কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪১১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4112: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) جب قرآن پڑھتے تو پست آواز میں پڑھتے تو پست آواز میں پڑھتے تھے، حضرت عمر (رض) ، قرآن پڑھتے تو بلند آواز میں پڑھتے تھے۔ اور حضرت عمار (رض) مختلف سورتوں سے کچھ کچھ حصہ پڑھتے تھے۔

یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذکر کی گئی تو آپ نے حضرت ابوبکر (رض) کو فرمایا : تم پست آواز میں کیوں پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : میں اس ذات کو سناتا ہوں جس سے مناجات کرتا ہوں (اور وہ دل تک کی آواز کو سنتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : تم تیز آواز میں قرآن کیوں پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : میں شیطان کو ڈراتا ہوں اور اونگھنے والوں کو جگاتا ہوں۔ آپ نے حضرت عمار (رض) سے پوچھا : اس سورت سے اور اس سورت سے کیوں پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : کیا آپ نے ایسا کچھ سنا کہ میں غیر قرآن قرآن کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہوں ؟ فرمایا نہیں تو حضرت عمار (رض) نے عرض کی : تب سارا ہی اچھا ہے۔ (جہاں سے بھی پڑھوں) (مسند احمد، الشاشی، سمویہ، شعب الایمان، للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4112 - عن علي قال: "كان أبو بكر يخافت بصوته إذا قرأ القرآن، وكان عمر يجهر بقراءته، وكان عمار إذا قرأ يأخذ من هذه السورة وهذه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال لأبي بكر لم تخافت؟ قال إني لأسمع من أناجي، وقال لعمر لم تجهر بقراءتك؟ قال أفزع الشيطان وأوقظ الوسنان، وقال لعمار: لم تأخذ من هذه السورة وهذه؟ قال أتسمعني أخلط به ما ليس منه؟ قال لا قال فكله طيب". "حم والشاشي وسمويه هب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4113: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے اور اس کے بعد (جب لوگ عشاء کی سنتیں اور نوافل وغیرہ پڑھتے ہیں) بلند آواز سے قراءت کرے۔ جس سے اپنے ساتھیوں کو نماز میں مغالطہ پیدا کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو عبید فی فضائل القرآن، مسدد، مسند ابی یعلی، الدور فی السنن لسعید بن منصور)
4113 - عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرفع الرجل صوته بالقراءة قبل العتمة وبعدها، يغلط أصحابه في الصلاة وفي لفظ يغلط أصحابه والقوم يصلون". "ش حم وأبو عبيد في فضائله ومسدد ع والدورقي ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4114: عیسیٰ بن عمر (رح) اپنے والد عمر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے نے نماز میں سورة سبح اسم ربک الاعلی پڑھی۔ جب نماز پوری ہوگئی تو آپ سے پوچھا گیا : اے امیر المومنین کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ یہ قرآن میں ہے ؟ پوچھا : وہ کیا : عرض کیا : سبحان ربی الاعلی ؟ فرمایا نہیں ہمیں اس کو پڑھنے کا حکم ملا تھا (سبح اسم ربک الاعلی) کہ اپنے رب کی جو بلند ذات والا ہے تسبیح بیان کر) سو میں نے اس حکم کی تعمیل کی ہے بس۔ المصاحف لابن الانباری)
4114 - عن عيسى بن عمر عن أبيه قال: "قرأ علي بن أبي طالب في الصلاة بـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ} ، ثم قال: سبحان ربي الأعلى، فلما انقضت الصلاة قيل له يا أمير المؤمنين أتريد هذا في القرآن؟ قال: ما هو، قال سبحان ربي الأعلى، قال لا إنما أمرنا بشيء فقلته". "ابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4115: حضرت علی (رض) کا ارشاد ہے : تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں (جن پر قرآن چلتا ہے) پس ان کو مسواک کے ساتھ پاک صاف رکھو۔ (ابو نعیم فی کتاب السواک السجزی فی الابانۃ)
4115 - عن علي قال: "إن أفواهكم طرق القرآن فطيبوها بالسواك"1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4116: عبد خیر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو نماز میں سنا کہ انھوں نے سبح اسم ربک الاعلی پڑھا پھر سبحان اللہ ربی الاعلی پڑھا۔ (عبدالرزاق، الفریابی، مصنف ابن ابی شیبہ، ابو عبید فی فضائلہ، عبد بن حمید)
4116 - عن عبد خير قال: "سمعت عليا قرأ في صلاته. {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} ثم قال سبحان ربي الأعلى". "عب والفريابي ش وأبو عبيد في فضائله وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4117: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ورتل القرآن ترتیلا (کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو) کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کو واضح کرکے پڑھو، شعر کی طرح ٹکڑے ٹکڑے مت کرو۔ اس کے عجائبات پر ٹھہر جاؤ، اس کے ساتھ اپنے دلوں کو زخمی کرو اور محض آخری سورت تک پہنچنے کو مقصد نہ بناؤ۔ العسکری) ۔
4117 - عن علي "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن قول الله تعالى: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً} قال: بينه تبينا، ولا تهذه1 هذ الشعر قفوا عند عجائبه، وجرحوا"2 به القلوب، ولا يكن هم أحدكم آخر السورة". "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4118: حجر بن قیس المدری (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے پاس رات گذاری میں نے آپ کو رات کی نماز (تہجد) میں پڑھتے سنا۔ افرایتم ما تمنونء انتم تخلقونہ ام نحن الخالقون۔ (دیکھو تو جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے حمل میں) ڈالتے ہو، کیا تم اس ( سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ یہ آیات پڑھ کر آپ نے تین مرتب فرمایا : بل انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون۔ بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو، کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : بل انت یا رب نہیں پروردگار آپ ہی اگاتے ہیں۔ پھر جب آپ نے تین مرتبہ پڑھا : افرایتم الماء الذی تشربونء انتم نحن المنزلون ۔ بھلا دیکھو کہ جو پانی تم پیتے ہو، کیا تم اس کو بادل سے نازل کرتے ہو یا ہم نازل کرتے ہیں۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : بل انت یا رب نہیں پروردگار ! بلکہ آپ ہی نازل کرتے ہیں۔ پھر جب آپ نے پڑھا : افرایتم النار التی تورون، ء انتم انشاتم شجرتہا ام نحن المنشؤن۔ بھلا دیکھو تو یا رب ! نہیں پروردگار ! آپ ہی پیدا کرتے ہیں (عبدالرزاق، ابو عبید فی فضائلہ، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، البیہقی فی السنن)
4118 - عن حجر بن قيس المدري، قال: "بت عند علي بن أبي طالب فسمعته وهو يصلي من الليل يقرأ هذه الآية {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا، ثم قرأ: {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا ثم قرأ: {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا، ثم قرأ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا". "عب وأبو عبيد في فضائله وابن المنذر ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت کے آداب میں۔
4119: (ابی بن کعب (رض)) عبدالکریم بن امیہ کہتے ہیں حضرت ابی بن کعب (رض) بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ (قرآن) کھولتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4119 - "أبي بن كعب" عن عبد الكريم بن أمية أن أبي بن كعب كان يفتتح ببسم الله الرحمن الرحيم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4120: ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں تین راتوں میں پورا قرآن پڑھتا ہوں۔ ابن لسعد، ابن عساکر۔
4120 - عن أبي بن كعب قال: "أما أنا فأقرأ القرآن في ثلاث ليال". "ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4121: ابی بن کعب (رض) اور آل حکم بن ابی العاص میں سے ایک شخص سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور ایک سورت تلاوت فرمائی جس میں ایک آیت آپ بھول گئے۔ پھر پوچھا کیا مجھ سے کچھ چھوٹ گیا ؟ لیکن لوگ خاموش رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا حال ہے لوگوں کا ان پر اللہ کی کتاب پڑھی جاتی ہے لیکن ان کو پتہ نہیں چلتا کہ ان پر کیا پڑھا گیا ہے ؟ اور کیا چھوڑا گیا ہے ؟ بنی اسرائیل کا بھی یہی حال تھا۔ اللہ کی خشیت ان کے دلوں سے نکل گئی تھی۔ ان کے دل غائب ہوگئے تھے اور خالی جسم حاضر رہتے تھے۔ آگاہ رہو اللہ عزوجل کسی بندے کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتے جب تک وہ جسم کے ساتھ دل کو بھی حاضر نہ رکھے۔ رواہ الدیلمی)
4121 - عن أبي بن كعب وعن رجل من آل الحكم بن أبي العاص "أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بالناس، فقرأ سورة فأغفل منها آية فسألهم هل تركت شيئا، فسكتوا فقال: ما بال أقوام يقرأ عليهم كتاب الله لا يدرون ما قرئ عليهم فيه، ولا ما ترك، هكذا كانت بنو إسرائيل، خرجت خشية الله من قلوبهم، فغابت قلوبهم، وشهدت أبدانهم ألا وإن الله عز وجل لا يقبل من أحد عملا حتى يشهد بقلبه ما شهد ببدنه ". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4122: (انس (رض)) عبداللہ بن ابی بکر سے مروی ہے کہ زیاد النمیری قراء کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس آئے۔ زیاد کو قرآن پڑھنے کی درخواست کی گئی۔ زیاد نے بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھنا شروع کیا اور یہ یوں بھی بلند آواز کے مالک تھے۔ حضرت انس بن مالک (رض) نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام تو ایسا نہیں کرتے تے۔
4122 - "أنس" عن عبد الله بن أبي بكر أن زيادا النميري "جاء مع القراء إلى أنس بن مالك فقيل له: إقرأ فرفع صوته، وكان رفيع الصوت فقال أنس ما هذا ما هكذا كانوا يفعلون". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4123: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم جب رات کو کھڑے ہوتے تو نہایت پست آواز میں قرآن پڑھتے تھے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! قرآن پڑھتے ہوئے آپ اپنی آواز کو بلند کیوں نہیں کرتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ناپسند ہے کہ اپنے ساتھی اور اپنے گھر والوں کو اذیت پہنچاؤں۔ رواہ ابن النجار۔
4123 - عن أنس قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل يقرأ زمزم في قراءته، فقيل يا رسول الله لم لا ترفع صوتك بالقرآن، قال: أكره أن أوذي رفيقي وأهل بيتي ". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4124: جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے، ہم لوگ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ ہمارے بیچ عجمی اور دیہاتی لوگ بھی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کان لگا کر (مختلف لوگوں کے) قرآن سنے۔ پھر فرمایا پڑھتے رہو۔ سب صحیح ہے۔ عنقریب ایک قوم آئے گی وہ قرآن کو تیر کی طرح سیدھا کرے گی وہ دنیا ہی میں اس کا بدلہ چاہیں گے اور آخرت کی امید نہیں رکھیں گے۔ (رواہ ابن النجار)
4124 - "جابر" عن جابر قال: "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نقرأ القرآن، وفينا العجمي والأعرابي، فاستمع، فقال: اقرؤوا فكل حسن، سيأتي قوم يقيمونه كما يقيم القداح يتعجلونه، ولا يتأجلونه". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4125: (جابر بن عبداللہ بن رناب السلمی (رض)) کلبی، عن ابی صالح عن ابن عباس (رض) کی سند کے ساتھ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی واذا سالک عبادی عنی فانی قریب۔ اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیجیے کہ) میں قریب ہوں۔ اور پکار والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو نے ہم کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور قبولیت کی ذمہ داری خود کی ہے۔ پس ہم حاضر ہیں، اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں، بیشک تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں اور تمام نعمتوں کا مالک تو ہے، ساری سلطنت تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ ہم حاضر ہیں۔ اے پروردگار ! میں گواہی دیتا ہوں تو اکیلا رب ہے، بےنیاز ہے جس نے نہ کسی کو جنم دیا اور نہ ہی اس کا کوئی ثانی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت آنے والی ہے، جس میں کوئی شائبہ نہیں اور بیشک تو قبروں میں پڑے مردوں کو ضرور جی اٹھائے گا۔ سلمان (رض)۔
4125 - "جابر بن عبد الله" بن رئاب السلمي، عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس عن جابر بن عبد الله "أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ} الآية ثم قال: " اللهم أنت أمرت بالدعاء وتكفلت بالإجابة، لبيك اللهم لبيك، لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك لبيك، أشهد أنك رب واحد صمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد، وأشهد أن وعدك حق ولقاءك حق، والجنة حق، والنار حق، وإن الساعة آتية لا ريب فيها وأنك تبعث من في القبور". "سلمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4126: علقمہ (رح) سے مروی ہے کہ ہم حضرت سلمان فارسی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (رض) اپنی کٹیا سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا ! یا ابا عبداللہ ! اگر آپ وضو کرتے اور فلاں فلاں سورت پڑھ کر سنا دیتے ! حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطہرون (یہ قرآن) کتاب محفوظ میں ہے اور اس کو صرف ملائکہ چھوتے ہیں۔ چنانچہ پھر آپ (رض) نے قرآن پڑھا جس کا ہم نے تقاضا کیا تھا۔ مصنف عبدالرزاق۔
4126 - عن علقمة قال: "أتينا سلمان الفارسي، فخرج علينا من كنيف له، فقلنا له: لو توضأت يا أبا عبد الله، ثم قرأت علينا سورة كذا وكذا، فقال: إنما قال الله {فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} وهو الذكر الذي في السماء لا يمسه إلا الملائكة ثم قرأ علينا من القرآن ما شئنا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین راتوں میں پورا قرآن پڑھنا
4127: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے اچھا پڑھنے والا کون ہے ؟ فرمایا : وہ شخص جب پڑھے تو یوں لگے گویا وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔ الخطیب فی المتفق والمتفترق۔

کلام : اس روایت کو ضعیف قرار دیا گیا ہے نیز یہ روایت مسعر سے موصول بیان کرنے میں اسماعیل بن عمر البجلی متفرد ہیں جو اصبہان میں تھے انھوں نے روایت موصول بیان کی ہے۔ ورنہ ان کے علاوہ سب نے اس روایت کو عن مسعر مرسلا عن طاؤس کی سند سے بیان کیا ہے اور اس میں ابن عباس (رض) کا نام مذکور ہیںَ

اسماعیل بن عمر البجلی جو ابن عباس کا ذکر کرتے ہیں ان کو المغنی میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
4127 - عن ابن عباس سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أحسن الناس قراءة؟ قال: من إذا قرأ رأيت أنه يخشى الله ". "خط في المتفق والمفترق" وقال: تفرد بوصله عن مسعر إسماعيل بن عمر البجلي نزيل أصبهان، ورواه غيره عن مسعر مرسلا عن طاوس لم يذكر فيه ابن عباس انتهى وإسماعيل المذكور قال في المغنى ضعفه غير واحد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4128: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کون سا عمل افضل ترین ہے ؟ فرمایا : الحال المرتحل کون ہے ؟ وہ قرآن پڑھنے والا جو قرآن شروع کرے اور آخر تک پہنچے اور پھر آخر سے شروع میں آجائے۔ یونہی قرآن میں اترتا رہے اور چلتا رہے۔ الامثال للرامہرمزی۔
4128 - عن ابن عباس أن رجلا قال: "يا رسول الله أي الأعمال أفضل قال: عليك بالحال المرتحل، قال: ومن الحال المرتحل؟ قال صاحب القرآن يضرب في أوله حتى يبلغ آخره، ويضرب في آخره حتى يبلغ أوله كلما حل ارتحل ". "الرامهرمزي في الأمثال". ومر: [2812 و 13 و 14] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4129: ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب الیمن ذلک بقادر علی ان یحییٰ الموتی (کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرے) پڑھتے تو فرماتے سبحانک اللہم پاک ہے تو اے اللہ (بےشک تو ہرچیز پر قادر ہے) ۔ اور جب آپ سبح اسم ربک الاعلی (پاکی بیان کر اپنے بلند شان والے) رب کی پڑھتے تو فرماتے : سبحان ربی الاعلی پاک ہے میرا رب بلند شان والا۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4129 - عن ابن عباس "أنه كان إذا قرأ النبي صلى الله عليه وسلم: {أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى} قال: سبحانك اللهم، وإذا قرأ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} قال: سبحان ربي الأعلى ". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4130: حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں سورة بقرہ کو ٹھہر ٹھہر کر اچھی طرح پڑھوں مجھے اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ پورے قرآن کو جلدی جلدی پڑھ ڈالوں۔ (الجامع لعبد الرزاق)
4130 - عن ابن عباس قال: "لأن أقرأ البقرة أرتلها أحب إلي من أن أهذ القرآن كله". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4131: (ابن عمر) حضرت نافع (ابن عمر (رض) کے شاگرد اور آزاد کردہ غلام) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) قرآن کو صرف پاک حالت میں پڑھتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4131 - "ابن عمر" عن نافع قال: "كان ابن عمر لا يقرأ القرآن إلا طاهرا". "عب".
tahqiq

তাহকীক: