ نے پڑھا امن پایا۔ جس قیدی نے پڑھا آزاد ہوا۔ جس مسافر نے پڑھا اس کو سفر میں مدد نصیب ہوئی۔ جس مقروض نے سورة یس کو پڑھا اس کا قرض ادا ہوا۔ کسی گم شدہ شے والے نے پڑھا تو اس کو پا لیا۔ اور جس میت پر اس سورت کو پڑھا گیا اس سے عذاب ہلکا کردیا گیا۔ (رواہ ابن مردویہ)
4075 - عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اقرأ يس فإن في يس عشر بركات، ما قرأها جائع إلا شبع، وما قرأها ظمآن إلا روي وما قرأها عار إلا اكتسى، وما قرأها عزب إلا تزوج، وما قرأها
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4076: (سورة الصافات) (علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص یہ چاہے کہ بڑے تازو میں اس کا عمل تولا جائے تو وہ یہ آیت تین بار پڑھا کرے (ال زنجویہ فی ترغیبہ)
4076 – "سورة الصافات" "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "من سره أن يكتال بالمكيال الأوفى فليقرأ هذه الآية ثلاث مرات: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} إلى آخرها". "ابن زنجويه في ترغيبه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4077: (سورة الفتح) (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ہم ایک سفر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ میں نے ایک شے کے بارے میں آپ سے تین بار سولا کیا۔ مگر آپ نے کچھ جواب نہیں دیا میں نے اپنے دل میں اپنے آپ کو ملامت کی : تیری ماں گم ہو خطاب کے بیٹے ! تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سوال کرکے تنگ کردیا۔
چنانچہ پھر میں نے اپنی سواری آگے بڑھائی کہ کہیں میرے خلا کوئی وحی نازل نہ ہوجائے۔ اچانک ایک آواز اٹھی : اے عمر ! میں پلٹا اور ڈرا کہ کہیں میرے بارے میں کچھ نازل تو نہیں ہوگیا۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب ہے۔ وہ سورت ہے : انا فتحنا لک فتح امبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ (سورة الفتح، مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، مسند ابی یعلی، صحیح ابن حبان، ابن مردویہ، الدلائل للبیہقی (
چنانچہ پھر میں نے اپنی سواری آگے بڑھائی کہ کہیں میرے خلا کوئی وحی نازل نہ ہوجائے۔ اچانک ایک آواز اٹھی : اے عمر ! میں پلٹا اور ڈرا کہ کہیں میرے بارے میں کچھ نازل تو نہیں ہوگیا۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب ہے۔ وہ سورت ہے : انا فتحنا لک فتح امبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ (سورة الفتح، مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، مسند ابی یعلی، صحیح ابن حبان، ابن مردویہ، الدلائل للبیہقی (
4077 – "سورة الفتح" "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فسألته عن شيء، ثلاث مرات، فلم يرد علي، فقلت لنفسي ثكلتك أمك يا ابن الخطاب نزرت1 رسول الله صلى الله عليه وسلم فركبت راحلتي، فتقدمت مخافة أن يكون نزل في شيء، فإذا أنا بمناد ينادي يا عمر، فرجعت وأنا أظن أنه نزل في شيء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نزل علي البارحة سورة هي أحب إلي من الدنيا وما فيها: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} ". "حم خ ت ن ع حب وابن مردويه ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4078: حضرت انس (رض) فرماتے ہیں حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر سورة الفتح نازل ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا سے زیادہ محبوب ہے : انا فتحنا لک فتحا مبینا (اس سورت میں آپ کو فتح مکہ اور اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کا وعدہ دیا گیا ہے) صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ نے واضح کردیا ہے جو آپ کے ساتھ کرم ہونے والا ہے۔ ہمارے لیے کیا ہوگا ؟ تو یہ فرمان نازل ہوا : لیدخل المومنین والمومنات جنات۔ تاکہ وہ مومن اور مومنات کو جنت میں داخل کرے۔ (الجامع لعبد الرزاق، المصنف لابن ابی شیبہ، مسند احمد، عبد بن حمید، مسلم، ترمذی، ابن جریر، ابن مردویہ، المعرفۃ لابی نعیم)
4078 - عن أنس نزلت إنا فتحنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم مرجعه من الحديبية ، فقال : لقد أنزلت علي آية أحب الي من الدنيا فقرأ : (إنا فتحنا لك فتحا مبينا) قالوا : يا رسول الله ، قد بين الله لك ما يفعل بك ، فماذا يفعل بنا ؟ فانزل الله (ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات) الآية.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4079: (سور ق) ام ہاشم (رض) فرماتی ہیں : میں نے سورة ق والقرآن المجید کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے (سن سن کر) یاد کی ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن خطبہ دیتے تو اس کو پڑھتے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۔
4079 – "سورة ق" عن أم هاشم قالت "ما أخذت {ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يقرأها على الناس في كل يوم جمعة إذا خطبهم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4080: (سورة تبارک) (انس (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن ایک شخص کھڑا کیا جائے گا جس نے معاصی کی تمام راہوں پر سفر کیا ہوگا۔ مگر وہ اللہ کو ایک مانتا ہوگا۔ اور قرآن کی بھی صرف ایک سورت سیکھی ہوگی۔ اس کو جہنم کا حکم سنا دیا جائے گا۔ اس کے پیٹ سے پرندے کی مانند کوئی چیز نکل کر ڑ جائے گی۔ وہ کہے گی : اے اللہ ! تیرے نبی پر مجھے نازل کیا گیا تھا اور تیرا یہ بندہ بھی میری تلاوت کرتا تھا چنانچہ وہ سورت مسلسل اس کی شفاعت میں رہے گی حتی کہ اس کو جنت میں داخل کردے گی اور نجات دہندہ سورة تبارک الذی ہے۔ رواہ الدیلمی۔
4080 – "سورة تبارك" "أنس" قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يبعث رجل يوم القيامة لم يترك شيئا من المعاصي إلا ركبها؟ إلا أنه كان يوحد الله ولم يكن يقرأ من القرآن إلا سورة واحدة فيؤمر به إلى النار فطار من جوفه شيء كالشهاب، فقالت: اللهم إني مما أنزلت على نبيك وكان عبدك هذا يقرأني فما زالت تشفع له حتى أدخلته الجنة وهي المنجية: {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} ". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4081: (ابن مسعود (رض)) قرۃ (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ایک شخص کی وفات ہوئی اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ۔ قرآن کی ایک سورت اس کی طرف سے جھگڑنے لگی حتی کہ اس سے سب کو روک دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا میں نے اور مسروق (ابن مسعود (رض) کے شاگرد) نے دیکھا تو وہ سور، سورة تبارک الذی (سور الملک) تھی۔ (البیہقی فی کتاب عذاب القبر۔
4081 – "ابن مسعود" عن قرة عن ابن مسعود قال: "توفي رجل فأتي من جوانب قبره، فجعلت سورة من القرآن تجادل عنه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4082: حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : سورة تبارک الذی نے اپنے پڑھنے والے کے لیے جھگڑا کیا حتی کہ اس کو جنت میں داخل کرادیا۔ (البیہقی فی کتاب عذاب القبر۔
4082 - عن ابن مسسعود قال جادلت سورة تبارك عن صاحبها حتى أدخلته الجنة.
(ق فيه).
(ق فيه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4083: حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں سورة تباک الذی سورة مانع ہے یہ اللہ کے حکم سے قبر کے عذاب کو منع کرتی ہے اور روکتی ہے۔ عذاب سر کی طرف سے آتا ہے تو سر کہتا ہے اس شخص نے میرے اندر سورة تبارک الذی کو محفوظ کر رکھا ہے لہٰذا یہاں سے عذاب کو راستہ نہیں مل سکتا۔ عذاب پاؤں کی طرف سے آتا ہے تو پاؤں کہتے ہیں : اس شخص کے ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر سورة تبارک الذی پڑھتا رہا ہے لہٰذا یہاں سے تم کو راستہ نہیں مل سکتا۔ پس اللہ کے حکم سے یہ سورت قبر کے عذاب کو روک دیتی ہے۔ یہ سورت توراۃ میں بھی ہے۔ جس نے اس کو رات میں پڑھا اس نے بہت زیادہ (قرآن پڑھا) اور اچھا کیا۔ البیہقی فی عذاب القبر۔
4083 - عن ابن مسعود قال سورة تبارك هي المانعة تمنع باذن الله من عذاب القبر ، أتى رجل من قبل رأسه ، قال : لا سبيل لكم علي انه قد كان وعى في سورة الملك ، وأتي من قبل رجليه ، فقالت رجلاه لا سبيل لكم علي انه كان يقوم بي بسورة الملك فمنعته باذن الله من عذاب القبر وهى في التوراة سورة الملك ، من قرأها في ليلة فقد أكثر وأطيب.
(ق فيه).
(ق فيه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة یسین کے فضائل :
4084: (سورة اعلی) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت سبح اسم ربک الاعلی کو پسند کرتے تھے۔ (مسند احمد، البزار، الدورقی، ابن مردویہ)
کلام : اس روایت میں ایک راوی نور بن ابی فاختہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
کلام : اس روایت میں ایک راوی نور بن ابی فاختہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
4084 – "سورة سبح" "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب هذه السورة {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} . "حم والبزار والدورقي وابن مردويه" وفيه نوير بن أبي فاختة ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4085: (سورة تکاثر) (مسند عمر (رض)) المتفق و المفتر کتاب میں خطیب بغدادی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں اسماعیل بن رجاء نے کہا کہ ابو الحسن علی بن الحسن بن اسحاق بن ابراہیم بن المبارک الفرغانی، ابو العباس، احمد بن عیسیٰ المقری، ابو جعفر محمد بن جعفر الانصاری، یحییٰ بن بکیر المخزوجی، مالک بن انس، حبیب بن عبدالرحمن بن حفص بن عاصم کی سند سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
جس نے ایک رات میں ایک ہزار آیات پڑھیں وہ اللہ سے ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون ہے جو ہزار آیات ایک رات میں پڑھ سکے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے جواب میں بسم اللہ پڑھ کر پوری سورة الہاکم التکاثر پڑھی، پھر فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ (چھوٹی سی) سورت ایک ہزار آیات کے برابر ہے۔ (الخطیب فی المتفق والمتفرق)
کلام : مولف (رح) فرماتے ہیں اس روایت کو یحییٰ بن بکیر سے روایت کرنے والا راوی مجہول ہے۔ اور حدیث غیر ثابت ہے۔
جس نے ایک رات میں ایک ہزار آیات پڑھیں وہ اللہ سے ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون ہے جو ہزار آیات ایک رات میں پڑھ سکے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے جواب میں بسم اللہ پڑھ کر پوری سورة الہاکم التکاثر پڑھی، پھر فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ (چھوٹی سی) سورت ایک ہزار آیات کے برابر ہے۔ (الخطیب فی المتفق والمتفرق)
کلام : مولف (رح) فرماتے ہیں اس روایت کو یحییٰ بن بکیر سے روایت کرنے والا راوی مجہول ہے۔ اور حدیث غیر ثابت ہے۔
4085 – "سورة ألهكم" "من مسند عمر رضي الله عنه" قال: "الخطيب في المتفق والمفترق كتب إلينا إسماعيل بن رجاء يذكر أن أبا الحسن علي بن الحسن بن إسحاق بن إبراهيم بن المبارك الفرغاني حدثهم بعسقلان، ثنا أبو العباس أحمد بن عيسى المقرئ بتنيس، ثنا أبو جعفر محمد بن جعفر الأنصاري، حدثنا يحيى بن بكير المخزومي، ثنا مالك بن أنس عن حبيب ابن عبد الرحمن بن حفص بن عاصم عن عمر بن الخطاب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قرأ في ليلة ألف آية لقي الله وهو ضاحك في وجهه"، قيل يا رسول الله ومن يقوى على قراءة ألف آية؟ فقرأ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} إلى آخرها، ثم قال: "والذي نفسي بيده، إنها لتعدل ألف آية". "خط في المتفق والمفترق" وقال الراوي له عن يحيى بن بكير مجهول والحديث غير ثابت.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4086: (سورة الاخلاص) (علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے فجر کی نماز کے بعد دس بار سورة اخلاص پڑھی اس کو کوئی گناہ لاحق نہ ہوگا خواہ شیطان طاقت صرف کرے۔ السنن لسعید بن منصور ، ابن الضریس۔
4086 – "سورة الإخلاص" "علي رضي الله عنه" عن علي قال، "من قرأ قل هو الله أحد عشر مرات في دبر كل صلاة الغداة لم يلحق به ذلك اليوم ذنب، وإن جهد الشيطان" "ص وابن الضريس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4087: عیسیٰ (رح) سے مروی ہے حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : میں تم کو پورا قرآن سناتا ہوں۔ پھر آپ (رض) نے تین بار سورة اخلاص پڑھی۔ علی بن حرب الطائی فی الثانی من حدیثہ۔
4087 - عن عيسى عن علي قال: "إني قارئ عليكم القرآن قال فقرأ عليهم: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثلاث مرات. "علي بن حرب الطائي في الثاني من حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4088: (المعوذتین) حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں : ایک سفر میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا۔ جب فجر طلوع ہوئی تو آپ نے اذان دی اور اقامت کہی اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دو رکعتوں میں معوذتین پڑھی۔ نماز کے بعد فرمایا : کیا دیکھا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دیکھ لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی سو یا اٹھو تو ان کو ضرور پڑھو۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4088 – "المعوذتان" عن عقبة بن عامر الجهني: "كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فلما طلع الفجر أذن وأقام، ثم أقامني عن يمينه، ثم قرأ بالمعوذتين فلم انصرف قال كيف رأيت؟ قلت قد رأيت يا رسول الله قال اقرأ بهما كلما نمت، وكلما قمت ". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4089: حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی تو آپ نے فرمایا : اے عقبہ بن عامر ! قطع رحمی کرنے والے سے صلہ رحمی کرو، جو تجھے محروم کرے تو اسے عطا کرو۔ ظلم کرنے والے کو معاف کر۔
فرماتے ہیں : میں پھر آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا : اے عقبہ بن عامر ! میں تجھے ایسی سورتیں نہ سکھا دوں جن کے مثل اللہ پاک نے کوئی سورت نہ توراۃ میں نازل کی اور نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں۔ پس ان پر کوئی رات ایسی نہ گذرنی چاہیے جس میں تو ان کو نہ پڑھے۔ حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں جب سے رسول اللہ نے مجھے ان سورتوں کو پڑھنے کا حکم دیا ہے تب سے کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گذری جس پر میں نے ان کو نہ پڑھا ہو۔
اور مجھ پر لازم ہے کہ میں ان کو کبھی نہ چھوڑون کیونکہ آپ (رض) نے مجھے ان کا حکم دیا ہے۔ رواہ ابن عساکر ۔
فرماتے ہیں : میں پھر آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا : اے عقبہ بن عامر ! میں تجھے ایسی سورتیں نہ سکھا دوں جن کے مثل اللہ پاک نے کوئی سورت نہ توراۃ میں نازل کی اور نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں۔ پس ان پر کوئی رات ایسی نہ گذرنی چاہیے جس میں تو ان کو نہ پڑھے۔ حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں جب سے رسول اللہ نے مجھے ان سورتوں کو پڑھنے کا حکم دیا ہے تب سے کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گذری جس پر میں نے ان کو نہ پڑھا ہو۔
اور مجھ پر لازم ہے کہ میں ان کو کبھی نہ چھوڑون کیونکہ آپ (رض) نے مجھے ان کا حکم دیا ہے۔ رواہ ابن عساکر ۔
4091 – "جامع السور" "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر قال: "قلت يا رسول الله لقد أسرع إليك الشيب؟ قال: "شيبتني سورة هود والواقعة والمرسلات وعم يتساءلون وإذا الشمس كورت". "مسدد ع وابن المنذر وأبو الشيخ طب كر وابن مردويه والصابوني في المأتين كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4090: عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی مہار تھامے چل رہا تھا کہ مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم بھی سوار ہوجاؤ اے عقبہ۔ مجھے خوف ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پر کیسے سوار ہوں۔ لیکن پھر ڈر گیا کہیں نافرمان نہ ہوجاؤں۔ چنانچہ میں سوار ہوا اور تھوڑی دیر بعد اتر گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے۔ میں دوبارہ آپ کی سواری کی مہار تھامے چلنے لگا۔ پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مخاطب ہو کر فرمانے لگے : اے عقبہ ! میں سب سے بہترین دو سورتیں تم کو بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے ! تو آپ نے فرمایا : قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس، عقبہ فرماتے ہیں پھر جب صبح کی نماز کھڑی ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں یہ دو سورتیں تلاوت فرمائیں ۔ پھر آپ کا گذر میرے پاس سے ہوا تو فرمایا : اے عقبہ ! کیا دیکھا (ان سورتوں کی اہمیت کو) ؟ پس جب بھی سوو یا اٹھو تو ان کو ضرور پڑھو۔ رواہ ابن عساکر۔
4084 - " سورة سبح " (علي رضي الله عنه) عن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب هذه السورة (سبح اسم ربك الاعلى).
(حم والبزار والدورقى وابن مردويه) وفيه نوير بن ابى فاختة ضعيف).
(حم والبزار والدورقى وابن مردويه) وفيه نوير بن ابى فاختة ضعيف).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تکاثر کی فضیلت :
4091: (جامع سورتیں) (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بڑھاپا آپ پر تیزی کے ساتھ چھا رہا ہے ؟ فرمایا مجھے سورة ھود، واقعہ، مرسلات، عم یتساءلون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا ہے۔ (مسدد مسند ابی یعلی، ابن المنذر، ابو لشیخ ، الکبیر للطبرانی، ابن عساکر، ابن مردویہ، الصابونی، فی الماتین ابن عساکر )
4085 - " سورة الهكم " (من مسند عمر رضي الله عنه) قال : الخطيب في المتفق والمفترق كتب الينا اسماعيل بن رجاء يذكر أن أبا الحسن علي بن الحسن بن اسحاق بن ابراهيم بن المبارك الفرغانى حدثهم بعسقلان ، ثنا أبو العباس أحمد بن عيسى المقرئ بتنيس ، ثنا أبو جعفر
তাহকীক: